مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟ (موہن بھاگوت سے صاف صاف باتیں)

(خبر) بھٹکے ہوئے لوگوں کی گھر واپسی کے لئے کوشاں رہنے کا عشم۔ موہن بھاگوت (اب میری بھی سنئے) بھاگوت کے معنیٰ بھٹکا ہوا ہے۔ بھاگوت اور تمہارا ٹولہ خود بھٹکا ہوا ہے اور بے سرو پیر کی دوغلی باتیں کرتا ہے۔ ہم انہیں امن و سلامتی کے گھر یعنی اسلام میں پناہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔ جس میں ان کو پوروج ظلمت سے گھبراکر دامن رحمت میں آگئے تھے۔ ظلم، استحصال اور نفرت سے انصاف، مساوات اور محبت کے دامن میں پناہ لی تھی۔ جب ہم نے اس جنت کا مزہ چکھ لیا ہے اور ہم اس لزت سے سرشار ہیں۔ جیسے ہم نے آب حیات پی لیا ہے۔ تو ہمارے لئے کیسے ممکن ہے کہ ہم تمہارے جہنم میں واپس آ جائیں۔
جو بھی اپنی مرضی ، رضا و رغبت سے آتا ہے وہ تمہاری زحمت سے ہماری رحمت میں آتا ہے۔ اور یہی تمہاری سب سے بڑی الجھن ہے ۔ ادھر سے بہ رضا و رغبت کوئی تمہاری طرف نہیں جاتا اور نہ جا سکتا ہے۔ اسی لئے تم اسے پانچ لاکھ، مکان اور بہت کچھ دینے کا لالچ دیتے ہو۔ دھوکے اور دباؤ میں اگر کوئی آ بھی گیا تو ہوش آنے کے بعد پھر پلٹ آتا ہے۔ جیسا کہ آگرہ میں ہوا۔ اگر کوئی اپنی خوشی سے نہیں آتا تو تم دھمکی اور دھونس پر اترآتے ہو۔ جو تمہارے ظلم و جارحیت کی دلیل ہے۔ جس پر تمہارے تنظیم کی پوری عمارت کھڑی ہے۔
تم کہتے ہو اس ملک میں رہنے والا ہر باشندہ ہندو ہے۔ پھر تمہیں مذہب تبدیل کرانے کی
ضرورت کیوں پیش آگئی۔ بقول تمہارے مسلمان اور عیسائی چوری کا مال ہیں۔ جوہم سے چرایا گیا ہے۔ لیکن چوری کا مال تو چھپاکر رکھا جاتا ہے اور یہاں چھپانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ ہماری مسجدوں سے پانچ وقت ہماری پہچان کا اعلان ہوتا ہے کہ ہمارا معبود ایک ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رسول و رہنما ہیں۔ ہم تمہارے کروڑوں معبودوں سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ نہ ان میں کوئی طاقت و قوت ہے۔
ہمارے ایک ایک اجتماع میں لاکھوں لوگ گرمی، سردی کی پرواہ کئے بغیر نکل پڑتے ہیں اور ہم سارے انسانوں کو خالق کائنات اور معبود حقیقی کی بندگی کی دعوت دیتے ہیں۔ جس میں سارے انسانوں کی حقیقی فلاح و کامیابی ہے۔ اس دنیا میں بھی اور اس کے بعد آنے والی دنیا میں بھی۔
تمہارا یہ کہنا کہ ہم چوری کا مال ہیں۔ تمہاری احساس کمتری پر دلالت کرتا ہے۔ یا تم حکومت کے نشے میں مدہوش ہو۔ ہم زور زبردستی یا لالچ کے ذریعے تبدیلی مذہب کے خلاف ہیں۔ اگر کوئی شخص سوچ سمجھ کر اور اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرتا ہے۔ تو یہ اس کا آئینی اور فطری حق ہے۔ آئین ہند نے بھی اس کی ضمانت دی ہے۔ اس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ اور یہی آپ کی سب سے بڑی الجھن ہے۔
آپ کا الزام ہے کہ ماضی میں لوگوں کو لالچ دے کر مسلمان بنایا گیا ہے۔ بتائیں آٹھ سو سالہ مغلیہ دور یا اس سے پہلے کس نے ہندوؤں کو مسلمان ہونے کا لالچ یا دھمکی دی؟ خواجہ معین الدین اجمیری جن کے ہاتھوں پر لاکھوں ہندؤں نے اسلام قبول کیا،کون سا لالچ دیا تھا سوائے اسلام کی سچائی کے۔اگر آپ بھٹکے ہوئے لوگوں کی گھر واپسی چاہتے ہیں تو پہلے اپنا گھر صاف کیجئے۔ ورون ووستھا اور آواگون کی لعنت سے اپنے مذہب کو پاک کرو۔ تاکہ کوئی ملت تمہارے پوتر مذہب میں سانس لے سکے۔ جس سے گھٹن محسوس کرتے ہوئے بابا صاحب امبیڈکر اپنے پانچ لاکھ دلتوں کے ساتھ تمہار ے مذہب سے باہر آگئے تھے۔ تب آپنے ان کی مخالفت کی جرأت نہیں کی تھی۔ اور نہ باہر جانے والوں کے لئے گھر واپسی کا ابھیان چلایا تھا۔ بابا صاحب نے کہا تھا کہ ’’میں غلطی سے ہندو دھرم میں پیدا ہو گیا لیکن ہندو دھرم میں مرونگا نہیں‘‘ اگر آپ بھٹکے ہوئے لوگوں کی گھر واپسی چاہتے ہیں تو اپنے دل و دماغ کو وسعت دے کر تنگ سوچ سے باہر آئیے۔ مندروں کے دروازے دلتوں کے لئے کھول دیجئے۔ ان کے کریا کرم میں شامل ہوئیے۔ اپنی بیٹی، بیٹوں کی شادی ان کے بیٹی،بیٹوں سے کیجئے۔ تبھی بھٹکے ہوئے لوگوں کی واپسی کا دروازہ کھلے گا۔
ایک آخری سوال ، دلتوں کی اونچی ذات میں گھر واپسی کیا ان کا پنر جنم کراکر ہوگا؟ اس لئے کہ
ذات تو اس کے جنم گوتر میں بستی ہے۔ کیا اب ذات بنانے کی بھی فیکٹری قائم ہوگی۔ امید کہ جواب ضرور دیں گے۔
بتوں سے تجھ کو امیں ، خدا سے نا امیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *