1947میں جموں میں مسلمانوں کا قتل عام آج بھی تحقیق کا منتظر

1947میں جموں خطے میں ہوئے مسلم کش فسادات کے حوالے سے ایک نئی تحقیق منظر عام پر آئی ہے، جس کا سہرا کشمیر کے حال ہی میں ریٹائرڈ ہوئے ایک معروف بیوروکریٹ خالد بشیر کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریباً تیس سالہ ملازمت کے دوران مختلف مقامات، لائبریریوں، تحقیقی اداروں وغیرہ کی خاک چھاننے کے علاوہ جموں میں بہت سے دور افتداہ علاقوں اور تحصیلوں کا بھی دورہ کیا اور ان ہولناک فسادات میں زندہ بچ جانے والوں سے بالمشافہ بات چیت کرکے معلومات کو یکجا کرنے کے بعد اس دستاویز کو مرتب کیا ہے۔
1947میں پنجاب، دہلی اور کلکتہ میں رونما فسادات کی تفصیلات محفوظ ہیں لیکن جموں کے خونریز فسادات، اور بقول خالد بشیر قتل عام، پر شاید ہی کسی محقق کی نگاہ گئی ہو۔ اس بارے میں خالد بشیر کی رائے ہے کہ یہ قتل عام دیگر فسادات کے مقابلے میں اس لئے بھی الگ تھا کہ اس میں ڈوگرہ راج شاہی حکومت خود بھی شامل تھی جیسے آزادی کے بعد گجرات میں 2002میں برپا کئے گئے مسلم کش فسادات میں وہاں کی حکومت مبینہ طور پر ملوث تھی۔ اس وقت جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی 32لاکھ اور ہندووں کی آٹھ لاکھ تھی۔ کشمیر میں 93فیصد مسلمانوں کی آبادی تھی جب کہ جموں میں (جن میں پاکستان میں شامل میر پور،پونچھ، باغ وغیرہ علاقے شامل تھے) مسلمانوں کی آبادی 69فیصد تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم کش فسادات کا سلسلہ اگست میں شروع ہوا اور اس کا سلسلہ نومبر تک جاری رہا۔ ان فسادات نے اودھم پور، ریاسی اور کٹھوعہ میں مسلمانوں کا تقریباً صفایا کر دیا۔ تقریباً دو لاکھ مسلمان غائب ہو گئے، جن کا کبھی پتہ نہیں چل سکا۔
جموں کے ایک بزرگ صحافی وید بھسین کا حوالہ دیتے ہوئے خالد بشیر کہتے ہیں کہ ان فسادات میں تقریباً ایک لاکھ لوگ مارے گئے۔ جب کہ لندن کے مقتدر روزنامہ ٹائمس نے 10 اگست 1948کے شمارہ میں دو لاکھ مسلمانوں کے مارے جانے کی خبر شائع کی تھی۔ خالد بشیر کے مطابق پاکستان سے تقریباً 65ہزار شرنارتھیوں کا جو سیلاب آیا تھا انہوں نے اس فسادات میں کلیدی رول ادا کیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس خارجی عنصر کے مقابلے داخلی عنصر زیادہ اہم تھا۔ اور اس میں ڈوگرہ آرمی کا رول سب سے بدترین رہا۔ اس قتل عام کا واحد مقصد اس خطے سے مسلمانوں کا یکسر صفایا کر دینا تھا کہ آبادی کے تناسب کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا جائے۔ خالد بشیر کے مطابق ایک منصوبہ کے تحت ہندوؤں اور سکھوں میں ہتھیار تقسیم کئے گئے جب کہ مسلمانوں سے لائسنسی ہتھیاروں کو تھانوں میں جمع کرا لیا گیا۔ حتی کہ مہا راجہ کی فوج میں شامل مسلم سپاہیوں سے بھی ہتھیار واپس لے لئے گئے۔ ہندو اور سکھوں کے لئے جموں شہر میں ہتھیاروں کی تربیت کے لئے کیمپ لگائے گئے تھے اور اس خطے کے مقتدر اور قد آور لیڈر چودھری غلام عباس کو پہلے ہی گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کی پیٹھ پر ہاتھ رکھنے اور ان کی ہمت بندھانے کے لئے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ دوسری طرف اکتوبر میں جب قبائلی حملوں کی وجہ سے مہاراجہ ہر ی سنگھ کو سری نگر سے بھاگنا پڑا، تو اس واقعہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ مہارانی تارادیوی نے بھی اس فرقہ وارانہ آگ کو بھڑکانے میں کلیدی رول ادا کیا۔ خالد بشیر کا کہنا ہے کہ گو کہ مہاراجہ ہری سنگھ بذات خود اس مسلم کش فسادات میں ملوث نہیں تھے لیکن انہوں نے اپنی رانی تارا دیوی اور دیگر حواریوں کو جس طرح کھلی چھوٹ دی اس کی وجہ سے وہ بھی اس الزام سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ جموں کی ایک دوسرے مقتدر شخصیت کرشن دیو سیٹھی کے مطابق مہاراجہ نے جموں میں آر ایس ایس کو ٹھکانہ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے لیڈران کو جموں میں سرکاری مہمان کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ بلراج پوری کے مطابق آر ایس ایس کے بانی گرو گولوالکر مہاراجہ کے ذاتی مہمان تھے۔ ان کے مطابق مسلمانوں کے خلاف کافی اعلیٰ سطح پر سازش تیار کی گئی اور یہ سب کچھ تقسیم وطن سے پہلے ہی ہو چکا تھا اس لئے ان فسادات پر کسی طرح کارد عمل سامنے نہیں آیا۔
خالد بشیر کے مطابق جولائی 1947میں کچھ رجواڑوں کے سربراہوں کی ایک خفیہ میٹنگ سری نگر میں منعقد ہوئی جس میں آر ایس ایس کے اس وقت کے اہم لیڈروں نے بھی شرکت کی۔ اس میٹنگ میں یہ منصوبہ بنایا گیا کہ جموں خطے سے مسلمانوں کا صفایا کرنے کی مہم کا آغاز پونچھ سے کیا جائے۔ اس قتل عام میں زندہ بچ جانے والے ایک شخص شبیر احمد سلاریا کے مطابق جب مہاراجہ اکتوبر میں سری نگر سے بھاگ رہے تھے تو راستے میں اس کے حواررین ہندوؤں کو مسلمانوں پر حملے کرنے کے لئے اکسا رہے تھے۔ وید بھسین کہتے ہیں جب انہوں نے ایک اسٹوڈنٹ لیڈر کے طور پر راجہ ہری سنگھ کے وزیر اعظم مہر چند مہاجن سے ملاقات کی تو مسٹر مہاجن نے انہیں کہا تھا کہ اس ریاست کو اب ہندو اکثریت میں بدلنے کا وقت آگیا ہے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیوں کر ممکن ہے کیونکہ ہندوتو یہاں اقلیت میں ہیں تو مہرچند مہاجن نے باہو قلعہ سے نیچے کھائی میں چند گوجروں کی بے گورو کفن لاشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ: ’اس طرح‘۔ خالد بشیر کے مطابق جن علاقوں میں بڑے پیمانے پر قتل عام ہوئے ان میں 20 اکتوبر کو کٹھوعہ اور اکھنور، 22اکتوبر کو سامبا، 23اکتوبر کو ماوگام،5اور6 نومبر جموں شہر اور 9نومبر سوچیت گڑھ شامل ہیں، جہاں 70ہزار مسلمان مارے گئے۔ اس قتل عام میں ڈوگرہ فوج پیش پیش تھی۔ ان کی تحقیق کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آف انٹلی جنس جی سی بالی نے ایک خفیہ نوٹ وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو بھیجا تھا کہ ’جموں میں ڈوگرہ اور راجپوت فوجی مسلمانوں کو مارنے میں پیش پیش ہیں اور مہاراجہ کی خاموشی انہیں تقویت دے رہی ہے۔‘ خالد بشیر کا مزید کہنا ہے کہ مسلم کش فسادات کا سلسلہ تقسیم سے پہلے ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس لئے مؤرخین کا یہ کہنا کہ وادی میں قبائلیوں کے حملے کے رد عمل میں جموں میں فسادات ہوئے، درست نہیں ہے، واقعات اس کی نفی کرتے ہیں۔ خالد بشیر کا کہنا ہے کہ جموں کی ایک سیاسی شخصیت رشی کمار کوشل نے ریاسی میں مسلمانوں کے خلاف منافرت پھیلانے میں اہم رول ادا کیا۔ اس مسلم کش فسادات کے زندہ بچ جانے والے بعض متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رشی کمار کوشل خود مسلمانوں پر گولیاں چلا رہے تھے۔ اودھم پور کے رام نگر میں تحصیل دار ادھے سنگھ اور مہاراجہ کے اے ڈی سی کے فرزند بریگیڈیر فقیر سنگھ خود اس قتل عام کی نگرانی کر رہے تھے۔ اس کتاب میں قتل عام میں زندہ بچ جانے والے ایک شخص محمود احمد خان کا بھی بیان درج ہے۔ محمود احمد خان کہتے ہیں کہ ان کے خاندان کے پانچ افراد جن میں ماں، باپ، بھائی اور بہن شامل تھے، ریاسی میں مارے گئے تھے۔ ان کی دو بہنوں کو دریائے چناب میں پھینک دیا گیا تھا۔ محمود، جن کی عمر اس وقت صرف سات برس تھی، کو ایک رحم دل ہندو فوجی نے کسی طرح بچا لیا اور ایک برہمن بیربل کے حوالے کر دیا، جہاں ایک تقریب میں اسے ہندو بنایا گیا اور اس کا نام گلابو رکھا گیا۔ دو برس کے بعد اس کا ایک پڑوسی درگادت اسے بکریاں چراتے دیکھ کر اسے اپنے گاؤں لے آیا اور محمود کے زندہ بچ جانے والے چچا کے حوالے کر دیا۔۔ 1980میں محمود کو پتہ چلا کہ اس کی جن دو بہنوں کو دریا میں پھینک دیا گیا تھا، قدرت نے انہیں بچا لیا تھا اور وہ پاکستان کے سیالکوٹ میں رہ رہی تھیں۔ خالد بشیر کا کہنا ہے کہ اس مسلم کش فسادات میں مارے جانے والے بیشتر لوگوں کو پہلے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ انہیں محفوظ مقامات پر کیمپوں میں رکھا جائے گا لیکن انہیں راستے میں ہی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ چنانی میں قاضیوں کا ایک خاندان رہتا تھا، جس نے اپنی عورتوں کی عصمت بلوائیوں سے بچانے کے لئے خود اپنے ہاتھوں سے ان سب کا گلا گھونٹ دیا۔ تاہم ایسے حالات میں راجہ صحبت علی خان ان کے لئے فرشتہ سے کم ثابت نہیں ہوئے۔ راجہ صحبت علی خان جموں کے گھمٹ تھانہ کے انچارج تھے اور مجرم ان کے نام سے ہی کانپتے تھے۔ انہوں نے مصیبت زدہ مسلمانوں کو بچانے میں اپنی جان کی بازی لگا دی اور فسادیوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ ان کی شجاعت کے قصے آج بھی جموں کے مسلمانوں کی لوک کہانیوں کا حصہ ہیں۔ صحبت علی خان کی موت کے ساتھ ہی مسلمانوں کی رہی سہی ہمت بھی ختم ہو گئی۔ خالد بشیر کا کہنا ہے کہ ان فسادات کے دوران کم سے کم پانچ ہزار مسلم عورتوں کا اغوا کیا گیا، ان میں سے بعض کو بعد میں آزاد بھی کرایا گیا۔ 1953میں شیخ عبد اللہ کی گرفتاری کے بعد جب بخشی غلام محمد کو ان کی جگہ نامزد کیا گیا تو انہوں نے ان خواتین کو آزاد کرانے میں اہم رول ادا کیا۔ مصنف کے بقول انہوں نے خود جموں کے ہندو گاؤں کے گھروں میں جا جا کر ستم رسیدہ مسلم لڑکیوں کا پتہ لگایا۔ خالد بشیر کا کہنا ہے کہ جموں کے مقتدر رہنما چودھری غلام عباس کی بیٹی کا بھی اغوا کر لیا گیا تھا، انہیں آزاد کرانے کے بعد چودھری غلام عباس کے پاس پاکستان بھیجا گیا۔ گو کہ جموں میں اس قتل عام میں مسلمانوں کی ہلاکت کی اصل تعداد کا تعین ممکن نہیں ہے لیکن مسلمانوں کی آبادی میں جس طرح کمی آئی اس سے پوری بات خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے۔ 1941اور 1961کی مردم شماری کے تقابلی جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس علاقے میں مسلمانوں کی آبادی صرف ایک تہائی رہ گئی۔ جموں ضلع میں مسلمانوں کی آبادی ایک لاکھ ساٹھ ہزار تھی جو صرف 51ہزار رہ گئی۔ 1961کے مردم شماری میں 151ایسے مسلم گاؤں کا ذکر شامل ہے جن میں کوئی فرد نہیں رہ رہا تھا۔ ان گاؤں کے تمام لوگ یا تو مارے گئے تھے یا پاکستان چلے گئے تھے۔
مصنف کے بقول 27اکتوبر 1947کو الحاق کے بعد شیخ عبد اللہ کی حکومت نے بھی مسلمانوں کو پاکستان جانے سے روکنے یا ان کی جان و مال کی حفاظت کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھا بلکہ ایسا لگ رہا تھا کہ ان کی پارٹی نیشنل کانفرنس مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہتی تھی کیوں کہ ان لوگوں کی ہمدردیاں مسلم لیگ کے ساتھ تھیں۔ اس سلسلے میں شبیر احمد سلاریا اور کرشن دیوسیٹھی دونوں ہی مصنف کی رائے سے متفق ہیں۔ کرشن دیو سیٹھی کا کہنا ہے کہ میں اور آئین ساز اسمبلی کے رکن موتی رام بیگرا جب شیخ عبد اللہ سے ملنے گئے اور ان سے درخواست کی کہ جموں سے مسلمانوں کی ہجرت کو روکا جائے ورنہ وہ اس خطے میں اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے تو شیخ صاحب نے ان کی ان سنی کرتے ہوئے کہا کہ ’جموں کے مسلمانوں نے مجھے کب اپنا لیڈر مانا ہے۔‘ شیخ عبد اللہ حالانکہ اس کے بعد تقریباً چھ برس تک سربراہ حکومت رہے لیکن بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود انہوں نے جموں قتل عام کی انکوائری کرانے پر کوئی توجہ نہیں دی۔ حتی کہ جن افسران کو معطل کیا گیا تھا بعد میں ان کو بڑے عہدوں سے نوازا گیا۔ قتل عام میں ملوث آر ایس ایس کے ایک لیڈر چونی لال کو توال اور امر ناتھ شرما بخشی حکومت کے زمانے میں وزیر بھی بنائے گئے۔ تاریخ کے بد ترین قتل عاموں میں سے ایک جموں کے مسلمانوں کا یہ قتل عام کم از کم اس بات کا متقاضی تو ہے ہی کہ اس کے دستاویزی ثبوت فراہم کئے جائیں۔ ڈاکیو منٹڈ کیا جائے، جس طرح مغربی ملکوں میں ماضی کے قتل عام کو ڈاکیومنٹ کیا جارہا ہے اور میوزیم بناکر ان تاریک واقعات کو محفوظ کیا جا رہا ہے تاکہ آنے والی نسل حقیقت سے واقف ہو سکے اور ایک پر امن دنیا کے قیام میں اپنا رول ادا کر سکے۔ (بحوالہ افکارِ ملّی)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *