کامران

حضور ؐایک منٹ کے لیے ٹھٹک کر رک گئے۔ سعدؓ بن الاسود چلے آرہے تھے۔ چہرے سے ہی معلوم ہو رہا تھا کہ بڑے پریشان پریشان ہیں۔بہت اداس سے لگ رہے تھے۔ شاید کوئی درخواست کرنا چاہتے ہیں۔ سیاہ فام سعدؓ بن الاسود یوں تو دیکھنے میں کالے تھے۔ لیکن اندر سے بے انتہا خوبصورت تھے، اسلام پر جان چھڑکنے والے۔ خدا اور اس کے رسولؐ سے بے پناہ پیار کرنے والے۔ اسی لیے تو ان کے سیاہ فام چہرے پر بھی حضورؐ کو بے پناہ پیار آتا تھا۔ دیکھتے ہی مسکرا اٹھتے تھے۔
’کیا بات ہے سعد؟ حضورؐ نے سلام کا جواب دیتے ہی پوچھا۔ بہت پریشان سے لگ رہے ہو کیا کوئی خاص بات؟ ’ہاں حضورؐ۔۔۔۔۔۔۔۔‘سعدؓ نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔’تنہا زندگی گذارتے گذارتے دل اوب گیا ہے۔ میرا کوئی ہے ہی نہیں جسے میں اپنا کہہ سکوں۔۔۔۔جس کے ساتھ کچھ دیر ہنس بول سکوں۔ میں شادی کا خواہش مند ہوں۔۔۔۔مگر مجھے کوئی لڑکی ہی نہیں دیتا میں بہت بدصورت ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔میری صورت دیکھ کر ہی لوگ صاف انکار کر دیتے ہیں۔‘
’مگر اللہ کے نزدیک تو تم بدصورت نہیں ہوسعد۔‘حضورؐ نے سعد کو دلاسا دیا۔’ تمہیں دلہن کی تلاش ہے نا۔۔۔۔جاؤ قبیلہ ثقیف کے سردار عمروؓ ابن وہب کے پاس چلے جاؤ— ان کی ایک بہت حسین اور سمجھ دار لڑکی ہے میرا خیال ہے وہاں تمہاری آرزو پوری ہوجائے گی۔‘
کیا واقعی عمرؓو ابن وہب مجھ جیسے بدصورت انسان کو اپنے داماد کی حیثیت سے قبول کر لیں گے!؟ وہ جو قبیلہ ثقیف کے سردار ہیں، اپنی حسین اور خاندانی بیٹی کا ہاتھ کسی بڑے سردار کے ہاتھ میںدینے کے بجائے مجھ جیسے معمولی اور گمنام انسان کو دینا گوارا کر لیں گے۔
سعدؓ کو یقین نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن حضورؐ کے ارشاد کی تعمیل میں وہ عمرؓو ابن وہب کے گھر کی طرف چل دیئے۔
ایک سیاہ فام نوجوان عمرؓو ابن وہب کا دروازہ کھٹکھٹارہا تھا۔ عمرؓو نے جھانک کر دیکھا کتنا بدصورت تھا جیسے کوئی سیاہ فام حبشی ہو۔۔۔۔۔کیوں آیا ہے یہ میرے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔عمرؓو ابن وہب اکتائے ہوئے دروازے کی طرف بڑھے۔
’کیا بات ہے بھائی؟‘عمرؓو ابن وہب نے ان سے پوچھا۔
’ میں سعد ہوں۔ سعد الاسود۔حضورؐ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔‘سعدؓ بتانے لگے۔
’کیوں؟ حضورؐ نے کیوں بھیجا ہے تمہیں میرے پاس‘
’میں نے حضورؐ سے شادی کے لیے خواہش ظاہر کی تھی۔‘
’کیا حضورؐ تمہیں میری لڑکی کے لیے بھیج سکتے ہیں۔ مجھے یقین نہیں آتا۔۔۔۔جاؤ سعد ! تم میری لڑکی کے قابل نہیں ہو۔ تمہیں معلوم نہیں وہ قبیلہ ثقیف کی سب سے حسین لڑکی ہے۔کیا مخمل میں ٹاٹ کا پیوند لگ سکتا ہے۔ نہیں سعد بالکل نہیں۔‘
مایوس اور دل گرفتہ سعد واپس لوٹ گئے کیونکہ آخر وہی ہوا جس کا انہیں یقین تھا۔ بدصورت اور سیاہ فام سعد کو کوئی بھی اپنی لڑکی نہیں دے گا۔ وہ تو اپنی تنہائیوں میں گھٹ گھٹ کر یوں ہی مر جائے گا۔
اپنی کمتری کے احساس سے ان کا دل بھر آیا۔مرے مرے قدموں سے وہ گھر واپس جانے لگے۔ تب ہی راستہ پر جیسے کوئی حسین چاند چمک گیا ہو۔
ایک بہت ہی حسین وجمیل لڑکی راستہ پر کھڑی تھی جس کے چہرے پرجیسے روشنیاں قربان ہو رہی تھیں، ماتھے پرپسینے کے قطرے اس طرح لرز رہے تھے، جیسے پھولوں پر شبنم تھر تھراتی ہے۔ اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے وہ چھپا چھپ سعد کو دیکھ رہی تھی۔
’تم کون ہو اجنبی نوجوان۔‘ لڑکی ہمدردی بھرے لہجے میں پوچھ رہی تھی۔کیا واقعی تمہیں حضورؐ نے میرے باپ کے پاس بھیجا تھا۔۔۔۔۔۔ ’کون ہیں آپ۔۔۔۔؟‘سعد مسحور سے ہوگئے۔
’میں ثقیف کے سردار کی بیٹی ہوں جس کا ہاتھ مانگنے حضورؐ نے آپ کو بھیجا ہے۔ اگر واقعی آپ کو حضورؐ نے بھیجا ہے تو میں حضورؐ کے حکم کے آگے سر جھکاتی ہوں۔آپ چلئے میرے ساتھ۔۔۔۔۔‘
کہاں۔۔۔۔۔۔؟سعد کو یقین نہ آرہاتھا۔ ’میرے ساتھ۔ میرے گھر۔ میرے باپ کے پاس۔‘
جیسے کوئی حور زمین پر اتر آئی اور اس کے ہونٹوں سے پھول جھڑ رہے تھے۔ سعد چپ چاپ پھر عمروؓبن وہب کے پاس جانے کے لیے چل دئیے۔
’کیا بات ہے۔۔ بھئی۔۔۔! تم اس نوجوان کو واپس کیوں لے آئیں۔‘ باپ نے حیرانی سے پوچھا۔
’ابو۔ میرے پیارے ابو۔۔۔۔۔۔اگر ان کو حضورؐ نے بھیجا ہے تو یہاں سے اس طرح خالی ہاتھ نہ جانے دیجئے۔ ان کارشتہ منظور کرلیجئے ابو۔۔۔۔۔حضورؐ کی بات مت ٹالئے ابو۔۔۔‘
ٹھیک ہے سعد۔۔۔۔۔مجھے تمہارارشتہ منظور ہے۔جاؤ تیاری کرو۔۔۔‘عمرؓوبن وہب اس سے زیادہ ایک لفظ بھی نہ کہہ سکے۔ اور عشق رسولؐ سے سرشار اپنی بیٹی کو دیکھتے رہ گئے اور سعد ابن الاسود اپنی خوش قسمتی پرناز کرتے خوش خوش بازار کی طرف چل دئیے۔ انہیں اپنی شادی کے لیے ضروری سامان خریدنا تھا۔۔۔۔اپنے لیے اور اپنی حور جیسی دلہن کے لیے۔
آنکھوں میںہزاروں ارمان سجائے اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کے دیپ جلائے جب سعد الاسود بازار میں داخل ہوئے تو انہیں بازار میں ایک عجیب سی ہلچل دکھائی دی۔۔۔۔۔۔دکانیں بند ہو رہی تھیں اور کوئی اعلان کر نے والا پکارتا جارہا تھا۔
’یا عباد اللہ۔۔۔۔۔یا عباد اللہ! اے اللہ کے بندو! جہاد کے لیے کمر باندھ لو۔احد میںایک زبردست معرکہ درپیش ہے کوئی بھی گھر بیٹھا نہ رہے۔ یا عباد اللہ۔یا عباد اللہ۔۔۔۔ تیار تیار!!
سعدؓ بھول گئے سب کچھ۔۔۔۔۔۔ بھول گئے کہ وہ احساس کمتری کے بوجھ میں کراہتے ہوئے ایک شخص ہیں ایک انتہائی بدصورت شخص ہیں۔ جسے کوئی اپنی بیٹی دیناگوارا نہیں کرتا تھا اور آج خوش قسمتی کے سورج نے پہلی بار ان کی طرف جھانکا تھا۔ ایک ایسا پاکیزہ وجود ان کا شریک حیات بننے والا تھاجس کی مسکراہٹ ہی ہزاروں زخموں کا مرہم تھی۔ وہ بھول گئے کہ اس بستی کا سب سے حسین وجود اپنی شرمیلی پلکیں جھکائے ان کی راہ تک رہا ہے۔
سعد کو کچھ بھی یادنہ رہا۔سوائے اسکے کہ وہ اسلام کے سپاہی ہیںاور انہیں آج اس کے لیے اپنے آپ کو نذر کرنا ہے۔
شادی کے سامان کی جگہ انہوں نے جہاد کا سامان خرید لیا۔ عروسی کپڑے انہوں نے پہن لیے تھے۔ سعد نے انہیں کپڑوں پر ہتھیار سجالیے اور میدان جنگ میں جانے والے قافلے میں بھرتی ہو کر وہیں سے محاذ پر چلے گئے۔
قبیلۂ ثقیف کی حسین بیٹی ان کی راہ تکتی رہی اور احد کے میدان میں وہ اپنے جوہر دکھاتے رہے۔
سر پر خوبصورت عمامہ باندھے، بہترین لباس پہنے ہوئے سعدؓ کو کوئی بھی نہ پہچان سکا۔ حتی کہ حضورؐ بھی۔۔۔۔۔۔ وہ تو سمجھ رہے تھے کہ سعد اپنی شادی کے انتظامات میں مصروف ہوں گے۔
اور اسی وقت آپ کی نظر خوبصورت عمامہ والے نوجوان پر پڑی۔
یہ نوجوان بڑا ہی جی دار ہے! کون ہے یہ نوجوان؟
جسے اپنی جان کی بالکل بھی پرواہ نہیں۔! پلٹ پلٹ کر شاہین کی طرح کافروں پر جھپٹ رہاہے۔ اپنے ہی خون میں نہاتا جارہاہے۔ مگر اسے کوئی بھی پرواہ نہیں۔ ! اور پھر لڑائی کے دوران کسی کافر کی تلوار اس جی دار کی آستین چاک کرتی ہوئی گذر گئی۔ ایک سیاہ بازو نمودار ہوگیا۔ اور حضورؐ کے چہرے مبارک پر تحیر کے آثار نمایاں ہوگئے۔ ’ارے یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو سعدؓ ہیں!‘
’سعد۔۔۔۔سعد۔۔۔۔تم یہاں کہاں؟‘ حضورؐنے پکار پکار کر آوازیں دیں لیکن سعدؓ سن نہ سکے۔ جہاد کی دھن میںوہ صرف آگے کو دیکھ رہے تھے پیچھے کی آوازیں سننے کا انہیں ہوش ہی کہاں تھا۔
جنگ نمٹ جانے کے بعد حضورؐ تھوڑی دیر کے لیے میدان میں آئے تھے۔
حضورؐکے جاں نثارساتھی پھولوں کی طرح مسلے پڑے تھے۔
دس بارہ سال کی محنت سے لگایا ہوا حضورؐ کا سارا چمن اجڑ گیاتھا۔
چلتے چلتے حضورؐ ایک لاش کے پاس رک گئے۔ جھک کر غور سے دیکھتے رہے۔۔۔۔۔۔اور پھر دھیرے سے بیٹھ گئے۔ لاش کا سر اٹھا کر آپؐ نے اپنی گود میں رکھ لیا۔
زندگی کی کوئی حرارت بھی اب سعد میں نہ تھی۔ سینکڑوں زخموں سے چور ہو کر وہ اپنے خدا کے حضور میں پہنچ گئے تھے۔
زندگی کی ساری محرومیوں کا خاتمہ ہو گیا تھا۔! اب کبھی وہ تنہا نہیں رہیں گے۔۔۔!
حضورؐ نے آنکھیں اوپر اٹھا کر دیکھا۔ آپ کی آنکھوں میں آنسوؤں کے موتی جھلملا رہے تھے اور آپؐ فرماتے جارہے تھے:
’لوگو! خدا نے سعد الاسود کو قبیلہ ثقیف کی بیٹی سے کہیں زیادہ خوبصورت دلہن عطا فرمادی ہے۔۔۔۔‘
(ماخوذ اُجالوں کا قافلہ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *