گھر واپسی ۔ حقیقت یا ڈرامہ

مسلمانوں کا عام عقیدہ یہ ہے کہ حضرت آدم ؑ پہلے انسان ہیں جنہیں زمین جانتی ہے۔ ان ہی سے حضرت حوّا کی تخلیق فرمائی گئی۔ یہ دونوں جنت میں زندگی گذار رہے تھے۔ ہمیشہ کی زندگی اور معاملات میں بالادستی کے فریب نے انہیں جنت سے نکال زمین کا واسی بنا دیا۔ آدم ؑ اور حوا سے بے شمار مردو عورت دنیا میں پھیلے۔ اس طرح دنیا میں انسانی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔
ان ہی انسانوں کو راہِ راست پر رکھنے اور ہدایت و نجات کی طرف توجہ دلانے کے لئے اللہ کے بے شمار چنندہ نبیوں نے کوششیں کیں۔ انہیں انبیاء کرام کہا جاتا ہے۔ انہوں نے انسانوں کو سمجھایا کہ تمہارا اصل گھر جنت ہے جہاں تمہاری واپسی ہونی ہے۔ یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ ہر لمحہ امتحان لیا جا رہا ہے تاکہ تم اپنے اصل گھر کی طرف واپس جاؤ۔
انسانوں کی سعید روحوں نے ایسے ہی نمائندوں کا ساتھ دیا اور کچھ نے ان کی مخالفت کی۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا انہیں جہنم کی طرف واپسی نصیب ہوگی۔ وید نگر آگرہ میں کچھ ٹوپیوں میں بیٹھے لوگوں نے ہون میں تیل کیا ڈالا مانوں سارے مسلمانوں سے ایمان کو چھوڑ کر شرک کو اختیار کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے۔ اُسے گھر واپسی کا نام دیا جا رہا ہے۔
دھرم جاگرتی سمیتی کے کارندے ہوں، بی جے پی کے سنسد، وی ایچ پی کے پد ادھیکاری یا آر ایس ایس کے سنچالک انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ جس گھر کے باسی ہیں یہ ان کا اپنا گھر نہیں بلکہ اصل گھر تو اپنے جدّ امجد حضرت آدم ؑ کا گھر جنت ہے۔ اس کی طرف واپسی کے لئے اسلام کو قبول کرنا پڑتا ہے تب ہی جنت کی واپسی ممکن ہے۔ ہمیں خوشی ہے RSS نے ابھیان کو چلانے کا فیصلہ کیا ہے تو ہماری اُن سے ایک ہی درخواست ہے کہ آدم ؑ کے گھر کی واپسی کا ابھیان چلائیں جس کے لئے محمدﷺ رسول اللہ کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
اب اگر یہ گھر واپسی نہیں تو کون سے گھر واپسی ہوگی؟ یہ سوال کہ لاکھوں اور کروڑوں نے گھر ہی کیوں چھوڑا تھا۔ اپنی جگہ اب بھی باقی ہے۔ کیا اس گھر میں مساوات تھی یا ذات پات، رنگ و نسل کی بنیاد پر بھید بھاؤ؟ سروں سے، کندھوں سے، پیٹ سے اور چرنوں سے پیدائش انسان کے درجوں میں فرق کی بنیاد تھی۔ کیا اس گھر میں عورت کو دیوی یا پیر کی جوتی سمجھا جاتا تھا؟ جہاں انسان کی درجہ بندی میں استری موجود ہی نہ ہو۔
کیا اس گھر میں تعلیم سب کا حق تھا؟ بیواؤں کی نئی زندگی اور باپ کی جائیداد میں اس کا حق تسلیم کیا گیا تھا؟ جہاں ڈولی کو ڈولے تک دیکھنے کی نظر ہو، وہاں عورتیں خودکشی نہ کرے تو کیا کریں۔ ایسے گھر سے بھاگ کر آئے ہوئے لوگوں کو دوبارہ اسی گھر کا جبراً فرد بنانا اور اُسے گھر واپسی قرار دینا، دنیا کی نظر میں دھول جھونکنا ہے۔
گھر تو واپسی ہوئی میناکشی پورم تری ناولی کے 300خاندانوں کی جن کی تیسری نسل چل رہی ہے اور اپنی واپسی پر وہ مطمئن بھی ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا اور انڈین ایکسپریس کی رپورٹیں بتلاتی ہیں کہ جنت کے حصول کا راستہ جو انہوں نے چنا تھا، دنیا میں بھی انہیں عزت وقار عطا کرتا رہا ہے اور آخرت کی کامیابی کی بھی ضمانت دیتا ہے۔
آگرہ میں جو تین پانچ پلاسٹک کی ٹوپی پہنے مردوں نے ہون میں تیل ڈالا، گھر آنے پر ان کی بیویوں نے ان کی پٹائی کی، کہا کہ تمارا ایمان ہون کی آگ چٹ کر گئی یا آدھار کارڈ، راشن کارڈ کی خواہش ؟دوبارہ کلمہ پڑھو اور انہیں دوبارہ کلمہ پڑھوایا گیا۔ پہلے کی نسبت وہ کوڑا کرکٹ جمع کر اپنی روزی روٹی کا انتظام کرنے والے غریب و غیور مسلمان جنہیں دھوکا دیکر ہون میں شامل کیا گیا،اب روزہ، نماز اور قرآن کی تلاوت پابندی سے کر رہے ہیں۔ مسلمان جان تو دے سکتا ہے لیکن ایمان نہیں دے سکتا۔
آگرہ کے قصہ کی اصل وجہ ہندو سماج کو بچانے کے لئے ایک قانون پاس کرنا ہے Anti Convertion Billہندو دھرم نہ دعوتی مذہب ہے اور نہ تبلیغ اس کا اصول۔ اسلام اور عیسائیت دونوں تبلیغی دین ہیں بالخصوص اسلام۔ رہا عیسائیت تو اس میں دنیا کی رنگینیوں کا لالچ دیکر اس مشن کو پورا کیا جاتا ہے۔ ہندو سماج میں کوئی نیا فرد آنے سے رہا، ڈر ہے کہ دستور ہند کا سہارا لیکر ہندو سماج کے لوگ اسلام کو، عیسائیت کو قبول کر سکتے ہیں اس لئے بل لانے کی عجلت میں آگرہ کا ڈرامہ رچا گیا۔ ہندو سماج کی چولیں ڈھیلی ہو رہی ہیں۔ سنگھ پریوار اپنے بچاؤ کے لئے یہ ڈرامہ کر رہا ہے۔ اس لئے سادھو اور سادھویاں 4سے10بچے پیدا کرنے کی اپیل ہندو سماج سے کر رہے ہیں۔ اقتدار جن لوگوں کے ہاتھ ہے وہ بھی اسی موکھٹے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن مون برت رکھ چھوڑا ہے۔
یہ سادھو اور سادھوی جو خود بچے پیدا کرنے، انہیں سنبھالنے ان کی تعلیم و تربیت سے نا آشنا ہیں۔ سنگھ کے وہ Commitedلوگ جو برہمچاری بنے ہوئے ہیں۔ واجپائی سے مودی تک کسے بچوں کی پریشانیوں کا علم ہے؟ صرف سماج کو کہہ رہے ہیں کہ بچے پیدا کرو۔ وہ خود بھی تو پیدا کریں اور ہندو سماج میں اضافہ کریں۔ ہندو سماج زیادہ بچے پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں تو دوسرا ڈرامہ کھیلنا چاہتے ہیں۔
گھر واپسی ہو یا لو جہاد، ہندو کا استعمال ہو یا گیتا کی بات، ہر عنوان میں ہندو سماج کے تحفظ اور اس کے بچاؤ کی رن نیتی کام کر رہی ہے اور بدنام ہو رہا ہے بے چارہ مسلمان۔ ہر الزام کا تمغہ سجائے اپنی قسمت کو کوستا ہوا۔ آئیے سارے انسانوں کو ان کے اصل گھر واپسی کا پیغام عام کریں۔ جدّ امجد حضرت آدم ؑ کے گھر واپس ہوں جسے جنّت کہا جاتا ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *