مسلم ممالک میں غیر مسلم اقلیتیں

خودنوشت عربی تحریر کا اُردو ترجمہ
بعض لوگوں کے نزدیک ’اسلامی حکومت کے بارے میں غیر مسلم اقلیتوں کا رویہ‘ ایک بہت نازک موضوع ہے۔ جسکو چھیڑنا خطرے سے خالی نہیں کیونکہ اس سے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں منافرت پیدا ہونے کا اندیشہ ہے اس لئے یہ لوگ اس موضوع پر کچھ کہتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔
غیر مسلم اقلیتوں کا بے بنیاد خوف:۔
مگر ہم چاہتے ہیں اس موضوع پر غیر مسلموں سے کھل کر بات کریں اور اُن سے پوچھیں کہ انہیں اسلامی حکومت سے کیوں ڈر لگتا ہے؟ کیا وہ اسلامی قوانین سے خائف ہیں یا عملی زندگی میں اُن کے انطباق سے ڈرتے ہیں؟
قرآن اور غیر مسلم اقلیتیں:
جہاں تک نصوص قرآنی کا تعلق ہے ہم غیر مسلم اقلیتوں کی توجہ ذیل کی آیات کی جانب مبذول کرنا چاہتے ہیں:
(۱) لاینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروہم وتقسطوا الیہم ط ان اللہ یحب المقسطین۔ ترجمہ: اللہ تعالیٰ تم کو اُن لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔ اللہ انصاف کا برتاؤ رکھنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔
(۲) الیوم احل لکم الطیبات ط وطعام الذین اوتوالکتاب حل لکم ص وطعامکم حل لہم والمحصنت من المؤمنت والمحصنت من الذین اوتوالکتاب من قبلکم۔
ترجمہ: آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا ذبیحہ تم کو حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ اُن کو حلال ہے اور پارسا عورتیں بھی (حلال ہیں) جو مسلمان ہوں اور وہ پارسا عورتیں (حلال ہیں) ان لوگوں میں سے بھی جو تم سے پہلے کتاب دئیے گئے ہیں۔
اور فقہ کا ایک عام قاعدہ ہے کہ غیر مسلم اقلیتوں کے لئے وہی حقوق ہیں جو مسلمانوں کے لئے ہیں اور اُن پر وہی فرائض و ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جو ہم پر عائد ہیں۔ مذکورہ بالانصوص اُن کے ساتھ برّواحسان کرنے، اُن کے معاملے میں عدل و انصاف سے کام لینے اور انکے حقوق و واجبات کے سلسلے میں جو کسی عبادت یا مذہبی فریضہ سے متعلق نہ ہوں بلکہ ان کا تعلق معاشرے کے نظم و ضبط اور ملک میں بسنے والے تمام شہریوں کے حقوق سے ہو۔ اسلام اُن کے اور مسلمانوں کے درمیان مساوات قائم کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اور مزید برآں وہ آپس میں ملاقاتوں اور ایک دوسرے کے ساتھ کھانے پینے کے ذریعہ، غیر مسلم اور مسلمانوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ اس طرح کے تعلقات محبوب دوستوں ہی کے درمیان قائم ہو سکتے ہیں۔ اِن سب سے بالاتر یہ کہ غیر مسلموں کے رُو سے اُن میں شادی کا رشتہ بھی قائم ہو سکتا ہے جو مضبوط ترین رشتہ ہے۔ نیز انکے رشتۂ ازدواج کو اسلام زوجین کے مسلمان ہونے کے بعد قائم رکھتا ہے۔ تجدید کی ضرورت نہیں۔
مسٹر آرنلڈ کی شہادت:۔
رہ گیا اسلام کی اُن تعلیمات پر عمل کا معاملہ، تو اس بارے میں اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے ہم یورپ کے عیسائی مصنفین ہی کا حوالہ دیں گے جن کے متعلق کسی کو یہ شبہہ نہیں ہو سکتا کہ وہ خوامخواہ اسلام کی حمایت کریں گے یا اسلام کی عقیدت اور طرفداری میں مبتلا ہوں گے۔ مسٹر آرنلڈ اپنی (The Preaching of Islam)میں لکھتے ہیں۔
’یہ بات کہ ان لوگوں کا قبولِ اسلام کسی طاقت یا جبر کا نتیجہ نہیں تھا۔ اِن خوشگوار تعلقات سے بھی واضح ہوتا ہے جو اُس زمانے کے عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان موجود تھے۔ خود محمد (ﷺ) نے کئی ایک عیسائی قبائل سے معاہدات کئے۔ جن کے رُو سے آپؐ نے اُنکی حفاظت کا ذمہ لیا اور انہیں اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کرنے کی ضمانت دی اور اُنکے مذہبی پیشواؤں کے ان تمام حقوق اور اقتدار کو قائم رکھا جو انہیں اسلام سے قبل حاصل تھا۔‘ص ۴۸
’پہلی صدی ہجری کو مسلمان فاتحین نے عربی النسل عیسائیوں سے جس رواداری کا مظاہرہ کیا اور جس کا سلسلہ اُن کے بعد آنے والی نسلوں نے بھی جاری رکھا اُن کو دیکھتے ہوئے ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ جن عیسائی قبائل نے اسلام قبول کیا۔ انہوں نے برضا ورغبت ایسا کیا۔ ص۔۵۱‘
’جب مسلمانوں کی افواج وادیٔ اُردن میں پہونچیں اور حضرت ابوعبیدہؓ نے رفحل کے مقام پر اپنا خیمہ لگایا تو اس علاقے کے عیسائی باشندوں نے عربوں کو لکھا:
اے مسلمانوں! ہم تمہیں باز نطینیوں (رومیوں) پر ترجیح دیتے ہیں اگر چہ وہ ہمارے ہم مذہب ہیں کیونکہ تم نے ہمارے ساتھ اپنا عہد زیادہ اچھی طرح نبھایا ہے تم ہم پر زیادہ مہربان ہو، کوئی بے انصافی نہیں کرتے اور ہم پر تمہاری حکومت، انکی حکومت سے بہتر ہے، کیونکہ انہوں نے ہمارا مال و اسباب اور گھر وبار سب کچھ لوٹ لیا ہے۔ ص۔۵۵
’یہ تھا صوبہ شام میں عوامی جذبات کا عالم ۶۳۳ھ؁ ۶۳۹ئ؁ کی مہم کے دوران جب عربوں نے رومیوں کو بتدریج نکال باہر کیا اور ۶۳۷ھ میں دمشق نے عربوں کے ساتھ بعض شرائط پر صلح کر لی اور اسی طرح جب اہل دمشق نے اپنے آپ کو نہ صرف عربوں کی یلغار سے بچا لیا بلکہ کچھ مزید فوائد بھی حاصل کر لئے تو اسکے جلد ہی بعد شام کے دوسرے شہروں کے باشندوں نے بھی اسکی مثال پر عمل کیا۔ حمص (Emess)آرتھسا (Arthusa) ہیروپولس (Hieropolis)اور دوسرے شہر یکے بعد دیگر معاہدے کرکے عربوں کے باجگذار بن گئے۔ یروشلم کے بزرگ پادری (Patriarch)نے بھی اسی طرح کی شرائط پر شہر مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔ بد عقیدہ شہنشاہ کے مذہبی جبر و تشدد کی وجہ سے انہیں سلطنت روما اور اس کی عیسائی حکومت کے مقابلے میں مسلمانوں کی مذہبی رواداری زیادہ خوش آئند معلوم ہوئی۔ حملہ آور فوج کے ابتدائی خوف کی لہر گذر جانے کے بعد اہل شام میں عرب فاتحین کے حق میں ایک گہرا جذباتی ردِ عمل وقوع پذیر ہوا۔‘ ص۔۵۵
یہ ہے اسلامی حکومت کے بارے میں ایک عیسائی عالم کی شہادت۔ اسکے بعد غیر مسلم اقلیتوں کے لئے اسلامی نظام سے خوف زدہ ہونیکی کیا وجہ باقی رہ جاتی ہے؟
’مذہبی جنون‘ کاشکار کون۔۔۔۔۔ مسلمان یا غیر مسلم؟
ہو سکتا ہے کہ ہندو، عیسائی اور دوسرے غیر مسلم، مسلمانوں کے مذہبی جنون سے خوف زدہ ہوں۔ اگر یہ صحیح ہے تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم حضرات مذہبی تعصب و جنون کے مفہوم سے ناآشنا ہیں۔ اگر وہ اس کا صحیح مفہوم معلوم کرنا چاہتے ہیں تو وہ انہیں مندرجہ ذیل مثالوں میں ملے گا۔
مذہبی عدالتیں:۔
کلیسا نے جو مذہبی عدالتیں (Ingustion Courts)قائم کی تھیں ان کا اصل مقصد اسپین کے مسلمانوں کی بیخ کنی تھا۔ ان عدالتوں نے مسلمانوں کو بھیانک سزائیں دیں اور انہیں ستانے کے لئے ایسے ایسے مکروہ طریقے اختیار کئے جو اس سے قبل کہیں نہیں دیکھے گئے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو زندہ جلوا دیا۔ اُن کے ناخنوں کو کھینچ کر گوشت سے جدا کردیا گیا۔ آنکھیں نکالی گئیں اور انکے اعضاء کاٹے گئے۔ اس ساری کارروائی کا مقصد مسلمانوں کو اپنے دین سے منحرف کرکے انہیں عیسائیت کے ایک خاص عقیدے کا حلقۂ بگوش بنانا تھا۔
کیا مشرق کے اسلامی ممالک میں یا سلطنت بنو امیہ، خلافت عباسیہ، خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں ممالک میں عیسائیوں یا متحدہ ہندوستان میں، مسلمانوں کے دورِ حکومت میں ہندوؤں اور جینیوں کو بھی کبھی اس طرح کے سلوک سے واسطہ پیش آیا ہے؟
مسلمانوں کا قتل عام:۔
آج بھی تعصب کے پجاری یوگوسلاویہ، البانیہ، روس اور اہل یورپ کے زیر اثر ممالک مثلاً شمالی افریقہ، شمالی لینڈ، کینیا، بوسینا، چیچینیا میں ایشیاء کے ممالک برما، ہندوستان اور افغانستان میں کبھی امن و سلامتی کے نام پر اور کبھی قوم کی تطہیر کے نام پر مسلمانوں کا قتل کرتے یا کرواتے رہتے ہیں۔
ایتھوپیا: مذہبی جنون اور تعصب کی ایک مثال:۔
مذہبی تعصب کی ایک اور مثال ایتھو پیا ہے جو زمانہ قدیم سے مصر کے ساتھ تاریخی، جغرافیائی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں منسلک چلا آرہا ہے۔ اس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی مخلوط آبادی ہے۔ مسلمان کل آبادی کا %65-35ہیں مگر اس کے باوجود ملک بھر میں ایک بھی ایسا اسکول نہیں جس میں مسلمانوں کے بچوں کے لئے اسلامیات یا عربی زبان پڑھنے پڑھانے کا کوئی انتظام ہو۔ مسلمانوں نے اپنی کوشش سے جو تھوڑے بہت پرائیویٹ مدرسے کھولے ہیں اُن پر بھی مختلف قسم کے بھاری ٹیکس عائد ہیں اور اُن کے لئے طرح طرح کی مشکلات پیدا کی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں وہ ناکام ہو جاتے ہیں اور پھر کسی دوسرے کو نئے مدارس کھولنے کی ہمت نہیں پڑتی۔ اس طرح کوشش کی جاتی ہے کہ اسلامی تعلیم نہ رائج ہو سکے اور نہ ہی کوئی ترقی کر سکے اور اسکے پڑھنے پڑھانے والے کبھی اوپر نہ اٹھ سکیں۔ ہمارے ملک ہندوستان میں ابھی تک تو یہ کام خفیہ پالیسیوں کے تحت کیا جاتا رہا ہے مگر اب تو ببانگ دہل ان امور کو انجام دیکر مسلمانوں کو پریشاں کیا جاتا ہے۔
مسلمانوں کی حالتِ زار:۔
اطالوی حملے سے پہلے ایتھوپیا میں یہ حال تھا کہ اگر کوئی مقروض مسلمان اپنے عیسائی قرضخواہ کا قرضہ وقت مقررہ پر لوٹانے میں ناکام رہتا تھا تو عیسائی قرضخواہ اس کو اپنا غلام بنا لیتا تھا۔ اس طرح حکومت کی آنکھوں کے سامنے مسلمانوں کو غلام بناکر بیچا جاتا اور طرح طرح کی اذیتوں میں مبتلا کیا جاتا تھا۔
اسکے باوجود مسلمان ایتھوپیا (حبش) کی آبادی کا ایک تہائی ہیں لیکن انکی نمائندگی کے لئے نہ کابینہ میں کوئی مسلمان وزیر ہے اور نہ ہی کسی اور کلیدی عہدے پر کوئی مسلمان فائز ہے۔ کیا مسلم ممالک میں بسنے والی غیر مسلم اقلیتوں کو کبھی اس طرح کے برتاؤ سے واسطہ پڑا ہے؟ اور آج غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں سے جو سلوک اختیار کیا جاتا ہے کیا وہ اپنے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا جانا پسند کریں گے۔ بہر حال یہ ہے مغربی تعصب و جنون کا صحیح مفہوم!!!
اقلیتیں اور معاشی آزادی:۔
اشتراکیوں کے نزدیک انسانی زندگی دراصل معاشی آزادی سے عبارت ہے۔ اگر تھوڑی دیر کے لئے اس مفروضہ کو صحیح مان لیا جائے تو اسلامی ممالک میں رہنے والے عیسائی، یہودی، ہندو اور بودھ، کیا کبھی زندگی کی اس اصلی قدر سے محروم ہوئے ہیں؟ کیا انہیں کبھی مسلم حکومتوں نے جائیدادیں بنانے، خریدنے بیچنے اور مال و دولت جمع کرنے سے منع کیا ہے؟ کیا محض اختلافِ مذہب کی بناء پر انہیں تعلیم، عہدوں اور حکومت میں اعلیٰ مناصب سے محروم رکھا گیا ہے؟ نہیں کبھی نہیں۔
انگریزوں کی شرارت:۔
جہاں تک اخلاقی اور روحانی زندگی کا تعلق ہے تو واقعہ یہ ہے کہ مسلم ممالک میں غیر مسلموں کو کبھی روایتی مذہبی تشدد (Persecution)سے سابقہ نہیں پڑا۔ دور جدید میں اسکی جو اِکّا دُکّا مثالیں ملتی ہیں اسکی اصل وجہ انگریزی سامراج تھا۔ جس نے جان بوجھ کر اُن کی حوصلہ افزائی کی تاکہ مختلف گروپوں میں انتشار و افتراق کے بیج بوئے جا سکیں۔
جزیہ اور اسکی حقیقت:۔
بعض مخالفین جزیہ کی مثال دے کر کہتے ہیں کہ غیر مسلموں سے اسکی وصولی کی اصل وجہ مذہبی عدم رواداری تھی۔ اس الزام کا بہترین جواب سر آرنلڈ نے دیا ہے وہ اپنی کتاب (The preaching of Islam)میں لکھتے ہیں:۔
’اسکے برعکس مصری کسانوں کو جو مسلمان تھے، جب انہیں فوجی خدمت سے مستثنیٰ کیا جاتا تھا تو اسکے عوض اُن پر ویسا ہی ایک ٹیکس عائد کیا جاتا تھا جیسا کہ عیسائیوں پر جزیہ عائد ہوتا تھا۔‘ ص ۶۳
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ ’جزیہ صرف تندرست مردوں سے اس فوجی خدمت کے عوض وصول کیا جاتا تھا جو انہیں مسلمان ہونے کی صورت میں انجام دینی پڑتی۔ اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے جب عیسائی، مسلم فوج میں شامل ہوکر فوجی خدمت انجام دیتے تھے تو انہیں اس ٹیکس (جزیہ) کی ادائیگی سے مستثنیٰ کر دیا جاتا تھا۔ چنانچہ الجزاجمہ قبیلے کے عیسائیوں کے ساتھ جوانطاکیہ (Antioch)کے نواح میں آباد تھے، مسلمانوں نے اس شرط پر صلح کی تھی کہ وہ اُنکے حلیف ہوں گے اور جنگ میں اُن کے ساتھ ہوکر لڑیں گے اسکے بدلے میں انہیں جزیہ نہیں دینا پڑیگا۔ یہی نہیں بلکہ مسلمانوں کی طرح انہیں بھی مالِ غنیمت میں سے مناسب حصہ دیا جائیگا۔ ص ۶۲
اس سے صاف ظاہر ہے کہ جزیہ مسلمانوں کی عدم رواداری کا نتیجہ نہیں تھا۔ بلکہ یہ ایک ایسا ٹیکس تھا جو اُن تمام لوگوں سے بلا تفریق مذہب و ملت وصول کیا جاتا تھا جو فوجی خدمت انجام نہیں دیتے تھے۔
قرآن میں جزیہ کا حکم:۔
اسی معاملہ سے متعلق قرآن پاک کی ایک آیت کریمہ پر نظر ڈالنا فائدے سے خالی نہ ہوگا۔ ارشاد خدا وندی ہے۔
ترجمہ: جنگ کرو اہل کتاب میں سے اُن لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روزِ جزاء پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اسکے رسول ؐ نے حرام قرار دیا ہے اُسے حرام نہیں مانتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ اُن سے لڑو یہاں تک وہ لوگ اپنے ہاتھ جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔(القرآن)
اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو صرف اُن غیر مسلموں سے جنگ کرنے پر ابھارا گیا ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خودنبردآزما ہوتے ہیں اور حملہ کرنے میں پہل کرتے ہیں۔ اس آیت کا مسلم ممالک میں بسنے والے غیر مسلم باشندوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
موجودہ اختلاف کے ذمہ دار:۔
آخر میں ہم یہ حقیقت بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک کے مسلمانوں اور غیر مسلم باشندوں میں اختلاف و افتراق کی موجودہ فضا نو آبادیاتی سامراجیوں اور کمیونسٹوں کی پیدا کردہ ہے۔ وہ مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کی دکھتی رگ سے واقف ہیں۔ چنانچہ جب وہ مزدوروں سے ملتے ہیں تو اُن سے کہتے ہیں ’اگر تم کمیونزم تحریک کا ساتھ دو تو ہم تمام کارخانے تمہارے حوالے کردیں گے۔ کسانوں کو زمینوں کی ملکیت کے سنہرے باغ دکھاتے ہیں اور بیکارگر یجویٹس سے کہتے ہیں کہ اگر کمیونزم قبول کر لو تو تم سب کو تمہاری قابلیتوں و صلاحیتوں کے مطابق ملازمتیں مہیا کر دی جائیں گی۔ جنسی آوارگی کے شکار نوجوانوں کو وہ آزاد معاشرہ کا وعدہ کرکے پھسلاتے ہیں جہاں قانون و روایت کی کسی رکاوٹ کے بغیر وہ اپنی تمام خواہشات نفسانیہ بآسانی پوری کر سکیں گے۔
دوسری طرف عیسائیوں سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اگر تم اشتراکیت (کمیونزم) قبول کرو تو ہم اسلام کو اور اس مذہب کو جو انسانوں میں مذہب کی بناء پر تفریق کرتا ہے، ختم کر دیں گے۔ ارشاد خدا وندی ہے۔ کبرت کلمۃ تخرج من افواہہم ان یقولون الا کذبا۔ ترجمہ: بڑی بات ہے جو اُن کے منھ سے نکلتی ہے وہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔
اسلام پر بہتان:۔
الغرض یہ کہنا اسلام پر محض بہتان ہے کہ وہ مذہب کی بناء پر انسانوں میں تفریق و امتیاز کرتا ہے کیونکہ اسلام تو بلا لحاظ مذہب و عقیدہ تمام انسانوں کو انکے بنیادی انسانی حقوق عطا کرتا ہے۔ وہ تمام انسانوں کو ایک خالص انسانی بنیاد پر جمع کرتا ہے اور انہیں اپنے پسند کے مذہب قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی مکمل آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ اسی بناء پر مجھے توقع ہے کہ مسلم ممالک میں بسنے والی غیر مسلم اقلیتیں بھی اپنے ہمسایوں کے ساتھ پرامن زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں اور انکے ساتھ روابط بدستور استوار رکھنے کے متمنی ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے اور مسلمانوں کے مفادات یکساں طور پر محفوظ رہیں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *