النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أَنفُسِہِمْ

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أَنفُسِہِمْ۔۔۔۔۔‘ (سورہ احزاب۔ ۶)
’نبی مومنوں کے لئے ان کی جان سے زیادہ کے حق دار ہیں۔‘’ کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو اللہ اور اُس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ‘۔(سورۃ التوبہ۔۲۴)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: جس میں یہ تین باتیں ہوں اس نے ایمان کی حلاوت پالی۔ ایک یہ کہ اللہ اور اس کا رسولﷺ اس کے نزدیک تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہوں، وہ کسی شخص سے محبت کرے تو اللہ ہی کے لئے کرے اور کفر کی طرف لوٹنے کو اسی طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میںڈالے جانے کو نا پسند کرتا ہے۔ (بخاری کتاب الایمان)
حدیث میں ایمان کی حلاوت کے تعلق سے جن تین باتوں کا ذکر ہوا ہے ان میں سے پہلی بات تو اللہ اور اس کے رسولﷺ کو تمام لوگوں سے زیادہ محبوب رکھنا ہے یعنی اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت تمام محبتوں پر غالب ہو۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے تعلق کی نوعیت محض اطاعت کی نہیں بلکہ اس کے ساتھ گہرے لگاؤ اور شدید محبت کی ہونی چاہئے۔ اللہ کی محبت مقد م ہے اس کے بعد اس کے رسولﷺ کی محبت کہ یہ بھی اللہ سے محبت ہی کے تحت ہے اور اس کا تقاضا بھی۔
حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد ‘ اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ (بخاری کتاب الایمان)
نبیﷺ کو سب سے زیادہ محبوب رکھنا ایمان کا تقاضہ ہے اور اس کے بغیر ایمان معتبر نہیں۔ یہ محبت شعوری اور عقلی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ نبیﷺ کے لئے دل کی گہرائیوں میں جگہ ہو‘ آپ سے صرف ضابطہ کا تعلق نہ ہو بلکہ قلبی وابستگی ہو اور وہ بھی ایسی کہ اپنے تمام عزیزوں کے مقابلہ میں فوقیت رکھنے والی۔ ایسا شخص ہی رسول پر اپنی جان نثار کرنے کے لئے تیار ہو سکتا ہے اور رسولﷺ کی فرمانبرداری کو مقدم رکھ سکتا ہے۔
اللہ رب العالمین اپنے پیغمبرﷺ سے سورۃٔ آلِ عمران کی آیت نمبر ۳۱ میں خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’آپ فرما دیجئے کہ اگر تم لوگ واقعی اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری (یعنی محمدﷺ کی) اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کریگا اور تمہارے گناہ معاف کردے گا اور اللہ بہت بخشنے والا بے حد مہربان ہے‘۔
حضرت سہیل بن عبداللہ ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ کی محبت کی علامت قرآن کی محبت ہے اور قرآن کی محبت کی علامت نبیﷺ کی محبت ہے اور آپﷺ سے محبت کی علامت سنّت کی محبت ہے اور ان سب کی محبت کی علامت آخرت کی محبت ہے۔
اللہ کے رسولﷺ کی محبت بندے کے ایمان کا بڑا اہم جزو ہے کہ اگر محبت ہے تو اس کا ایمان باقی ہے اور اگر محبت بالکل نہیں تو اس کا ایمان بھی بالکل نہیں۔ اس لئے کوئی انسان اس وقت تک نجات نہیں پاسکتا جب تک کہ اس کے دل میں اللہ کے رسولﷺ کی محبت اپنے مال و دولت اور اہل و عیال حتیٰ کہ دنیا کی ساری چیزوں سے بڑھ کر نہ ہو۔واضح رہے کہ اس محبت کے دو درجے ہیں۔ ایک درجہ وجوب کا ہے جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہے اور دوسرا درجہ استحباب کا ہے جس کے بغیر ایمان نجات کا سبب بننے کے لئے تو کافی ہے‘ البتہ ایمانِ کامل کا حصول نہیں ہوگا اور نہ ہی بندہ لذتِ ایمانی سے سرفراز ہوگا۔
اہلِ ایمان کے تحت الشعور میں بھی کلمہ پاک کا دوسرا جز ’محمد رسول اللہﷺ ‘ پڑھتے ہی ذات محمدیﷺ سے ایسا انس و محبت تکوینی طور پر سرایت ہو جاتا ہے کہ اس کا ظاہر کتنا ہی گندا ہوجائے، اس کے باطن میں یہ پاکیزہ اور مبارک روشنی روح کی گہرائیوں میں اتر کر لو دیتی رہتی ہے اور جیسے ہی اس چنگاری کو پھونک ماری جائے، یہ شعلہ بن کر بھڑک اُٹھتی ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے اس حقیقت کو بڑے خوبصورت انداز میں اپنے شہاب نامے صفحہ نمبر:۱۲۱۷ میں سمجھایا ہے(طوالت سے بچنے کے لئے وہ تحریر نوٹ کرنے سے قاصر ہوں برائے مہربانی اس کا مطالعہ کر لیجئے)۔
اے کاش ! ہمارے اندرحضرت معاذؓ وحضرت معوذؓ اور امِّ عمارہؓ جیسی محبت اور محب صادق جانثار صحابی عبداللہ بن انیسؓ جیسا سمع و طاعت کا جذبہ پیدا ہوجائے۔۔۔۔۔کیا ہمیں یاد نہیں صدیقِ اکبرؓ کے دور میں یمن کے ایک شہر صنعا میں دو گانے والیوں میں سے ایک نے زبان سے گستاخیٔ رسول کا ارتکاب کیا تھا، وہاں کے حاکم مہاجر نامی صحابیؓ نے اس کے دانت توڑے اور دونوں ہاتھ کاٹ دیے۔ دوسری گلوگارہ بد بختی کی اس حد پر نہ پہنچی تھی بس عام مسلمانوں کو گالیاں دے کر سوزش جگر کو ٹھنڈا کرتی۔ صحابیٔ رسول نے اسے بھی اس انجام سے دوچار کردیا۔حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اس فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے فرمایا: ’ جس نے ذاتِ اقدسﷺ کے بارے میں دریدہ دہنی کی اس کی گردن اْڑانی چاہئے تھی اور عام طور پہ گالیاں بکنے والی کو زجر و تنبیہ کافی ہے‘۔
اے اللہ ! ہمیں زید بن دثنہؓ کی کم از کم اتنی محبت عطاء فرما
اے اللہ! ہمارے دلوں میں بھی نورالدین زنگی ؒ جیساعشقِ نبیﷺ پیدا کردے کہ خود نبی رحمت آقائے دو جہاںﷺ خواب میں آکر ایک عظیم خدمت کے فریضے سے سرفراز کرتے ہیں, اے اللہ! ہمارے اند ر بھی علم الدین شہید جیسا غیور بہادر نوجوان ہوتا جس نے راجپال جیسے شاتمِ رسول کو اس برے انجام تک پہنچا دیا جہاں اس کو پہنچنا چاہیے تھا۔۔۔۔ ہالینڈ میںقرآن کی توہین کرتے ہوئے ایک بدبخت اور بدنصیب فلم ساز نے جب ایک برہنہ عورت کے جسم پر ایک آیت لکھ دی۔ ایک حبّ رسول سے سرشار باغیرت مسلم نوجوان نے اس کوجہنم رسید کردیا تھا۔ قتل کے بعد جب مقدمہ چلا تو اس نوجوان نے عدالت سے درخواست کی:’ مہربانی کرکے مجھے پھانسی کی سزا دے دی جائے کیونکہ اگر میں زندہ رہا اور کسی دوسرے شخص نے میرے سامنے گستاخی کی تو میں اسے بھی قتل کردوں گا‘۔۔۔۔۔۔ ڈنمارک کے اخبار ’یولاند پوسٹن (Jyllands Posten)‘ کے ایک مردود کارٹونسٹ نے بدترین گستاخی کا ارتکاب کیا جس پر اس وقت پورا عالمِ اسلام سراپا احتجاج ہوا ایک ارب ۴۵ کروڑ مسلمانوں کے اندر آگ لگ گئی۔ اس وقت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی جیسے ٹھنڈے مزاج کا شخص بھی اپنے جذبات و احساسات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں ’ناموسِ رسالت پہ ہاتھ ڈالنے والے باتوں سے نہیں جوتے سے مانیں گے اور ہمیں بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں ڈنمارک کا مکھن عزیز ہے یا ناموسِ رسالت؟‘
مجھے یاد آرہا ہے کہ جب مردود گستاخِ رسول سلمان رشدی نے کتاب لکھی تو اس کو لیکر ساری دنیا میں احتجاج ہوا، علمائے کرام نے اسے واجب القتل قرار دیا ساری دنیا میں جلسے جلوس کا انعقاد کیا گیا ہمارے شہر بمبئی میں بھی ایک عظیم الشان ریلی کا اہتمام کیا گیا جس میں پولس نے اپنے ظلم و بربریت کا ننگا کھیل کھیلا، اور کئی اہلِ ایمان کو شہادت کے نذرانے پیش کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ شہداء کی یاد میں ایک جلسہ رکھا گیا تھا جس میں ایک باپ جس کا واحد سہارا اس کا بیٹا تھا اس باپ کے الفاظ ’عظیم الفاظ ‘جو آج بھی میرے کانوں میں رس گھولتے ہیں کہ ’اگر اللہ نے مجھے اور بھی اولاد دی ہوتی تو میں ناموسِ رسالت پر انہیں بھی قربان کردیتا‘۔ یہ الفاظ ہم مسلمانوں کی ذہنیت اور طرزِ فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہم اپنے مذہب، نبی اکرمﷺ کی مقدس و مطہر شخصیت اور صحابۂ کرامؓ کی ذات پر کسی قسم کی مصالحت(Compromise) نہیں کرتے، چاہے اس کے لئے ہمیں اپنی جانوں کے نذرانے ہی کیوں نہ پیش کرنا پڑے۔
اخبارات میں حضور اکرمﷺ کی توہین آمیز اور شر انگیز کارٹونوں کی اشاعت ایک نفسیاتی ایٹم بم سے کم نہیں جس سے دوبارہ تناؤ اور انتشار کی کیفیت پیدا ہونے کے پورے امکانات ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ شانِ رسالت میں گستاخی کرنے والوں کو باز رکھنے کے لئے ان پر سخت قانون کا شنکجہ کسے اور ان کی مذمت کا بیان جاری کریں۔کیونکہ گستاخانہ اقدامات سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ دنیا میں کئی ممالک میں ایک عام بدکار ترین شخص کی توہین بھی جرم ہے۔ لیکن آزادیٔ اظہار کے تقاضے پورے کرنے کے لئے صرف اسلام ہی ان کا تختۂ مشق کیوں ہے؟ رحمتِ عالم ‘ محسنِ انسانیت امام المعصومین‘ خاتم النبین محمد مصطفیﷺ جو دنیا کے سب سے عظیم انسان، جو صورت میں اجمل‘ سیرت میں اکمل نبیوں و رسولوں کے سردار،اتنے عظیم انسان کے بھونڈے خاکے بنا کر مسلمانوں کی عقیدت و عشقِ رسول کو مجروح کرتے ہوئے ناموسِ رسالت پر حملہ کیا گیا ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی نمائش اور کارٹونوں کے ذریعہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا جانا، ان کے پیچھے وہ ذہن کام کر رہا ہے جو اسلام کے بارے میں تعصب رکھتا ہے اور وہ مسلمانوں کے جذبات اور مسلمانوں کی جو اپنے مشاہیر اور شعائر اللہ و شعائرِ اسلام سے عقیدت ہے، اس عقیدت کو ناپنے کے لئے بھی اس طرح کی مذموم کوششیں جاری ہیں۔
ایک نومسلم جو یورپ کے کسی چرچ کا پادری رہا ہے، اس نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا’ مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کی توہین ایک سازش کے ذریعے کی جاتی ہے اور اس کا مقصد صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ مسلمان کس حد تک مغربی تہذیب میں رنگے جاچکے ہیں اور ان کی برداشت کا لیول کیا ہے؟ یہ لو گ اس قسم کی توہین کے ذریعے مسلمانوں کی برداشت کا امتحان لیتے ہیں۔‘یعنی کہ یہ تمام حرکتیں ایک تجربہ، ایک ٹیسٹ بھی ہوتی ہیں۔
ناموسِ رسالت جو کہ ہمارا موضوعِ بحث ہے۔ جسے ہمیں ایک بڑے وسیع پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ناموسِ رسالت پر ضرب لگانے کے ا سباب اور اس کے عوامل اور اس کا پس منظر کیا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے؟ اور اس کے پسِ پشت کیا مقاصد کارفرما ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ہماری ایمانی کیفیت کا کیا حال ہے؟ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا حضورﷺ کی توہین اس کا مقصد ہے یا اس کا مقصد اس سے بڑھ کر ہے ؟ کیا یہ جارحیت کا مظاہرہ نہیں ہے؟ کیا کسی کے ایمان کے اوپر حملہ آور ہونا جارحیت کی بدترین شکل نہیں ہے؟ہم سمجھتے ہیں یہ بڑی بامقصد اور بلند عزائم سے پر جارحیت ہے۔ جب آپ کی زمین کے اوپر حملہ کیا جاتا ہے تو وہ جارحیت اتنی شدید نہیں ہوتی جتنی آپ کی روح کے اوپر حملے کی شکل میں ہوتی ہے۔ہماری روحوں کے خلاف حملے ہورہے ہیں، یہ روحِ بدن ہمارے بدنوں سے نکالی جارہی ہے اور یقینا اس کے پسِ پشت ایک عظیم مقصد کارفرما ہے۔ یعنی مسلمانوں سے مسلمانوں کا رول ماڈل بھی چھینا جائے۔ہمارا آئیڈیل رول ماڈل جس کی جانب ہماری تمام محبت و نسبت ہے۔یہ جو منظر نامہ ہے اس کی بہترین عکاسی علا مہ اقبالؒ نے اپنی نظم ’ابلیس کی مجلسِ شوریٰ‘ کے اندر کی ہے جب ابلیس اپنے شورائیوں کو کہتا ہے کہ
؎ افغانیوں کی غیرت دین کا ہے یہ علاج مُلّا کو اس کے کوہ و دمن سے نکال دو
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا روح محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو
اگر سیموئل ہننگٹن کا نظریۂ ’تہذیبوں کے تصادم (Clashes of the Civilization) ‘کے پس منظر میں دیکھیں تو یہ ایک جنگ ہے، کھلی جنگ ہے، اس جنگ کے اندر مقابلہ امّتِ مسلمہ میں سے صرف کچھ لوگ کررہے ہیں جب کہ کرنا سب کو چاہیے۔ مغربی دنیا میں توہینِ رسالت کی شرم ناک واردات کے ساتھ ہی تہذیبوں کا تصادم بہت آگے بڑھ گیا ہے۔پوپ بینی ڈکٹ کا اسلام اور حضور اکرمﷺ کی ذاتِ گرامی پر حملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ وہ ایک جانب اپنے لیکچر میں مغرب کے Godlessnessاور Faithlessnessکا ذکر کر رہا تھا اور دوسری جانب اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی توہین کر رہا تھا۔ آخر اس ملغوبے کا اس کے سوا کیا جواز ہو سکتا ہے کہ مغرب کی مردہ مذہبی عصبیت کو اسلام کے حوالے سے تحریک دینے کی کوشش کی جائے!
آج جب کہ باطل قوتیں اسلام اور اس کی زندہ تہذیب کو دنیا میں غالب ہوتا ہوا دیکھ کرہولناک احساسِ کمتری میں مبتلا ہو رہی ہیں، مگر وہ اس کا اعتراف کرنے کی بجائے اپنا احساس برتری ظاہر کرنے کیلئے غصّے ‘ حقارت اور تذلیل کی زبان میں بات کررہی ہیں۔
مسلمان ہونے کی نسبت سے ہم لوگوں کا ایمان اس وقت تک پختہ اور مکمل نہیں ہوتا جب تک نبی اکرمﷺ کی ذات ہماری ذات، جان اور مال سے قیمتی نہ ہوجائے۔ ہم لوگ دنیا کے ہر معاملے پر سمجھوتہ کرسکتے ہیں لیکن ہم نبی اکرمﷺ کی ذاتِ اقدس پرنہ کوئی سمجھوتہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس سمجھوتے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔
؎ کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
امّتِ مسلمہ جس اللہ کے آخری رسول محمدﷺ سے عشق کرتی ہے،جس کے لئے وہ اپنی جان ومال، عزّت و آبرو، والدین، بیوی و اولاد سب قربان کرنے کو تیار ہوجاتی ہے۔ لہٰذا جسدِ واحد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جہاں کہیں بھی جس ملک میں بھی مسلمان بستے ہوں انہیں چاہیے کہ توہین آمیز کارٹون چھاپنے والوں کو وہاں کی عدالت میں نفرت پھیلانے اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے جرم میں گھسیٹے؟ جس طرح یہودیوں نے ڈیوڈ ارونگ اور ارنسٹ زینڈل کوہولوکاسٹ پرمشتمل تحقیقی کتاب “Did Six Million Really Die” لکھنے کی پاداش میں گھسیٹا تھا۔ یہ مقدمے مختلف ممالک میں اس لئے چلائے گئے کہ کینیڈا میں بیٹھا شخص ایک تحریر لکھتا ہے تو جہاں بھی وہ پڑھی جاتی ہے اور نفرت پھیلتی ہے تو وہ اس ملک کا بھی مجرم ہے۔
الحمد اللہ! ہمارے اندر بھی ہمارے اسلاف کا خون موجِ زن ہے اور جب تک یہ دنیا قائم ہے انشاء اللہ امّتِ مسلمہ کی رگوں میں عشقِ رسولﷺ کی حرارت موجود رہے گی۔ امّتِ مسلمہ کو چاہئے کی جس طرح ڈنمارک کے معاملے میں ساری دنیا کے مسلمانوں نے باطل کے حواریوں کی بنائی ہوئی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا تھا، اسی طرح ان کی تہذیب و ثقافت کا بھی بائیکاٹ کیا جائے اور اس سے اپنی کوفت کا اظہار بھی کیا جائے۔
امّتِ مسلمہ کی محمد رسول اللہﷺ سے محبت اور ان کی توہین کے مجرموں کو سزا وہ راستہ ہے جو دنیا بھر میں ثابت کرسکتا ہے کہ ایک ارب ۴۵ کروڑ مسلمان جب اکھٹے ہوں تو اس طوفان کا مقابلہ کتنا مشکل ہوتاہے؟ یہ گھڑی ہے مسلمانوں سے نیل سے تابخاک کا شغر تک ایک ہونے کی۔یہ عقیدت کے دعوے اس وقت سچ ثابت ہونگے جب تک ہم عالم کفر کو یہ نہ سمجھا دے کہ مسلمان اپنے پیغمبرﷺ کی شان میں نہ کسی گستاخی کو برداشت کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس مذموم فعل کی معافی کا کوئی سوال ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ جو امّت اپنے قائد کا دفاع کرنے کی طاقت و قوت نہیں رکھتی وہ کبھی بھی اپنے دشمنوں پر فتح و نصرت اور غلبہ حاصل نہیں کر سکتی۔
؎ ایک نامِ محمد صلی اعلیٰﷺ ماہر کے لئے تو سب کچھ ہے
٭٭٭٭

فرانس میں تشدد کا واقعہ افسوسناک لیکن مذہبی شخصیات اور پیغمبرں کی بے حرمتی کے خلاف قانون سازی ضروری۔ صرف دہشت گردی کی مذمت کافی نہیں۔
(معروف عالم دین اور ادیب اور مفکر پروفیسر محسن عثمانی ندوی کا بیان)
حیدراباد =۰ ۱؍ جنوری دنیا کے تمام اخبارات اور نیوزچینل فرانس میں تشدد اور دہشت گردی کی رپورٹ پیش کرہے ہیں بیانات شائع کرہے ہیں اور لوگوں سے انٹر ویو لے رہے ہیں اس بارے میں شرعی اور انسانی اور اسلامی نقطہ نظر کیا ہے اسے پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے اپنی گفتگو میں تفصیل سے بتایا ہے انہوں نے اس موضوع پریہ کہا ؛
ابھی کل کی بات ہے کہ امریکی اہانت آمیز فلم کے خلاف پورے عالم اسلام میں غیض وغضب کے شرارے بلند ہونے لگے تھے مظاہرین نے سفارت خانوں میں آگ لگادی تھی اور سفارت کاروں کے زندگی کے چراغ گل کردیئے تھے اب دو سال کے بعد یہ واقعہ پیرس میں پیش آیا اور اب اس میگزین کے دفتر پر حملہ کیا گیا جس نے کئی بار توہین رسالت کا جرم کیا تھا اور کارٹون شائع کیا تھا اس واقعہ کی ہر طرف سے مذمت کی جارہی ہے لیکن کیا یہ مذمت کرنا اور اس دہشت گردی کے خلاف بیانات دینا کافی ہے سب سے بڑی دہشت گردی تو وہ رسائل واخبارات کرتے ہیں جو دوسروں کے جذبات کا خیال نہیں کرتے اور مذہبی پیشوائوں کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ایک بات جو تمام لوگوں کے جاننے کی ہے وہ یہ کہ اسلامی شریعت میں دارالاسلام کے اندر توہین رسالت کا جرم کرنے والے کی سزا متفقہ طور پر قتل ہے اور شائد لوگوں کو اس کا اندازہ نہیں کہ آج بھی مسلمان ناموس رسولﷺ کے لیے اپنی جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے ہیں مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسول کی جو دولت ہے اسے نہ کوئی ختم کرسکتاہے اور نہ اس خزانے میں کوئی نقب لگاسکتاہے۔ مسلمان حضور اکرمﷺ کی شخصیت کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں دین اسلام تو وہ دین ہے جس میں کفار ومشرکین کے بتوں تک کی توہین سے منع کیا گیاہے۔ اس دین اسلام کے ماننے والے کسی بھی نبی اور رسول کی اہانت گوار ہ نہیں کرتے مسلمان اس رسول کی اہانت کو کیسے گوارہ کرسکتے جو ختم الرسل، مولائے کل اور دانا سبل ہو اور اس کے لیے خدا اور اس کے فرشتے اور تمام اہل ایمان رات دن درود بھیجتے رہتے ہیں۔
اسلامی حکومت کے اندر جو شخص بھی اہانت رسول کا مرتکب ہوگا اس کی سزا قتل ہی ہے اور اسے کسی کو بھی اختلاف نہیں اس زمانہ میں بہت سے لوگ جو ہر وقت تحمل کی بات کرتے رہتے ہیں اور اظہار رائے کی آزادی کا نغمہ الاپتے رہتے ہیں اور جن کے ذہن اس زمانہ کے افکار و نظریات سے مسموم ہوچکے ہیں وہ آسانی کے ساتھ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ اہانت رسول کی سزا اسلام میں قتل کیوں ہے۔ میں چند لفظوں میں اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن اس کو سمجھ نے کے لیے صرف عقل نہیں بلکہ عقل سلیم کی ضرورت ہے ہر شخص یہ دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ اس دنیا کے بین الاقوامی قوانین میں جب کوئی شخص کسی ملک کے سفیر کی توہین کرتاہے تو یہ سفیر کی نہیں بلکہ پورے ملک کی توہین سمجھی جاتی ہے۔ عقل سلیم اگر نہ ہو تو یہ بات کیسے سمجھائی جائے کہ پیغمبر روئے زمین پر مالک کائنات کا سفیر ہوتا ہے اور اس کے سفیر کی اہانت اس کے غضب اور جلال کو بھڑکاتی ہے اوراس اہانت پر اس کا عذاب بھی نازل ہوسکتا ہے اللہ تعالی کا عذاب کسی روئے زمین پر نازل ہو اور اسے تہس نہس کردے اس سے بہتر ہے یہ بات کہ اس بدبخت انسان کے زندگی کا خاتمہ کردیا جائے جس نے رب کائنات کے سفیر کی اہانت کا جرم کیا ہے۔ اگر یہ بات کسی کو سمجھ میں نہیں آتی ہے تو صرف اسی لیے سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ اس کا نہ تو رب کائنات پر ایمان ہے اور نہ اس نے پیغمبر کو سفیر تسلیم کیا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ کی اس پر مستقل کتاب ہے انہوں نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر مرتد تائب ہوجائے تو وہ قابل معافی ہے مگر شاتم رسول کو رسول کی جانب سے معاف کرنے کا کسی کو اختیار نہیں۔ جو لوگ شاتم رسول کی سزائے قتل کا انکار کرتے ہیں مغربی معاشرے کا وائرس ان کے ذہنوں میں سرایت کرگیا ہے۔ دیکھے انگلینڈ میں اہانت رسول کا قانون موجود ہے لیکن وہاں کا قانون صرف حضرت عیسی علیہ السلام کے ناموس کا تحفظ کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں سلمان رشدی جیسے لوگوں کو پیغمبر اسلام کے خلاف دریدہ ذہنی کی کھلی اجازت ہے۔
افسوس ہے اس موقعہ پر میڈیا کی آزادی اور اظہار خیال کی حریت کے حوالے غلط طور پر دئے جارہے ہیں۔ دوسروں کے مقدسات اور برگزیدہ پیغمبروں کی اہانت آزادئے اظہار کے دائرے میں نہیں آتی انگریزی کا مشہور محاورہ ہے کہ تمہاری آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں سے پڑوسی کی ناک شروع ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آزادی اسے کہتے ہیں کہ دوسروں کی آزادی میں خلل ڈالے بغیر اور دوسروں کو ایذا پہنچائے بغیر کوئی کام کیا جائے۔
کروڑوں انسانوں کے مقتداء کی اہانت کرنا اظہار کی آزادی نہیں ہے بلکہ یہ دوسروں کو ایذا پہنچانا ہے اور ان کے جذبات کو مجروح کرنا ہے کیونکہ ایک مسلمان اپنے نبی کی حرمت پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہوسکتاہے۔ اور ایک جان نہیں بلکہ ہزار جانوں کو قربان کرسکتاہے۔ وہ رسول اللہﷺ کی جوتیوں کی خاک کو دنیا کے بڑے سے بڑے حکمراں کے تاج سے افضل سمجھتاہے۔
ایک مسلمان کے لیے کسی پیغمبر اور کسی مذہبی پیشوا کی توہین جائز نہیں ایک مسلمان حضرت عیسیٰ ؑ حضرت موسیٰؑ رام اور کرشن اور مہاتما بودھ کسی کی توہین کو درست نہیں سمجھتاہے اس لئے مسلمانوں کی طرف سے اور مسلمان حکومتوں کی طرف سے طاقتور انداز میں یہ مطالبہ ہونا چائیے کہ اقوام متحدہ میں یہ قانون پاس ہو کہ پیغمبروں اور مذہبی شخصیات کے ناموس پر حملہ کرنا سخت ترین جرم ہو اور اس کی سزا نہایت کڑی ہو۔
عام طور سے کہا جارہاہے کہ مسلمانوں میں تحمل اور برداشت نہیں ہے جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں اگر کوئی ان کے ماں باپ کو گالی دے تو انہیں کیسا لگے گا۔ کوئی شخص بدگوئی، تہمت، الزام تراشی اپنی بہن ماں اور بیٹی تک کے بارے میں برداشت نہیں کرسکتاہے تو پھر خیر البشر افضل الانبیاء کے بارے میں بدزبانی اور توہین کوئی مسلمان کیسے برداشت کرسکتاہے؟
کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ اسلام میں اظہار خیال کی آزادی نہیں ہے۔ کاش ان لوگوں نے تاریخ پڑھی ہوتی انہیں معلوم ہوتا کہ اسلام میں آزادئی اظہار خیال کا تصور اس وقت سے موجود ہے جب پوری دنیا میں زبان بندی کا دستور رائج تھا اور اظہار کے لیے زبان ترستی تھی کیونکہ حکومتیں مخالف رائے کو برداشت نہیں کرتی تھی اسلام شریفانہ تنقید سے نہیں روکتا ہے لیکن شریفانہ تنقید اور علمی اختلاف الگ چیز ہے اور توہین وبے حرمتی بالکل الگ چیز ہے۔
اس وقت اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بہتررد عمل یہ ہے کہ مسلمان ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں سیرت پر کتابچے اورکتابیں مختلف زبانوں میں غیر مسلموں میں تقسیم کریں۔ شر انگیزی کایہی سب سے بہتر جواب ہے اور ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے سلسلہ میں شبہات اور بدگمانیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے یہ بڑے اجرو ثواب کا کام ہے۔ مسلمانوں کو مشتعل ہوکر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *