اسراء اور معراج

نبیﷺ کی دعوت و تبلیغ ابھی کامیابی اور ظلم و ستم کے اس درمیانی مرحلے سے گذر رہی تھی اور افق کی دور دراز پہنائیوں میں دھندلے تاروں کی جھلک دکھائی پڑنا شروع ہوچکی تھی کہ! اسراء اور معراج کا واقعہ پیش آیا۔ یہ معراج کب واقع ہوئی؟ اس بارے میں اہل سیر کے اقوال مختلف ہیں جو یہ ہیں:
(۱) جس سال آپﷺ کو نبوت دی گئی اسی سال معراج بھی واقع ہوئی (یہ طبری کا قول ہے)
(۲) نبوت کے پانچ سال بعد معراج ہوئی (اسے امام نووی اور امام قرطبی نے راجح قرار دیا ہے۔)
(۳) نبوت کے دسویں سال ۲۷؍ رجب کو ہوئی (اسے علامہ منصور پوری نے اختیار کیا ہے۔)
(۴) ہجرت سے سولہ مہینے پہلے یعنی نبوت کے بارہویں سال ماہ رمضان میں ہوئی۔
(۵) ہجرت سے ایک سال دو ماہ پہلے یعنی نبوت کے تیرہویں سال محرم میں ہوئی۔
(۶) ہجرت سے ایک سال پہلے یعنی نبوت کے تیرہویں سال ماہ ربیع الاوّل میں ہوئی۔
ان میں سے پہلے تین اقوال اس لئے صحیح نہیں مانے جاسکتے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات نماز پنجگانہ فرض ہونے سے پہلے ہوئی تھی اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ نماز پنجگانہ کی فرضیت معراج کی رات ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات معراج سے پہلے ہوئی تھی اور معلوم ہے کہ حضرت خدیجہؓ کی وفات نبوت کے دسویں سال ماہ رمضان میں ہوئی تھی۔ لہٰذا معراج کا زمانہ اس کے بعد کا ہوگا اس سے پہلے کا نہیں۔ باقی رہے اخیر کے تین اقوال تو ان میں سے کسی کو کسی پر ترجیح دینے کے لئے کوئی دلیل نہ مل سکی۔ البتہ سورہ اسراء کے سیاق سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مکی زندگی کے بالکل آخری دور کا ہے۔
ائمہ حدیث نے اس واقعے کی جو تفصیلات روایت کی ہیں ہم اگلی سطور میں ان کا حاصل پیش کر رہے ہیں۔
ابنِ قیم لکھتے ہیں کہ صحیح قول کے مطابق رسول اللہﷺ کو آپ کے جسم مبارک سمیت براق پر سوار کرکے حضرت جبریل علیہ السلام کی معیت میں مسجد حرام سے بیت المقدس تک سیر کرائی گئی۔ پھر آپﷺ نے وہاں نزول فرمایا اور انبیاء کی امامت فرماتے ہوئے نماز پڑھائی اور براق کو مسجد کے دروازے کے حلقے سے باندھ دیا تھا۔
اس کے بعد اسی رات آپﷺ کو بیت المقدس سے آسمانِ دنیا تک لے جایا گیا۔ جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا۔ آپﷺ کے لئے دروازہ کھولا گیا۔ آپﷺ نے وہاں انسانوں کے باپ حضرت آدم علیہ السلام کو دیکھا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے آپﷺ کو مرحبا کہا۔ سلام کا جواب دیا اور آپﷺ کی نبوت کا اقرار کیا۔ اللہ نے آپﷺ کو ان کے دائیں جانب سعادت مندوں کی روحیں اور بائیں جانب بدبختوں کی روحیں دکھلائیں۔
پھر آپﷺ کو دوسرے آسمان پر لے جایا گیا اور دروازہ کھلوایا گیا۔ آپ ؐ نے وہاں حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو دیکھا۔ دونوں سے ملاقات کی اور سلام کیا۔ دونوں نے سلام کا جواب دیا۔ مبارک باد دی اور آپ ؐ کی نبوت کا اقرار کیا۔
پھر تیسرے آسمان پر لے جایا گیا۔ آپﷺ نے وہاں حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا اور سلام کیا۔ انہوں نے جواب دیا، مبارک باد دی اور آپ ؐ کی نبوت کا اقرار کیا۔
پھر چوتھے آسمان پر لے جایا گیا۔ وہاں آپﷺ نے حضرت ادریس علیہ السلام کو دیکھا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے جواب دیا، مرحبا کہا اور آپ ؐ کی نبوت کا اقرار کیا۔
پھر پانچویں آسمان پر لے جایا گیا۔ وہاں آپﷺ نے حضرت ہارون بن عمران علیہ السلام کو دیکھا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے جواب دیا، مبارک باد دی اور اقرار نبوت کیا۔
پھر آپﷺ کو چھٹے آسمان پر لے جایا گیا۔ وہاں آپ ؐ کی ملاقات حضرت موسیٰ بن عمران سے ہوئی۔ آپﷺ نے سلام کیا۔ انہوں نے مرحبا کہا اور اقرارِ نبوت کیا۔ البتہ جب آپ ؐ وہاں سے آگے بڑھے تو وہ رونے لگے۔ اُن سے کہا گیا آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے کہا! میں اس لئے رو رہا ہوں کہ ایک نوجوان جو میرے بعد مبعوث کیا گیا اس کی امت کے لوگ میری امت کے لوگوں سے بہت زیادہ تعداد میں جنت کے اندر داخل ہوں گے۔
اس کے بعد آپﷺ کو ساتویں آسمان پر لے جایا گیا۔ وہاں آپ ؐ کی ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی۔ آپ ؐ نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے جواب دیا، مبارک باد دی اور آپﷺ کی نبوت کا اقرار کیا۔
اس کے بعد آپﷺ کو سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا۔ پھر آپ ؐ کے لئے بیت المعمور کو ظاہر کیا گیا۔ پھر خدائے جبّار جلّ جلالہ کے دربار میں پہنچایا گیا اور آپﷺ اللہ کے اتنے قریب ہوئے کہ دوکمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔ اس وقت اللہ نے اپنے بندے پر وحی فرمائی جو کچھ کہ وحی فرمائی اور پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں۔ اس کے بعد آپﷺ واپس ہوئے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذرے تو انہوں نے پوچھا کہ اللہ نے آپﷺ کو کس چیز کا حکم دیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا پچاس نمازوں کا۔ انہوں نے کہا: آپ ؐ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیے اور اپنی امت کے لئے تخفیف کا سوال کیجئے۔ آپﷺ نے حضرت جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا گویا ان سے مشورہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ ہاں، اگر آپ ؐ چاہیں۔ اس کے بعد حضرت جبریل ؑ آپﷺ کو جبّار تبارک تعالیٰ کے حضور لے گئے، اور وہ اپنی جگہ تھا۔ بعض طرق میں صحیح بخاری کا لفظ یہی ہے۔ اس نے دس نمازیں کم کر دیں اور آپﷺ نیچے لائے گئے۔ جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذر ہوا تو انہیں خبر دی۔ انہوں نے کہا آپﷺ اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور تخفیف کا سوال کیجئے۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اللہ عزوجل کے درمیان آپ ؐ کی آمدورفت برابر جاری رہی یہاں تک کہ اللہ عزّوجل نے صرف پانچ نمازیں باقی رکھیں اس کے بعد بھی موسیٰ علیہ السلام نے آپﷺ کو واپسی اور طلب تخفیف کا مشورہ دیا مگر آپﷺ نے فرمایا اب مجھے اپنے رب سے شرم محسوس ہو رہی ہے۔ میں اسی پر راضی ہوں اور سر تسلیم خم کرتا ہوں۔ پھر جب آپ ؐ مزید کچھ دور تشریف لے گئے تو ندا آئی کہ میں نے اپنا فریضہ نافذ کر دیا اور اپنے بندوں سے تخفیف کر دی۔
اس کے بعد ابن قیم نے اس بارے میں اختلاف ذکر کیا ہے کہ نبیﷺ نے اپنے رب تبارک وتعالیٰ کو دیکھا یا نہیں؟ پھر امام ابن تیمیہ کی ایک تحقیق ذکر کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنکھ سے دیکھنے کا سرے سے کوئی ثبوت نہیں اور نہ کوئی صحابی اس کا قائل ہے۔ اور ابنِ عباس سے مطلقاً دیکھنے اور دل سے دیکھنے کے جو دو قول منقول ہیں ان میں سے پہلا دوسرے کے منافی نہیں۔ اس کے بعد امام ابنِ قیم لکھتے ہیں کہ سورۂ نجم میں اللہ تعالیٰ کا جو یہ ارشاد ہے:
’ثم دنا فتدلی۔ (۵۳، ۸) پھر وہ نزدیک آیا اور قریب تر ہو گیا۔‘
تو یہ اس قربت کے علاوہ ہے جو معراج کے واقعے میں حاصل ہوئی تھی کیونکہ سورہ نجم میں جس قربت کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام کی قربت وتدلّی ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: اور سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ اس کے برخلاف حدیث معراج میں جس قربت و تدلی کا ذکر ہے اس کے بارے میں صراحت ہے کہ یہ رب تبارت وتعالیٰ سے قربت و تدلّی تھی اور سورۂ نجم میں اس کو سرے سے چھیڑا ہی نہیں گیا ہے بلکہ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ آپﷺ نے انہیں دوسری بار سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا اور یہ حضرت جبریل ؑ تھے۔ انہیں محمدﷺ نے ان کی اپنی شکل میں دو مرتبہ دیکھا تھا، ایک مرتبہ زمین پر اور ایک مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ واللہ اعلم
اس دفعہ بھی نبیﷺ کے ساتھ شق صدر (سینہ چاک کئے جانے) کا واقعہ پیش آیا اور آپؐ کو اس سفر کے دوران کئی چیزیں دکھلائی گئیں۔
آپﷺ پر دودھ اور شراب پیش کی گئی۔ آپﷺ نے دودھ اختیار فرمایا۔ اس پر آپ ؐ سے کہا گیا کہ آپﷺ کو فطرت کی راہ بتائی گئی یا آپ ؐ نے فطرت پالی۔ اور یاد رکھئے کہ اگر آپﷺ نے شراب لی ہوتی تو آپ ؐ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
آپﷺ نے جنت میں چار نہریں دیکھیں۔ دو ظاہری اور دو باطنی، ظاہری نہریں نیل و فرات تھیں۔ (اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ آپ ؐ کی رسالت نیل و فرات کی شاداب وادیوں کو اپنا وطن بنائے گی، یعنی یہاں کے باشندے نسلاً بعد نسل مسلمان ہوں گے۔ یہ نہیں کہ ان دونوں نہروں کے پانی کا منبع جنت میں ہے۔ واللہ اعلم)
آپﷺ نے مالک، داروغہ جہنم کو بھی دیکھا۔ وہ ہنستا نہ تھا اور نہ اس کے چہرے پر خوشی اور بشاشت تھی۔ آپﷺ نے جنت و جہنم بھی دیکھی۔
آپﷺ نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جو یتیموں کا مال ظلماً کھا جاتے ہیں۔ ان کے ہونٹ اونٹ کے ہونٹوں کی طرح تھے اور وہ اپنے منہ میں پتھر کے ٹکڑوں جیسے انگارے ٹھونس رہے تھے جو دوسری جانب ان کے پاخانے کے راستے سے نکل رہے تھے۔
آپﷺ نے سود خوروں کو بھی دیکھا۔ ان کے پیٹ اتنے بڑے بڑے تھے کہ وہ اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتے تھے اور جب آلِ فرعون کو آگ پر پیش کرنے کے لئے لے جایا جاتا تو ان کے پاس سے گذرتے وقت انہیں روندتے ہوئے جاتے تھے۔
آپﷺ نے زنا کاروں کو بھی دیکھا۔ اُن کے سامنے تازہ اور فربہ گوشت تھا اور اِسی کے پہلو بہ پہلو سڑا ہوا چھیچھڑا بھی تھا۔ یہ لوگ تازہ اور فربہ گوشت چھوڑکر سڑا ہوا چھیچھڑا کھا رہے تھے۔
آپﷺ نے ان عورتوں کو دیکھا جو اپنے شوہروں پر دوسروں کی اولاد داخل کر دیتی ہیں۔ (یعنی دوسروں سے زنا کے ذریعے حاملہ ہوتی ہیں لیکن لاعلمی کی وجہ سے بچہ ان کے شوہر کا سمجھا جاتا ہے) آپﷺ نے انہیں دیکھا کہ ان کے سینوں میں بڑے بڑے ٹیڑھے کانٹے چبھا کر انہیں آسمان و زمین کے درمیان لٹکا دیا گیا ہے۔
آپﷺ نے آتے جاتے ہوئے اہل مکہ کا ایک قافلہ بھی دیکھا اور انہیں ان کا ایک اونٹ بھی بتایا جو بھڑک کر بھاگ گیا تھا۔ آپﷺ نے ان کا پانی بھی پیا جو ایک ڈھکے ہوئے برتن میں رکھا تھا۔ اس وقت قافلہ سو رہا تھا، پھر آپ ؐ نے اُسی طرح برتن ڈھک کر چھوڑ دیا اور یہ بات معراج کی صبح آپﷺ کے دعوی کی صداقت کی ایک دلیل ثابت ہوئی۔
علامہ ابن قیم فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ نے صبح کی اور اپنی قوم کو ان بڑی بڑی نشانیوں کی خبر دی جو اللہ عزوجل نے آپ ؐ کو دکھلائی تھیں تو قوم کی تکذیب اور اذیت و ضرر رسانی میں اور شدت آگئی۔ انہوں نے آپ ؐ سے سوال کیا کہ بیت المقدس کی کیفیت بیان کریں۔ اس پر اللہ نے آپﷺ کے لئے بیت المقدس کو ظاہر فرمادیا اور وہ آپ ؐ کی نگاہوں کے سامنے آگیا، چنانچہ آپﷺ نے قوم کو اس کی نشانیاں بتلانا شروع کیں اور ان سے کسی بات کی تردید نہ بن پڑی۔ آپﷺ نے جاتے اور آتے ہوئے اُن کے قافلے سے ملنے کا بھی ذکر فرمایا اور بتلایا کہ اس کی آمد کا وقت کیا ہے۔ آپﷺ نے اس اونٹ کی بھی نشاندہی کی جو قافلے کے آگے آگے آرہا تھا، پھر جیسا کچھ آپ ؐ نے بتایا تھا ویسا ہی ثابت ہوا لیکن ان سب کے باوجود ان کی نفرت میں اضافہ ہی ہوا اور ان ظالموں نے کفر کرتے ہوئے کچھ بھی ماننے سے انکار کر دیا۔
کہا جاتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اسی موقع پر صدیق کا خطاب دیا گیا کیونکہ آپ نے اس واقعے کی اس وقت تصدیق کی جبکہ اور لوگوں نے تکذیب کی تھی۔
معراج کا فائدہ بیان فرماتے ہوئے جو سب سے مختصر اور عظیم بات کہی گئی وہ یہ ہے:
لنریہ من اٰیاتنا (۱۷، ا) ’تاکہ ہم (اللہ تعالیٰ) آپ کو اپنی کچھ نشانیاں دکھلائیں۔‘
اور انبیاء کرام کے بارے میں یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ ارشاد ہے‘
وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموات والارض ولیکون من الموقنین (۶:۵۷)
’اور اسی طرح ہم نے ابراہیم ؑ کو آسمان و زمین کا نظامِ سلطنت دکھلایا اور تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو۔‘
اور موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا:۔
لنریک من اٰیاتنا الکبریٰ (۲۰: ۲۳) ’تاکہ ہم تمہیں اپنی کچھ بڑی نشانیاں دکھلائیں۔‘
پھر ان نشانیوں کے دکھلانے کا جو مقصود تھا اسے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد ولیکون من الموقنین (تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو) کے ذریعے واضح فرمادیا۔ چنانچہ جب انبیاء کرام کے علوم کو اس طرح کے مشاہدات کی سند حاصل ہوجاتی تھی تو انہیں عین الیقین کا وہ مقام حاصل ہو جاتا تھا جس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ ’شنیدہ کے بود مانند دیدہ‘ اور یہی وجہ ہے کہ انبیاء کرام اللہ کی راہ میں ایسی مشکلات جھیل لیتے تھے جنہیں کوئی اور جھیل ہی نہیں سکتا۔ درحقیقت ان کی نگاہوں میں دنیا کی ساری قوتیں مل کر بھی مچھر کے پر کے برابر حیثیت نہیں رکھتی تھیں اسی لئے وہ ان قوتوں کی طرف سے ہونے والی سختیوں اور ایذارسانیوں کی کوئی پروا نہیں کرتے تھے۔
اس واقعۂ معراج کی جزئیات کے پس پردہ مزید جو حکمتیں اور اسرار کارفرماتھے ان کی بحث کا اصل مقام اسرار شریعت کی کتابیں ہیں البتہ چند موٹے موٹے حقائق ایسے ہیں، جو اس مبارک سفر کے سرچشموں سے پھوٹ کر سیرت نبوی کے گلشن کی طرف رواں دواں ہیں اس لئے یہاں مختصراً انہیں قلمبند کیا جا رہا ہے۔
آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ اسراء میں اسراء کا واقعہ صرف ایک آیت میں ذکر کرکے کلام کا رُخ یہود کی سیاہ کاریوں اور جرائم کے بیان کی جانب موڑ دیا ہے۔ پھر انہیں آگاہ کیا ہے کہ یہ قرآن اس راہ کی ہدایت دیتا ہے جو سب سے سیدھی اور صحیح راہ ہے۔قرآن پڑھنے والے کو بسا اوقات شبہہ ہوتا ہے کہ دونوں باتیں بے جوڑ ہیں لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اس اسلوب کے ذریعے یہ اشارہ فرمارہا ہے کہ اب یہود کو نوعِ انسانی کی قیادت سے معزول کیا جانے والا ہے کیونکہ انہوں نے ایسے ایسے جرائم کا ارتکاب کیا ہے جن سے ملوث ہونے کے بعد انہیں اس منصب پر باقی نہیں رکھا جا سکتا لہٰذا اب یہ منصب رسول اللہﷺ کو سونپا جائے گا اور دعوتِ ابراہیمی کے دونوں مراکز ان کے ماتحت کر دئیے جائیں گے۔ بلفظِ دیگر اب وقت آگیا ہے کہ روحانی قیادت ایک امت سے دوسری امت کو منتقل کر دی جائے: یعنی ایک ایسی امت سے جس کی تاریخ عذر و خیانت اور ظلم و بدکاری سے بھری ہوئی ہے یہ قیادت چھین کر ایک ایسی امت کے حوالے کر دی جائے جس سے نیکیوں اور بھلائیوں کے چشمے پھوٹیں گے اور جس کا پیغمبر سب سے زیادہ درست راہ بتانے والے قرآن کی وحی سے بہرہ ور ہے۔
لیکن یہ قیادت منتقل کیسے ہو سکتی ہے جب کہ اس امت کا رسول مکّے کے پہاڑوں میں لوگوں کے درمیان ٹھوکریں کھاتا پھر رہا ہے؟ اس وقت یہ ایک سوال تھا جو ایک دوسری حقیقت سے پردہ اٹھا رہا تھا اور وہ حقیقت یہ تھی کہ اسلامی دعوت کا ایک دور اپنے خاتمے اور اپنی تکمیل کے قریب آلگا ہے اور اب ایک دوسرا دور شروع ہونے والا ہے جس کا دھارا پہلے سے مختلف ہوگا۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض آیات میں مشرکین کو کھلی وارننگ اور سخت دھمکی دی گئی ہے: ارشاد ہے
واذا اردنا ان نہلک قریۃ امرنا مترفیہا ففسقو فیہا فحق علیھا القول فدمرنا ہا تدمیراً (۱۷:۱۶)
’اور جب ہم کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے اصحاب ثروت کو حکم دیتے مگر وہ کھلی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ پس اس بستی پر (تباہی کا) قول برحق ہو جاتا ہے اور ہم اسے کچل کر رکھ دیتے ہیں۔‘
وکم اہلکنا من القرون من بعد نوح وکفی بربک بذنوب عبادہ خبیراً بصیراً (۱۷:۱۷)
’اور ہم نے نوح کے بعد کتنی ہی قوموں کو تباہ کر دیا، اور تمہارا رب اپنے بندوں کے جرائم کی خبر رکھنے اور دیکھنے کے لئے کافی ہے۔‘
پھر ان آیات کے پہلو بہ پہلو کچھ ایسی آیات بھی ہیں جن میں مسلمانوں کو ایسے تمدنی قواعد و ضوابط اور دفعات و مبادی بتلائے گئے ہیں جن پر آئندہ اسلامی معاشرے کی تعمیر ہونی تھی۔ گویا اب وہ کسی ایسی سرزمین پر اپنا ٹھکانا بنا چکے ہیں جہاں ہر پہلو سے ان کے معاملات ان کے اپنے ہاتھ میں ہیں اور انہوں نے ایک ایسی وحدت متماسکہ بنالی ہے جس پر سماج کی چکی گھوما کرتی ہے۔ لہٰذا ان آیات میں اشارہ ہے کہ رسول اللہﷺ عنقریب ایسی جائے پناہ اور امن گاہ پالیں گے جہاں آپﷺ کے دین کو استقرار نصیب ہوگا۔
یہ اسراء و معراج کے بابرکت واقعے کی تہ میں پوشیدہ حکمتوں اور رازہائے سربستہ میں سے ایک ایسا راز اور ایک ایسی حکمت ہے جس کا ہمارے موضوع سے براہِ راست تعلق ہے۔ اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ اسے بیان کردیں۔ اسی طرح کی دو بڑی حکمتوں پر نظر ڈالنے کے بعد ہم نے یہ رائے قائم کی ہے کہ اسراء کا یہ واقعہ یا تو بیعت عقبہ اولی سے کچھ ہی پہلے کا ہے یہ عقبہ کی دونوں بیعتوں کے درمیان کا ہے۔ واللہ اعلم (ماخوذ الرحیق المختوم)

(قسط ششم)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *