اندھی مسلم دشمنی میں ملک کا عظیم اقتصادی خسارہ

ہمارے ملک کے متعصب حکمرانوں،انتظامیہ ،میڈیا کی بڑی تعداد نے مسلم دشمنی کو قومی ضرورت یا مجبوری کے طو ر پر فروغ دینا ہی ’’وطن دوستی ‘‘سمجھا ہے ۔اور سید ھے سادھے عوام کی اکثریت کو اسی ملک میں دشمن ذہنیت میں مبتلا کرنا چاہتا ہے ۔مسلم دنیا ،مسلم عوام ،مسلم ممالک کی مسخ شدہ اور ہندو دشمن شبیہہ بنانے میںبھی ہندوستانی اشرافیہ EliteClassہر حقیقت اور اعداد و شمار کو جھٹلانے کے لئے تیار ہے دو تین بڑی مثالو ںسے اس حقیقت کو سمجھنے میںمدد ملے گی ۔پچھلے دس بارہ سالوںکی مسلسل کوششوں کے بعدہندوستان میںغیر سودی بینکنگ کے لئے حکومتی سطح پر راہ کھلنے والی تھی کہ سبرا منیم سوامی کے وزیر خزانہ کو خط لکھنے کے بعد سارا معاملہ ٹھنڈا کر دیا گیا ۔اس مہم کے آغاز میں دس سال پہلے ریزرو بینک و دیگر مالیاتی اداروں سے بمشکل کوئی اعتراض[N.O.C.]’نہیں‘کا تصدیق نامہ ملا ۔کیرالہ حکومت نے اس سلسلہ میںپیشقدمی کر کے وہاںسرکاری سطح پر غیر سودی مالی ادارہ کے قیام کی ابتداء کی تو مسلم دشمن مقامی اور ملکی عناصر نے عدالت میںاسے چیلنج کر دیا جب عدالت سے بھی فیصلہ حق میں آیا تو مرکز میں حکمراں بدل گئے ۔جب ملکی پیمانہ پر اس اسکیم کو لاگو کرنے کا نمبر آیا تو سبرا منیم سوامی کے خط نے سالوںکی کری کرائی جدو جہد پر پانی پھیر دیا ۔کہ اس سے اسلامی قانون لاگو کرنے کا راستہ کھل جائیگا ۔حالانکہ اگر خالصاََتجارتی اور مالی نقطہء نظر سے دیکھیںتو یہ ملک کے ساتھ بہت بڑی غداری ہے ۔اگر غیر سودی ادارہ کام کرنے لگ جاتے تو صرف خلیجی ممالک سے ہی اربوں روپیوں کا سرمایہ ہندوستان آجاتا ۔خود ملک میں مسلمانوںکی بڑی تعداد جو سود کی حرمت کی بناپر سودی اداروںمیں سرمایہ نہیں لگاتی اس کابھی بڑا حصہ ان اداروں کے ذریعہ ملکی معیشت کو فروغ دینے میںاستعمال ہوتا ۔خلیجی ممالک سے کتناسرمایہ وطن آسکتا ہے؟ ملک سے کتنا مل سکتا ہے؟ ان سب امور پر بھارت سرکار کے متعلقہ اداروں نے خوب چھان پھٹک کے بعد ہی منظوری دی تھی ۔جو اب رد کرکے دیش بھکتی کا تمغہ لیا جارہا ہے۔ دوسری طرف ملک میںسرمایہ کاری کے نام پر ملک ملک جا کر بھیک مانگی جارہی ہے ۔ملک میں بیرونی سرمایہ لانے کے لئے بین الاقوامی کمپنیوں کو رعایتیں دی جارہی ہیں۔اور ان کے نخرے اٹھائے جارہے ہیں جبکہ غیر سودی بینک کاری کا فائدہ دنیا کے20 سے زیادہ ممالک اٹھا رہے ہیں ۔متحدہ عرب امارات میںیہ 100ارب امریکی ڈالر کا نشانہ پورا کر چکاہے ۔یہاںاسلامک بینکنگ 21.4%کی شرح سے بڑھ رہی ہے جو عالمی مارکیٹ کا 14.6%ہے ۔روایتی بینکنگ کے مقابلہ اسلامی بینکنگ دوگنی شرح سے ترقی کر رہا ہے ۔2019؁تک یہ نشانہ 263ارب ڈالر پورا کرنے کا ہے ۔اس کے علاوہ سعودی عرب پہلے نمبر پر ،ملیشیا دوسرے نمبر پر، پھر بحرین ،کویت ،قطر ،عمان وغیرہ کانمبر آتا ہے ۔خلیجی ممالک میں یہ اربوںڈالر کی سرمایہ کاری ہمارے ملک میں بھی منتقل ہو سکتی تھی اگر ہم مسلم دشمنی میںاندھے ہو کر غیر سودی بینکنگ کا راستہ روک کر ملک دشمنی نہ کرتے ۔دوسری مثال ہندوستان سے باہر جاکر روزی کمانے والے لوگوںکی تعداد اور وہاںسے بھیجے جانے والے سرمایہ سے متعلق اعدادوشمار سے ملتی ہے یہ اعدادوشمار عالمی بینک اور ہماری وزارتِ خارجہ کے ہیں ۔جن کے مطابق ہندوستان میں کل ملاکر 70ارب ڈالر کا سرمایہ باہر سے آتا ہے ۔سب سے بڑی رقم لاکھوںکی آبادی والے مسلم ممالک متحدہ عرب امارات سے آئی۔12.64ارب ڈالر امریکہ 35کروڑآبادی کا ملک وہاں 22.1/2لاکھ ہندوستانی ہیں11.18ارب ڈالر سرمایہ آیا متحدہ عرب امارات میں 17,50,000سترہ لاکھ پچاس ہزار ہندوستانی ہیں۔سعودی عرب میںتقریباََ18لاکھ ہندوستانی لگ بھگ 11۔ارب ڈالرسالانہ بھیج رہے ہیں ۔کویت میںلگ بھگ 6لاکھ ہندوستانی 5۔ارب ڈالر بھیج رہے ہیں ۔پاکستان سے 4.7ارب ڈالر آیا ۔کل 24کروڑ غیر مقیم ہندوستانی ہیں جس میں سے کل 41لاکھ کے لگ بھگ صرف خلیج میں رہتے ہیں ۔کل 70۔ارب سالانہ بیرونی زر مبادلہ میں سے 36۔ارب ڈالر ان چھوٹے سے ممالک سے آتا ہے ۔امریکہ سے صرف 22۔ارب ڈالر آتے ہیں۔اور ہمارے سب سے قریبی ،فطری حلیف اسرائیل اعدادوشمار تو ہمارے حکام دیتے ہوئے بھی شرماتے ہونگے وہاںکتنے بھارتیہ مزدوروں کو نوکری ملتی ہے اور وہاں سے کتنا ڈالر بھارت آتا ہے ۔ہاںہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ اس وقت بھارت سے اربوں ڈالر ہتھیاروںکی خرید کے سلسلے میں ضرور اسرائیل جارہا ہے ۔جبکہ اسرائیل کی کئی کمپنیوں کو سودوں کے معاملہ میں رشوت خور ثابت ہونے پر خود بھارت سرکار نے ہی بلیک لسٹ میں شامل کیا ہے۔اتنے مالی فوائد کے باوجود آج پروپیگنڈہ کے بل بوتے پر عرب /مسلم دنیا کو ہندوستان کے حکمراں،افسراں،میڈیاسب دشمن کے طور پر ہی پیش کر رہے ہیں ۔مگر نقصان کس کا ہو رہا ہے ؟ملک دشمن کو ن ہے ؟ملکی معیشت کو اربوںڈالر کی تجارت اور سرمایہ کاری سے محروم کرنے والے کیا وطن دوست ہیں؟تیسری مثال حال ہی میںمہاراشٹر سرکار کے ذریعہ بیل ،سانڈکے حلال بندکئے جانے کی ہے ۔مذہبی نقطہ نگاہ سے بیل اور سانڈکی کوئی اہمیت نہیںہے ۔معاشی اور زراعتی اعتبار سے یہ غیر عقلی ،غیر منطقی اور گھاٹے کا سودا ہے ۔قدرت اپنے قانون کے مطابق چلتی ہے جس چیز کا استعمال ہوتا ہے وہ باقی رہتی ہے ۔جسکا استعمال نہیں ہوتا وہ ناپید ہوجاتی ہے۔جب بیل اور سانڈکا م کے قابل نہیں رہے گا تو اپنی طبعی عمر تک غیر پیداواری خرچہ کس کے ذمہ ہوگا ؟اگر سرکار کرے گی تو کیا سرکار کے پاس اتنا حاصل سرمایہ ہے ؟جس چیز کی ڈیمانڈ نہیں ہوتی اسکی سپلائی بھی نہیں ہوتی ۔اگر یہ لاکھوںبیل اور سانڈ سالانہ سرکاری خرچہ پر پالے جائینگے تو فائدہ کس کو ہوگا؟جب بھینس کی اجازت رہے گی تو لوگ بھینس پالینگے کہ بیل ؟اخباروں میں مہاراشٹر کے بڑے چھوٹے کسانوں،مویشی کے تاجروں کے انٹرویوآرہے ہیں کسی نے بھی اس پابندی کی حمایت نہیں کی ہے گو کہ ان کی اکثریت غیر مسلم ہے ۔مگر حکومت کچھ مثبت کرنے کے بجائے سیدھے سادھے ہندوعوام کو یہ دکھا کر خوش ہو رہی ہے کہ دیکھو ہمارے قدم سے مسلمان کتنا پریشان ہے جبکہ پریشان تو غیر مسلم کسان بھی ہے اور انھوںنے دھمکی بھی دی ہے کہ اگر جلد ہی پابندی نہ ہٹائی گئی تو ہم سارے بیل اور سانڈبڑے شہروںمیںلے جا کر چھوڑ دینگے تاکہ وہ لوگ اس کا مزہ چکھیںجنکو خوش کرنے کے لئے یہ پابندی لگائی ہے ۔یہ پابندی گئو شالاؤںکے نام پر سرکاری کرپشن اور غیر سرکاری سرمایہ داروں کے ذریعہ انکم ٹیکس چوری کا بڑا حیلہ بھی بنے گا اس کا فائدہ بھی اعلیٰ ذات کے طبقہ کو ہی ہوگا ۔مگر کل ملا کر ملکی اقتصادیات کو نقصان ہوگا ۔کیا یہی وطن دوستی ہے ؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *