دستور تو شراب بندی بھی چاہتا ہے؟

مہاراشٹر کی نئی بھگوا حکومت کے ذریعہ ذبیحہ گاؤ کو ممنوع کرنے والے قانون کو بیل وغیرہ تک بڑھا دینے کے بعد عوام کا احتجاج جاری ہے۔ اسی تناظر میں پرائم منسٹر آفس PMOکے ذریعہ تمام وزراء اعلی کے نام ارسال کئے گئے خط کو جوڑ کر دیکھیں جس میں دستور کے رہنما اصول کا حوالہ دیکر دودھ دینے اور کھیتی میں کام آنے والے جانوروں کے ذبیحہ کو روکنے کی بات کہی گئی ہے۔ جبکہ اسی دستور میں سب کو صحت اور تعلیم لازماً دینے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ اور اسی رہنما اصول میں ملک میں شراب بندی کی بات بھی کی گئی ہے۔ جو کہ بالکل غیر متنازعہ ہے۔ مگر اس پر عملدر آمد کے لئے جلد بازی نہیں دکھائی گئی۔ سائنس، تجربہ اور تاریخ کی روشنی میں دیکھیں تو شراب نوشی ہر لحاظ سے انسانی معاشرہ کے لئے تباہی وبربادی کا سامان ہے۔ مگر اس پر بات ہی نہیں کی جاتی۔ اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھنا ہو تو نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو۔ N.C.R.B.کی کسی بھی سال کی رپورٹ زنا، قتل، لوٹ، طلاق، گھریلو مارپیٹ، ٹریفک حادثات کی شرح دیکھ لیں 60-80%تک یہ جرائم نشہ کی حالت میں کئے جاتے ہیں۔ دہلی،ممبئی، گڈگاؤں وغیرہ کے مشہور بدنام زمانہ زنا بالجبر کے کیس کے مجرمین نے بھی نشہ کی ہی حالت میں یہ جرائم انجام دئیے۔ مگر اس ام الخبائث کے خلاف نہ کوئی پارٹی بولتی ہے نہ N.G.O.، نہ انّا بولتے ہیں اور نہ بابا رام دیو۔
گائے کے تعلق سے مذہبی جذبات کی بات کی جاتی ہے مگر بیل کے تعلق سے کیا مسئلہ ہے؟ حالانکہ ہندو علماء بھی جانتے ہیں کہ ان کی مذہبی کتاب میں گاؤ منع نہیں تھا۔ بلکہ بڑے بڑے یگیہ کراکر اس میں قربانیاں دی جاتی تھیں۔ گائے کے تقدس کا خیال بہت بعد میں فوری معاشی وجوہات کی بناء پر رائج کیا گیا۔
آج جبکہ بڑے پیمانہ پر ماحولیاتی آلودگی اور پانی کی قلت کا بحران دنیا کے سامنے بحث اور تشویش کا موضوع ہے تو بغیر کسی استعمال کے جانوروں کو پالنے کے لئے درکار جگہ، چارہ، پانی اور ان کی ڈکاروں سے نکلنے والی گیسوں کے مہلک مضر ماحولیاتی اثرات بہت بڑا بوجھ ملک کے وسائل پر پڑینگے۔ کسانوں کو کیا فائدہ ہوگا؟ اگر سرکار چراہ گاہیں کھولیگی تو ان میں کیا ہوگا؟ آج انسانوں کے لئے کئے جا رہے فلاحی کاموں بیوہ پنشن، یتیم گھروں، ناری نکیتنوں میں جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ پھر ان جانوروں کا کیا ہوگا؟
آج بھی گئوشالاؤں کو چندہ اور انکم ٹیکس سے بچنے کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ ایک بیل اگر اوسطاً 15کلو چارہ اور 20کلو پانی خرچ کریگا تو لاکھوں بیلوں کا خرچہ اور بوجھ ہمارا نظام بغیر مضر اثرات کے کیسے اٹھا سکتا ہے؟ انسانی بھلائی اور ملکی ترقی کے کام کرنے کے بجائے متنازعہ امور کے ذریعہ سستی شہرت بٹور کر اب الیکشن جیتنا ممکن نہیں ہوگا۔
عوام کی اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر مصنوعی مسائل میں الجھانا ملک سے غداری ہے اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *