بنی اسرائیل کا دور غلامی اسباب اور نتائج

واذقال موسی لقومہ۔۔وربک فقاتلا انا ھھنا قاعدون۰(المائدہ:۲۲/۲۳)
’اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا ……اے میری قوم!مقدس زمین میں داخل ہو جائو جو اللہ نے تمہارے نام لکھ دی ہے اور تم اپنی پشت کے بل منہ نہ موڑو،پھر تم خسارہ اٹھانے والے ہو جائوگے ۰انہوں نے جواب دیا: اے موسیٰ!بے شک اس سر زمین میں ایک زور آور قوم ہے۔ اور ہم ہر گز اس میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ لوگ اس میں سے نکل جائیں،پھر اگر وہ لوگ اس میں سے نکل گئے تو بے شک ہم داخل ہو جائیں گے۔وہ کہنے لگے: اے موسیٰ!ہم ہر گز اس زمین میں داخل نہیں ہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں چنانچہ تو اور تیرا رب وہاں جائیں، پھر تم دونوں ان سے لڑو،ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔‘
فلسطین یہود کے لیے وہ سر زمین ہے جس کا وعدہ اللہ نے ان سے کیا تھا،یہ علاقہ انبیائے بنی اسرائیل حضرت ابراہیم ؑ،حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوب ؑ کا مسکن بھی رہ چکا تھا اور اسی علاقہ سے ان حضرات علیھم السلام نے اپنی دعوتی تحریک کا آغاز بھی کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے اس علاقہ کا قسمیہ وعدہ کیا تھا، حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو غلامی سے آزادی دلانے کے بعد تربیت و تزکیہ کے مختلف مراحل سے گزار چکے تو شہر موعود کے قریب پہنچے جومنزل مقصود تھی اور جس کے لیے آپؑ نے بنی اسرائیل کو تیار کیا تھا۔ آپؑ نے قوم کے ۱۲ سرداروں کو شہر کے اندر یہ دیکھنے کے لیے بھیجا کہ شہر کی صورت حال کیا ہے اور دشمن قوم کی حالت کیا ہے۔جب یہ پارٹی واپس آئی اور اس نے شہر ی رپورٹ دو صورتوں میں پیش کی۔ وہ بتاتی ہے کہ غلامی کس طرح اقوام کو بزدل اور حقیر، دنیا کا حریص اور لالچی بنا دیتی ہے۔اس پارٹی نے فلسطین کی زرخیزی و شادابی کی تفصیلات توپر شوق انداز میں بیان کی، شہر کی خوش حالی پر یہ تبصرہ کہ اس میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں،نے بنی اسرائیل کے شوق تعیش کو بھڑکا دیا لیکن جب ان سرداروں نے شہر میں رہنے بسنے والی قوم کی قوت و حشمت اور ان کی زور آوری بیان کی اور یہ بھی واضح کردیا کہ ’ہم اس لائق نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں۔‘اس موقع پر ان ۱۲ سرداروں میں سے سوائے دو سردار یوشع اور کالب کے بقیہ تمام نے نہ صرف یہ کہ خود بزدلی کا مظاہرہ کیا بلکہ قوم کو بھی اس انداز میں خوف زدہ کیا کہ اس نے واویلہ شروع کردیا۔اس ٹیم کی رپورٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے صاحب تدبر قرآن یوں رقم طراز ہیں:
’وہ ملک جس کا حال دریافت کرنے کو ہم اس میں سے گزرے ایک ایسا ملک جو اپنے باشندوں(دشمنوں)کو کھا جاتا ہے اور وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے وہ سب قد آور ہیں اور وہاں ہم نے بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبّار ہیں اور جبّاروں کی نسل سے ہیں اور ہم تو اپنی نگاہ میں ایسے تھے جیسے ٹڈے ہوتے ہیں اور ایسے ہی ان کی نگاہ میں تھے۔‘(گنتی۱۳:۳۳،)
تب ساری جماعت زور زور سے چیخنے لگی او ر وہ لوگ اس رات روتے ہی رہے اور کل بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کی شکایت کرنے لگے اور ساری جماعت ان سے کہنے لگی ہائے کاش ہم مصر ہی میں مرجاتے!یا کاش اس بیابان ہی میں مرجاتے!خدا وند کیوں ہم کو اس ملک میں لے جاکر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے۔(گنتی:۱۴:۱۔۳:تدبر قرآن،ج۲،ص۴۸۸/۸۹)
قوم نے جب اس انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کیاتو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کے حضور اپنی بے بسی اور لاچاری اس انداز میں پیش کی:
قَالَ رَبِّ اِنِّی لاَ اَمْلِکُ اِلَّا نَفْسِی وَاَخِی فَافَْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ(المائدہ:۲۵)
’موسیٰ نے کہا:اے میرے رب!بے شک مجھے اپنے آپ اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر اختیار نہیں،چنانچہ تو ہمیں اس نافرمان قوم سے الگ کردے۔‘
کسی قوم کی بد بختی اس سے زیادہ کیا ہوسکتی ہے کہ وقت کے دو دو نبی ان سے غلامی کے اثرات دھل نہ پائے۔ اور قوم کی بزدلی کے بعد خدا کے حضور اپنی لاچاری اس انداز میں بیان کردی ہو، اس موقع پر اللہ کی جانب سے بنی اسرائیل کو جو سزا دی گئی وہ بھی اتنی ہی شدید تھی جتنا بڑا ان کا جرم۔ چنانچہ فیصلہ خدا وندی ہوا:
قَالَ فَأِنَّھَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیْھِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ج یَتِیْھُوْنَ فِی الْاَرْضِ ط فَلاَ تَأْسَ عَلٰی الْقَوْمِ الفٰسِقِیْنَ(المائدہ:۲۶)
’اللہ نے فرمایا:’بے شک وہ (مقدس زمین)ان لوگوں پر چالیس برس تک حرام کردی گئی، وہ زمین میں چالیس برس تک ادھر ادھر بھٹکتے پھریں گے، چنانچہ آپ اس نافرمان قوم کا غم نہ کھائیں۔‘
ان چالیس سالوں میں بنی اسرائیل پر کیا گزری ؟ امام ابن جریر نے حضرت قتادہ ؒ سے نقل کیا ہے کہ’ ان پر بستیاں حرام کردی گئیں تھیں۔وہ کسی بستی میں نہیں اترتے اور نہ ہی اس پرقادر تھے۔‘نبی کے اعلان برأت کے بعد بنی اسرائیل حضرت موسیٰ و ہارون علیھما السلام کی قیادت سے محروم ہوگئے۔ان چالیس سالوں میں وہ پوری نسل ختم ہوگئی جس نے قبطیوں کے زیر غلامی پرورش پائی تھی،اس صحرا نوردی کے دوران بنی اسرائیل کی نئی نسل پلی، بڑی اور جوان ہوئی۔اسی نے بعد میں یوشع نبی کی قیادت میں ارض ِموعودہ کو فتح کیا۔ان واقعات سے ہمارے بعض علمائے اجتماعیات نے یہ نتیجہ نکالا ہے اور صحیح نتیجہ نکالا ہے کہ:
’ آزادی اور حکمرانی کی ذمہ داریوں کے لیے خود اعتمادی اور اولوالعزمی ضروری ہے۔مصر کی غلامی نے یہ چیز بنی اسرائیل کے اندر سے ختم کردی تھی۔‘
وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیَاطِیْنَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۰(البقرہ:۱۰۲)
’اور انہوں نے اس کی پیروی کی جسے شیطان،سلیمان کی بادشاہت میں پڑھتے تھے، اور سلیمان نے کفر نہیں کیا تھا،وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور انہوں نے اس کی پیروی کی جو بابل میں ہاروت اور ماروت دو فرشتوں پر نازل کیا گیا تھا،وہ دونوں فرشتے جادو سکھانے سے پہلے کہہ دیتے تھے کہ ہم تو صرف آزمائش ہیں، لہٰذا تو کفر نہ کر،چنانچہ لوگ ان سے وہ جادو سیکھتے جس کے ذریعہ سے وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈالتے،اور وہ اس جادو سے اللہ کے حکم کے سوا کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔اور لوگ ان سے وہ علم سیکھتے تھے جو انہیں نقصان پہنچاتا تھا،ان کو نفع نہیں دیتا تھا، حالانکہ وہ بالیقین جانتے تھے کہ جس نے اس(جادو)کو خریدا، آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہیں، اور البتہ وہ بہت بری چیز تھی جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانیں بیچ ڈالیں کاش!وہ جانتے ہوتے۔‘
ظلم و استبداد کے دور میں قوموں کے طرز زندگی کس طرح تبدیل ہوجایا کرتی ہیں،اگر کوئی قوم اپنے مخالف عقائد قوم کے جابر حکمرانوں کے اقتدار کو قلباً و ذہناً قبول کرلیتی ہے اور اپنی شناخت بھول جاتی ہے تو نتیجے میں قومی وقار ختم ہوجاتا ہے اور قوم کا مقصد و نصب العین نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔بے مقصد قوم اگر آپس میں دست و گریبان اور ایک دوسرے کے خیر کی دشمن نہ ہوگی تو اور کیا کرے گی۔یہی حالت بنی اسرائیل کی اس وقت ہوئی جب وہ بابل میں غلامی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔مولانا مودودی ؒ رقم طراز ہیں:
اس آیت کی تاویل میں مختلف اقوال ہیں،مگر جو کچھ میں نے سمجھا وہ یہ ہے کہ جس زمانے میں بنی اسرائیل کی پوری قوم بابل میں قیدی اور غلام بنی ہوئی تھی،اللہ نے دو فرشتوں کو انسانی شکل میں ان کی آزمائش کے لیے بھیجا ہوگا۔جس طرح قوم لوط کے پاس فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں گئے تھے،اسی طرح ان اسرائیلیوں کے پاس وہ پیروں اور فقیروں کی شکل میں گئے ہوںگے۔(تفہیم القرآن جلد اول،ص ۹۸)
فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْھُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِہِ بَیْنَ الْمَرْأِ وَ زَوْجِہِ ط:یعنی ملائکہ کی ان تنبیہات کے باوجود یہود ان فرشتوں سے خاص اس بات کا علم حاصل کرتے کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی کیسے ڈالی جا سکتی ہے۔آیت کے اس حصے سے بنی اسرائیل کے فساد اخلاق، پست ہمتی اور باہمی دشمنی اور پست اخلاقی کا اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی ساری تگ و دور اس جانب تھی کہ اس علم کے ذریعہ معاشرے کے سب سے مقدس رشتوں کو کیسے منقطع کردیا جائے۔حالانکہ میاں بیوی کے رشتہ کے استحکام پر پورے نظام تمدن کے استحکام کی بنیاد ہے۔کسی قوم کے دیندار لوگ اگر اس سفلی کام میں لگ جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس قوم کے دینداروں نے ابلیس کے کرنے کا کام اپنے ذمہ لے لیا ہے۔
وَاِذقُلْتُمْ یٰمُوسٰی لَنْ نَصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضَ مِنْ بَقْلِھَا وَ قِثّآئِھَا وَفُوْمِھَا وَ عَدَسِھَا وَبَصَلِھَا ط قَالَ اَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِی ھُوَ اَدْنٰی بِالَّذِی ھُوَ خَیْرٌ ط(البقرہ:۶۰۔۶۱)
’اور جب تم نے کہا:اے موسیٰ!ہم ایک ہی کھانے پر ہر گز صبر نہیں کر سکتے،لہٰذا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا مانگ کہ وہ ہمارے لیے وہ چیزیں نکال دے جو زمین اگاتی ہے،(یعنی)اس کی ترکاری،ککڑی،گندم،مسور اور پیاز۔موسیٰ نے کہا کیا تم لینا چاہتے ہو وہ چیز جو ادنی ہے اس کے بدلے جو عمدہ ہے۔‘
یہ پورا واقعہ، اس دوران تربیت کا ہے جس سے اس وقت مسلم امت کو گزاراجا رہا تھا۔آسمانی غذائوں کی نعمت، بغیر محنت کے پانی کا انتظام،سروں پر ابر کا سایہ، ان نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت دو نبیوں کی صحبت،ان تمام کے باوجود جس مقصد کے تحت بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے نکالاگیا تھا کہ دعوت و جہاد کے فریضہ کے قابل ہو سکیں،اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو بنی اسرائیل کو اس کا شعور ہی نہیں تھا یا پھر انہوں نے اپنے آپ کو اس گراں قدر ذمہ داری کے قابل نہیں بنایا۔ جو قوم غلامی کے عیش و آرام کو اتنا پسند کرے کہ آزادی کی تکلیف کو گوارا نہ کرسکے وہ قوم کبھی بھی آزادی حاصل نہیں کر سکتی۔قرآن مجید کے اس مقام سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسان کا ضمیر زندہ ہو تو وہ کھانے کی لذت دستر خوان کے تنوعات کے اندر نہیں ڈھونڈتا بلکہ ضمیر اور ارادہ کی آزادی کے اندر ڈھونڈتا ہے۔یہ چیز اگر اس کو حاصل ہوتو خشک روٹی بھی اس کے لیے جملہ انواع نعمت فراہم کر دیتی ہے۔اس مقام پر ایک یہ نکتہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بنی اسرائیل کی اصلاح و تربیت صحرا کی سخت اور جفا کشی کی زندگی ہی میں کرنا مقصود تھی لیکن یہ لوگ اس جفا کشی کی زندگی سے بھاگ کر شہری عیش و آرام کی زندگی بسر کرنا چاہ رہے تھے۔تورات میں ایک جگہ بنی اسرائیل اس حالت کو بیان کیا گیا ہے:’اور بنی اسارئیل پھرے اور روتے ہوئے بولے کون ہے جو ہمیں گوشت کھانے کو دے گا۔ ہم کو وہ مچھلی یاد آتی ہے جو ہم مفت مصر میں کھاتے تھے۔اور وہ کھیرے اور وہ خربوزے اور وہ گندم اور وہ پیاز اور وہ لہسن۔ پر اب تو ہماری جان خشک ہو چلی، یہاں تو ہماری آنکھوں کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے مگر یہ من۔(گنتی۔ ۱۱:۴۔۶)
وَاِذْ قَالَ مُوسٰی لِقَوْمِہِ یٰاقَوْمِ لِمَا تُوذُوْنَنِی وَقَدْ تَعْلَمُوْنَ اَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ ط وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۰(الصف:۵)
’اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم!تم مجھے ایذا کیوں دیتے ہو؟حالانکہ تم جانتے ہو کہ بلا شبہ میںتمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں،پھر جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیے،اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘
یَسْئَلُکَ اَھْلُ الْکِتَابِ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْھِمْ کِتَابًا مِنَ السَّمَائِ فَقَدْ سَأَلُوْا مُوْسٰی اَکْبَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَقَالُوْا اَرِنَا اللّٰہُ جَھْرَۃً فَأَخَذَتْھُمُ الصَّاعِقَۃُ بِظُلْمِھِمْ (نسائ:۱۵۳)
’(اے نبیؐ)اہل کتاب آپ سے تقاضا کرتے ہیں کہ آپ آسمان سے ایک کتاب اتار لائیں۔چنانچہ ان لوگوں نے موسیٰ سے اس سے بھی بڑا تقاضا کیا تھا، انہوں نہ کہا تھا: (اے موسیٰ)ہمیں اللہ بالکل آنکھوں کے سامنے دکھا، پھر ان کے ظلم کی وجہ سے کڑاکے کی بجلی ان پر آپڑی۔‘
یٰا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَکُونُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوُا مُوسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا ط وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْھًا۔(احزاب:۶۹)
’اے ایمان والو!تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ کو ایذا دی تھی، پھر اللہ نے اسے اس (جھوٹی بات)سے بری کردیا جو انہوں نے کہی تھی۔اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے رتبے والا تھا۔‘
بنی اسرائیل نے اپنے نبی کو کن معنی میں تکلیف دی تھی؟اگر حضرت موسیٰ کی مصر میں آمد بحیثیت نبی کے وقت سے لے کر آپ ؑ کی برات ……جو آپ نے بوقت انکار جہاد کیا تھا……تک کی پورے تاریخی واقعات دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے ہر اطاعت و فرمابرداری کے موڑ پر اپنے نبی کو نہ صرف پریشان کیا بلکہ ایسے مضحکہ خیز مطالبات بھی کیے جس سے یہود کی ایذا پسند طبیعت کا اندازہ ہوتا ہے۔گوسالہ پرستی اور نبی ہارون ؑکے قتل کے درپے ہونا،من و سلوی کی ناقدری کرکے زمینی پیداوار کا مطالبہ،بار بار عہد کرکے توڑنا،گائے کے حکم ذبیح پر ٹال مٹول کرنا،خدائی دیدار پر ہٹ دھرمی،ارض مقدس کی بازیابی کے لیے جہاد سے انکار،بت پرستی کا شوق،یہ سارے وہ واقعات ہیں جن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ قوم آپ کو مسلسل ایذا دے رہی ہے۔جو قوم اپنے اس نبی کے ساتھ جس نے انہیں فرعونی غلامی سے آزادی دلائی یہ رویہ روا رکھے اس کی ذہنی رو کا اندازا کیا جاسکتا ہے۔
وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَّا النَّارُ اِلاَّ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃً(البقرہ:۸۰)
’اور انہوں نے کہا:آگ ہمیں گنتی کے چند دنوں کے سوا ہرگز نہیں چھوئے گی۔‘
امام ابن اسحاق نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں:’یہود کہتے تھے دنیا کی مدت سات ہزار سال ہے اور ہمیں دنیا کے ایام کے مطابق ہر ہزار سال کے بدلے ایک دن آگ میں عذاب دیا جائے گا اور یہ سات ایام بنتے ہیں پھر عذاب ختم ہوجائے گا۔اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ آیت نازل کی۔(تفسیر در منثور، ج۱، ص۲۲۹)
بنی اسرائیل کا غرّہ کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں ایسا پندار ہے جس نے انہیں میدان عمل سے ہٹا کر خواہشات کے نہ ختم ہونے والے جنگل میں بھٹکا دیا۔دیرپا غلامی جب کسی قوم کے اعضاء و جوارح کو کمزور کردیتی ہے اور قوم سے ہمت و جوانمردی ختم ہوجاتی ہے تو پھر سوائے آباء پرستی،تاریخی عظمتوں کی یاد اور بے عملی کے میدان میں بے جا خواہشوں کے دوسری کوئی چیز بچتی نہیں۔یہود بھی انہیں خوش فہمیوں کا شکار ہوئے اور ایسا ہوئے کہ آج تک انہیں اپنے سینے سے چمٹائے بیٹھے ہیں۔قرآن مجید نے ان کے باطل خیالات کو مختلف جگہوں پر بیان کیا ہے:
وَ قَالُوْا لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلاَّ مَنْ کَانَ ھُوْداً اَوْ نَصٰرٰی تِلْکَ اَمَانِیُّھُمْ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(بقرہ:۱۱۱)
’اور یہودی و عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی اور عیسائی کے سوا کوئی جنت میں نہیں جائے گا یہ ان کے باطل خیالات ہیں (اے پیغمبر آپؐ)کہہ دیجیے کہ اگر سچے ہوتو دلیل پیش کرو۔‘
ٰوَ قَالُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی تَھْتَدُوْا قُلْ بَلْ مِلَّۃَ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًاوَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔(بقرہ:۱۳۵)
’اور(عیسائی اور یہودی)کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی ہو جائو تو سیدھی راہ پاجائوگے (اے نبی ؐان سے)کہہ دیجیے کہ ہر گز نہیں بلکہ ہم دین ابراہیم پر ہیں جو ایک اللہ کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔‘
وَقَالَتِ الْیَھُودُ وَالنَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنٰئوُا اللّٰہِ وَاَحِبَّآئُ ہُ(مائدہ:۱۸)
’اور یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا: ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔‘
قُلْ یٰآاَیُّھَا الَّذِیْنَ ھَادُوْا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّکُمْ اَوْلِیَائَ للّٰہِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۰وَلاَ یَتَمَنَّوْنَہُ اَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالظّٰلِمِیْنَ(صف:۶، ۷)
’(اے نبیؐ)کہہ دیجیے: اے لوگو جو یہودی ہوئے!اگر تم دعوی کرتے ہو کہ بے شک تم اللہ کے دوست ہو سب لوگوں کے سوا تو موت کی تمنا کرو،اگر تم سچے ہو۔اور وہ کبھی یہ تمنا نہیں کریں گے بوجہ ان (برے اعمال)کے جو وہ اپنے ہاتھوں آگے بھیج چکے ہیں،اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘
یہ خوش فہمی ہے جس میں یہود کے خاص و عام سب مبتلا تھے کہ ہم جو چاہیں کرتے پھریں چونکہ ہم انبیاء کی اولاد اور اللہ کے محبوب ہیں اس لیے بداعمالی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
عمل سے فرار، بے عملی کے انجام کا خوف اور دنیا کی ہوس نے یہود کو اس قدر بزدل اور زندگی کا حریص بنا دیا تھا کہ ان میں حریت پسندی ہی ختم ہوگئی تھی اور وہ محض زندگی جینے کے لیے بزدلی کی کسی بھی حد تک جا سکتے تھے،اسی بزدلی اور حرص و طمع سے پُر زندگی پر قرآن مجید یوں تبصرہ کرتا ہے:
وَلَتَجِدَنَّھُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا یَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَۃٍ(البقرہ:۹۶)’اور یقینا آپ ان(یہودیوں)کو سب لوگوں سے بڑھ کر جینے کے حریص پائیںگے اور ان لوگوں سے بھی زیادہ جنہوں نے شرک کیا، ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کاش!اسے ایک ہزار سال کی زندگی مل جائے۔ ‘
(جاری)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *