ہندو راشٹر ناقابل تسلیم(۲)

بحالات موجودہ ہندوستان (بھارت) کسی مخصوص فرقہ کی ریاست نہیں بن سکتا۔ اس کے ضمن میں ہم نے کچھ تمہیدی نوعیت کی باتیں گذشتہ شمارے میں تحریر کی تھیں۔ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم مزید چند نکات پیش کرنا چاہتے ہیں جو حسب ذیل ہیں۔
٭ ہندو راشٹر کا دعویٰ ایک بے دلیل دعویٰ ہے۔ جدید ہندوستان ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ئ؁ کو وجود میں آیا،اس وقت کسی نے ہندو راشٹر کا دعویٰ نہیں کیا اور اس کے برعکس اس کی بنیاد وطنی قومیت پر رکھی گئی اور یہاں کے جملہ باشندوں (شہریوں) کے مساوی حقوق تسلیم کئے گئے ہیں۔ عوامی جمہوریۂ ہند (Republic of India)کا واضح مطلب یہ تھا کہ یہاں کے سارے شہری مساوی حقوق اختیارات کے ساتھ اس ریاست میں شریک و سہیم ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی مذہب سے ہو اور وہ ملک کے کسی علاقہ میں رہتے ہوں اور کوئی زبان بولتے ہوں۔ ایک مدت کے بعد ہندی کو سرکاری (دفتری )زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ مگر اسی کے ساتھ ان سب زبانوں کو بھی قومی زبانوں کا درجہ دیا گیا جو دستور کی لسانی فہرست (Schedule)میں شامل ہیں۔ صوبوں اور ریاستوں کو زبان کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا۔مگر اس میں کسی خاص زبان کو پورے ملک کی زبان قرار نہیں دیا گیا،نہ کسی ریاست کو زبان کی بنا پر امتیازی حیثیت دی گئی۔ یعنی جو درجہ ہندی بولنے والی ریاستوں کا ہے وہی بنگالی، پنجابی،مراٹھی، تامل اور ملیالم وغیرہ کو بھی حاصل ہے۔ یعنی زبان کی بنیاد پر انڈین یونین سے علیحدگی کا جواز نہیں ہے۔ نا ہی کسی صوبے کو مذہب کی بنیاد پر مسلم، ہندو یا سکھ اسٹیٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی لئے ایک طویل کشمکش کے بعد بھی خالصتان کا مطالبہ منظور نہیں کیا گیا۔ بلکہ اسے پنجابی صوبے کا نام دیا گیا۔ جس ملک کے کسی چھوٹے سے چھوٹے حصہ کو مذہبی بنیاد پر ازروئے دستور منظوری نہیں دی جا سکی اس پورے ملک کو کسی مخصوص فرقہ کی ریاست قرار دینے کا صاف مطلب ملک کے وفاقی ڈھانچہ کو منتشر (Brack)کرنے کے مترادف ہوگا۔
ہندوستان کو آزاد کرانے کا سہرا بھی کسی ایک فرقہ کے سرپر نہیں باندھا جا سکتا۔ اس سلسلہ میں اعداد و شمار کے ذریعہ کسی کا حصہ کم اور زیادہ تو ثابت کیا جاسکتا ہے مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فلاں فرقہ نے ہندوستان کو آزادی دلائی۔ لہٰذا اسی کو اس ملک میں حکمرانی کا حق حاصل ہے۔ آزادی کے لئے جیل جانے، پھانسیاں چومنے، جائدادیں ضبط کرانے کا حساب کتاب لگاکر آبادی کے تناسب سے حق حاکمیت ثابت کیا جائے تو شاید اکثریت کے دعویداروں کو پہلی صف میں جگہ نہیں مل سکے گی۔ بلکہ دیش بھگتی (وطن پرستی) کے دعویدار بہت سے سورماؤں کو شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔ جنگ آزادی کی ابتدا کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ جب انڈین نیشنل کانگریس بھی مکمل آزادی کا لفظ منہ پر لانے کا حوصلہ نہیں کر رہی تھی اور ملک کی اکثریت میں یہ ہمت مفقود تھی اس وقت انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دینے، اس پر عمل کرنے اور اس کی قیمت ادا کرنے والے کون تھے؟ یہ تاریخ میں پوری طرح محفوظ ہے۔ لہٰذا ہندوستان کی جنگ آزادی میں پہل کرنے کی بنیاد پر بھی ہندو راشٹر بنانے کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کے سالانہ اجلاس ۱۹۲۱ئ؁ میں مولانا حسرت موہانی نے پہلی بار مکمل آزادی کی تجویز پیش کی، جس کو کانگریس نے منظور نہیں کیا۔ اور گاندھی جی کے سخت اصرار پر اس تجویز کو واپس لے لیا گیا۔ اس وقت مولانا حسرت موہانی کی تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے گاندھی جی نے کہا تھا کہ ’(مولانا)حسرت بھائی ہمیں ایک ایسی دلدل میں اتارنا چاہتے ہیں جس میں داخل ہو کر ہم کبھی نکل بھی نہیں سکیں گے۔ ہندو قوم پرستی کے جارحانہ تصور کی نمائندہ آر۔ایس۔ایس نے بھی ابھی تک بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی کوئی قرار داد منظور نہیں کی ہے۔کیوں ؟ اس کا جواب انہیں لوگوں کے ذمہ ہے جو ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا شور گلی کوچوں میں مچا رہے ہیں۔
یار دکھنا چاہئے کہ انگریزوں نے کبھی بھی ہندوستان کو اپنا وطن اور سلطنت برطانیہ کا حصہ قرار نہیں دیا۔ بلکہ برمااور سری لنکا اور نیپال کی طرح پورے بر صغیر ہند و پاک کو بھی دولت مشترکہ (Common Wealth)کا درجہ دیا۔ اور یہ اعلان کرتے رہے کہ حکومت برطانیہ ہندوستان پر مستقل حکومت کرنا نہیں چاہتی۔ اس سلسلے کا آغاز برٹش ملکہ وکٹوریہ کے اس بیان سے ہوئی تھی جو ۱۸۵۷ئ؁ میں ’اعلانِ وکٹوریہ ‘کے نام سے جاری کیا گیا تھا۔ اس میں بہت سی دوسری باتوں کے علاوہ یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ انگریز ہندوستان پر مستقل حکومت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اور اس ملک کے عوام کو حکومت کرنے کا اہل بنانا چاہتے ہیں۔ اور مناسب وقت آنے پر ہندوستان کو آزادی دے دی جائیگی۔ اعلان میں کتنی صداقت تھی اور آزادی کا وقت مقرر نہ کرنے میں کیا اغراض چھپی ہوئی تھیں اور اس وعدے کو پورے کرنے میں ۹۰ سال (۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ئ) کیوں لگے۔ یہ سارے سوالات جواب طلب ہیں۔ لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ ۱۹۴۷ئ؁ میں یہ وعدہ پورا کر دیا گیا۔ اور آزادی کے لئے باضابطہ طاقت کے استعمال کی نوبت نہیں آئی۔ بلکہ جو شخص برطانیہ کے بادشاہ کے نائب کی حیثیت سے ہندوستان پر حکومت کر رہا تھا۔ ۱۴؍۱۵ اگست کی درمیانی شب میں اسی نے اپنے ہاتھوں سے برطانیہ کے اقتدار کی علامت (Union Jack)اتار کر ’ترنگا ‘ہندوستانی جھنڈا لہرایا۔ یہ جھنڈا کسی مذہب یا فرقہ کی حکمرانی کی علامت نہ ہوکر ہندوستانی عوام کے اقتدار کی علامت تھا۔ اس وقت بھی ہندو راشٹر کا نام کسی نے نہیں لیا۔ اسی لئے کہ یہ نعرہ وہم و خیال کی حد تک بھی ملکی یا قومی سطح پر موجود نہیں تھا۔
اس سلسلے میں یہ سوال بھی قابل توجہ ہے کہ انگریزوں نے تخت و تاج کس سے چھینا تھا۔ سب جانتے ہیں کہ مغل شہنشاہ کم و بیش تین سو سال تک ہندوستان پر حکومت کرتے رہے۔ ان کی بادشاہت ایک مسلمہ حقیقت تھی اور ان کے زوال کے بعد ہندوستان کا کوئی حکمراں خود کو ان کا جاں نشین ثابت نہیں کر سکا۔ بہت سی چھوٹی بڑی آزاد ریاستیں قائم ہوئیں جن میں سلطنت آصفیہ، ریاست اودھ اور مرہٹے، سلطان ٹیپو وغیرہ بلا شبہ آزاد و خود مختار حکمراں رہے۔ مگر انگریزوں کی (Diplomacy) اور باہمی دشمنی کی وجہ سے کوئی بھی پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکا اور ۱۸۵۷ء تک انگریز ملک کی سب سے بڑی سیاسی طاقت بن گئے۔ جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ مغل شہنشاہیت کے بعد حکومت برطانیہ کادور شروع ہوا۔ اگر چہ اس کو قائم ہوتے ہوتے ایک صدی گزر گئی۔ بلاشبہ برطانوی استعمار کے خلاف بہت سی قربانیاں دی گئیں جن پر بجا طور پر فخر کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ۱۸۵۷ء میں شکست خوردہ حکمرانوں کے ساتھ عوام اور مذہبی عمائدین بالخصوص علماء اسلام انگریزی استعمار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ مگر ۱۹۴۷ء تک ہندوستان برطانیہ کے زیر اقتدار رہا۔ ۱۹۰ سا ل کا یہ دور دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے سو برس ایسٹ انڈیا کمپنی کے اقتدار سے منسوب ہیں جس کو برطانوی حکمرانوں کی تائید اور پشت پناہی حاصل تھی۔ دوسرا 90برس کا دور شہنشاہِ برطانیہ کی حکمرانی کا دور ہے۔ ایک سو نوے سال پر محیط برطانوی دور کے خاتمہ پر انگریزوں سے کس کو آزادی ملی۔ ہندوستانی عوام کو یا کسی خاص فرقہ اور مذہب کے لوگوں کو ؟ جواب حاضر ہے کہ اقتدار کسی فرقہ یا خاندان یا مذہب کے لوگوں کو منتقل نہیں ہوا تھا۔ تخت و تاج مغل حکمرانوں سے چھینا گیا تھا مگر ہندوستان کے عوام کو اقتدار منتقل کیا گیا۔ اور اسی وجہ سے ہندوستان کے دستور میں We the people of India. کے الفاظ درج کئے گئے۔ اس سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کے جملہ عوام نا کہ کسی ایک مخصوص فرقہ کے لوگ دعویٰ حکمرانی کر سکتے ہیں۔ ہندو راشٹر کا صاف مطلب صرف ہندو فرقہ کا اقتدار ہے۔ جو دوسری قوموں یا فرقوں کی شراکت کی نفی کرتا ہے جس سے دوسری سب قوموں یا فرقوں کے شریک اقتدار ہونے کی نفی ہوتی ہے۔
آگے بڑھیں تو ایک دوسرا رُخ بھی سامنے آتا ہے۔ وہ ہندوستان کے مستقبل اور اس کی سلامتی سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر چہ ہندو اکثریت کا دعویٰ بھی تشریح طلب ہے اور بہت سے سوالوں کا جواب چاہتا ہے۔ اگر ہندو اکثریت کو مان بھی لیا جائے تو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ طبقاتی امتیاز معاشرتی اختلافات اور مذہبی انتشار پر مبنی اکثریت ہے۔ یہاں متضاد مذہبی عقائد ہیں اور متعدد زبانیں بولنے والوں کی اکثریت ہے اور ان سب باتوں سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ ہندو مذہب، ہندو قوم کی کوئی معتبر اور متفقہ تاریخ نہیں ہے۔ دھرم(مذہب)اور پنتھ کی بحث بھی چھیڑی جاتی ہیں۔ اگر ان سب باتوں کو بھلا کر ہندو اکثریت کو تسلیم کر لیا جائے تو بھی دوسرے مذاہب بالخصوص اسلام، عیسائیت، سکھ اور جین، پارسی مذہب کے ماننے والوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا حق حاصل نہیں ہو جاتا۔ اگر کسی زمین اور جائیداد میں دس آدمی شریک ہوں تو آٹھ یا نو شرکاء مل کر کسی ایک دیگر فریق کے حق ملکیت کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ سراسر ظلم اور بے انصافی ہے اور ع؎ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ زور زبردستی اگر ہندوستان کو ہندو راشٹر بنا یا جائیگا تو یقینی طور پر اختلاف و انتشار پیدا ہوگا۔ اور ملک کی سا لمیت کو خطرات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ لہٰذا ہندو راشٹر کی بات کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ ملک کو متحد رکھنا چاہتے ہیں اور اس کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں تو کسی ایسے راستے پر قدم نہ بڑھائیں جو تقسیم و انتشار کی طرف جاتا ہو۔ ۱۹۴۷ء میں اقتدار کے حصول کو اوّلیت دی گئی جس پر دو طرفہ اصرار بڑھتا چلا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جس ملک میں شانہ بشانہ کھڑے ہوکر ’تحریک خلافت ‘جیسی زبردست عوامی تحریک چلی تھی اور جس کی تائید کانگریس و مسلم لیگ دونوں نے کی تھی اسی ملک کو دو ۲بلکہ تین حصوں میں تقسیم ہونا پڑا۔ اور انسانیت کو ایسے کاری زخم لگے کہ الامان والحفیظ۔ جارحانہ قوم پرستی کے دعویداروں کو آج نہیں تو کل احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ اقتدار کے لئے نفرت کے شعلے بھڑکانا، کمزوروں پر ظلم ڈھانا کہاں کی اور کیسی وطن دوستی ہے؟

اگر ہندوستان کو ہندو راشٹر بنا دیا جائے گا تو یقینی طور پر یہاں کی اقلیتوں کے لئے ناگوارو ناپسندیدہ ہوگا۔ ان کی دلچسپیاں کسی ایسی ریاست سے کس طرح وابستہ ہو سکتی ہیں جو ان کے وجود اور شناخت کے انکار پر قائم ہوگی، مگر اسی کے ساتھ خود ہندو سماج کے لئے بھی ایسا ہونا مفید نہیں ہوسکے گا۔ جہاں تک اکثریت میں ہوتے ہوئے ان کی نمائندگی یا جائز مفادات کا تعلق ہے تو معلوم ہونا چاہئے کہ موجودہ حالات میں ان کو وہ سارے فائدے میسر ہیں جن کاہندو سماج مطالبہ یا تقاضہ کر سکتا ہے۔ ملکی سیاست، تجارت اور زیر کاشت زمین اور سیاست کے ایوانوں میں ان کی نمائندگی کا جائزہ لیا جائے تو بآسانی یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ہر جگہ ہندوؤں کا تناسب بڑھا ہوا ہے۔ اور کہیں تو صاف طور پر ان کا تسلط نظر آتا ہے۔
ہندو راشٹر کا نعرہ لگانے والوں کی ایک بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ وہ اقلیتوں کو خوف اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں دے سکے بلکہ خود اپنے ماضی اور مستقبل کے بارے میں بھی کوئی بہتر تعارف نہیں کرا سکے۔ گذشتہ پارلیمانی انتخابات کے بعد ان کی یہ خامی زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آئی ہے۔ ان کا سارا تعارف منفی ہے وہ اقلیتوں کو مجبور و محکوم بناکر رکھیں گے۔ انہیں ہندوؤں کی تہذیب وروایات کا احترام کرنا پڑے گا۔ انہیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہندو ہی اس ملک کے مالک ہیں۔ اسی طرح وہ زبان کے معاملے میں تنگ نظری کا اعلان کر رہے ہیں اور تنہا ہندی زبان کو قومی زبان قرار دے کر دوسری قومی زبانوں، تیلگو، کنڑ، ملیالم، بنگالی اور اردو وغیرہ کو ختم یا بے اثر کردینا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ دستور میں بھی تبدیلی کرنے کی بات کرتے ہیں بلکہ اس کو بنیادی طور پر بدل دینا چاہئے ہیں۔ مگر اس کا کوئی تفصیلی خاکہ پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ اور اس طرح کی بہت سی جارحانہ باتیں ہندو قوم پرستی کے علمبرداروں کی طرف سے جاتی رہتی ہیں۔ جو وہ ہندو راشٹر اور ہندوستان کے بارے میں کرتے رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایک مکان کو منہدم کرنے والوں کی ہے۔ جن کے پاس مستقبل کی تعمیر کا کوئی نقشہ نہیں ہے اور نہ ماضی کی کوئی ایسی مثال ہے جو اپنے اندر کوئی کشش رکھتی ہو۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *