ویدک دور میں گوشت خوری اور گئوھتّیا (ریاست مہاراشٹر میں بیف پر لگائی پابندی کے پس منظر میں مرتب شدہ تحریر)

حکومت مہاراشٹر نے 19؍ سال قبل پاس کئے گئے قانون کو صدارتی دستخط کے بعد ریاست میں نافذ کردیا ہے۔اس قانون میں نہ صرف گائے بلکہ اس کے پورے خاندان کی کٹائی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ گو رکھشا ابھیان مذہبی ہے‘ کاروباری ہے یا بابری مسجد کی طرح شردھا کا خیال رکھنا ہے۔ اُسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج جن لوگوں نے گوشت خوری کو بالکل حرام کررکھا ہے وہ خود اپنے سنہری دور میں گائے اور بچھڑوں کے گوشت کے مزے لیتے رہے ہیں۔ آریا ورش کی بات کریں تو وہ تھے ہی گوپالک۔ غذا کے لئے اُسے ہی استعمال کرتے تھے۔ شادی بیاہ رسم و رواج میں عام قاعدہ تھا کہ گایوں اور بچھڑوں کو کاٹ کر دعوتیں کی جاتی تھیں۔ مہمان نوازی کے لئے بہترین گوشت کے سوا اور کیا تھا ان کے پاس۔ ویدوں کا زمانہ حضرت عیسیٰ ؑ سے 1500تا2000 سال قدیم ہے۔ راجہ دشرتھ کے بارے میں آتا ہے کہ و ہ شکار کرتے تھے ایک دن انکے تیر سے شراون کمار کی جان تلف ہوگئی۔ہرنوں کا شکار کر اُسے کھایا جاتاتھا۔ یہ تاریخ تو تحتانیہ کی سطح پر پڑھائی جاتی ہے۔
بن واس میں رام و لکشمن خود شکار کر جانوروں کا گوشت کھاتے تھے اور سیتا کوبھی کھلاتے تھے۔ منوسمرتی میں اس لئے کہاگیا ہے۔’ہر مہینہ جو شرادھ کیا جاتا ہے وہ ایشور وادی کہلاتا ہے۔ اس کو اچھے ماس (گوشت) سے کرنا چاہئے‘۔ (منوسمرتی: 3/123)
٭ سوامی وویکانند نے کہا تھا’آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پراچین کرم کانڈ کے مطابق وہ اچھا ہندو نہیںجو گئوماس نہیں کھاتا اُسے کچھ خاص اوسروں پر بیل کی بلی دیکر ماس اوشیہ کھانا چاہئے‘۔ (The Complete work of Swami Vivekanand Vol:3, Page 536)
اس سے بھی آگے سوامی جی فرماتے ہیں کہ ’بھارت میں ایک سمئے ایسا بھی رہا ہے کہ جب بناگو ماس کھائے کو ئی برہمن‘ برہمن نہیں رہ سکتا تھا‘۔ (Page 174)
ڈاکٹر وی۔ ایم آپٹے کا خیال ہے کہ جوانہوں نے اپنی کتاب میں صاف طور پر تحریر کیا ہے۔ ’ رگ وید کے ایک سوکت (10/85) سے جسے ووھا سوکت کہتے ہیں‘ شادی کے اہم رسم و رواج کا پتہ چلتاہے‘ دُلھا اور بارات دُلھن کے گھر جاتے تھے (10/17/1) وہاں دُلھن بارات کے ساتھ مل کرکھانا کھاتی تھی۔ مہمانوں کو اس اوسر پر ماری گئی گائیوں کا ماس پروسا جاتا تھا‘(10/85/13)۔
٭ ویدک انڈکس کی جلد نمبر ۲؎ صفحہ 145سے معلوم ہوتا ہے، ووھا سنسکار کے سمئے بھوجن کے لئے گائیں ماری جاتی تھیں‘۔
بنارس ہندو یونیوورسٹی میں موجود ویدک کوش (page:374) میں رگ وید کے دشم منڈل کے 85 ویں سوکت کے 13 ویں منتر کا حوالہ دیا گیا ہے۔ شادی بیاہ کی رسم و رواج میں مہمانوں کی تواضع کے لئے گوشت کا اہتمام ویدک زمانے کا خاصہ رہا ہے۔ مہمانوں سے قبل کھانے پینے کو اخلاقی اعتبار سے اچھا نہیں سمجھا جاتاتھا۔ منوسمرتی میں ہے کہ ’یہ جو گائے کا دودھ اور گوشت ہے یہ زیادہ لذید ہوتا ہے اُسے مہمانوں سے پہلے نہ کھائے‘(39/6/9)۔ خوشی کے مواقع ہی نہیں بلکہ غم کے لمحات میں بھی گوشت کی ضرورت ویدک زمانے کا خاص وصف ہے۔ آخری رسومات میں شودھا کے لئے بھی گوودھ کیا جاتا تھا اس لئے کہاگیا ’اگنیرورم پری گو بھی وریسّو سے پرنوشوّ پسوا مید ساچے‘ (رگ وید 10/16/7)۔ انتم سنسکار کے پرسنگ میں گوودھ اوّشیک جان پڑتا ہے۔ یہاں اس کے ماس سے شوؤ (لاش)کو ڈھکنے کا وُللیکھ آتا ہے۔
٭ شری موکندی لعل نے اپنی کتاب “Cow Slauter- Honour of dilema” میں یہ بات کہی ہے ’پراچین بھارت میں سمارھوں میں گائیوں کو مارنا شوبھ مانا جاتاتھا۔ دلھا دلھن ویدی کے سامنے لعل بیل کی کچّی کھال پر بیٹھتے تھے۔ وے کھال اس اؤسر پرمارے گئے بیل کی ہی ہوتی تھی۔ جسے اس اؤسر پر کھانے کے لئے مارا جاتاتھا۔ ایسے ہی راجیہ ابھیشیک کے سمئے بھاوی راجہ کو لعل بیل کی کھال پر بٹھایا جاتا تھا۔اناج کے حصول کے لئے یگیہ کئے جاتے تھے ان میں اندر کے لئے بیل پکائے جاتے تھے۔ یہ رگ وید سے معلوم ہوتاہے۔
’اندھری ناتھے منی دَن اِندر تو یانتا سُنوتی سو مانوپی وستوّ
میشام پنچ نیتے تے ونشّبھا اتس تیثہ پُر کھشن ینمدھون ہوتی مان ‘
(رگ وید: 10/28/3)
ہے اندر اَنّ کامنا سے جس سمئے تمہارے لئے ھوّن کیا جاتا ہے اس سمئے یجمان جلدی جلدی پتھر کے ٹکڑوں پر سوم رس تیار کرتے ہیں اُسے تم پیتے ہو‘ یجمان بیل پکاتے ہیں‘ تم انہیں کھاتے ہو‘۔
٭ ویدک لٹریچر میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے’گودھن‘ جس کے معنی پراچین کال میں ’گائے کو مارنے والا‘ لیا جاتا تھا لیکن پانچویں صدی عیسوی سے گودھن کے معنی گائیوں کو پالنے والا‘ لیا جاتاہے۔ اس تبدیلی کی بھی ایک وجہ ہے۔ مہابھارت کے کال میںراجہ رنتی دیو کی رسوئی کے لئے روزانہ دوہزار پشو کاٹے جاتے تھے‘ پرتی دن دو ہزار گائیں کاٹی جاتی تھیں۔ اَنَ کے ساتھ ماس کا دان کرنے سے راجہ کی مقبولیت بہت تھی۔ (مہابھارت۔578)
٭ شانتی پرو 29کی 179 اشلوک کے مطابق رنتی دیو کے گھر مہمان آئے اس نے 20100 گائیں کاٹی اور ان کی ضیافت کی۔ مہابھارت ہی کے ادھیائے 29 اشلوک 123 سے معلوم ہوتاہے کہ کاٹی گئیں گائیوں کی کھالوں سے رس کر خون بہہ نکلا اور ایک مہاندی کا روپ دھار لیا۔ وے ندی چرمن وتی(charmanwati) کہلائی جسے آج لوگ چمبل کہتے ہیں۔
٭ رگ وید میں راجہ دیوداس کا نام مشہور ہے جس کے لئے اتی تھی گو(Atithigav) ’اتی تھی کے لئے گو مارنے والا‘ مہمانوں کے لئے گائیوں کو کانٹنے والا کہا جاتاتھا۔ یجروید میں گائے کی چربی سے اجداد کو آسودگی ملنے کا بیان ہے (یجروید ادھیائے 35: منتر 20)۔ شتپاتھ برہمان 3/4/1/2 اتی تھی (مہمان) کے لئے مھوکش (بڑا بیل)مارنا چاہئے کہاگیاہے گائے یا بیل میں کیسے کھانا چاہئے ’دونوں میں سے جونرم ہو اُسے کھانا چاہئے‘(شتپاتھ برہمان)
سوامی وویکانند سے کسی نے پوچھا کہ بھارت ورش کا سب سے سورن کال کونسا تھا انہوں نے جواب میں کہا ’ویدک یگ سورن یگ تھا جب پانچ برہمن ایک گائے چٹ کرجاتے تھے‘۔ (Vivekanand A – Biography)۔
٭ اپنشدوں میں خاص کر (برہدا کونپشید 6/4/18 کہا گیا ہے۔ ’جو یہ چاہے کہ میرا بیٹا (پتر) سبھاؤں میں واگمی (فصیح اللسیان) اور سب ویدوں میں پارنگت ہوتھتا شتایوں ھو اُسے چاہئے کہ وہ اور اس کی پتنی بیل و سانڈ کا ماس پکا کر گھی اور بھات ملا کر کھائے‘۔اس اشلوک میں ایک لفظ وکشا ہے جس کی ترجمانی ادی شنکر آچاریہ کو چی ’ویر سیچن میں سمرت بیل‘ کا ماس لیا ہے۔ جب کوئی برہمن گھر آئے اس کا میدوپرک سے سمّان کرنا چاہئے۔ میدوپرک داتا گائے اس کے سمکش کرے یدی وہ آگیّا دے تو Gao Rassiya Pahatpa اتیادی منتر پڑھکر اُسے مار کر آگنیتک کو دے۔
٭ ’اتر رام چترم ‘ میں لکھا ہے کہ بھوبھوتی جب والمیکی کے آشرم میں پہنچے تو ان کا ستیکار دو برس کی بچھیا کاماس کھلا کر کیا گیا۔ اسی دوران کسی طالب علم نے کہا کہ اس نے توپوری بچھیا چٹ کر ڈالی۔ اسی پر کہا گیا کہ ’میدوپرک ماس یوکت ہونا چاہئے‘ اس لئے اتی تھی(مہمان) کے لئے گائے‘ بیل‘ بکرا کا پراودھان رکھا گیا۔
مندرجہ بالا سطور سے جو نقشہ سامنے آتا ہے وہ یہ کہ جانوروں کو مار کر کھانے کا عام رواج تھا بالخصوص گائے اور بیلوں سے ضیافتیں ہوا کرتی تھیں۔ گائے سے ہمدردی و اُسے بچانے کے لئے رگ وید کا سہارا لیا جاتاہے جس میں یہ کہاگیا ’یہ گائے دونوں اشونی کماروں کے لئے دودھ دیتی ہے۔ یہ ہماراسوبھاگیہ بڑھائے یہ مارنے کے لئے نہیں ہے‘ (رگ وید 27/146/1) یہاں خاص گائے کو نہ مارنے کا ذکر ہے نہ کہ ہر گائے کے ذبیحہ سے روکا گیاہے۔
اس کو بنیاد بناکر پانچویں صدی عیسویٰ میں گودھن غلط قرار دیاگیا اور اگر ڈاکٹر بھیم راؤ امیڈکر کی بات کو مانے تو انہوں نے کہا ہے ’یہ برہمنوں کی جنگی چال کا حصّہ ہے کہ وہ گوشت خور بننے کے بجائے گائے کے پجاری بن گئے۔ بدھشٹ اور برہمنوں کے بیچ 400؍سالہ لڑائی میں یہ راز پنہاں ہے۔ بدھشٹ رحم کے جذبے کولے کر اپنی تعلیمات آگے بڑھارہے تھے‘ ان سے آگے بازی لے جاکر یہ لڑائی برہمنوں نے جیت لی‘ (Dr. Ambedkar – The untachable)
دنیا کی 80% آبادی گوشت خور ہے جانوروں ‘ سمندری مچھلیوں سے اپنی غذا حاصل کرتی ہیں۔ بھارت میں بھی بڑی آبادی گوشت خور ہے بلکہ گوونش کو کھانے والی ہے۔مسلمانوں کے علاوہ عیسائی ‘ بدھشٹ‘ نیپالی‘ گورکھے‘ بنواسی‘ گونڈ‘ بھیل‘ پارسی ‘ ہریجن اور ساؤتھ انڈین ہندو۔ اس کے علاوہ بڑے کا گوشت پر ہی سرکس کے جانوروںاور zoo کے جانوروں کا دارومدار منحصر ہے۔
صرف بمبئی کی 3 تا 5 ستارہ ہوٹلوں میں 90ہزار کلو گوشت (بیف) کی کھپت ہے۔ بھارت دنیا کا دوسرے نمبر والا ملک ہے جہاں سے گوشت باہر بھیجا جاتا ہے۔ گوشت کی برآمد کرنے والی کمپنیوں کو حکومت نے 12 طریقوں سے سبسیڈی دے رکھی ہے۔ بھارت سالانہ 22.5 ؍لاکھ ٹن گوشت باہری ممالک برآمد کرتاہے۔ جس سے اربوں ڈالر کا کاروبار کیا جاتاہے۔
ذبیحہ کئے گئے جانوروں کی چربی بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑی لاگت کا خام مال ہے۔ خون کو دواؤں میں استعمال کئے جانے کی بات معلوم ہوئی ہے۔ اس کی ہڈیوں سے شکر‘ جلیٹین (کپسول) اور دوائیں بنائی جاتی ہیں۔ سینگ و کھر سے کپڑوں کے بٹن بنانے کی گھریلو انڈسٹریز چل رہی ہیں۔ چمڑا سب سے اہم عنصر ہے۔ صرف مہاراشٹر سے 20؍ لاکھ چمڑے سالانہ تمل ناڈو جاتے ہیں اور تمل ناڈو میں وہ 40% ہی ہوتے ہیں۔ چمڑے کا بیوپار 12؍ ارب ڈالر سالانہ کا بتلایا جاتاہے جو تقریباً 754 ؍ارب روپئے بنتاہے۔
مہاراشٹر میں 338 ذبیحہ خانے ہیں ان سے متعلق مزدور و اسٹاف سب کی بے روزگاری کا مسئلہ ‘ زندہ جانوروں کی دیکھ بھال کے لئے جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے اس کا سالانہ خرچ 13000 ؍کروڑ تک جا پہنچتا ہے۔ بنگال کے ایک سروے کے مطابق سالانہ 25 ؍لاکھ گائیں بنگلہ دیش سرحد سے بھگادی جاتی ہیں۔ VHP کے بقول ملک میں روزانہ 50؍ ہزار گائیں کاٹی جاتی ہیں۔ اگر انہیں روک لیا گیا تو ان کاپالن و پوسن اربوں کھربوں روپیوں کی لاگت کا ہوگا۔ جس ملک میں چارے کا قحط ہو‘ پانی انسانوں کو ہفتے میں ایک مرتبہ مل رہا ہو۔ بھلاوہاں کیا جانوروں کی زندگیاں ‘ انسانوں سے بھی بڑھ جائیں گی؟
ایک اور مسئلہ جسے ہمیں سمجھنا چاہئے وہ یہ کہ گوشت ‘چمڑے‘ ہڈی کا مسئلہ چھوڑئیے۔ اللہ نے جس چیز کو حلال ٹھہرایا ہو اُسے ہم کیسے حرام تسلیم کرلیں۔ پیغمبروں کو بھی حلت و حرمت کا حق نہیں دیا گیا تھا۔ یہ حق ہم کیسے حکومت کو دیدیں۔ عیدالاضحی کا موقع اصل امتحان کا ہوگا۔ ایمانی قوت حلّت کو برقرار رکھتی ہے یا مصلحت حرمت کا دامن تھام لیتی ہے۔ رخصت و عزیمت کی راہوں کا فرق ہمیں محسوس کرنا چاہئے۔
اس موقع سے اس حدیث کو عام کیا جارہا ہے کہ ’گائے کے دودھ میں شفا ہے‘ اس کے گھی میں دوا ہے اور اس کے گوشت میں بیماری ہے‘۔ علّامہ ناصر الدین البانی نے اسے صحیح کہا ہے لیکن اپنا نوٹ بھی چڑھایا کہ کثرت ِ استعمال سے بیماری ہوسکتی ہے۔ کسی بھی چیز کی کثرت نقصان دہ ہوتی ہے‘ یہ ایک اصول ہے جسے مانا گیاہے۔
وصیت جو بابرنے ہمایوں کوکی تھی کہ یہاں کے عوام کا خیال رکھتے ہوئے گائے کے ذبیحہ سے بچا جائے۔ یہ ایک سیاسی حکمت عملی تھی، اس وقت کے علماء ومشہور اکابرین نے اس کی مخالفت کی تھی۔ حکومت کا دورخاپن تو یہ ہے کہ مہاراشٹر سمیت 24؍ ریاستوں میں بیف پر پابندی لگادی ہے لیکن اس کی اپنی ایک ریاست گوا بھی ہے وہاں اُسے آزاد رکھا ہے۔ مسئلہ کیا ہے؟ سیاسی ہے‘ مذہبی ہے یا صرف ایک فرقہ کو ذہنی الجھنوں میں مبتلا کرنا ہے۔
نوٹ:۔ (اس مضمون کی تیاری میں منوسمرتی‘ والمیکی رامائن‘ رام چرتر مانس‘ گائے کا قاتل کون (عبد الکریم پاریکھ)‘ گوشت خوری(محمد فاروق خان)‘ گوشت خوری (ڈاکٹر ذاکر نائیک)‘ ماہوار سریتا‘Vivekanand – A Biography ‘ڈاکٹر امبیڈکر ‘ حکومت مہاراشٹر کا جی آر اور اخبارات سے مدد لی گئی۔)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *