ذرا غور سے پڑھیں!

کاروباری مصروفیات کی بنا پر ہفتہ میں تین دن مجھے دہلی میں قیام کرنا ہو تا ہے اور اسکے بعد جیسے ہی میں گھر پہونچتا ہوں تو میرے مخلص، باہوش کرم فرما دوست و احباب میرا استقبال اس طرح کی خبروں، تجزیوں اور واقعات سے کرتے ہیں کہ جنکو سن کر مجھے معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس اور زیادہ شدت سے ہو نے لگتا ہے جیسا کہ آج بھی ہوا ایک با ضمیر انسان کو ہلا کر رکھ دینے والا واقعہ مو بائل اسکرین پر میرے سامنے ہے۔ پڑھتے پڑھتے آنکھیں ہیں کہ آبدیدہ ہیں، دل ہے کہ مضطرب ہے اور دماغ یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہو رہا کہ یہ تصویر ہماری ہے اور ہمارے ہی سماج کے درمیان سے لی گئی ہے اتنا المناک واقعہ کہ میں تو تنہا بہت دور تک اسکے ساتھ چل ہی نہیں سکتا مجھے ہر حال میں آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو بھی شریک غم بنانا ہو گا لہذٰا میرے غم شریک قارئین حاضر ہے دلسوز، غم سوز، المناک و عبرت ناک میسیج The Message
’یہ درد ناک واقعہ ایک ایسے خاندان کا ہے جس میں پریوار کا مکھیا اسکی بیوی اور دو معصوم بچے تھے جو جیسے تیسے اپنی زندگی کی گاڑی گھسیٹ رہے تھے بچوں کا باپ ایک عرصہ سے بیمار تھا۔ جو کچھ جمع پونجی تھی وہ ڈاکٹروں کی فیس اور دوایئوں کی نظر ہو رہی تھی لیکن وہ ابھی بھی چارپائی سے لگا ہوا تھا اور ایک دن اسی حالت میں وہ اپنے بچوں کو یتیم و بیوی کو بیوگی کا داغ دیکر اس دارفانی سے رخصت ہو گیا
رسم و رواج کے مطابق تین دن تک عزیز و اقارب کے یہا ں سے کھانا آتا رہا اسکے بعد کچھ دنو ں محلہ پڑوس کے لوگوں نے ازروئے ہمدردی اس ذمہ داری کو نبھایا اور کچھ روز فلاہی تنظیمیں، مذہبی شخصیات و سیاسی حضرات نے بھی اس کارے خیر میں حصہ لیا اسطرح کل ملاکر میت کے چالیسویں تک ایصال و ثواب کے نام پر اہل خانہ کا کھانا پینا چلتا رہا لیکن اسکے بعد حسب معمول سب اپنے اپنے کام دھندوں میں لگ گئیے کیونکہ اپنے اپنے حساب سے سبھی حضرات ایک متعین وقت تک کھانا بھیج کر اپنی اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو چکے تھے اور دنیا اور آخرت کی فلاح کیلئے یہی کافی تھا لہذٰا چالیسویں کے بعد کسی نے بھی اس گھر کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھا۔
بچے اکشر سامنے والے مکانوں سے نکلنے والے دھوئیں کو آس لگائے دیکھتے رہے نادان و معصوم بچے سمجھ رہے تھے کہ ان کے لئے کھانا تیار ہو رہا ہے۔ جب بھی قدموں کی آہٹ ہوتی انہیں لگتا کہ کوئی انکے لئے کھانا لیکر آرہا ہے مگر افسوس ! کہ کوئی بھی انکے دروازے پر دستک نہیں دیتا۔
ماں تو ماں ہوتی ہے اسنے گھر سے روٹی کے کچھ سوکھے ٹکڑے ڈھونڈ ڈھانڈ کر نکالے اور بہلا پھسلاکر بچوں کو کسی طرح انہیں ٹکڑوں کو کھلاکر سلا دیا۔ ایک دو دن اس طرح کٹ گئے لیکن اگلے دن بھوک پھر سامنے کھڑی تھی گھر میں تھا ہی کیا جسے بیچا جاتا پھر بھی کافی کھوج بین کے بعد دو چار چیزیں نکل آئی جنھیں بیچ کر پھر ایک دن کی بھوک کو ٹالنے کاموقع مل گیا اسکے بعد پھر وہی بھوک و افلاس کے سائے انکی طرف بڑھنے لگے جب جان کے لالے پڑنے لگے تو بھوک سے تڑپتے بچوں کا چہرہ ماں سے دیکھا نہ گیا۔ اگلے روز ممتا کی ماری ماں نے بڑی سی چادر میں منھ ڈھانپا اور محلے کی پاس والی دوکان پر جا کھڑی ہوئی۔ دوکان دار سے تھوڑا سا راشن پانی ادھار مانگا تو اسنے نہ صرف یہ کہ انکار کر دیا بلکہ کچھ کھری کھوٹی بھی سنا ڈالیں نتیجہتہً مبجبور کو خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑا۔
ایک تو باپ کے مرنے سے اناتھ ہونے کا دکھ اور اوپر سے لگاتار بھوک سے تڑپنے کی وجہ سے اسکے سات سال کے بیٹے کی ہمت جواب دے گئی اور وہ بخار کی وجہ سے چار پائی پر پڑ گیا بچے کے لئے دوائی کہاں سے لاتی کھانے تک کا تو ٹھکانہ تھا نہیں۔ تینوں گھر کے ایک کونے میں سمٹ کر رہ گئے۔ ماں بخار سے تپتے بیٹے کے سر پر پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی جبکہ پانچ سال کی چھوٹی بچی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے بھائی کے پیر دبا رہی تھی۔ اچانک وہ اٹھی اور ماں کے کان سے منھ لگاکر بولی ماں ! بھائی کب مریگا ؟ ماں کے دل پر تو جیسے تیر چل گیا تڑپ کر اسے سینے سے لپٹا لیا اور پوچھا میری بچی تم یہ کیا کہہ رہی ہو ؟ بچی نے معصومیت سے سوال کیاہاں ماں ! بھائی مریگا تو لوگ کھانا دینے آ ئینگے نہ ؟‘
دیکھا آپنے ! سنا آپنے ! کچھ محسوس ہوا ؟ آنکھوں میں نمی، دل میں کو ئی ٹیس اور ذہن میں کو ئی ہل چل پیدا ہو ئی کی نہیں؟ پورے انسانی وجود کو لرزادینے والی کوئی لہر بدن کے ایک سر ے سے دوسرے سرے تک پار نکل گئی ہو گی۔ ذہن سکتے میں آگیا ہوگا اور دل کی دھڑکنیںضرور بے ترتیب ہو گئی ہونگی ایسے حالات میں کیا کیا جائے ؟ آپ کی نظر میں کو ئی حل ہے ان مصائب زدہ و عبرت ناک واقعات کا۔ آپ سے میری مراد انٹرنیٹ کی تربییت یافتہ نسل ہے جو اسکرین سے ہی سیکھتی ہے اور اسی کے ذریعہ سکھانے کی کوشش بھی کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اس طرح کے المناک واقعات کو بھی ایک میسیج ہی تصور کرتی ہے اور میسیج کلچر کے اس دور میں صرف یہ فرض سمجھتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اس میسیج کو فارورڈ کرکے ثواب دارین کی حق دار بن جائے۔ واقعات سے عبرت لینا بھی اسکرین نسل کے نزیک یہی رہ گیا ہے کہ ضمیر کو جگانے والی ہر معلومات کو بھی واٹس اپ کے ذریعہ اپنے دوستوں سے شیئر کر لیا جائے یا پھر فیس بک پر ڈال کر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائو۔
’یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی ! میرے بچوں ؟ جذباتی فلمیں، ہیجانی سیریل اورڈرامائی لٹریچر نے تمہیں معیار انسانیت ہی سے گرا دیا۔ اب نہ کسی کی بھوک و پیاس تمہیں تڑپاتی ہے اور نہ کسی کمسن یتیم لاوارث بچے پر ہی تمہیں رحم آتا ہے، یتیموں کی بیکسی، مظلوموں کی چیخ و پکار اور بیوائوں کی نا مراد سسکیاں بھی اب تمہیں متاثر نہیں کرتی۔ ہائے افسوس ! صد افسوس ! اسکرین کلچر نے تلخ حقائق کو بھی ڈرامہ کی صف میں لا کھڑا کیا۔ معصوم بچے بھوک سے بلک رہے ہوں مریض دوائوں کے بغیر پل پل مر رہے ہوں۔ تنگ دستی کے چلتے انسانوں کے ننگے جسم سر د و گرم موسموں کے تھپیڑے سہ رہے ہوں اور ہم ہوں کے انٹرنیٹ کی غلامی پر رضامند اسکی سحر انگیز دنیا کے قیدی ہوں نہ قرب و جوار کے حالات سے باخبر اور نہ ہی اپنے ما تحتوں کی کوئی سدھ بدھ۔ نہ پڑوسیوں کے حقوق کی کوئی پر واہ نہ انکے لئے کوئی اجتماعی پائیدار لائحہ عمل تبھی تو اتنا دردناک واقعہ بھی صرف ایک واقعہ بنکر ہی رہ گیا۔ کافی کوشش کے باوجود بھی جائے حادثہ تک رسائی ممکن نہ ہو سکی۔
ہو نا تو یہ چاہئے میرے بچوں کہ ایک احتسابی نظر ہم اپنے وجود، اپنے سماج، اپنے عزیزوں واقارب کے طریقۂ اسراف پر بھی ڈالتے اور دیکھتے کہ ہم خود پر جو خرچ کرتے ہیں وہ فضول خرچی کی زد میں تو نہیں آتا۔ ہماری شادیاں و دوسرے پروگرام جو میرج ہوم اور بڑے بڑے خوشنماں ہالوں میں منعقد کیے جا رہے ہیں وہاں پر ہم ویرائٹی کے نام پر کھانے پینے کی کتنی اشیاء برباد کر رہے ہیں۔ رزق کی حرمت کی طرفدار یہ ملت شب و روز رزق کی جو تحقیر کر رہی ہے اس سے تو ہر شہر کے باغیرت فاقہ کشوں کو برسوں تک موت کے منھ سے نکالا جا سکتا ہے۔ زرق برق لباسوں میں ملبوس ہم اور ہماری خواتین اگر اپنی اترن کا ہی سلیقے سے استعمال کر لیں تو ہمارے ارد گرد گھومتے ننگے بچوں کے جسم پر بھی ردا آجائیگی۔ بس ضرورت ہے تو صرف اپنی غیرت انسانی کو بیدار کرنے کی، نظم و ضبط کی اور منصوبہ بندی کی۔
نوجوانوں کو چاہئے وہ ہر گلی محلہ میں خدمت خلق کے چھوٹے چھٹوٹے یونٹ قائم کریں، اانسانی حقوق کی تنظیموں کے طرز پر پڑھے لکھے افراد مختلف شعبہ جات کا کلاسی فیکیشن کریں اور ذمہ داریوں کو ایک دوسرے کے سپرد کر کے پارٹ ٹائم جاب کی طرح اپنے پڑوس میں رہنے والے انسانوں کا ایک نگہبان کی طرح خیال رکھیں اپنے یہاں ہو نے والے پروگراموں کو مختصر کرکے شادی و گھروں کے زائد کھانے کو مستحیقن تک پہنچانے کا نظم کریں اسی طرح محلہ بھر کے گھروں سے فاضل پڑے کپڑے و دوایوں کو اکھٹا کر کے ایک چیریٹی کلاتھ سینٹر و میڈیکل اسٹور قائم کریں۔ جہاں سے ضرورت مند حضرات اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کپڑے و دوائیاں بھی آسانی سے حاصل کر سکیں
اگر ہم اس کوشش میں کامیاب ہوتے ہیں تو حقوق العباد کے فرض کی ادائیگی میں یہ ایک چھوٹی سی پہل ہوگی جو انشا اللہ آگے چل کر ہمارے سماج کو اس طرح کے کرب ناک واقعات سے نجات دلانے کا سبب بنے گی۔
میرے بچوں ! اپنی خودی کو پہچانیے اپنے فرائض کی شناخت کیجئے غیرتِ انسانی کو فروغ دیجئے کیونکہ صحت مند سماج کی تشکیل قوم کے جوانوں کی مرہونِ منت ہے۔ بقول علامّہ اقبالؒ کے۔
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *