محمد رسول اللہ ﷺ

حضرت محمد ؐ سارے انسانوں کے لئے رسول بناکر بھیجے گئے ہیں۔ (۱) آپ ؐ پر سلسلۂ نبوت و رسالت ختم ہو چکا ہے۔ (۲) محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک کے لئے انسانوں کے سردار قائد ہیں۔ آپ ؐ کو رب العالمین نے سارے عالمین کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے۔ (۳) ساتھ ہی اخلاق کے اعلیٰ درجے پر آپ کو مبعوث فرمایا ہے۔ (۴) آپ کو شاہد، گواہی دینے والا، ڈرانے والا اور خوشخبریاں دینے والا بناکر بھیجا گیاہے۔ (۵)
اللہ کی طرف بلانے، اپنی اطاعت پر راضی کرنے اور طاغوت سے اجتناب اللہ کے ہر نبی و رسول کی دعوت کا عنصر رہا ہے۔ (۶) اس کار خیر کوبجالانے میں انبیاء و رسل نے کسی اجرو قیمت کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اپنی محنت کے صلہ کو اللہ سے وابستہ کیا ہے۔ (۷)
نبی کریم ؐ کے اسوہ کو مکمل و حسنہ قرار دیا گیا اور اسے اختیار کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ (۸) محمد رسول اللہ ﷺ جو کہتے ہیں یا کرتے ہیں وہ سب اللہ کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے وہ اپنی خواہشات سے حکم نہیں دیتے بلکہ وحی کی روشنی میں فرماتے ہیں۔ (۹) اس لئے آپ ؐ کی اطاعت و اتباع کو ضروری قرار دیا گیا۔ (۱۰) نہ ماننے والوں ، اور ماننے والوں میں کمزور تعلق رکھنے والوں، کے ایمان کے سلب ہونے کی وعیدیں سنائی گئیں ہیں۔ (۱۱) آپ ؐ کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا گیا۔ (۱۲) آپ ؐ کی اتباع کو اللہ کی محبت سے راست جوڑا گیا ہے۔ (۱۳) اور آپؐ سے محبت و الفت کو اللہ کی اطاعت سے مشروط کیا گیا۔
حضرت عمر ؓ جیسے جلیل القدر صحابی کے ایمان کی ضمانت بھی جان سے زیادہ نبی ؐ سے محبت رکھنے میں دی گئی ہے۔ (۱۴) محمد رسول اللہ ؐ جو دیں اسے لینے اور جس چیز سے روک دیں ان سے رُک جانے کا قرآنی فرمان آپ کی عظمت پر شاہد ہے۔ (۱۵) آپ ؐ کی اطاعت مومنین کے لئے رحمت کا پیغام ہے۔ (۱۶) اور آپؐ کی پکار پر لبیک کہنا مومنین کو حیاتِ جاوداں عطا کرتا ہے۔ (۱۷) محمد رسول اللہ ﷺ کے احکامات کو ماننا ایمان کے سرخرو ہونے کی دلیل ہے۔ (۱۸) اور آپؐ کی نافرمانی گمراہی کی علامت مانی گئی ہے ۔ (۱۹)
محمد رسول اللہ ﷺ معلم بنا کر بھیجے گئے تھے تاکہ آپ ؐ لوگوں پر اللہ کی آیات کی تلاوت فرمائیں، کتاب و حکمت کا درس دیں اور انسانوں کے نفوس کا تزکیہ فرمائیں۔ (۲۰) لوگوں کو حرام و حلال کی تعلیم دیں اور رسم و رواج و خرافات کے بندھنوں میں جکڑے ہوئے انسانوں کی بندشوں سے آزادی کا کارِ خیر محمد رسول اللہ ؐ کے ذریعے ہی انجام پایا ہے۔ (۲۱)
محمد رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے، آپ ؐ کا مذاق اڑانے والوں کا جواب قرآن نے کئی جگہوں پر دیا ہے۔ (۲۲) آپ ؐ کی عزت و توقیر و تعظیم کا حکم من جانب اللہ ہے۔ (۲۳) نبی ؐ سے آگے اپنے قدم بڑھانے کی ممانعت (۲۴) آواز کو اونچا نہ کرنے کا حکم (۲۵) نبیؐ کو بلانے کو آپس میں بلانا نہ سمجھنا(۲۶) اور گھروں کے باہر سے آوازیں نہ لگانے کا حکم (۲۷) بغیر اجازت نبی ؐ کے گھر میں داخل نہ ہونے، کھانے کے انتظار میں بیٹھنے اور کھاکر گفتگو میں لگے رہنے سے منع کیا گیا ہے۔ ان باتوں سے نبی ؐ کو تکلیف ہوتی ہے۔ (۲۸ ) یہ آدابِ دربار رسالت ؐ خود قرآن نے سکھلائے ہیں۔
مولانا آزاد فرماتے ہیں کہ خود اللہ تعالیٰ نے نبی کریمؐ کے نام سے کہیں خطاب نہیں کیا بلکہ بندوں کو تعظیم کا درس دینے کے لئے خود فرمایا یاایھا الرسول بلغ ما انزل الیک، یا ایھا النبی جاھد الکفار والمنافقین یا اور محبت میں ڈوبی صدا یا آدم اسکن انت وزوجک، وما تلک بیمینک یا موسی، یا داؤد انا جعلناک خلیفۃ فی الارض ، یازکریا انا نبشرک بغلام اسمہٗ، یا یحیٰ خذالکتاب بقوۃ۔ یا عیسیٰ انی متوفیت ورافعک الی۔ حقیقت یہ ہے کہ دلی اعتقاد ایک بیج ہے جو بغیر محبت کے بار آور نہیں ہو سکتا اور محبت کے لئے تعظیم و توقیر ضروری ہے۔
محمد ؐ رسول اللہ کی جان مومنین کی جانوں سے اولیٰ ہے (۲۹) محمد رسول اللہ سے بڑھ کر اپنے آپ سے، رشتے داروں سے، کاروبار سے، مال و دولت سے زیادہ محبت کو فسق سے تعبیر کیا گیا ہے اور ایسے لوگوں کو ناپسند کیا گیا ہے۔ (۳۰)
محمد ؐ رسول اللہ کی ہنسی اڑانا ، شان میں گستاخی کرنا، گالیاں دینا، جان بوجھ کر بری یا غلط بات منسوب کرنا، آپ کی ازواج پر بہتان باندھنا یا سیرت و کردار پر کیچڑ اچھالنا، انہیں عام کرنے کے لئے فنکشن، کارٹون یا فلموں کا سہارا لینا ان سب کو اہانت رسول ؐ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ان کے مرتکبین کو اللہ اور اس کے رسول ؐ کو اذیت دینے والوں میں شمار کیا جائے گا۔ (۳۱) ایسے تمام لوگوں پر دنیا و آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور یہ دونوں جہانوں کی سزا کے مستحق قرار دئیے گئے ہیں۔ (۳۲)
اس موضوع پر امام ابن تیمیہ ؒ کی الصارم المسلول علی شاتم الرسول اور قاضی عیاض ؒ کی الشفاء لتعارف حقوق المصطفی خاص کر دیکھنے کی ضرورت ہے جس میں اس پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔
اہل ایمان کو راعنا کہنے کے بجائے انظرنا کہنے کا حکم خود اہانت کے اشتباہ سے بھی بچ کر رہنے کے الٰہی فرمان کا مظہر ہے۔ اللہ اپنے نبی ؐ کی شان میں یہودیوں کی طرف سے گالی نما الفاظ جیسے صحیح الفاظ بھی مومنین کی زبان مبارک سے ادائیگی کو پسند نہیں فرماتا (۳۳) اس پر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہ قول کہ یہ توہین رسول ؐ ہے اور اس کا مرتکب واجب القتل ہے۔ (۳۴)
اس موضوع پر خلفاء راشدین ، فقہائے اسلام بالخصوص امام مالک ؒ اور احمد بن حنبل ؒ، موجودہ دور کے علماء میں حسین احمد مدنیؒ، انور شاہ کشمیریؒ، مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ، مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ سب کا اتفاق و اجماع شاتم رسول ؐ پر ایک ہی ہے۔ (۳۵)
مسیلمہ بن کذاب سے لے کر غلام احمد قادیانی تک، کعب بن اشرف و ابور افع سے لے کر شردھا نند سرسوتی، راجپال، نتھورام ، چرن داس اور رانا گروتک، عبد اللہ بن ابی بن سلول، ابو خطل اور اس کی لونڈیوں سے لے کر سلمان رشدی، سلمان تاثیر و تسلیمہ نسرین تک؛ یولو جیئس اور اس کی معشوقہ فلورا سے لے کر ٹیری جونس وڈنیل پائپس تک، جے لینڈ پوسٹن کے کارٹونی خاکوں سے لے کر facebookو یو ٹیوب کی شرارت آمیز پوسٹنگ تک، ڈانٹے کے ڈراموں سے لے کر فتنہ فلم اور اب انوسنس آف مسلم تک وہی ایک بازگشت ہے جو تاریخ کے ہر دور میں محمد رسول اللہ ﷺ سے بغض وعناد رکھنے والوں کے سینوں میں دبی رہی ہے اور موقع در موقع وہ اس کی جُگالی کرتے رہتے ہیں۔
کروسیڈ کے لاد نے والے ہوں یا اس سے متاثر افراد، انہوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے پیغام کا اپنی انا، تکبر اور قوت کی تہذیب کے درپیچوں سے ہی مشاہدہ کیا ہے۔ دل، دماغ عقل و روح کی گہرائیوں سے پرے ان کے دل کی آنکھیں کھل ہی نہیں پائی ہیں۔
محمد رسول اللہ ﷺ کے انسانیت پر احسانات کا ذکر تاریخی طور پر تسلیم شدہ ہے یہاں تک کہ حیوانات پر رحم و التفات کے تذکرے سیرت کے دفتروں میں موجود ہیں۔ صحیح ہے آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں دل اندھے ہو جاتے ہیں۔
جکارتا کے ساحلوں سے فجر کی اذانیں جب شروع ہوتیں ہیں تو سفر کرتے ہوئے ڈھاکہ، کلکتہ، کٹھمنڈو، دہلی، اسلام آباد، بغداد تہران، قاہرہ ہوتے ہوئے میڈرڈ کی شاہ راہوں پر بنے مسجدوں کے مینارے اللہ کی کبریائی اور محمد ﷺ کے رسول اللہ ہونے کی گواہی دے رہے ہوتے ہیں تب جکارتا میں مؤذن ظہر کی اذان کے لئے وضو کر رہا ہوتا ہے۔ ابھی آدھی دنیا کا سفر مکمل نہیں ہوتا کہ ظہر کی اذانیں شروع ہو جاتی ہیں۔ عصر ،مغرب ، عشاء اور فجر کا یہ سائیکل فضاؤں اور ہواؤں کو اللہ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے ذکر سے معطر کر دیتا ہے۔
اذان، اقامت، نماز، درود و سلام وقت کا کونسا حصہ ایسا ہے جس میں اللہ کے ساتھ محمد ؐ رسول اللہ کا نام نہ لیا جاتا ہو۔ زماں اور مکاں سے پرے محمد ؐ رسول اللہ کے ذکر کا آوازہ بلند ہوتا ہے۔ (۳۶)
ابتدائی مکی دور میں آپ ؐ کی نرینہ اولاد کے فوت ہونے پر مشرکین مکہ نے آپؐ پر طعن کرتے ہوئے آپ ؐ کو دم کٹا یا نسل کٹا کہا تھا لیکن زمانہ شہادت دے رہا ہے کہ ابوجہل، ابولہب، ابو خطل، عقبہ بن ابی معیط، امیہ بن خلف، عاص بن وائل ، عقبہ بن شیبہ کی نسلوں کی جڑ کاٹ دی گئی لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کے ماننے والے اپنے محبوب قائد و رسول کی شان میں ذرا برابر گستاخی پر لاکھوں سروں کے نذرانے لئے دیوانہ وار سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ جسموں پر سروں کے بوجھ کو کسی کے قدموں میں وار آنے کی تمنا ان کے دل کے ریشوں میں پلتی رہتی ہے۔ تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے (۳۷) اس سے بڑی قرآنی صداقت کیا ہو سکتی ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں دہلی کے قاضی عبد الرشید کاتب نے شردھا نند کی مزاج پرسی کی تھی، لاہور کے علم الدین نے راجپال اور کراچی کے تانگا چلانے والے عبد القیوم نے نتھو رام کا علاج کرتے ہوئے بھری عدالت میں کہا تھا:
’’اس سور نے میرے نبیؐ کی شان میں گستاخی کی ہے اس لئے میں نے اسے جہنم کا راستہ دکھایا ہے۔‘‘
ان فاقہ مست امت کے جوانوں میں روح محمد ؐ کس حد تک بسی تھی کہ انہیں اپنی جان کی بھی پروا نہیں رہی۔ انہوں نے پھانسی کے پھندوں کو خوشی سے گلے لگایا اور تختۂ دار پر جھول گئے۔
علامہ اقبالؒ کا علم الدین کے راجپال کو قتل کرنے پر یہ کہنا کہ منڈا بازی لے گیا اور عبد القیوم کی شہادت میں مجھے کیوں آڑے لاتے ہو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ علامہ اقبالؒ اس موضوع پر کس قدر واضح سوچ رکھتے تھے۔
نظر اللہ پر رکھتا ہے مسلمانِ غیور ٭ موت کیا چیز ہے فقط عالم معنیٰ کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ ٭ قدرو قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
سر محمد شفیع ایک انگریز میڈم کو جہنم رسید کرنے والے مسلم باورچی کا کیس لڑ رہے تھے۔ انگریز میڈم نے حضورؐ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے اس پر مسلم باورچی نے سبزی کاٹنے والی چھری سے میڈم کا کام تمام کیا۔ اس کیس کو لڑتے ہوئے انگریز جج نے سر محمد شفیع پر طنز کیا۔ کہا کہ آپ اس کا کیس لڑ رہے ہو۔ سر محمد شفیع نے جواب دیا جناب والا اس معاملے میں میں اور یہ باورچی دونوں یکساں ہیں اگر ان کی جگہ میں ہوتا تو وہی کرتا جو انہوں نے کیا ہے۔
گویا اس موضوع پر فاقہ مست جو موت سے نہیں ڈرتے تھے وہ اور پڑھے لکھے علامہ سب کا موقف اور تمنا ایک سی ہے۔
آزادیٔ اظہار رائے کی آڑ میں سب و شتم کا یہ مکروہ چہرہمستشرقین سے غذا حاصل کرتا ہے اور جدید دریافتوں کے سہارے قرآن، شعائر اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتے نہیں تھکتا۔
کروسیڈ کے بعد موجودہ دور میں اسلامی تحریکات کی زبردست پیش قدمی نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف پھر زہریلا ماحول تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ بغض و حسد، دشمنی و استکبار پھر سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
آسمانی قدروں کا پاس و خیال فی زمانہ مسلمان بڑی تعداد میں رکھتے ہیں۔ شراب کی حرمت ہو یا سود کا معاملہ، فحش و بے حیائی سے اجتناب ہو یا پردہ کا اہتمام، حق کے لئے جان دینا ہو یا اس کے لئے وسائل کو لٹانا، انسانی قدروں کا پاس و خیال ہو یا ماحولیات کو پاک و صاف رکھنے کا معاملہ ہر امر میں دیگر قوموں کے مد مقابل مسلمان زیادہ راست رو اور باعمل واقع ہوا ہے۔
آج دنیا کی بڑی آبادی آسمانی ہدایات کا عملاً انکار کر رہی ہے اور زمینی شیطانی قوتیں بام عروج پر پہنچ گئیں ہیں۔ اہل کتاب ہوں یا کسی قدر آسمانی تعلیمات کو ماننے والے جن کا ماضی انہیں حال میں بے چین کرتا ہوگا کہ ان کے پاس آسمانی قدروں سے کوئی خیر تو نہ بچا البتہ جن کے پاس بھر پور خزانہ ہے ان ہی سے بغض و حسد پیدا ہو گیا۔
موجودہ مادی کامیابیوں کے استکبار نے انہیں موجودہ حالات میں وہ حرکتیں کرنے کا خوگر بنایا جس کا علاج قاضی عبد الرشید، علم الدین ، عبد القیوم سے لے کر ممتاز قادری، عامرچیمہ شہید سرفراز جیسے امت کے قیمتی نگینوں نے انجام دیا۔
امام مالک ؒ سے ہارون رشیدنے سوال کیا کہ شاتم رسول ؐ اگر توبہ کر لے تو اس کی سزا کیا ہے جبکہ اہل کوفہ سزا کے قائل نہیں ہیں۔ اس پر امام بہت غصہ ہوئے فرمایا وہ امت کیسے باقی رہ سکتی ہے جو اپنے رسولؐ پر سب و شتم ہوتا رہے تب بھی خموش رہے۔ شاتم رسول ؐ اگر توبہ بھی کر لے تب بھی واجب القتل ہے۔ (۳۸)
بھارت میں اکبر کا زمانہ اور اسپین میں امیر عبد الرحمن کے زمانے میں عدالتوں نے شاتمین رسول ؐ کو وہی سزائیں سنائیں ہیں جس پر آج تک امت کا اجماع ہے۔ شاید پوری اسلامی تاریخ میں سوائے ایک ہندوستانی (عالم) کے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے شاتمین رسول ؐ پر امت کے رد عمل کو جائز قرار نہ دیا ہو۔
امت اس موضوع پر آخری حد سے گزر جانے کا تاریخی ریکارڈ رکھتی ہے لیکن اس دور میں کچھ عافیت اندیش اسے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے دانشمندانہ انداز میں روکتے ہیں۔ آخرت کا برپا ہونا شاید ایسے معاملات پر کافی و شافی دلیل رکھتا ہے۔
دنیا کی ایک تہائی آبادی محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنا قائد و رہنما اور اللہ کارسول مانتی ہے۔ گویا آپ ؐ کی شان میں گستاخی کرنا ایک تہائی دنیا کے لوگوں کی دل آزاری ہے۔ بلاس فیمی کے نام پر ہولو کاسٹ کے انکاریوں کو دنیا سزا دے رہی ہے لیکن مسلمانوں کے معاملات پر انھیں آزادی اظہار رائے کا ناقص تصور بھلا وے دے رہا ہے۔ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔
OICاور UNOمیں ہوئی اہانت کے خلاف قانون بنانے کی گفتگو کو اور بڑھنا چاہئے اور عالمی قانون بن کر ہر ملک میں نافذ ہونا چاہئے۔ ایسے مواقع پر امت کے رد عمل کو ہمیں تحسین کی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور عملاً اس کا حصہ بھی بننا چاہئے۔ ان موقعوں پر جاں بحق ہونے والوں کو سلام پیش کرنا چاہئے اور انہیںشہداء کے منصب کا حقدار گرداننا چاہئے۔
نبی ﷺ کی آبرو قائم نہیں تو امت کی آبرو کیسے باقی رہ سکتی ہے۔ اس کے لئے جان و مال و سائل کی قربانیاں ہی دنیا کو صحیح سوچ اختیار کرنے پر تیار کر سکتی ہے۔ رہا نبی ؐ کی زندگی کو دعوت کا عنوان بنانا یہ ہمیشہ اور مستقل کرنے والا کام ہے جس سے مفر نہیں لیکن اگر کوئی یہ نہ کر رہا ہو تو وہ کچھ نہ کرے یہ بھی صحیح نہ ہوگا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *