پھول کا زخم

ہجرت کا تیسرا برس تھا۔ بدر کی لڑائی ہو چکی تھی۔ کافروں کے بڑے بڑے سردار لوگ مارے گئے تھے۔ بڑے بڑے بہادر لوگ قتل ہوگئے تھے ہر گھر میں رونا دھونا مچ رہا تھا۔ کیسے ارمان سے مکہ کے یہ بہادر ہتھیار سجا کر بدر کے میدان میں گئے تھے کہ اب تو اسلام کا چراغ بجھا کر ہی آئیں گے، یہ فتنہ ہمیشہ کے لیے ہٹا کر ہی آئیں گے جس نے سارے عرب کو پریشانی میںڈال رکھا ہے۔
عمیر ابن وہب کے دل میںبھی انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی کیسے کیسے بہادر پہلوان، کیسے کیسے خوبصورت اور تندرست جوان مارے گئے تھے۔ مکہ کی گلیوں کی ساری رونق ہی جاتی رہی تھی۔
’اس ہاشمی نوجوان نے کیسا فساد پھیلایاہے۔‘ عمیر ابن وہب نے سوچا۔ اسے ایسا لگا جیسے انتقام کی آگ اس کا دل جھلسائے دے رہی ہو۔
صفوان ابن امیہ تو اسی روز سے کروٹیں بدل رہا تھا جب بدر کے میدان میںمکہ والوں کو زبردست شکست ہوئی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ مکہ بھر میں کوئی ایسا نہیں جو اس ہاشمی نوجوان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے جس نے بھائیوں کو بہنوں سے اور بیٹوں کو ان کے والدین سے جدا کر دیا ہے۔
کیسے سکون سے رہتے تھے سب کتنے پیار سے زندگی گزارتے تھے۔ ’ کیا کررہے ہیں، کیا کھا رہے ہیں۔ کیاپی رہے ہیں۔‘ کوئی پوچھنے والاہی نہ تھا اور اب اس ہاشمی نے ایسا چکر چلایا جیسے کوئی جادو کردیا ہو۔ جسے جسے بھی اس کے پاس سمجھانے کے لیے بھیجا وہ اسی کی سی باتیں کرتا ہوا واپس آیا۔ لاؤ عمیرابن وہب سے کہتے ہیں اسے سخت جلن ہے عبداللہ کے بیٹے محمدؐسے۔ اب اس قصہ کو پاک کرنا ہی ہوگا۔
صفوان ابن امیہ عمیر کے گھر جاتے ہوئے نہ جانے کیا کیا سوچتا رہا۔
’عمیر! ‘ اس نے رازدارانہ انداز میں جھک کر کہا۔
’ایک خیال آیا ہے میرے ذہن میں اگر تم ساتھ دو تو۔‘
’ہاں ہاں بتاؤ‘ عمیر نے پورے جوش سے کہا۔
’مجھے خبر ہے کہ انتقام کی اسی آگ میں تم جھلس رہے ہو جس میں میں جھلس رہا ہوں۔‘
’عمیر! میں تمہیں بہت سا انعام دوں گا، بہت ساروپیہ پیسہ دوں گا، بس ذرا سی ہمت کرلو عمیر! میں جانتا ہوں کہ تم بہت قابل اعتماد شخص ہو اور تم محمدؐ سے انتہائی نفرت کرتے ہو، تمہارے اوپر اس کا کوئی جادو اثر نہیں کر سکتا، کیا تم اسے ختم کر سکتے ہو؟‘
’کیوں نہیں صفوان! ‘عمیر نے پورے جوش سے کہا۔
’یہ تو میرا سب سے بڑا ارمان ہے اور میں اپنی جان کی بازی لگا کر بھی اس ارمان کو پورا کروں گا۔‘
’بہت بہت شکریہ عمیر! ‘ صفوان مسکرایا اور عمیر مدینے جانے کی تیاریوں میں مصروف ہوگیا۔ اس نے اپنی تلوار زہر میں بجھائی اور مدینہ پہنچ گیا۔
حضورؐ کے صحابیوں نے اسے دیکھا تو غصے سے بے تاب ہوگئے اس شخص نے کیسی کیسی تکلیفیں دی تھیں حضورؐ کو! سربازار گالیاں دیتا تھا وہ آپ کو، یہ آخر مدینے میں کیوں آیا ہے، مدینہ جو حضورؐ کے جاں نثاروں کا شہر ہے۔
لیکن حضورؐ کی پیشانی پر کوئی بل نہ آیا نہ چہرے پر غصہ کی کوئی جھلک ہی آئی بلکہ ہونٹوں پر ایک پیار بھری مسکراہٹ طلوع ہو گئی۔
’کیا بات ہے عمیر! ‘بہت پیار سے آپؐ نے پوچھا۔
’اس اجنبی شہر میں کیسے آگئے؟ چلو تم آرام سے میرے پاس رہو یہاں تمہیں کوئی کچھ نہ کہے گا۔‘
عمیر کے دل پر جیسے پھول برستے گئے اور پیشانی پر نفرت سے پڑے ہوئے بل دھیرے دھیرے ہی کھلتے چلے گئے۔ کیا سلوک محمدؐ میرے ساتھ کر رہے ہیں۔ میں، جس نے انہیں نہ جانے کتنی اذیتیں دی ہیں جو ان کا سخت دشمن ہے جو انہیں قتل کرنے کے ارادے سے آیا ہے۔
عمیر کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چھلک آئیں وہ پتھر کی طرح کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔
نفرت کے اندھیرے ایک دم چھٹ گئے اور جیسے ہر طرف اجالا ہی اجالا ہوگیا، حضورؐ کا چہرہ اس کی آنکھوں میں ایک چراغ کی طرح جگمگانے لگا۔
یہی تو وہ چراغ ہے جس کی روشنی ہر آنکھ کو چکاچوند کر دیتی ہے اس نے سوچا۔ میںکتنا بے وقوف تھا جو آج تک اس شخص سے نفرت کرتارہا۔ ’اللہ کے رسولؐ!‘عمیر نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
’میں آپ کو قتل کرنے آیا تھا یہ دیکھیے زہر میں بجھی ہوئی میری تلوار مگر یہاں آکر خود قتل ہوگیا ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان مجھے کلمہ پڑھائیے۔‘
اور عمیر کلمہ پڑھ کر اسلام کے جاں نثاروں میں شامل ہوگئے۔ چند روز بعد وہ مکہ پہنچے تو صفوان ابن امیہ نے امید بھری آواز میں عمیر سے پوچھا۔ ’سناؤ عمیر۔ کوئی اچھی خبر۔‘
’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اس کے سچے رسول ہیں۔‘
عمیرؓ نے کہا تو عقیدت سے ان کی آنکھیں بھرّا رہی تھی۔ (اُجالوں کا قافلہ)
قسط چہارم

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *