نماز اور یوگا

روزنامہ ’انقلاب‘ نئی دہلی (وارانسی) مورخہ ۲۴؍فروری ۲۰۱۵ء کے مطابق:
’پانچ وقت کی نماز ایک بہترین یوگا‘۔بی جے پی کی سینیر لیڈر مرلی منوہر جوشی نے کہا کہ اگر پابندی سے یوگا کرایا جائے تو اس سے عصمت دری کے واقعات میں کمی واقع ہوگی اور نئی طرز فکر بھی جنم لے گی۔
نئی دہلی (ایجنسی) بھارتیہ جنتا پارٹی کے بزرگ رہنما مرلی منوہر جوشی نے کہا ہے کہ اگر پابندی سے یوگا کرایا جائے تو اس سے عصمت دری کے واقعات میں کمی واقع ہوگی۔ انہوں نے اس سلسلے میں اسلام کے اہم فریضہ کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ مسلمان دن میں پانچ بار نماز ادا کرتے ہیں جو بہترین یوگا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے کہنے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ یوگا کو زندگی کا حصہ بنانے سے ریپ کی لعنت ختم ہو جائے گی۔ لیکن اتنا وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس سے واقعتا جنسی زیادتی کے واقعات میں کمی ضرور واقع ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے مسلم بھائی دِن میں پانچ بار نماز پڑھتے ہیں اور نماز جس انداز سے پڑھی جاتی ہے وہ بہترین آسن ہیں۔ یہ نماز خدا سے لو لگانے کی ہے اور ساتھ ہی اس سے یوگا بھی ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ’یہ مرد وخواتین میں نئی طرز فکر کو جنم دینے کا باعث بنے گا۔ یہ انسان کے جسم کے بارے میں سوچ میں تبدیلی کا باعث بنے گا کہ جسم قدرت کے کارخانے کی ایسی مشین ہے جو ہمیں بڑے کام انجام دینے کے لئے عطا کی گئی ہے، اس سے عوام کی توجہ اس طرف مبذول ہوگی۔‘ بی جے پی کے سینیر لیڈر نے مہارشی مہیش یوگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نیویارک میں یوگا کا ایک بڑا تجربہ کیا اور جب ایک یونی ورسٹی کے چانسلر نے اس کا جائزہ لیا تو انہوں نے پایا کہ یوگا کی وجہ سے ان کے قیدیوں کی عادتوں میں تبدیلی آئی ہے، اس کے علاوہ نیویارک میں جرائم کی شرح کم ہو گئی ہے۔ جوشی نے کہا ’ہمارے مسلم بھائی پانچ وقت یوگا کرتے ہیں اور نماز کے دوران وہ دویاتین ایسی حالت اختیار کرتے ہیں جن کا آپ نام بھی بتا سکتے ہیں‘ جوشی نے کہا کہ آیوش، تعلیم، صحت اور مہارت سمیت دیگر وزارتوں کے مابین ایک مربوط گروپ ہونا چاہئے۔‘
یہ ایک حقیقت پسند انہ بیان ہے۔ ان کے مطابق ’اگر پابندی سے یوگا کرایا جائے تو اس سے عصمت دری کے واقعات میں کمی واقع ہوگی‘۔ یہ کمی کیسے واقع ہوگی؟ ان کا خیال ہے کہ یہ (یوگا) مردوخواتین میں نئی طرز فکر کو جنم دینے کا باعث بنے گا۔ یہ انسان کے جسم کے بارے میں سوچ میں تبدیلی کا باعث بنے گا۔ ان میں یہ سمجھ پیدا ہوگی کہ جسم قدرت کے کارخانہ کی ایسی مشین ہے جو ہمیں بڑے کام کو انجام دینے کے لئے عطا کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے نیویارک میں کئے گئے یوگا کے ایک کامیاب تجربے کا حوالہ دیا ہے جس کے نتیجے میں وہاں جرائم کی شرح میں کمی آنے کا ذکر ہے۔ یوگا کے ساھ ان کا ذہن مسلمانوں کی نماز کی طرف بھی گیا۔ ان کا خیال ہے کہ دن میں پانچ وقت کی نماز جس انداز سے پڑھی جاتی ہے اس میں یوگا کے بہترین آسن ہیں۔ یہ نماز خدا سے لو لگانے کے لئے ہے۔ ساتھ ہی اس سے یوگا بھی ہو جاتا ہے۔
ظاہر ہے جب لوگوں میں یہ احساس بیدار ہوگا کہ ہمارا جسم قدرت کا ایک قیمتی عطیہ ہے۔ ہماری قوت و توانائی کا مصرف ’بڑے‘ کام کی انجام دہی ہے تو پھر جرائم کی شرح میں کمی کی توقع بجا ہے۔ مگر جوشی جی کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ احساس یوگا سے زیادہ نماز کے ذریعہ بیدا رہو سکتا ہے۔ جیسا کہ ہمارے خالق، مالک کا ارشاد ہے کہ ’بیشک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔‘ (عنکبوت ۴۵)
اس کی تفسیر میں ایک مفسر نے لکھا ہے کہ ’جو شخص بھی نماز کی نوعیت پر ذرا سا غور کرے گا وہ تسلیم کریگا کہ انسان کو برائیوں سے روکنے کے لئے جتنے بریک بھی لگانے ممکن ہیں ان میں سب سے زیادہ کارگر بریک نماز ہی ہو سکتی ہے۔‘ (ملاحظہ ہو تخلیص تفہیم القرآن از صدر الدین اصلاحی، مرکزی مکتبہ اسلامی،دہلی ۱۹۸۶ئ؁ ص ۶۳۱)نماز سے خوفِ خدا اور فکر آخرت پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں آدمی برائیوں سے بچنے لگتا ہے۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ نماز پڑھنے سے بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں جس میں سے کچھ تو بالکل ظاہر ہیں۔ جیسے نماز کی ادائیگی سے ایک اہم اور لازمی فریضہ کی ادائیگی اور ثواب کا حصول ہوتا ہے۔ اس سے ذہنی تناؤ (Tension)دور ہوتا ہے اور قلبی اطمینان اور سکون ملتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (آگاہ رہو کہ اللہ کے ذکر سے قلوب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے) اور فرمایا کہ: اَقمِ الصلوٰۃَ لِذِکْرِیْ (نماز قائم کیجئے میرے ذکر کے لئے)پس معلوم ہوا کہ ذکر کا سب سے بہتر ذریعہ نماز ہے اس لئے نماز سے اطمینان قلب حاصل کیا جاسکتا ہے، علاوہ ازیں نماز کے جسمانی فائدے بھی ہیں جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ نماز پڑھنے والے لوگ پاکی اور صفائی کا پورا اہتمام کرتے ہیں جو انہیں بیماریوں سے بچاتی ہے۔ دن میں پانچ بار وضو کے ذریعہ تازگی (Freshness)اور بشاشت حاصل ہوتی ہے۔ نمازی لوگ سحر خیزی کے عادی ہوتے ہیں اور نسیم سحر کے جھونکوں سے سرورو انبساط کی لذت سے شاد کام ہوتے ہیں اور صحت کا جام پیتے ہیں۔ پھر نماز کی حرکات و سکنات کو دیکھئے تو اس سے پورے جسم کی ایک طرح سے ورزش ہو جاتی ہے، جس میں یوگا کے آسن بھی ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نمازی آدمی کی صحت بالعموم ٹھیک رہتی ہے۔ اس طرح نماز ایک فریضہ، ایک عبادت، ایک کار ثواب ہونے کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت (Fitness)کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ پھر بھی کتنے بے نصیب ایسے ہیں جو اس سے محروم ہیں۔
آج یوگا کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہو رہی ہے۔ آرٹ آف لیونگ سکھائے جارہے ہیں۔ لوگوں کے اپنے اپنے لائف اسٹائل ہیں۔ ایمانداری سے بتایا جائے جس نے ہمارے جسم کو بنایا ہے اور زندگی دی ہے اس کا بتایا ہوا مقصد زندگی، طرزِ زندگی اور نظامِ زندگی زیادہ صحیح، بہتر اور سودمند ہو سکتا ہے یا کسی اور کا؟ کاش کہ جوشی جی اور ان کے جیسے لوگ اس پر وچار کرتے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *