مقام ِمحسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم بمقابلہ علمبرداران تہذیب ابلیس

دلیل کے میدان میں شکست کھائے ہوئے اسلام کے دشمن سازشوں اور مکاریوںکا سہارا لے کر کسی نہ کسی بہانے اسلام وپیغمبر اسلام پر کیچڑ اچھالتے رہتے ہیں اور یہ سب بہت خوشنما لفظوں اور اصطلاحوں کے پیرایہ میں ہوتا ہے ۔ ایک بار پھر شاتمین ِرسول ﷺکے قتل کے بعد آزادی ،اظہار رائے ،تمدن او ربرداشت کے الفاظ کے پردہ میں مغرب اور اس کے اسلام دشمن دیگر ہمنوا ، و اے ۔ایم ۔یو ،جامعہ ملیہ ونام نہاد اسلامک سینٹروں کے دانش فروش مسلمان اپنی ہوا پرستی کا ثبوت دے رہے ہیں۔حالانکہ وہ تمام الفاظ جو یہ دشمنان نبیﷺبول رہے ہیں ان الفاظ کی حرمت اور تقدس خود نبی ﷺکی ذات کے مرہون منت ہے ۔ان الفاظ تکریم آدم ،حریت آدم ،مساوات آدم ؑ،وحدت نبی آدم ،آزادی ،اعلاء کلمتہ الحق جیسے کلموں کی روح اسی نبی محترم کی ذات سے 1500سال سے وابستہ ہے۔جب آج کے منافق آزادی کے علمبرداروںکے آباؤاجداد کی کمریں وقت کے فرمانراؤںکے آگے جھکتے جھکتے ٹیڑھی ہو رہی تھیںاور وہ ان کے سامنے پشت کر کے درباروں سے واپس بھی نہیں ہو سکتے تھے ۔اور اس نبی ﷺکے دربار کا حال یہ تھا کہ اجنبی شخص مجمع میں ایسی کوئی امتیازی شان نہیں دیکھتا کہ معلوم ہو سکے کہ نبی ﷺ کو ن ہے اور امتی کو ن ہے ؟اور اس کی گواہی بیرون ممالک کے سفراء نے اپنے بادشاہوںکو بھی دی ۔احترام اور جاںنثاری کے تمام جذبات کے باوجود ایک عام خاتون صحابی بھی رسولﷺکے ذریعہ بھیجے گئے رشتہ پر پوچھ لیتی تھیں کہ یہ آپکی رائے ہے یا حکم ۔انہیں رسول ؐ محترم کے پروردہ خلفاء راشدین نے اپنے ایک گورنر کی شکایت پر ’’ان سے مشہور تاریخی جملہ کہا تھا کہ ’’انہیں ان کی ماؤںنے آزاد پیدا کیا تھا تم نے انہیں کب سے غلام بنا لیا ‘‘۔جنگ و صلح و روزانہ کے معاملات میں مشورہ کرنے کا حکم آپ کو قرآن پاک میں دیا گیا اور آپ نے اس پر الفاظ اور الفاظ کی روح کے مطابق عمل کیا ۔خطبہ حجتہ الوادع میں جو آپ نے عہد آفریںوصیت قیامت تک کے لئے فرمائی اس میںکیا یہ نہیں فرمایاکہ ’’لوگوںتم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے کسی عربی کو غیر عربی پر اور گور ے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں ۔قوم اور نسل کی برتری کے بت آج میرے پیروں کے نیچے ہیں ۔تم میں عزت والا وہ ہے جو اللہ سے زیادہ ڈرتا ہے ‘‘۔کیا اس سے بڑا اعلان تکریم آدم آج 1436سال بعد بھی موجود ہے ؟کیا آج بھی گورے کالے اور برھمن شودر و قبائل کا فرق پوری آب وتاب سے موجود نہیںہے ؟شاعر نے کہا ہے ’’اس برگزیدہ ہستی سے معجزہ مانگتے ہو یہ کم تو نہیں کہ اس نے پوری قوم قبروںسے اٹھا کھڑی کی اور اس کی رگوںمیں زندگی دوڑا دی ۔صحرا کے اونٹ چرانے والے دنیا کی نگہبانی کرنے لگے ۔اور جہانتیاتی بھی ایسی کہ جو نہ کسی سیزر کے بس میںرہی اور نہ کسی شاہ کے ۔شتر بانوںنے وہ برابری کر کے دکھائی کہ نہ عرب عرب رہے نہ عجم عجم رہے ۔آدمی کے پاس کوئی رتبہ ہی نہ رہا سوائے اس کے کہ وہ خدا سے کتنا ڈرتے ہیں ‘‘۔فتح مکہ کے موقعہ پر آپ ؐ نے فرمایا ’’آج سے ہر طرح کا گھمنڈ،بڑبولا پن ،قتل کے دعوے ،مال کے دعوے میرے قدموںکے نیچے ہیں۔اے قریش اب خدا نے تمہارے جاہلیت کے گھمنڈ اور نسل پرستی کے دعوے کو مٹا دیا ہے ۔تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے تھے ‘‘۔دنیا میں رسول ﷺآئے تو وہ جسے دنیا آزادی کے نام سے جانتی ہے بڑی دیر سے سپرد خاک پڑی تھی ۔آزادی کو آپ ؐنے اس کی قبر سے نکال کر کھڑا نہ کیا ہوتا تو آج آزادی پر اترا نے والے اس کا چہرہ تک نہ دیکھ پاتے ۔آج اس بات کو 1436سال بعد سمجھنا آسان نہیں ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں انسانوںکی حالت کیا تھی ۔رومی تہذیب میںامراء و غلام موجود تھے ۔غلام انسانوںکی حالت جانوروںسے بھی بد تر تھی ۔انہیں اکھاڑوں میں درندوںکے سامنے لڑایا جاتا تھا ۔یہا نتک کہ کوئی ایک دوسرے کو مار دے ۔ابھی 18ویں19ویںصدی میں یہی سب ظالم یوروپی امریکی ممالک ایشیا،افریقہ سے باشندوں کو اپنے ممالک میں لا کر ان سے جانوروں کی طرح کا م لیتے رہے ۔خود ہمارے ملک میں ذات ،برادری کی بنیادپر ہزاروں سال سے جو ظلم اور تفریق چلی آتی رہی اور آ ج بھی موجو د ہے اس کی ہولناکیاں سب کو معلوم ہیں ۔
خواتین کے حقوق کے بارے میں جتنا بڑا کام تاریخ میں حضور محترم ﷺکے ذریعہ کیا گیا اتنا پوری انسانیت نے ملکر بھی نہیں کیا ۔حضور ﷺ کے زمانہ میں خواتین اور بچیوںکی جو صورتحال تھی وہ تاریخ میں محفوظ ہے ۔بچیوں کو زندہ دفن کرنا تاریخی حقیقت ہے ۔آج سے 1436سا ل پہلے وہ زمین میں دفن کرتے تھے اور آج دہلی ،چنڈی گڈھ ،پنجاب ،ہریانہ ،اور گجرات میں ماںکی گودمیں ہی قتل کر دی جاتی ہے ۔آپ ؐنے صرف 23سال میںوہ عظیم علمی ،عملی انقلاب برپا کر دیاکہ جو عورت جائداد کی طرح تقسیم کی جاتی تھی وہ خود وراثت میں حصہ دار اور معاشی معاملات میںخود مختار ہوگئی ۔آپ ؐنے فرمایا جس نے دو ،تین بچیوںکی پرورش اس طرح کہ ان کی پیدائش پر ناک بھوں نہیں چڑھایا نہ لڑکوںکے مقابلہ کمتر سمجھا وہ جنت میں میرے ساتھ ہونگے ۔حضور محسن انسانیت ﷺنے زندگی کے ہر گوشہ میں جو انقلاب محض23سالوں میں پیدا کر کے دکھایا وہ ہمہ گیر انقلاب انسانی تاریخ میں کوئی بھی انسان لا سکا ہے ؟پھر یہ تعلیمات اپنے زمانہ تک محدود نہیں رہیںیہ مثبت عدل ،انصاف ،مساوات کا انقلاب قیامت تک کے تمام انسانوںکے لئے مشعل ِراہ بنا رہیگا ۔غو ر کرنے کی بات یہ ہے کہ ایسی سراپا محبت ،رحمت ،شفقت ذات کی بے عزتی کرنا اور ان کا مضحکہ اڑانا ،خیالی تصویر بنانا ادنیٰ درجہ کی بد تہذیبی اور شرارت انگیزی ہے یا آزادی کا استعمال ہے کیا جس آزادی کے حق کو بنیاد بنا کر محسن ِانسانیت رحمت اللعالمین کا مضحکہ اڑایا جارہا ہے وہ آزادی مطلق دنیا میں کسی بھی قانون میںغیر مشروط ہے ؟کیا اس آزادی کے حق میں دنیا کے تمام قوانین ودساتیر Constitutionsمیں شرائط و قیود نہیں ہیں ؟کیا عملاََیوروپ میں یہ حق آزادی کے نام پر حق دل آزاری پر عمل ہو رہا ہے ؟
امریکہ میں دستور میں آرٹیکل 4کے مطابق آزادی کا حق اس حد تک تسلیم کیا جائیگا جب تک اس سے کسی دوسرے کا حق متائثر نہو مجروح نہو ۔اور ان حقوق کا تعین بھی قانون کے ذریعہ کیا جائیگا ۔جرمنی کے دستور کے 4-5میں ہر شخص کوتحریر ،تقریر اور اظہار خیال کی آزادی ہے مگر اس کی ذیلی شق میںلکھا گیا ہے حقوقِ قانون ،عام قوائد وضوابط اور شخصی عزت و تکریم کے دائروں میںرہتے ہوئے تسلیم کئے جائینگے ۔امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق ’’دستور اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی بھی شخص ایسی غیر ذمہ دارانہ تحریر ،تقریر کرے جو عوام میں اشتعال انگیز ی کا باعث ہو ۔اس لئے ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ ایسی آزادی کو چھین لے جو امن عامہ میںخلل انداز ہو یا اسکی وجہ سے اخلاقی بگاڑ پیدا ہو ۔برطانیہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میںگستاخی یا ملکہ کی شان میں گستاخی جرم ہے ۔فرانس کے دستور کے آرٹیکل نمبر 1میںکہا گیا ’’انسان آزاد پیدا ہوا اور آزاد رہے گا سب کو برابر کے حقوق حاصل ہونگے ۔لیکن سماجی حیثیت کا تعین مفاد عامہ کے پیش نظرکیا جائیگا ‘‘۔ہمارے دستور کی دفعہ 19آزادی اظہار کا حق دیتی ہے مگر اس کی شق 2 اسے بہت سی شرائط و قیود سے محدود کر دیتی ہے ۔خود اقوام متحدہ یورپین یونین امریکہ وغیرہ نے قانون بنا کر ’’ہولو کاسٹ ‘‘Holocaustیعنی یہودیوںکا ہٹلر کے ذریعہ قتل و ظلم کا نشانہ بنانے کو لے کر سوال کھڑے کرنا یا اسکا مضحکہ اڑانا جرم قرار دیا ہے ۔اس کی کچھ مثالیں پیش خدمت ہیں تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ آج چارلی ہبڈکے توہینِ رسالت کارٹون کے دنیا بھر کے حمایتی جھوٹے اور منافق ہیں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے یہاںاظہار کی مطلق آزادی ہے ۔Austriaفروری 2006؁ ۔ء میںآسٹریا کی عدالت نے برطانوی مورخD.IRVINکو جو کہ تاریخ پر 30کتا بوںکا مصنف ہے عدا لت میںہتھکڑی پہنا کر لایا گیا اور انہیںہولو کاسٹ پر سوال کھڑا کرنے پر معافی مانگنے کے باوجود 3سال قید اور جر مانہ کیا گیا ۔اسرائیلی شہری کی درخواست پر ایرانی صدر احمدی نژاد کے خلاف 24.02.2006 میں جرمنی کی عدالت نے مقدمہ درج کر لیا ۔اٹلی کی عدالت کے جج لبموجی نشی کو 7ماہ کی سزا کے بعد بلا تنخواہ معطل کر دیا کیونکہ اس یہودی جج نے عدالت میںصلیب لٹکا کر فیصلہ دینے سے منع کر دیا تھا ۔ 20.02.2006کے لندن کے مئیر کین لیو نگسٹن KenLavingstonکو ان کے عہدہ سے معطل کر دیا گیا کیونکہ انہوںنے ایک جرنسلٹ کو نازی کیمپ کا داروغہ جیسا کہہ دیا تھا ۔2005؁۔ء میںایک ثقافتی پروگرام میں برطانوی شہزادے ہیری نے نازی فوج کے ڈریس پر سواستک ( )کا نشان پہن لیا تھا اس پر میڈیا میں خوب ہنگامہ ہوا یہانتک کہ اسے معافی مانگنی پڑی ۔جرمنی نے تجویز رکھی کہ یوروپین یونین کے سبھی 25ممالک نازیوںNazisسے متعلق سبھی علامات کا استعمال جرم قرار دیا جائے ۔انسانی تاریخ میں ہمیشہ سماجی اقدار ،شخصیات ،علامات ،مقامات،عہدہ ایسے رہے ہیں جنکی حفاظت وہ معاشرہ ہر قیمت پر کرتا رہا ہے خود اسی اخبار نے ڈی گال کی موت پر اخبار میں ہتک آمیز ہیڈنگ لگانے پر اخبار کی اشاعت 2سال کے لئے معطل کر دی ۔ اسی اخبار نے1906؁ــ۔ء میں فرانسیسی صدر سرکوزی کے لڑکے کی یہودی خاتون سے شادی پر کارٹون بنانے والے کو اخبار سے ہی نکال دیا تھا ۔گذشتہ سال ہی جب یہ کارٹون شائع ہوئے تھے اسی دن برطانوی شہزادی فرانسیسی ساحل پر تیراکی کے لباس میں فوٹو میں آگئی تھی جس پر شاہی خاندان ناراض ہو گیا تھا اور فرانسیسی کورٹ نے وہ فوٹو اخبار میں شائع کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی ۔ملکی تحفظ کے نام پر آج کسی بھی ملک میں کوئی آزادی نہیں دی جاتی ۔مطلب یہ کہ ملک کے تحفظ پر کوئی بات چیت Compromiseنہیں ہوگا ۔آج دنیا کے تمام نام نہاد مغربی ،مشرقی ممالک میں قومی راز کے اور قومی سلامتی کے قوانین کے تحت عمر قید،پھانسی ،جرمانہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔آج قومی سلامتی کے نام پر جس طرح شخصی آزادی اور انسانی عظمت و پرائیویسی کی دھجیاںقومی سلامتی کے خصوصی قوانین کے نام پر اڑائی جا رہی ہیںاسکے بعد یہ کہنا کہ یہ آزادی کا زمانہ ہے دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ اور فریب ہے ۔او ر جو جتنا بڑا فریبی اور منافق ہے وہ اتنا بڑاآزادی کا علمبردار بناہو اہے ۔جولین اسانجے آسٹریلیا کی نسل کا امریکی شہری ہے اس نے وکی لیکس کی سائٹ کے ذریعہ امریکی وزارت خارجہ کے خط و کتابت ای۔خطوط کو افشاء کر دیا ہے ۔اس جرم میں امریکہ میںاس کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے غداری کے جرم میں اسے لمبی سزا ہو سکتی ہے اس کو اطلاعات فراہم کرانے والے ملٹری اہلکار بریڈلی میننگ Bradleymanningکو غالباََ35سال کی سزا ہو چکی ہے ۔اگر آزادی ایسی ہی لامحدود ہے جیسی کہ پیغمبر ِاسلام محسن انسانیت ﷺ کے حوالہ سے مانگی جارہی ہے تو جولین اسانجے پر دنیا میں زمین تنگ کیوںہے ؟وہ دو سال برطانیہ میںایک سفارت خانہ کے اندر مقید رہا ۔اور اب روس میںجلا وطنی کی زندگی گذار رہا ہے ۔کیا امریکی یا کسی بھی ملک کے سیکورٹی خطرات حضور اکرم کی حرمت سے ذیادہ اہم ہیں؟ اگر اہم ہیںتو حضور کی عظمت اور حرمت کے تقدس کے لئے تاکہ دنیا میں160کروڑمسلمانوںکے دل مجروح نہوں اور 6ارب لوگوںکی دنیا میں امن او ر تحفظ بنارہے ۔مغرب کی بے قید آزادی سے سماج میں فائدہ کم اور نقصان ذیادہ ہوا ہے اور حضور ؐکی عطا کردہ آزادی سے سماج میں حقوق کے لئے بیداری ،حکمرانوں کا احتساب اور حکمرانوںمیں ایمانداری و سادگی پیدا ہوگی ۔پوری نبوی ؐزندگی اور اسلامی تاریخ اس کی مثال ہے کہ ہر زمانہ میں اہل حق جابر ترین حکمرانوں کے سامنے اظہار حق کرتے رہے ۔عدی بن حاتم اپنی بہن کے کہنے پر عیسائی وفد کے ساتھ حضور ؐسے ملاقات کا حال بتاتے ہیں :۔۔۔رسولؐمجھے اپنے ساتھ گھر لے گئے راستہ میںایک بے حال بڑھیا آپ کا راستہ روک کر کھڑی ہو گئی ۔میں نے دل میں کہا یہ بادشاہ تو ہر گز نہیںہو سکتا ۔گھر میں ایک ہی تکیہ جس میں کھجورکی چھال بھری ہے مجھے بیٹھنے کو دی جاتی ہے اورخود زمین پر بیٹھ جاتے ہیں ۔میںنے پھر دل میں کہا کہ یہ بادشاہ نہیں ہو سکتا ۔عدی تجھے کس چیز نے ایمان سے روک رکھاہے اس لئے کہ تو دیکھ رہا ہے کہ ہمارے یہاں تنگ دستی نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے اور دنیا ہماری دشمن ہے عدی تو جلد دیکھ لے گا کہ ایک بڑھیا حیرہ سے کجاوہ میں بیٹھ کر اکیلے طواف بیت کا سفر کریگی وہ نہ کسی کی امان میں ہوگی نہ پناہ میں اسے سوائے اللہ کے کسی کس ڈر نہ ہوگا ۔(بخاری ،ترمذی ،مسند احمد حدیث عدی بن حاتم )
آج فرانس اور بھر کے شاتمین رسولؐاسلامی قانون کے مجرم ہیں ان کے حمایتی بھی مجرم ہیں ۔اقوام متحدہ کو ہولو کاسٹ کی طرح شماتت رسول ؐکو بھی جرم قرار دینا ہوگا تاکہ یہ روزانہ کی بد امنی دنیا کی مقدر نہ ہو ۔،مسلم ممالک کو توہین رسالت قوانین کو عدل کے تقاضہ پورے کرتے ہوئے نافذکر کے ان مجرمین اور ان کے حمایتیوں کے خلاف شرعی قوانین نافذ کرنے چاہئے ۔اگر 3کروڑیہودیوںکے جذبات کا خیال رکھ کر قانون بن سکتا ہے تو 1 1/2ارب مسلمان اور پوری دنیا کے امن کے لئے قانون کیوںنہیں بن سکتا ؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *