الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے

یو این آئی کے حوالہ سے 20/02/2015کے اخباروں میں مسٹر اوبامہ کے لاس اینجلز ٹائم میں شائع شدہ مضمون اور اس کے بعد واشنگٹن میں انسداد ہشت گردی سے متعلق بین الاقوامی اجلاس میں دئیے گئے بیان کے نمایاں حصے شائع کئے گئے ہیں۔ الفاظ کی جادوگری جس کے وہ ماہر ہیں اس کے ذریعہ سارا الزام ’دہشت گردوں‘ کے سر مڑھ دیا۔ سارا مغرب اور اس کے تمام مشرقی حکمراں سب بری الذمہ قرار پائے۔ فرمایا کہ ’داعش اور القاعدہ جیسے گروہ غصہ اور مایوسی کو ابھار کر ہمدردیاں سمیٹتے ہیں جو بے انصافی اور بدعنوانی کے نتیجہ میں پروان چڑھ رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم رہنما اس بات کو مسترد کردیں کہ ہماری (مغربی اقوام) اسلام کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے امریکہ اور بیرون ملک کے اعتدال پسندوں کی حکومتوں کے ناقدین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اس جہادی تصور کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ تصادم مسلمان مخالف مغرب اور انتہا پسند مشرق وسطیٰ کے درمیان تہذیبوں کا تصادم ہے۔ (عزیز الہند) نوئیڈا اور دیگر تمام اردو اخبارات 20/01/2015
سب سے بڑی دہشت گردی تو یہ ہے کہ دہشت گردی مخالف کانفرنس میں صرف مسلمان اور اسلام ہی پر گفتگو کیوں ہو رہی ہے؟ دنیا میں اس وقت 32سے زیادہ مسلح کشمکش ہو رہی ہیں جن میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہیں۔ ان میں میانمار کے، شری لنکا کے بودھ شامل ہیں۔ جو مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ ان میں بھارت کے ہندو دھرم یُدھ کرنے والے ہیں ان میں افریقہ کے عیسائی اکثریتی ممالک کے عیسائی ہیں۔ ان میں وسطی افریقی ری پبلک CAR ہے جہاں عیسائی دہشت گردوں نے بنگوئی شہر سے ہزاروں مسلمانوں کو نکال کر کچھ ماہ پہلے ہی باہر کر دیا ہے۔ بے گناہ مسلمانوں کو گھروں نے نکال دیا گیا،مساجد جلا دی گئیں، بازار تباہ کر دئیے گئے اور سارا مغرب تماشہ دیکھتا رہا۔ غزہ پر پچاس دِن بمباری اور زمینی حملہ کئے گئے، مسجد، اسکول، ہسپتال، گھر ہر ایک کو تباہ کیا گیا۔ ڈھائی ہزار لوگ بشمول 375بچے شہید ہوئے۔ UNکے اسکول پر بمباری ہوئی اور مسٹر اوباما اسرائیل کی حمایت کرتے رہے۔ انہوں نے اس قتل عام کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا بلکہ اسرائیل کی حفاظت کے حق کا ظالمانہ فقرہ دہراتے رہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ سوڈان ایک آزاد مسلم ملک کو پوری عیسائی دنیا کی مدد سے لمبی خانہ جنگی کی مدد سے دو ٹکڑے کر دیا گیا اور ایک آزاد عیسائی ملک پیدا کر دیا گیا اور بوسینا میں جو کچھ لمبے عرصہ تک ہوا وہ کس کی مدد سے ہوا ؟ کیا اس کے لئے عیسائی مذہب کے ماننے والے ذمہ دار نہیں تھے؟ بھارت میں آئے دن مسلمانوں کے خلاف تشدد برپا کرنے والوں کے خلاف کانفرنس بات کیوں نہیں کرتی؟ ماؤوادیوں کے حملہ میں ہزاروں پولیس والے مارے جاتے ہیں، بے گناہ شہری مارے جاتے ہیں اس پر کیوں بات نہیں ہوتی؟ اوبامہ صاحب !ایک دو بے انصافیاں نہیں ہیں بلکہ بے انصافیوں کی مسلسل تاریخ ہے۔ ’تہذیبوں کے تصادم‘ کا نظریہ کسی مسلم ملک یا القاعدہ نے نہیں بلکہ امریکہ اور اس کے اعلیٰ سیکورٹی صدارتی مشیر پروفیسر ایس ہنٹنگٹن S. Huntingtonنے دیا تھا۔ مسلمان تو اس جنگ کو صرف جھیل رہے ہیں۔ مغرب نے روس کے حصہ بخرے جن مجاہدین کی مدد سے کرائے تھے اس رو س کے خاتمہ کے بعد وہ خالی جگہ جو ایک دشمن کے لئے تھی آپ نے اسلام کے نام سے بھری کیا یہ جھوٹ ہے؟ کیا مسٹر مارگریٹ تھیچر نے کلدیپ نیر صاحب سے نہیں کہا تھا کہ ’روس کے بعد اب ہمارا مقابلہ اسلام سے ہے‘ کیا مسلم دنیا کی جغرافیائی تنظیم نو پر امریکی تھنک ٹینکوں کی کتابیں نہیں شائع ہوئیں۔ جس میں پوری اسلامی دنیا خصوصاً مڈل ایسٹ کو نئے سرے سے بنانے کا منصوبہ شائع ہوا اور داعش کے ذریعہ آپ ہی وہ ایجنڈہ ترکی سے شام تک کرد ینی علاقہ کی صورت میں لاگو کرا رہے ہیں۔ ورنہ 26ملکوں کی فوج وہ بھی صحرا میں کیسے داعش کو نہیں رو ک پارہی ہے؟ بے انصافیوں کی حقیقت یہ بھی مغرب جمہوریت کا دم بھرتا ہے مگر وہ جمہوریت ہی اسلامی ممالک میں چل پاتی ہے جو آپ کے ایجنڈہ اور تہذیب اور معاشی، جغرافیائی مفادات کی حفاظت کرے۔ مغرب نے الجزائر میں 20سال قبل جمہوری طریقہ سے جیت کر آنے والی اسلامک سالولیشن فرنٹ کا راستہ ملٹری سے ملکر روکا نتیجتاً آج تک وہاں امن نہیں ہے۔ لاکھوں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ مغرب نے جمہوری طریقہ سے منتخب حماس کو کیوں منظور نہ کرکے مغرب کے کاٹہ لیس محمود عباس کو آگے کیا۔ مصر میں اخوان کی حکومت کے مقابلہ ظالم ڈکٹیٹر کی حمایت 4ارب ڈالر کے ہتھیاروں سے ا مریکہ نے کی اور آپکی پٹھو حکومتوں سعودی خلیجی حکومتوں نے 8ارب ڈالر مرسی حکومت کی قتل کی سپاری میں دئیے۔ جس پارٹی کو الیکشن میں 60%ووٹ ملے اسے آپ عوامی مظاہروں کی آڑ میں ملٹری کے بربر کریک ڈاؤن سے ختم کرا دیتے ہیں۔ اگر مظاہروں سے منتخب حکومتیں ختم ہو سکتی ہیں تو وال اسٹریٹ Wall St.کے مظاہروں سے امریکہ میں حکومت ختم کیوں نہیں ہوئی؟ بنگلہ دیش کی 18%ووٹ لیکر بننے والی حکومت مظاہروں سے ختم نہیں ہوتی؟
آپ مغرب کی بے قید، فحاشی، عریانی، جنسی بے راہ روی، ہم جنس پرستی کی تہذیب کو اقوام متحدہ کے راستے سے فیملی پلاننگ کی طرح مسلم دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں۔ آپ بتائیے 160کروڑ مسلمانوں کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون، فلمیں بناکر بار بار اعلان کرکے چھاپتے ہیں؟ آپ کا صدر کروسیڈ کی شروعات کا نعرہ بلند کرکے عراق پر حملہ کرتا ہے؟ آپ کی فوج کے کمانڈو کو مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ پر حملہ کی تربیت دی جاتی ہے۔ آپ کے ملک میں قرآن پاک کو اعلان کرکے جلایا جاتا ہے۔ اور جلانے والے کو ایک دن کی سزا امن عامہ میں نقض کی ملتی ہے۔ قرآن کو بے حرمت کرنے کی۔ اسلام، قرآن، مکہ مکرمہ کو بے حرمت کرنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی کھلی آزادی ملی ہوئی ہے۔ جبکہ مسلمان تو کہیں بھی حضرت عیسیٰ ؑ کی شان میں گستاخی نہیں کر رہے ہیں۔ پوپ کی شان میں گستاخی نہیں کر رہے ہیں۔ کہیں بائبل کے نسخے جان بوجھ کر نہیں جلا رہے۔ اور آپکی آزادی کی حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے خلاف توہین کی آزادی ہے مگر ’یہودیت‘ اور ’ہولوکاسٹ‘ پر انگلی اٹھانا جرم ہو جاتا ہے۔ یہ دوغلی آزادی کیسی ہے؟
مغرب کی ظلم و زیادتی نا انصافی اور منافقت کے خلاف آواز اٹھانا آج ویسے ہی جرم ہے جیسے آج سے 250سال قبل برطانیہ، اٹلی، فرانس، ہالینڈ وغیرہ مغربی لٹیری طاقتوں کے خلاف اٹھانا جرم تھا۔ القاعدہ، داعش، بوکوحرام، طالبان وغیرہ کی پیدائش پالنے پوسنے میں آپکی تربیت اور سرپرستی کا ہی دخل ہے یہ آپ بھی جانتے ہیں اور دنیا بھی جانتی ہے۔ یہ دنیا جانتی ہے اسی لئے دنیا کی رائے عامہ میں فلپائن، انڈونیشیا اور بھارت کے علاوہ آپ کو کہیں بھی مقبولیت حاصل نہیں ہے۔ صرف مسلم دنیا کا مسئلہ نہیں ہے۔
٭ جو کانفرنس ہو رہی ہے اس میں سب سے پہلے انصاف کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور اس میں کوئی تفریق نہ برتی جائے۔
٭ دوسری اقوام پر اپنی تہذیب اور اقتدار کو تھوپنے کی کوشش نہ کی جائے۔
٭ جتنی بھی دہشت گرد تنظیمیں ہیں ان سب پر ایک بین الاقوامی ٹربیونل مقرر کرکے (۱)ان کے قائم کرنے والوں (۲) ان کو اسلحہ سپلائی کرنے والوں (۳) ان کو مالی مدد کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
٭ اقوام متحدہ میں جتنے معاملات معلق ہیں ان کو جلدی اور انصاف کے ساتھ طے کیا جائے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *