مسلم پرسنل لا کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ آخری کتاب ہدایت قرآن کریم اور نبی آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہﷺ کے ذریعہ انسانیت کی فلاحِ دنیوی اور سعادتِ اخروی کے لئے جو قانون عطا فرمایا ہے،اسے شریعت کہتے ہیں۔شریعت اسلامی کے وہ قوانین جو خاندان کی تشکیل اور خاندانی امور سے متعلق ہیں، جو انسانی معاشرہ سے تعلق رکھتے ہیں، جو سماجی تعلقات کے آداب و اصول بتاتے ہیں، جو خاندان سے وابستہ مختلف افراد کی ذمہ داریاں اور ان کے حقوق طے کرتے ہیں۔مثلاً نکاح طلاق، خلع، نان و نفقہ، مہر، میراث وغیرہ قوانین۔ قانون کے اسی حصہ کو اردو میں’عائلی قانون‘ عرب ممالک میں ’الاحوال الشخصیہ‘ اور انگریزی میں پرسنل لا (Personal Law)یا فیملی لا (Family Law) کہتے ہیں۔
مسلم پرسنل لا کی اہمیت:
ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف انسان ہی نہیں بلکہ ساری کائنات کا خالق ہے، اس کا مقصد تخلیق، اسے دی گئی طاقت و صلاحیت اور اس پر عائد کی گئی و ذمہ داریوں کو وہ سب سے زیادہ جانتا ہے۔ وہ ازل سے لیکر ابد تک، ظاہر سے لیکر باطن تک تمام چیزوں کا علم رکھنے والا ہے۔خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: الا یعلم من خلق وہو اللطیف الخبیر (کیا وہ نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا اور وہ باریک علم رکھنے والا ہے)۔ جب بنایا اس نے اور پھر پورا علم اس کے پاس ہے تو اسی کو قانون بنانے کا اختیار بھی ہے اور اسی کا بنایا ہوا قانون اور حکم، اس لائق ہے کہ وہ ساری کائنات پر چلے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: الا لہ الخلق والامر (الاعراف ۵۴)آگاہ رہو اسی کو پیدا کرنے اور حکم دینے کا حق ہے۔ ان الحکم الا للہ (الانعام ۵۷) حکم تو صرف اللہ ہی کا چلے گا۔
چوں کہ خدا وند قدوس کی ذات علیم و خبیر بھی ہے اور سمیع و بصیر بھی، حاکم و قادر بھی ہے اور عادل و مقسط بھی۔ لہٰذا اسی کا بنایا ہوا قانون سب کے لئے بہتر، باعث رحمت اور خیر و برکت کا متقاضی ہے۔ شریعت کی شکل میں اس کے نازل کئے ہوئے تمام قوانین بالخصوص معاشرتی قانون پورے معاشرے کے لئے امن و سلامتی، چین و سکون اور صلاح و فلاح کا ضامن ہے۔
ایک مسلمان کے لئے ان احکامات کو ماننا اور اپنی زندگی میں انہیں نافذ کرنا اس کے ایمانی غیرت و دینی حمیت کا متقاضی بھی ہے اور ملی وجود کو باقی رکھنے کا معاملہ بھی ہے، اسی لئے ہر زمانہ میں مسلمانوں نے قانون کے اس حصہ کو اپنے ملی وجود کی علامت کے طور پر اپنے سینہ سے لگائے رکھا اور انہیں احکام کی روشنی میں اپنے آپس کے معاملات حل کرتے و کرواتے رہے۔ اس طریقہ کار سے انحراف، ان کے لئے شرعاً کوئی گنجائش بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ماکان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم۔ (الاحزاب۳۶) یعنی اللہ اور رسول کے فیصلہ کے بعد کسی مسلمان مرد عورت کے لئے اپنے معاملہ میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔ ان احکام و مسائل کے واضح ہونے کے باوجود مصطفی کے لائے ہوئے طریقہ کو چھوڑ کر شیطان کے طریقہ کو اختیار کرنا سخت بے توفیقی کی بات اور جہنم میں جانے کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جہنم، وسائت مصیرا (النساء ۱۱۵)یعنی جو کوئی رسول کی مخالفت کرے راہِ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد اور مسلمانوں کے راستہ سے ہٹ کر چلے تو موڑ دیں گے اس کو اسی طرف جس طرف وہ مڑ گیا ہے اور ہم اس کو جہنم میں ڈال دیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔
مسلم پرسنل لا ہندوستان میں:
دیگر اسلامی ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی مسلم پرسنل لا کا نفاذ حکام اور قاضیوں کے ذریعہ ہوا کرتا تھا اس کام کے لئے ہر علاقہ میں باصلاحیت قضاۃ بحال ہوا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ عہد مغلیہ تک جاری رہا۔ انگریزوں کے ہندوستان پر قابض ہونے کے بعد بھی ایک عرصہ تک نکاح طلاق اور ان جیسے دوسرے امور کے مقدمات میں انگریزی عدالتیں قاضی، مفتی اور علماء کی مدد لیکر شریعت کے مطابق فیصلہ کرتی رہیں۔ لیکن انگریزوں نے جب ہندوستان میں رائج ہر سسٹم کو بدلنے کی ٹھان لی۔ تو اس کے ضمن میں قبل سے مروج اسلامی قانون کے مختلف شعبوں کو ختم کرنا شروع کر دیا اور عدالتوں سے مسلم علماء اور ہندو شاسترکا تعلق بھی ختم کر دیا گیا۔ ۱۸۶۶ء میں سب سے پہلے فوجداری قانون کو ختم کیا گیا، پھر قانون شہادت اور قانون معاہدات کی باری آئی۔ یہاں تک کہ عائلی قوانین اور مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کی بابت انگریزوں نے غور کرنا شروع کیا۔ اس کے لئے برٹش گورنمنٹ نے رائل کمیشن (Royal Commission)مقرر کیا، غالباً یہ کمیشن مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کی غرض سے چار بار بیٹھا، لیکن ہر مرتبہ وہ اسی نتیجہ تک پہنچا کہ مسلم پرسنل لا کا مذہب سے گہرا تعلق ہے۔ لہٰذا ان قوانین میں تبدیلی کا مطلب ہے براہِ راست مذہبی و دینی امور میں مداخلت۔ جسے مسلمان کسی قیمت پر برداشت نہیں کریں گے۔ چنانچہ انگریزی حکومت پرسنل لاء میں مداخلت سے باز رہی اور اس نے ہندوؤں کے لئے دھرم شاشتر پر اور مسلمانوں کے لئے قانون شریعت پر عمل کے حق کو برقرار رکھا۔ لیکن اس کے باوجود وقتاً فوقتاً انگریزی عدالتوں کی طرف سے شریعت کے خلاف فیصلے بھی صادر ہونے لگے، ان حالات میں اس وقت کے اکابر علماء نے اپنے شرعی حقوق کے لئے زبردست تحریک چلائی۔
مسلم پرسنل لا ایکٹ:
علماء و مشائخ کی متحدہ کوششوں سے ۱۹۳۷ء میں شریعت ایپلیکیشن ایکٹ بنا، جس کی رو سے ملک کی عدالتیں نکاح، طلاق فسخ، خلع، ایلائ، مبارات، ظہار، نان و نفقہ، مہر، حضانت، (حق پرورش)ولایت، حق میراث، ہبہ، وصیت، وقف، اور شفعہ (ان مسائل کی مکمل تفصیل دفعہ وار انداز میں بورڈ کی طرف سے شائع کردہ مجموعہ قوانین اسلامی میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے)کے مقدمات میں اگر مقدمہ کے دونوں فریق مسلمان ہوں، تو شریعت کے مطابق فیصلہ دینے کی پابند ہیں۔ خواہ ان کا عرف و رواج کچھ بھی ہو، قانون شریعت کو بہر حال عرف و رواج پر بالادستی حاصل ہوگی (The rule of decision shall be Shariat)
اس لحاظ سے ہم اس ایکٹ کو مسلم پرسنل لا ایکٹ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کے ذریعہ دستوری طور پر مسلمانوں کو ان کے پرسنل لا کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس ایکٹ میں دیا گیا حق ہمارا قانونی حق ہے، اس کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ چوں کہ مسلم پرسنل لا سے متعلق قوانین قرآن کریم اور سنت نبوی پر مبنی ہیں: اس لئے اس میں کسی قسم کی ترمیم قبول کرنا و کسی اور قانون کو خدائی قانون سے بہتر قرار دینا کفر ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی مسلمان نہ اسے قبول کر سکتا ہے نہ اس پر راضی ہو سکتا ہے۔
آزاد ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کا تحفظ:
جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس ملک کے معماروں نے اس کے لئے جس دستور کو منتخب کیا وہ دستور جمہوریت پر مبنی تھا۔ اس دستور کے مطابق مملکت کا کوئی مذہب نہیں رکھا گیا، لیکن ہر مذہب کے ماننے والے کو ضمیر اور عقیدہ کی بھر پور آزادی دی گئی۔ اس کے بنیادی حقوق کے زمرے میں دفعہ ۲۵اور دفعہ ۲۹ بھی ہے جس میں تمام شہریوں خاص طور پر اقلیتوں کو آزادی ضمیر اور آزادی مذہب کا حق دیا گیا ہے۔ اسی طرح تمام شہریوں کو جس کی اپنی الگ زبان، رسم الخط یا ثقافت ہوا سے محفوظ رکھنے کا حق دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان امور نے تمام اقلیتوں کی قانونی پوزیشن کو مستحکم کیا اور مسلمانوں کا یہ حق کہ عائلی معاملات میں قوانین شریعت کے مطابق فیصلے کئے جائیں، مزید مستحکم ہوا اور مذہبی آزادی کے حق کی وجہ سے مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی گارنٹی ملی۔ لیکن سوئے اتفاق کہ مذکورہ دفعات کے ساتھ رہنما اصولوں میں ایک دفعہ ۴۴ بھی ہے، جس میں یکساں سول کوڈ کی بات کہی گئی ہے۔ کچھ بدنیت افراد نے یکساں سول کوڈ کا سہارا لیکر ہمیشہ مسلم پرسنل لا کو مخدوش کرنے اور اس کی عمارت میں سیندھ مارنے کی کوشش کی ہے،گویا کہ یکساں سول کوڈ کی تلوار ہمیشہ مسلم پرسنل لا پر مسلط رہتی ہے۔ دوسری طرف وقفے وقفے سے مختلف عدالتوں سے ایسے فیصلے صادر ہوتے رہتے ہیں جو مسلم پرسنل لا کے بالکل برعکس ہوتے ہیں اور ان کے ذریعہ شریعت میں کھلے عام مداخلت کی راہ ہموار ہوتی ہے، اس سے مسلمانوں کی مذہبی آزادی کی برملا خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ضرورت ہے آئین ہند میں دئیے گئے اپنے حقوق خاص طور پر مسلم پرسنل لا کے سلسلہ میں بیداری پیدا کی جائے اور مسلم پرسنل لاکے تحفظ اور اس کے دفاع کے لئے ۱۹۷۲ء میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نام سے جو نمائندہ ادارہ قائم کیا گیا تھا اور جو مستقل پرسنل لا کے تحفظ کے لئے مستعد ہے ان کے ہاتھ کو مضبوط کیا جائے، اور اس کے ذریعہ چلائے جا رہے آئینی حقوق بچاؤ تحریک کو تعاون دے کر کامیاب بنایا جائے اور بھر پور تحریک کے ذریعہ پرسنل لاء سے متعلق قوانین کو کوڈی فائی کروایا جائے۔ اور اس میں کسی قسم کی مداخلت کے خلاف سینہ سپر رہا جائے۔
(سہ ماہی خبرنامہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *