عالمی منظر نامہ اور اُمّتِ مسلمہ

’’یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا پھیلاکر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول ؐکو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اے لوگوں !جو ایمان لائے ہو، میں بتاؤں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچا دے ؟ ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولؐ پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہ ہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔‘(سورہ صف آیت ۸ تا۱۱)‘
ناموسِ رسالتﷺ پر حملوں کی قبیح حرکتیں:
اسلام کے خلاف مغرب کا طرزِ عمل اس کے اس ذہنی خنّاسیت کو ظاہر کرتاہے، جس کے مظاہرے اکثر و بیشتر توہین آمیز خاکے، متنازعہ کتب و رسائل اور گستاخانہ فلموں کی شکل میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ مغربی طاقتیں غلبۂ اسلام اور Islamophobieکے خوف میں مبتلا ہوچکی ہیں۔ جس کا راز اس ذلّت آمیز ہزیمت اور شرمناک شکست میں پوشیدہ ہے، جو اس نے صلیبی جنگوں میں مسلمانوں سے کھائی تھی۔ اسلام اور عالمِ اسلام کے خلاف مغربی دنیا کا یہ بغض اب پوری طرح عریاں ہوچکاہے۔ یہ شیطینت کا وہ پہلو ہے جس کا اظہار صدیوں سے ہورہاہے اور جسے مغرب آزادیٔ اظہار کے لبادے میں چھپانا اور تحفّظ چاہتاہے۔ ’’ناموسِ رسالتﷺ کے خلاف مغرب کی شرانگیزیاں‘ دراصل مغرب کے اسی بغض و عناد بھرے مکروہ چہرے کی نقاب کشائی ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر قانون بنایا جائے کہ تمام انبیاء کرام کی توہین ناقابلِ معافی جرم ہے اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا شرعاً و قانوناًموت ہے، کیونکہ نبی کریمﷺ سے محبت اور عشق ہمارے ایمان کا لازمی تقاضہ ہے۔
فرمانِ الٰہی ہے کہ ’’شیطان بھی چال چلتا ہے اور رحمن بھی منصوبہ بندی کرتاہے، بے شک شیطان کی چال رحمن کے مقابلے میں مکڑی کے جالے سے بھی کمزور تر ہے‘۔ اس گستاخانہ جسارت پر اُمّت جس کرب و بلا سے گذر رہی ہے وہ یقینا خوابِ غفلت میں ڈوبی نوجوان نسل کو گریبان سے پکڑ کر جھنجوڑتے ہوئے نہ صرف اپنے مرکز کے قریب کرے گی، بلکہ مغربی تہذیب کے اصل چہرے پر پڑا پردہ بھی چاک کردے گی۔ اپنی صفوں میںچھپے باطل قوتوں کے پرور دہ فکری دہشت گردوں کے چہرے بھی ان کے سامنے بے نقاب ہوجائیں گے۔ ماضی میں ایسے واقعات نے بہت سے سلیم الفطرت غیر مسلموں کو اسلام کا مطالعہ کرنے کی طرف مائل کیا ہے اور ان میں سے کئی خوش نصیبوں کو ہدایت نصیب ہوئی ہے۔ الغرض ناپاک جسارت مغرب کی کھوکھلی اور زوال پذیر معاشرے کے تابوت میں ایک اور کیل کا اضافہ ثابت ہوگی۔ (انشاء اللہ)
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں لاکھوں افراد نے توہین رسالت پر مبنی خاکے شائع کرنے والے جریدے پر ہونے والے حملے کے خلاف اور جریدے کی پالیسی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مارچ کیا جس میں 40ملکوں کی سربراہان نے شرکت کی۔ اس موقع پر سب نے یک زبان اور آزادیٔ اظہار کے حق کا دفاع کرنے اور دہشت گردوں کے سامنے نہ جھکنے کے عزم کا اظہار کیا۔اور مغرب کی جانب سے اسلامی دنیاکو یہ واضح پیغام دیاکہ اسلامی دنیا کے تمام تر تحفظات اور شکایات کے باوجود مغربی حکومتیں اپنے میڈیا کی جانب سے ’’آزادیٔ اظہار‘ کے نام پر توہینِ رسالت کے سلسلے کو روکنے میںکوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔مٹھی بھر یہودیوں کی خوشنودی کے لئے ہولوکاسٹ کے صیہونی افسانے کو جھٹلانے کو قابلِ سزا جرم قرار دینے والے ان ممالک کو دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات و احساسات اور ان کے ایمان و عقیدت کے مرکز کا احترام کرنے کی فکر نہیں ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی کا کہنا ہے کہ گستاخانہ مہم کی سرپرستی سے ثابت ہو گیا کہ مغربی دنیا اسلام کے خلاف ہے۔
جہاں تک محسن انسانیت، سرکار دوعالم حضرت محمدﷺ کی عظمت، جلالت قدر اور رفعت شان کے حوالے سے مسلمانوں کی عقیدت، محبت اور احساسات کا تعلق ہے اس بارے میں دورائے نہیں ہوسکتیں۔ آج امریکہ دنیا میں جس نیو ورلڈ آرڈر کے نفاذ کے لئے کوشاں ہے وہ دراصل عالمگیر صیہونی حکومت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے جس کے کار پردازوں کو صرف اسلام سے خطرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام مخالف عناصر دلائل کے بجائے ایسے گھناؤنے حربوں اور ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں۔
آزادیٔ اظہار کے نام پر اسلامی نظریہ، نبی مکرمﷺ اور شعائرِ اسلام کے خلاف مغربی دنیا نے جورویہ اختیار کر رکھا ہے اسے ہر گز لائق ستائش قرار نہیں دیا جاسکتا۔آزادیٔ اظہار کے نام پر ایسے اقدامات کرنے، مسلم ممالک کے قدرتی وسائل کو ہڑپ کرنے کے لیے مختلف حیلے بہانوں سے ان پر قبضے کرنے، غیر مسلم ملکوں کو اپنی مسلم اقلیتوں پر ہر قسم کے نظام کی چھوٹ دینے اور ان کی ہر سطح پر مدد کرنے کے بعد داعش، القاعدہ، بوکو حرام اور الشباب ایسے شدّت پسند گروہ پیدا کرنے کا سبب ان مغربی ممالک کے سوا کون ہے؟ پھر انہیں دہشت گرد قرار دے کر مسلم ملکوں کو کون تاراج کررہاہے؟عالمی سطح پر سیاسی استحصال، سماجی تفریق، مذہبی شدت پسندی کے شکار معاشروں میںایسی کسی افتاد پر ان ترقی یافتہ ممالک کو کبھی تشویش نہیں ہوتی۔ حال ہی میں پاکستان میں ایک اسکول کے 136معصوم طلباء کو انتہائی بے رحمی سے مار دیاگیا لیکن ان 40 ملکوں کے سربراہان کو توفیق نہ ہوئی کہ وہ اظہارِ افسوس کرتے۔ اسی طرح کی بزدلی کامظاہرہ اسرائیل نے فلسطین میں نہتے مسلمانوں کے قتلِ عام سے کیا، اسرائیلیوں کا دامن بھی معصوم بچوںکی ایک بڑی تعداد کے خون سے آلودہ ہے۔ نائن الیون پر ساری عالمی برادری واشنگٹن میں اکھٹی ہوگئی اور 44ملکوں نے سارا ملبہ افغانستان پر ڈال کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔
تحفظ ناموسِ رسالتﷺ ایمان کاحصہ ہے، جس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیںکیا جاسکتا، فرانس میں 40سربراہان مملکت جمع ہوسکتے ہیں تو مسلم حکمران حرمتِ رسولﷺ کے لئے مضبوط کردار اداکیوں نہیں کرسکتے؟ اگر یورپ شارلی پیدا کرے گا تو مسلمان مائیں معاذ و معوذ، اور غازی علم الدین پیدا کریں گی‘ اتحاد اُمّت اور تحفظِ حرمت رسولﷺ لازم و ملزوم ہے‘ حرمتِ رسولﷺ واحد مسئلہ ہے جس پر پوری اُمّت کو متحد کیا جاسکتاہے۔
داعش کا معمہ:
داعش اپنے نام کی نسبت سے طرح ایک باقاعدہ ریاست ہے، جس میں حکمرانی اور نظم و نسق کے تقریباً تمام عناصر موجود ہیں۔داعش کی طرف سے جاری کردہ آئندہ پانچ سال کے نقشوں کے مطابق یہ تنظیم اس عرصے میں یورپی ملک اسپین سے لے کر چین تک کو اپنی خلافتی حدود کے زیرِ نگیں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔داعش کے درمیانی اور بالائی سطح کے کمانڈروں کی تعداد لگ بھگ ایک ہزار ہے اور یہ سب ٹیکنیکل، ملٹری اور سیکورٹی امور کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ جب کہ انہیں ان کے عہدوں اور ذمّہ داریوں کے مطابق 300تا 2000امریکی ڈالر ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔تیل کی فروخت سے حاصل شدہ 10تا 30 لاکھ ڈالر کی یومیہ آمدنی بھی داعش کے خزانے میں جمع ہوتی ہے۔ ایک محتاط تخمینے کے مطابق داعش کے خزانوں اور اثاثوں کی مالیت 2ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ چکی ہے، جس میں تیزی سے اور مسلسل اضافہ ہورہاہے۔داعش کی آمدنی کا ایک بڑا حصّہ ان تاریخی نوادرات کی بلیک مارکیٹ میں فروخت سے حاصل ہوتاہے، جو انہیں اپنے زیر قبضہ آثارِ قدیمہ سے مالا مال علاقوں سے ہاتھ لگتے ہیں۔ داعش انہیں فروخت کرکے کروڑوں ڈالر کماتی ہے۔
داعش کی غیر معمولی تیز رفتار پیش رفت کے نتیجے میں دنیا بھر میں اس کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ سے باہر کے ممالک خصوصا مغربی دنیا اس کے متعلق خاصی سطحی معلومات اور خیالات رکھتی ہے۔ داعش نے شام اور عراق میں آناً فاناً کئی بڑے علاقے پر قبضہ کیا ہے اس سلسلے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں کہ داعش کے پیچھے کون سی قوتیں ہیں اور ان کا اصل مقصد کیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی طوفانی پیش رفت کے پیچھے شام اور خاص طور پر عراق میں سنیوںکی بغاوت کار فرما ہے جو صدام حسین کے زوال کے بعد سے اقتدار سے محرومی کا شکار رہے ہیں۔ کچھ دفاعی ماہرین نے یہ رائے ظاہر کی کہ داعش کی کامیابی کے پیچھے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی خفیہ ایجنسیوں کی امداد کار فرما ہے۔ گو بعض حلقوں کی طرف سے یہ دعویٰ کیاگیاکہ داعش کے خلیفہ ابوبکر بغدادی سی آئی اے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے تربیت یافتہ ہیں۔ اس دوران یہ خبر بھی آئی تھی کہ شام میں اسرئیل کے مقبوضہ علاقے جولان کی پہاڑیوں کے آس پاس داعش کے اتحادیوں کو اسرائیلی فوج مدد دے رہی ہیںاور ان تنظیموں کے زخمی فوجیوں کو اسرائیل کے ہسپتالوں میںطبی امداد دی جارہی ہے۔ پچھلے دنوں عراقی فوج نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے موصل سے چار غیر ملکیوں کوگرفتار کیاہے جو داعش کے فوجی مشیر ہیں ان میں تین امریکی اور اسرائیلی اور ایک عرب ہے۔اس خبر کو مغربی میڈیا نے Blackwash کر دیا۔ یہ خاموشی نہایت معنی خیز ہے لیکن یہ عقدہ کھلتا جارہا ہے کہ داعش کے پیچھے کون سی قوتیں کار فرما ہیں۔
داعش کے بار ے میں سوڈان کے صدر عمر البشیر کے تاثرات یہ ہے کہ داعش تنظیم کو امریکہ اور اسرائیل نے مضبوط کیا ہے۔داعش کا سیدھا فائدہ امریکہ اور اسرائیل کو ہی ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش کی قیادت عراقی جیلوں میں پروان چڑھی۔عالمِ اسلام کے معروف دانشوروں کے پاس داعش کے بارے میں تاثرات اچھے نہیں ہیں۔
مصر اور اخوان المسلمون:
انتہا پسندی اور دہشت گردی روکنے کے نام پر مساجد اور دینی مدرسوں کو ٹارگیٹ بنانے کی مہم پورے عالم میں چل پڑی ہے۔ خود ہمارے نام نہاد مسلم ممالک میں بھی یہ کام زور و شور پر ہے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی روکنے کے لئے مساجد پر پابندی لگانا کہاں کی دانش مندی کا مظاہرہ ہے ؟ دراصل مساجد کو اپنے کنٹرولینگ ہاتھوں میں لے کر، ان مساجد میں اپنے سرکاری خطیبوں و اماموں کو تعینات کرکے حکومتیں اور ان کے حواری اس طرح کے جابرانہ اقدام کرکے یہ ثابت کررہے ہیں کہ اصل انتہا پسند اور دہشت گرد یہی لوگ ہیں۔ مثلاً مصر میں دیکھئے اخوان المسلمون کا اثر و رسوخ ختم کرنے کے لئے مصر کے آمر مطلق، صہیونی ریاست نوازجنرل عبد الفتاح سیسی نے 27؍ ہزار مساجد کو تالے لگواکر سیل کر دیا ہے، اس جابرانہ اقدام کا دفاع کرتے ہوئے مصری وزارت ِ مذہبی امور نے کہا کہ چھوٹی مساجد کی بندش کا فیصلہ مصری نوجوانوں کو ’’جنگجوئیت‘ اور ’’انتہا پسندی‘ سے روکنے کے لئے کیا گیا ہے۔
مرسی کے حامیوں کا عدالتی قتل: مصری کٹھ پتلی عدالت کے ذریعے اسلام پسند معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کو سزائے موت کے فیصلے سناکر اسلام پسندوں کو تختہ دار پر جامِ شہادت نوش فرمانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔اسی طرح کی کاروائیاں بنگلہ دیش میں بھی شروع ہیں۔معروف برطانوی قانون دان اور بنگلہ دیش میں جنگی جرائم ٹریبونل کی حیثیت اور فیصلوں کی تحقیقات کرنے والی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے مشترکہ سربراہ نے بنگلہ دیشی حکومت کے قائم کردہ وار کرائم ٹریبونل (War Crime Tribunal) کو غیر قانونی اور انصاف کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔ جنگی جرائم ٹریبونل کے ذریعہ جماعت اسلامی جیسی اسلام پسند تحریک کو target بنا کر ان کے رہنماؤں کو پھانسی اور عمر قید کی سزائیں سنائی جارہی ہیں۔
غلبۂ دین کے پیروکاروں کے لئے دار و رسن کی سعوبتوں کو انگیز کرنے کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔مصری عدالت نے فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیاہے، تو دوسری جانب مصری حکام نے غزہ کو بیرونی دنیا سے ملانے والی رفح کراسنگ کو بند کررکھا ہے۔
’’شیعہ بلاک‘ کے خواب کی تکمیل کے لئے توسیع پسندانہ عزائم:
یمن کی آبادی کا 70فیصد سے زائد حصّہ سنّی مسلک سے تعلق رکھتا ہے اور 25فیصد آبادی زیدی شیعہ پر مشتمل ہیں۔یمن میں انصار اللہ نام کی ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی۔ ابتدا سے اس تنظیم کا مقصد شیعہ عناصر کے حقوق کے لیے جدوجہد کرناتھا۔ اس تنظیم کے بانی حسین بدرالدین الحوثی تھے، اسی کی مناسبت سے یہ تنظیم ’حوثی تحریک‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔گذشتہ ماہ ستمبر میں حوثی تحریک کی جانب سے مسلح کاروائیوں، دارالحکومت پر قبضے اور وزیرِ اعظم کے استعفیٰ نے یمن کا نقشہ ہی بدل دیاہے۔امریکہ اس پوری جنگ میں دنیا کے نئے نقشے کے منصوبے کی تکمیل میںلگا ہواہے۔پوری دنیا اور خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جو بھی غیر معمولی واقعات رونما ہوتے ہیں اُن کی کڑیاں امریکا سے ضرور ملتی ہیں۔ درحقیقت امریکا اپنے عالمی منصوبے کی تکمیل میںسرگرم ہے۔ وہ دنیا میں کہیں بھی اور کسی بھی وجہ سے ہونے والے واقعات کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا فن خوب جانتاہے۔ابھی ابھی تازہ خبر آئی کہ یمن میں 500ملین ڈالر کا امریکی اسلحہ غائب ہوگیا۔ جس کی تصدیق پنٹاگون نے کردی۔ اسلحوں سے لدے کنٹینروں میں چھوٹی بڑی رائفلوں اور گولہ بارود سمیت ہر قسم کے جدید ہتھیار شامل تھے۔
سازشی طاقتیں یمن کو بھی لیبیا اور عراق بنانے پر تل گئی ہیں۔ اب یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ حوثی باغیوں کو امریکہ ہی نے شہ دی ہے اور عجیب بات ہے کہ بظاہر تو ایران اور امریکہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں مگر یمن میں دونوں ہی ایک سطح پر ہیں۔ اسرائیل کو یہ خدشہ ہے کہ اگر یمن پرحوثی شیعہ قابض ہوگئے تو لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ کو تقویت حاصل ہوگی۔ یمن بین الاقوامی طاقتوں کے لیے ایک نیا میدان جنگ بن رہا ہے اور سعودی عرب کے ملوث ہونے سے پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کا بھی امکان ہے۔
عالمی استعمار مشرق وسطیٰ میں اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے شیعہ عناصر کو استعمال کررہاہے۔ ایران، عراق، شام، لیبیا کے بعد اب یمن کو بھی شیعہ ریاست کے طور پر سامنے لاکر خطے میں شیعہ عناصر کے تسلط کو مزید بڑھایا جارہاہے۔ حوثی تحریک کے آغاز سے ہی ایران اس تحریک کی پشت پناہی کرتارہا۔
گذشتہ دنوں ایرانی صدر کے نمائندے (سابق سربراہ انٹلیجنس، موجودہ صدارتی مشیر علی یونشی)نے ایک بیان دیا کہ ’’ اسلام پسندوں اور نئے عثمانیوں سے مقابلہ کریں گے، ترک ہمارے تاریخی مخالف ہیں، پورا مشرقِ وسطیٰ ایران کا ہے، بغداد ماضی اور حال اور ثقافتی تشخص کی علامت ہے۔ یہ بھی اعلان کردیاہے کہ ایران عراق کو اپنا ہی حصّہ سمجھتا ہے اور عراقی دارالحکومت بغداد دراصل عظیم ایران کا دارالحکومت ہے۔ان اعلانات میں وہ اپنے ’ازلی دشمنوں‘ کا تذکرہ بھول گئے، بلکہ انہوں نے اپنے نئے دشمنوں کا تذکرہ کردیا، جس میں اسلامی انتہا پسند، تکفیری، الحاد، نئے عثمانی اور وہابی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران نے ترکی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔شام، یمن اور لیبیا میں ایرانی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ایران اس بات کا برملا اظہار کرتاہے کہ وہ ان ممالک کے شیعہ عناصر کے ساتھ تعاون کررہاہے۔ بشارالاسد کی جانب سے مظالم کی انتہا کے باوجود ایران نے اُس کی صرف شیعہ ہونے کی بنیاد پر حمایت کی اور اُس کی جانب سے ہونے والے قتلِ عام کو جائز قرار دیا۔ شام میں گذشتہ چار برسوں میں خانہ جنگی کرانے اور لاکھوں انسانوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ نے بشارالاسد کی حمایت کا فیصلہ کیاہے۔ بشارالاسد نے اپنی حکومت کو بچانے کے لیے اب تک دو لاکھ سے زائد شہریوں کا قتل عام کیا جن میں اکثریت سنّیوں کی ہے۔ درحقیقت دو لاکھ سے زائد شہریوں کے قاتل شامی صدر بشار الاسد کی حمایت امریکی خارجہ پالیسی کے اس پروگرام کا حصّہ ہے جس کے تحت امریکہ دنیا بھر میں خود بھی مسلمانوں کا بے دریغ قتلِ عام کرتارہاہے اور دوسروں کی جانب سے بھی مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش تماشائی بنا رہتاہے اور ظالموں کی مدد، پشت پناہی میں پیش پیش رہتاہے۔
ایران نے سعودی عرب میں بھی مداخلت کے عزائم ظاہر کر دیئے ہیں۔ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی ساتھی (رکن پارلیمنٹ علی رضا ربانی)نے کہا ہے کہ ’’3 عرب ممالک عراق، شام اور لبنان ہماری جیب میں آچکے ہیں، یمن بھی ہمارے کنٹرول میں آگیاہے، جس کے بعد ہم سعودی عرب کی طرف بڑھیں گے۔ ‘
عالمِ عرب اور خوابِ غفلت:
دوسری جانب سعودی حکومت داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور خطے میں ایران کی مداخلت کے سبب سیکورٹی کے حوالے سے فکر مند ہے اور اس کی کوشش ہے کہ مصر، ترکی اور پاکستان سے مل کر سیکورٹی کے معاملے کو حل کیا جائے۔ اس مقصد کی خاطر سعودی فرمانروا، مصری صدر، ترک صدر سے بھی ملاقات کر چکے ہیں اور وزیرِ اعظم پاکستان کو بھی معمولی پروٹوکول دیا گیاہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سعودی حکومت اس وقت اندرونی اور بیرونی سطح پر خطرات سے دوچارہے۔ ایک طرف عراق کے صوبہ انبار میںداعش کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں اور سعودی سرحد پر حملوں نے پریشانی پیدا کر رکھی ہے تو دوسری جانب یمن میں حوثی قبائل کی شورش پریشان کن ہے۔ تیسری جانب سعودی عرب کے اندر بھی شورش پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جب کہ ان کی سرحد کے ساتھ بھی مسائل موجود ہیں جہاں سے باغی قبائل کا خطرہ پایا جاتا ہے جنہیں امریکی حمایت حاصل ہے۔ سعودی حکمران امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ ایٹمی معاہدہ پر بھی مطمئن نہیں ہیں۔
1948ئ؁ میںفلسطینی عرب سر زمین پر اسرائیل کے نام سے صیہونی ریاست کا قیام اور بعد ازاں اسرائیل کی جانب سے مصر، اردن، لبنان اور شام کے علاقوں پر غاصبانہ قبضے اور اپنی توسیع پسندی کو جاری رکھتے ہوئے خطّے کے عرب مسلمانوں بالخصوص فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کیے جانے سے پورا مشرقِ وسطیٰ ایک غیر یقینی اورعدمِ استحکام کی صورت حال سے دوچار رہاہے۔ اسرائیلی مظالم کے نتیجے میں لاکھوں عرب مسلمان تہہ تیغ ہوچکے ہیں۔ اسرائیل اپنے پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ ساتھ پورے مشرق وسطیٰ بشمول خلیجی ریاستوں کے سر پر ننگی تلوار کی صورت میں لٹک رہاہے۔سعودی عرب چونکہ خطے کے ساتھ ساتھ پورے عالمِ اسلام کا روحانی اور مذہبی مرکز ہے اس لیے سعودی عرب کا خطے کی صورتحال بالخصوص اسرائیل کی توسیع پسندانہ عزائم پر تشویش میں مبتلا ہونا فطری امر ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں سمیت جوہری ٹیکنالوجی کے تناظر میں سعودی عرب کے پاکستان اورجنوبی کوریا سے دفاعی تعاون کی اطلاعات پر امریکہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔دراصل امریکہ دنیا کی واحد سپر پاورہونے کے زعم میں عالمی اور علاقائی سطح پر من مانی اور مداخلت کی پالیسی پر گامزن ہے۔ وہ دنیا کی مختلف اقوام کو کسی نہ کسی انداز میں اپنا دست نگر بنا کر رکھنا چاہتاہے۔ بالخصوص مسلم دنیا کے حوالے سے اس کی حساسیت بڑھ جاتی ہے اور ان کی جانب سے اپنے دفاع کے لئے کیے جانے والے اقدامات بھی اس پر گراں گزرتے ہیں جب کہ اسرائیل کے معاملے میں امریکی پالیسی اس کے برعکس ہے جس کے تحت اسے کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
سعودی عرب سے خوش آئند خبروں کا ایک اچھا سلسلہ بھی چل پڑا ہے عالمی سیاست میں مسلم امّہ کے مفادات کے بارے میں سعودی عربیہ سے آواز اُٹھنی شروع ہوگئی ہے۔سعودیہ نے امریکہ میں 3مسلمانوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اسے بہیمانہ دہشت گردی قرار دیا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی پالیسی میںبنیادی تبدیلی کے اشارے سامنے آرہے ہیں۔سعودی عرب نے حماس سربراہ خالد مشعل کو دورے کی دعوت دیدی۔کیونکہ اب تک سعودی عرب کے پاس اخوان المسلمون اور حماس کے ضمن میں ایک الگ ہی پالیسی تھی۔ شاہ سلمان سے اخوان کے وفد کی ملاقات بھی بہت بڑا اشارہ دے رہی ہے۔
’’ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ مسلمانوں کو اپنی تاریخ میں سب سے بڑا فکری چیلنج یونانی فکر کی صورت میںدر پیش ہوئی۔ اس کے بعد تاتاریوں کی یلغار اور ان کا عسکری غلبہ بھی ایک بڑاچیلنج ہوا تھا۔ اور آج مسلمانوں کو اپنی تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج مغربی تہذیب کی صورت میں در پیش ہے۔ یونانی فکر کا چیلنج صرف فکری چیلنج تھا اور تاتاریوں کا چیلنج صرف عسکری چیلنج تھا، مگر مغربی تہذیب کا چیلنج فکری بھی ہے اور سیاسی بھی، عسکری بھی اور تہذیبی و معاشی بھی ہے۔‘
یہ بات ہر مسلمان کے ذہن میں واضح رہنی چاہئے کہ امریکہ اور یورپ کی عالمی سیاست کا مرکزی نقطہ اسرائیل کا تحفّظ ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جاری عالمی جنگ کا ہدف بھی اسرائیل کا تحفّظ ہے۔ اسرائیل کے بغیر امریکہ اور یورپ مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے مسلم ملکوں پر اپنا تسلط قائم نہیں رکھ سکتے اور مشرقِ وسطیٰ اور عالم اسلام پر سیاسی و غیر سیاسی تسلط کے بغیر کوئی بھی قوم دنیا پراپنی حکمرانی قائم نہیں کرسکتی۔ مغربی تہذیب کے بارے میں شاعر مشرق اور مفکر اسلام علامہ اقبال ؒ نے پیش بینی کردی تھی کہ یہ تہذیب خودکشی کی سفر پر روانہ ہوچکی ہے۔ شاعر مشرق نے ابلیس کی زبان سے یہ بھی کہلوادیا تھا کہ اپنی بے عملی کے باوجود امّت مسلمہ اور ملتِ اسلامیہ شیطان کے بنائے ہوئے تہذیب مغرب کے نظام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ سو اس خطرے سے نمٹنے کے لئے امریکہ اور مغرب نے نیا جابرانہ نظام مسلط کردیاہے۔ مسلمان کے لیے خطرات کبھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مسلمان کبھی بھی خطرات اور مشکلات سے نہیں گھبراتا۔ اس لیے کہ وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ اصل طاقت خالقِ کائنات اور مالکِ کائنات کی ہے‘ جس کی زمین و آسمان پر اصل حکمرانی ہے۔ مسلمان صرف نصرت الٰہی کی طرف دیکھتاہے۔ یہ صرف کیریکٹر کی طاقت ہے جو بڑی سے بڑی مادّی طاقتوں سے مقابلہ کو حوصلہ دیتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے مسلم ممالک کے حکمراں کیریکٹر کی طاقت سے محروم ہیں۔اس لئے ہم مسلمانوں کو اصل خطرہ اس کے حکمرانوں کی اخلاقی کمزوری سے ہے۔
عالمِ اسلام کے ہر ممالک میں اضطراب اور بے چینی، فساد اور انتشار کادور دور ہ ہے۔ عالمِ اسلام کے تمام ممالک دوسری جنگِ عظیم کے بعد بدلنے والی عالمی سیاست کے نتیجے میں سیاسی طور پر آزاد ہوئے۔ اس عرصے میں دنیا بھر میں بظاہر عوام کی نمائندگی ‘ جمہوریت کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کی بنیاد پر نظامِ سیاست قائم کرنے کا دعویٰ کیا گیا‘ لیکن عملاً تقریباً ہر مسلمان ملک جبر و استبداد کی زنجیروں میں جکڑا رہا‘ کہیں شیوخ اور خاندانوں کی حکمرانی تھی‘ کہیں فوجی انقلاب مسلم ممالک کا مقدّر بنا ہواتھا‘ سیاسی قیادت کی حکمرانی نے بھی فاشزم اور جبر و استبداد کی شکل اختیار کی ہوئی تھی۔ کمیونزم کے انہدام اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی سیاست میں تبدیلی واقع ہوئی۔ سرمایہ دارانہ نظام کے امام امریکہ نے یک قطبی سامراجیت کا اعلان کیا۔ اپنی یک قطبی شہنشاہیت کو قائم اور مستحکم کرنے اور قوموں کی آزادی کو کچلنے کے لیے پہلے مرحلے میں عراق پر جنگ خلیج مسلط کی۔ اس کے بعد نائن الیون کے نام پر عالمی “War on Terror” کے نام پر مسلم ممالک کی رہی سہی آزادی بھی غلامی میں بدل گئی۔ اس کے بعد سے سرمایہ دار مغربی سامراج مسلمان آبادی پر دولت ‘ قوت‘ ٹیکنالوجی سمیت ہر اسلحے کے ساتھ حملہ آور ہے۔ اس دوران میں مشرقِ وسطیٰ میں ’’عرب بہار‘ کے نام سے جمہوری آزادیوں کی لہر سامنے آئی لیکن جنرل عبدالفتاح سیسی جیسے فوجی آمروں نے اپنے اپنے ممالک کے پانچویں کالم کی مدد سے سیاسی آزادی ‘ جمہوری اور انسانی حقوق کو ایک بار پھر جبر و استبداد کی غلامی میں جکڑ دیاہے۔
اس وقت اُمّتِ مسلمہ کٹھن دور سے گزر رہی ہے۔ کوئی ایسا ملک نہیں جس سے اُمّت کو اُمید کی کرن نظر آتی ہو۔ اُمّتِ مسلمہ کا ہر ملک اندرونی اور بیرونی خطرات میں گھراہواہے۔ ایسے حالات میں اُمّت کا ہر فرد پریشان اور اپنے رب سے حالات کی بہتری کے لئے دست بہ دعا ہے۔ اس وقت عالمِ اسلام میں سے دو ہی ممالک سامنے نظر آرہے ہیں جوعالمِ اسلام کی قیادت کی اہلیت رکھتے ہیں انہیں بہت کچھ کرنا چاہئے، بہت کم کررہے ہیں۔لیکن ابھی تک ترکی بھی اُمّتِ مسلمہ کی قیادت کرنے کے قابل نہیں ہواہے، پاکستان کو اندرونی و بیرونی معاملات میں اتنا الجھا کررکھا جارہاہے کہ فی الحال پاکستان سے فوراً کسی امید کی آس لگائے بیٹھنا درست نہیں اور سعودی عربیہ کو بہت کچھ کرنا ہوگا۔ لیکن صلاحیت کے اعتبار سے ترکی، پاکستان اور سعودی عرب اولین ممالک نظر آتے ہے جس کی طرف اُمّت دیکھ رہی ہے، انشاء اللہ ! یہ ممالک اگر مل کر لائحہ عمل طے کریں تو یہ اُمّت دوبارہ اپنے منصب پر فائز ہوجائیگی۔
اللہ تعالیٰ کافرمان ہے کہ:
’’یہ زمین میں اور زیادہ استکبار کرنے لگے اور بُری بُری چالیں چلنے لگے، حالانکہ بُری چالیں اپنے حلقے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں۔ اب کیا یہ لوگ اس کا انتظار کررہے ہیں کہ پچھلی قوموں کے ساتھ اللہ کاجو طریقہ رہاہے وہی اِن کے ساتھ بھی برتاجائے، یہی بات ہے توتم اللہ کے طریقے میںہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے اور تم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سنّت کو اس کے مقرر راستے سے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے۔ کیایہ لوگ زمین میں کبھی چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں اُن لوگوں کاانجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان سے بہت زیادہ طاقتور تھے؟ اللہ کو کوئی چیز عاجز کرنے والی نہیں ہے‘ نہ آسمانوں میں اورنہ زمین میں۔ وہ سب کچھ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتاہے۔ اگر کہیںوہ لوگوں کو اُن کے کیے کرتوتوں پر پکڑتا توزمین پر کسی متنفّس کو جیتا نہ چھوڑتا۔مگر وہ انہیں ایک مقرر وقت تک کے لیے مُہلت دے رہاہے۔ پھر جب ان کا وقت آن پُورا ہوگا تو اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا۔ ‘ (سورۃ فاطر: 44-45)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *