ہندو راشٹر ناقابل تسلیم۔(۳)

عنوانِ بالا کے تحت ہم حسب ذیل نکات پر قارئین کی توجہ مبذول کرا چکے ہیں۔
یہ کہ سابقہ پارلیمانی انتخابات (دسمبر ۲۰۱۴ئ) کے بعد برسرِ اقتدار آنے والے عناصر اپنے مخصوص ذہن کے تحت ملک کے سیاسی مستقبل کی جس طرح تشکیل کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے مذہبی آزادی، بنیادی حقوق، شہریوں کی مساوی حیثیت، ملک کا نظامِ عدل و قانون اور دستورِ مملکت سب کچھ تبدیل کرنے کے لئے آمادہ و تیار ہیں۔ اور انہوں نے اس سلسلے میں ابتدائی اقدامات بھی شروع کر دئیے ہیں۔ ان کا تصور قوم پرستی جارحانہ ہے۔ اہل ملک کے درمیان وہ نفرت اور تعصب بے جا کی ایسی دیواریں کھڑی کر رہے ہیں جن کے ہوتے ہوئے فرقہ وارانہ تعلقات، باہمی ہمدردی اور تعاون خیر سگالی کے امکانات معدوم ہوکر رہ جائیں گے۔
بیسویں صدی کے وسط میں انگریزوں کی دو صد سالہ سیاسی غلامی سے تو نجات مل گئی مگر اس ذہنیت کے نتیجہ میں ملک کی تقسیم بھی عمل میں آئی، جس کی تلخ اور المناک تفصیلات ابھی تک فراموش نہیں کی جاسکیں۔ بلکہ اس کے اثرات بھی باقی ہیں۔ ظاہر ہے جب ملک تقسیم ہوا تو اس سے پہلے فرقہ وارانہ تعلقات خراب ہوئے نفرت و تعصب بے جا کی فضا طاری ہوئی اور اعتماد و خیر سگالی کا فقدان ہوا۔ اگرچہ اس کا ذمہ دار کسی ایک قوم یا فرقہ کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا البتہ راست انداز میں تقسیم ملک کی ذمہ داری ان افراد اور سیاسی پارٹیوں (کانگریس و مسلم لیگ وغیرہ )کے لیڈروں اور انگریزی حکومت پر ہی ڈالی جاسکتی ہے۔ یاد رہے کہ ملک کی تقسیم کسی استصواب عام یا انتخاب کے ذریعہ عمل میں نہیں آئی بلکہ یہ سیاسی لیڈروں کے مابین طویل مکالموں اور مباحثوں اور حکومت برطانیہ کی ’تقسیم کرو اور حکومت کرو ‘کی پالیسی کا نتیجہ تھا۔ جس پر متعلقہ فریقوں نے رضا مندی دے دی تھی۔
ہندو راشٹر کا نعرہ لگانے والوں کا تصور قوم پرستی ایک جارحانہ تصور ہے۔ جس میں ہندوؤں کو واحد قوم قرار دینے کا مہمل دعویٰ شامل ہے۔ نہ صرف یہ کہ ہندوؤں کے ایک قوم ہونے کا تصور ہی اختراعی تصور ہے جس کی کوئی مثال یہاں کی مذہبی کتابوں میں مفقود ہے، جس طرح ہندو مذہب کا تصور مفقود ہے۔ جسے جنگ آزادی کے موقع پر ایک مخصوص ذہن کے لوگوں نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے مفید مطلب سمجھتے ہوئے ایجاد کیا تھا اور منصوبہ بندی کے ساتھ اس کی تجدید واشاعت کے لئے پورا زور بھی لگا دیا۔ اس دوڑ دھوپ میں انگریز سرکار کی حمایت بھی شامل رہی۔
قوم پرستی کی بنیاد پر قائم ہونے والی ہر تحریک اپنا کوئی مد مقابل یا حریف بھی متعین کرتی ہے۔ اس کے لئے ہندو قوم پرستی کے دعویداروں نے بھارت کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو اپنا دشمن باور کرایا۔ انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کی لڑائی میں ملک کے مختلف فرقوں اور قوموں کا کردار رہا ہے اور آزادی کی جدو جہد میں مختلف عوامل کا رفرمارہے ہیں۔ کسی ایک کے سر پر حصول آزادی کا سہرا باندھنا بجائے خود غلط اور خلاف حقیقت ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس دور میں ہندو قوم پرست کے پھلنے پھولنے کے زیادہ مواقع میسر نہیں آسکے۔ مسلمانوں کے جذبۂ جہاد اور وطنی قومیت کے تصور کا اس وقت کی سیاسی کشمکش میں اپنا اہم کردار رہا ہے اور ملک کی تقسیم ایک آخری متبادل کے طور پر سامنے آئی۔ آزادی کے بعد جدید ہندوستان (بھارت) کی تشکیل ایک وفاقی اور جمہوری دستور کے تحت وجود میں آئی۔ جس میں بلا امتیاز ملک کاہر شہری مساوی حیثیت اور یکساں حقوق و اختیارات کا حامل قرار دیا گیا۔ نیز مذہب، نسل، زبان اور علاقہ کی بنیاد پر کسی تفریق و امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ مزید برآں اقلیتوں کے حقوق کے زیر عنوان مزید تحفظات بھی فراہم کئے گئے۔ عملاً جو کچھ بھی ہوتا رہا ہو مگر جب بھی مخالف سمت میں کوئی قدم رکھا گیا اس پر صدائے احتجاج بھی بلند ہوتی رہی۔
ہندو راشٹر کے دعویداروں کو اپنے ارادوں کی تکمیل کے لئے کو ئی عقلی دلیل اور دستوری جواز حاصل نہیں ہے۔ اسی لئے انہوں نے زور زبردستی، تعصب بے جا اور نفرتوں کے ہتھیاروں کا استعمال کر رکھا ہے جس کا پہلا نشانہ اس شخص کو بننا پڑا جسے بابائے قوم اور جنگ آزادی کے ہیرو کا مرتبہ دیا گیا ہے۔ سالِ گذشتہ کے پارلیمانی انتخاب کے بعد ان کو زیادہ طاقت مل گئی۔ جس میں ان کی خوبیوں کے بجائے دوسری سیاسی پارٹیوں کی خامیوں، ملک کے سرمایہ دار طبقہ کے مفادات اور صحافت کی پیشہ وری کا نمایاںدخل رہا ہے۔ اسی لئے وہ قانونی یا دستوری حدبندیوں کے برخلاف اپنے ارادوں اور منصوبوں کا اعلانیہ اظہارکرنے لگے۔ اقلیتوں اور بالخصوص عیسائیوں اور مسلمانوں کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہیں اور ملک میں جگہ جگہ ایسے تجربات کو دوہرانا چاہتے ہیں جو بابری مسجد کے انہدام اور گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے موقع پر کر چکے ہیں۔ مثلاً ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلمانوں کے قوانین شرعی (مسلم پرسنل لائ)کو ختم کردیں گے۔ انہیں ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا جائیگا اور ان کی شہری حیثیت اور مراعات بھی ختم کردی جائیں گی۔ وہ اگر ہندوستان میں رہیں گے تو انہیں ہر طرح ’اکثریت ‘کے تابع فرمان بن کر رہنا پڑے گا۔
طوالت کے خوف سے مزید تفصیلات میں نہ جاتے ہوئے ہم کہنا چاہتے ہیں کہ یہ محض جذباتی نعرے نہیں ہیں جنہیں نظر انداز کر دینا چاہئے۔ اس سلسلے میں جو لوگ اشتعال انگیز تقریروں اور بے بنیاد الزام تراشیوں کے لئے جانے جاتے ہیں اور جن کا احتساب کرنے والا اور سزا دینے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ ایک طرح کی تقسیم کار ہے۔ حال میں مرکزی وزیر داخلہ نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ ’کسی مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘مگر دوسری طرف صاف نظر آتا ہے کہ ہندو راشٹر کی حمایت کرنے والوں کو اس کام کے لئے کسی اجازت کی ضرورت ہی کہاں ہے کیونکہ ملک کا قانون اور انتظامیہ اگر ان کے خلاف حرکت میں نہیں آتا تو اجازت کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ ہندو فسطائیت کے جواب کے لئے تو ہندو راشٹر کے گرو گول والکر کی بنچ آف تھاٹس Bunch of Thoughts ’ہم اور ہماری قوم We and our Nation ‘اور بعض سوامیوں کی گمراہ کن تحریریں نیز مسٹر ساورکر جیسے لیڈروں کے بیانات ہی کافی ہیں۔ یہ سب کچھ اگر افکار و خیالات تک محدود ہوتا تو زیادہ تشویش کی بات نہیں تھی۔ لیکن ۱۹۴۸؁ سے لیکر اب تک کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ ہندو راشٹر کے حامی نہ صرف تسلسل کے ساتھ اپنے مقاصد کے حصول میں مصروف ہیں بلکہ اس کے لئے مختلف صورتوں میں اپنا کام کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ہندو راشٹر کی کوئی مثال نہ تو ماضی میں دستیاب ہے نہ مستقبل میں اس کی تفصیلات پیش کی جا سکی ہیں۔ لہٰذا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ اس کے لیڈروں اور تنظیموں کے خیالوں اور بیانات کی روشنی میں دیکھا اور سمجھا جائے اور ان خطرات اور خدشات کو ضروری حد تک محسوس کیا جائے جن کا اعلانیہ اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔
ہندو راشٹر کے حامی ہر اس چیز کو ختم کرنا اور بدلنا چاہتے ہیں جو ان کے جارحانہ عزائم میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ حالانکہ دستوری تأثرات، سیکولر پارٹیوں، عدالتی نظام اور مجارس قانون ساز کے ہوتے ہوئے بھی اقلیتوں اور کمزور طبقات کے لئے جو کچھ ہو رہا ہے وہ قابل اطمینان اور قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ واضح عدالتی احکامات کے برخلاف بابری مسجد شہید ہوئی، مسلم پرسنل لاء کی موجودگی میں شریعت میں مداخلت جاری ہے۔ بے گناہ مسلمانوں کے ارادتی قتل کی سیاہ داستان دراز سے درازتر ہو رہی ہے۔ اس لئے اس نوشتہ دیوار کو پڑھنا اقلیتوں کے لئے ہی نہیں ہر انصاف پسند شہری کے لئے ضروری ہے کہ اگر ہندوستان کا مستقبل ہندو راشٹر ہوگا تو مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہی نہیں، سکھوں، بودھوں اور پارسیوں کو بھی سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑیگا۔۔۔۔۔ کتنی عبادت گاہیں منہدم ہوں گی؟ مذہبی آزادی کو کہاں تلاش کریں گے؟ اکثریت کے نام پر کس طرح اقلیتوں کو دبایا اور کچلا جائیگا؟ کیا اکثریتی جبر کا نام ہی جمہوریت رہ جائیگا؟ کیا اقلیتیں وہ ہی کھائیں گی جو اکثریت کھلائے گی؟ وہ ہی پہنیں گی جو اکثریت پہنائے گی؟ کیا اقلیتوں کے لئے ہندوستان پولیس اسٹیٹ بن جائیگا؟ کیا اس ملک میں برہمن راج ہوگا؟ اور کیا دستور کی جگہ منوسمرتی کے قوانین نافذ ہوں گے؟
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، ان کے لئے ہندوستان کا ہندو راشٹر بن جانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسلام کے بنیادی عقیدۂ توحید و رسالت سے لے کر انسانی مساوات (یعنی مساوات بنی آدم) کی تعلیم تک اور اسلامی شریعت کے قیام و نفاذ تک ہندو راشٹر والوں کے مقاصد و مزاج میں اختلاف ہی نہیں بلکہ تصادم ہے۔ حالانکہ لادینیت (سیکولرزم) کا معاملہ بھی بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔ ہندوستان کے پس منظر میں اسے قبول یا گوارہ کیا گیا تو اس کے کیا نتائج نکلے ؟ ان خوش گمانیوں کے لئے اور کتنی گنجائش باقی ہے جو سیکولرزم کے علمبرداروں سے قائم کی جاتی رہی ہیں۔ جب جب ملت کو مصائب و مشکلات کا سامنا ہوا تو اس ’بیت العنکبوت ‘میں کتنی پناہ مل سکی یہ بھی ایک عبرت آموز کہانی ہے۔ شاید کچھ لوگ اب اس حقیقت کو تسلیم کر لیں جو غالب ؔخستہ نے ایک شعر میں بیان کی تھی۔
؎ تیرے وعدوں پہ جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کیا خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ مسلمان اگر ہندوستان میں بحیثیت مسلمان زندہ رہنا چاہتے ہیں تو اپنے انداز فکر کی اصلاح کریں۔ سبھی انصاف پسند اور انسان دوست عناصر سے روابط قائم کریں۔ اپنی حقوق کی حفاظت کے لئے کمر بستہ ہو جائیں،ساتھ میں اپنے فرائض کی ادائیگی کی فکر بھی کریں۔ مصنوعی پناہ گاہوں کی تلاش سے بے نیاز ہوکر صرف اور صرف خداوندہ قادر مطلق کے توکل پر جینا سیکھیں۔ ہندوستان ان کا اپنا ملک ہے اور ہر ملک دراصل اس خدا کی مِلک ہے جو ساری کائنات کا خالق و مالک ہے۔ عروج و زوال، اختیار و اقتدار، عزت و ذلت سب کچھ اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ خوف اور مایوسی کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے، مصائب و مشکلات کا حل تلاش کریں۔ صفوں کی درستگی جس طرح ادائے نماز میں ضروری ہے اس رزم گاہ خیر و شر میں اس کی ضرورت شدید تر ہے۔ مسلمانوں کے مدعیان قیادت بھی اپنا محاسبہ کریں۔ جس کام کی ہمت اور ارادہ نہ ہو اس سے معذرت کر لینا کہیں اچھا ہے۔ وہ جس نصح و خیرخواہی، ہمدردی اور تعاون، اطاعت و فرمابرداری کی دوسروں سے توقع رکھتے ہیں اس کا اظہار خود ان کی جانب سے بھی ہونا چاہئے۔ نیکی اور بھلائی میں تعاون اور ظلم و گناہ کے کاموں میں عدم تعاون کی ربانی ہدایت کے تحت منصوبہ بندی کی جائے۔ ملک کے محرو م ہدایت معاشرہ کے لئے رہنمائی کریں۔ خدا کی مدد شامل حال ہوگی تو ہندوستان کی زمین اس سے بڑھ کر کشادہ ہو جائے گی جتنی ماضی میں تھی۔ انشاء اللہ!

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *