بھائی سے اب بھائی جُدا ہے

تقریباً تین صدی سے زائد انحطاط و انتشار کے عمل سے گزرتے گزرتے مسلم دنیا، جسے ہم عالم اسلام سے بھی موسوم کرتے ہیں آج ایک معمّہ بن کر رہ گئی ہے۔ اس کے ہمدرد اور بہی خواہ اس بات پر حیران ہیں کہ دنیا کی دوسری بڑی آبادی، وسیع تر رقبۂ زمین پر قابض اور متصرف ہونے اور حد درجہ اہمیت رکھنے والے ساحلوں اور زمینی خطوں پر حکومت کرنے والی امت مسلمہ بے وقعت کیوں ہے؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تیل کی دولت (Petrol)رکھنے والے سب سے بڑی طاقت مانے جاتے اور دنیا کی گاڑی ان کی مرضی کے مطابق چلتی یا رُکتی۔ مگر صورتِ حال اس کے برعکس ہے، یعنی جس کو مسلم دنیا کہا جاتا ہے وہ زبردست افرادی قوت کے باوجود خود انحصاری، باہمی یکجہتی سے محروم ہے اور دین و عقیدے کی یکسانیت کے ہوتے ہوئے بھی وہ سیاسی طور پر غیر مستحکم، معاشی طور پر دست نگراور تہذیبی و ثقافتی وتشخص کے باوجود خود اعتمادی سے محروم نظر آتی ہے۔
یہ بات صاف ہو جانے کے بعدکہ مسلمانوں کے موجودہ زوال کی اصل وجہ افرادی قوت کی کمی اور وسائل و ذرائع کا فقدان نہیں ہے۔ خود بخود یہ سوال ابھرتا ہے کہ پھر وہ کیا وجوہ و اسباب ہیں جن کی بنا پر امت مسلمہ کی کشتی پار نہیں ہو پاتی اور دنیا کی مختلف قومیں کیوں اُن کی دشمن بنی ہوئی ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر درد مند دِل کو بے چین کر دینے کے لئے کافی ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو احساس تو رکھتے ہیں مگر اپنے جذبات اور حاصل فکر کو مرتب صورت میں پیش نہیں کر پاتے۔ کیونکہ اس بڑے کام کے لئے جو اعلیٰ درجہ کی صلاحیتیں درکار ہیں وہ ہر کس وناکس کو میسر نہیں آتی۔ مبدا ء فیاض سے ہر کسی کو سب کچھ نہیں ملا ہے اور یہ بھی نہیں کہ کسی کو کچھ نہ ملا ہو۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اپنی نعمتیں جس حکمت بالغہ کے تحت تقسیم فرمائی ہیں اُس پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ ولا تتمنّو بما فضل اللہ بعضکم علی بعض۔ عہد حاضر میں امت مسلمہ کی خستہ حالی اور اس کی اصلاح و تعمیر کے لئے گذشتہ دوتین صدی میں بہت کچھ سوچا اور لکھا گیا ہے۔ شاہ ولی اللہ، سید جمال الدین افغانی، مولانا الطاف حسین حالیؔ، علامہ محمد اقبالؔ، مفتی محمد عبدہٗ، سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، سیّد قطب شہید رحمہم اللہ، جیسے اعلیٰ درجے کے مفکرین اور قائدین نے اپنے اپنے طور پر ملّت کو بہت کچھ دیا ہے۔ اگر چہ کسی کو حرفِ آخر قرار نہیں دیا جا سکتا مگر حال اور مستقبل پر غور فکر کرتے ہوئے اس عظیم سرمایہ سے بے تعلقی اور بے پرواہی کو خود فریبی اور ناقدری کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے۔ غور و فکر، تجزیہ و تحلیل، تنقید و تبصرہ اور جائزہ واحتساب کے اس عمل کو آج بھی جاری رہنا چاہئے۔ کیونکہ ہمیشہ کی طرح اس کی ضرورت آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ مگر اس اہم کام کے سلسلے میں کچھ اصولی باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ افراد اور قوموں کی تربیت و رہنمائی ایک بڑا کام ہے، بلکہ شاید سب سے بڑا کام ہے۔ جس کے لئے بنیادی طور پر دو اہم وسیلے اختیار کرنا لازم ہے۔ ان کے بغیر یہ ضرورت پوری نہیں ہوتی اور نہیں ہو سکتی۔ بحیثیت مسلمان اور بحیثیت امت مسلمہ ہمارا ایمان ہے کہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہی وہ دو بڑے اور بنیادی ماخذ ہیں جن سے انسانوں کو راست اور درست رہنمائی ملتی ہے اور مِل سکتی ہے۔ قل ان ہدی اللہ ھوالہدیٰ۔۔ یا۔۔ ان الھدٰی ھدی اللہ۔ اس معاملہ میں ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی آنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اصلاح کے نام پر کسی بھی خرابی اور روشنی کے نام پر کسی بھی اندھیرے کو قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں اور کسی بھی طاغوتی دعوت اور شیطانی قوت کا آلۂ کار بن سکتے ہیں۔
بیان کردہ حقیقت سے باخبر ہونے کے بعد اور اُس پر یقین رکھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امت کے زوال اور انتشار کو روکنے اور اس کی تعمیر و اصلاح کے لئے عقل و بصیرت اور احوال ظروف سے واقفیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس کے لئے کسی فلسفیانہ توجیہ اور تاریخی دلائل کے بجائے کتاب اللہ اور سنت نبوی کا حوالہ ہی کافی ہے۔ متعدد مقامات پر قرآن کریم نے غور و فکر اور تعقل اور تدبر کی تاکید فرمائی ہے۔ رسول اللہﷺ کی قیادت میں جو عظیم ترین انقلاب برپا ہوا اس میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا سب سے بڑا دخل ہے۔ مگر یہ کارِ عظیم جس حکمت و تدبیر اور جس فہم و بصیرت کے ساتھ انجام پایا اس کے اعتراف پر اللہ کے رسولﷺ کو ماننے والے ہی نہیں نہ ماننے والے بھی مجبور ہیں۔ مدنی دور میں بھی آپﷺ مکہ کے حالات سے جس طرح باخبر رہتے تھے اس کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ’ اگر مکہ میں کوئی سوئی گرتی تھی تو مدینہ میں اس کی خبر پہنچ جاتی تھی۔‘
اُمت کا ایک طبقہ جو جدید الحادی تحریک و تمدن سے متاثر ہی نہیں مرعوب بھی ہے، اس احساس زیاں سے بھی محروم ہو چکا ہے جو احتساب فکر و عمل پر آمادہ کیا کرتا ہے۔ اس کا انداز فکر، اس کی پسند و ناپسند، اس کا پیمانۂ خیر و شر اور فلاح و خسران کا معیار، اس کا طرزِ معاشرت کچھ بھی اپنا نہیں ہے۔ گویا یہ نہ تو اپنے کانوں سے سنتے ہیں، نہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور نہ ہی اپنی عقل سے فیصلہ کرتے ہیں۔ انہیں جس طرح دوسروں کا رہن سہن، کھانا پینا اور لباس اچھا لگتا ہے اسی طرح ان کے افکار و نظریات بھی انہیں اچھے لگتے ہیں۔ یہ طبقہ جدید تعلیم کے میدان میں عام مسلمانوں سے آگے ہے اور ایک عام سادہ لوح مسلمان کے مقابلہ میں انہیں معاشی اور معاشرتی اہمیت بھی انہیں کو حاصل ہے۔ انتظامی محکموں اور سیاسی ایوانوں میں بھی اکثر یہی لوگ مسلمانوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ انہی میں شامل وہ لوگ بھی ہیں جو مذہب کے مغرب سے درآمد شدہ تصور کے حامل اور حامی ہوتے ہیں۔ ان میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو مسلمانوں کی ترجمانی کے لئے موزوں اور اہل سمجھے جا سکیں۔ اس سب کے باوجود یہ لوگ خیر خواہانِ ملت میں ہی شمار کئے جاتے ہیں۔ دراصل مغرب کے سیاسی غلبہ کے نتیجے میں یہ مسلمانوں پر مسلط کردہ ایسی مصنوعی قیادت ہے جن میں غلبۂ اسلام کی کوئی خاص طلب و تمنا باقی نہیں پائی جاتی۔ یہ لوگ اسلام کے لئے جتنے مخلص اور مفید سمجھے جاتے ہیں بسا اوقات اس سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ مسلم معاشرہ میں حد درجہ اہمیت کا حامل وہ طبقہ ہے جو دینی، ملی قیادت کی اہلیت رکھتا ہے اور اور معتمد بھی ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ یہ لوگ بھی اپنے فرض منصبی کی ادائیگی سے فی الجملہ قاصر ہیں۔ اس پر تفصیلی مذاکرات کی ضرورت ہے۔
عالمی سطح پر اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعماری قوتوں نے جو محاذ کھول رکھے ہیں ان کے بارے میں ہماری معلومات ناکافی ہی نہیں ایک حد تک ناقص بھی ہیں۔ دولت کی ریل پیل میں کھوئے ہوئے ہمارے حکمرانوں کو یہ بھی خبر نہیں کہ انہیں کے ہاتھوں ان کے خلاف کیسے کیسے منصوبے روبۂ عمل لائے جارہے ہیں۔ حال میں مسلکی اختلافات کو جس طرح ہوا دی جارہی ہے اس کی ایک خطرناک مثال ایرانی اور سعودی حکمرانوں کی باہمی آویزش ہے۔ یقینی طور پر کسی ایک کو موردالزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ہر ایک کی غلطی دوسرے کی اس سے بڑی غلطی کا جواز بنتی جارہی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ وقت کی سب سے بڑی طاغوتی طاقت بیک وقت دونوں کی حمایت و سرپرستی کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ اور دونوں کو تباہ کن ہتھیار بھی فروخت کر رہی ہے۔ دونوں اپنے اقتدار کی خاطر مسلکی تعصبات کو ہوا دے رہے ہیں۔ اگر واقعی یہ مسلکی جنگ ہے تو پہلے کیوں نہیں لڑی گئی اور اب کیوں لڑی جا رہی ہے؟آج پوری مسلم دنیا میں ایسی دینی شخصیات کو کیوں برطرف کر دیا گیا ہے جو حکمرانوں کی غلطیوں کی نشاندہی کر سکیں اور دینی بنیادوں پر گفت و شنید کے لئے آمادہ کر سکیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ
ع۔ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ دھوکہ دیتے ہیں یہ بازی گر کھلا
اور صاف نظر آرہا ہے کہ
ع۔ ہے غارت ِ چمن میں کسی فتنہ گر کا ہاتھ شاخوں پہ انگلیوں کے نشاں دیکھتا ہوں میں
ان حالات میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسلم امت میں خدا شناسی اور خود شناسی کی فکر پیدا ہو۔ خدا نے ہمیں مسلم بنایا، ہمارا نام مسلم رکھا،اسلام کو ہمارا دین بنایا اور آگاہ کر دیا کہ دین تو اسلام ہی ہے، اس کے بجائے جو اور کوئی دین اختیار کرے گا وہ قابل قبول نہ ہوگا۔ ہمیں بتا دیا گیا کہ
’اس سے بہتر اور کس کی بات ہو سکتی ہے جو دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دے اور عمل صالح سے اس کی تصدیق کرے اور اپنے مسلم ہونے کا اعلان و اظہار کرے۔ ‘
(ومن احسن قولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من المسلمین۔ (سورۃ حم سجدہ)
مگر افسوس صد افسوس ہمارے اس حال پر کہ آج امت کے عوام ہی نہیں خواص نے بھی اپنے کچھ اضافی اور اختراعی نام اختیار کر لئے ہیں اور وہ دین کے بجائے اپنے مسالک کی تبلیغ میں مصروف ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اعلیٰ درجہ کی صلاحیتوں کو تفریق بین المسلمین جیسے گناہِ عظیم کے فروغ کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ انہیں احساس ہونا چاہئے کہ اگر دنیا میں اس کی جواب دہی سے بچ بھی گئے تو اس دِن کیسے بچیں گے جب کوئی بھی نہیں بچ سکے گا سوائے اس کے جسے اللہ بچائے۔ ہاں وہاں نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔
سقوط بغداد کی صورت میں مسلمانوں کا ایک دور ختم ہو گیا تھا اس میں جتنا نقصان مسلمانوں کو پہنچا اس کی تفصیلات تاریخ میں محفوظ ہیں مگر یہ سانحہ خلافت کے تسلسل کو ختم نہیں کر سکا۔ اور اختلاف معیار کے باوجود خلافت قائم رہی۔ گویا امت کی عالمی حیثیت ختم نہ کی جاسکی اور امت میں صلاح الدین اور نور الدین جیسے مردان جلیل پیدا ہوئے، مگر آج حال یہ ہے کہ آزاد مسلم ملکوں میں غلام حکمرانوں کا دور دورہ ہے۔ مصر میں فوجی آمر السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر محمد مرسی اور ان کے ساتھیوں کو سنگین سزائیں دی جا رہی ہیں۔ شام میں اسد خاندان لاکھوں بے گناہوں کو تہہ تیغ کر چکا ہے۔ صدام حسین نے ایران پر حملہ کرکے دو طرفہ تباہی کا سامان فراہم کیا تھا اور مسلم ملکوں کے اتحاد و اتفاق کے تصور کو بعید از امکان بنا دیا تھا۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی جمہوری حکومت، فوجی ٹریبنل کے ہاتھوں جماعت اسلامی کے لیڈروں کو سزائے موت اور عمر قید جیسی سنگین سزائیں دے کر بیرونی آقاؤں سے سند عافیت حاصل کر رہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں شدید خواہش کے باوجود امریکی استعمار کے چنگل سے آزادی حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ سعودی خاندان کی حکومت پر امریکہ کی گرفت دِن بدن تنگ ہوتی جارہی ہے۔ ایران کے ’اعتدال پسندوں‘ نے اپنے قومی مفادات کے نام پر اسلامی جمہوریہ ایران کی سمت سفر ہی تبدیل کر دی ہے۔ یہ سب کچھ کس کی سرپرستی میں ہو رہا ہے؟ اس کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ کون یقین کرسکتا ہے کہ آج کا ایران وہ ہی ہے جس کے قائد (علامہ خمینی مرحوم )نے عراق کے حملہ آور ہونے پر لاشیعہ لا سنّیہ کا نعرہ دیا تھا اور قرآنِ کریم کی آیت (وان طائفتان من المؤمنین۔۔۔ ) کا حوالہ دے کر عراق ایران جنگ میں مسلم دنیا سے ثالثی کی اپیل کی تھی۔ یہ چند مثالیں ہیں ورنہ مسلم دنیا کے حالات اندازوں سے زیادہ خراب ہیں اور خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اسلامی تحریکات کو غلبۂ دین کی کوششوں کی پاداش میں انہیں حالات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے جن سے کوفہ میں امامِ حسینؓ کے سفیر حضرت مسلمؓ بن عقیل کو واسطہ پڑا تھا۔ اس کی بڑی وجہ اقتدار کے پرستاروں کا صاحب اقتدار ہونا اور علماء اور عوام کی دنیا پرستی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہ حال ان ملکوں کا ہے جہاں اسلام کے دعویداروں کی اکثریت اور غلبہ ہے اورجہاں مسلمان اقتدار سے محروم ہیں وہاں انہیں پیچ در پیچ مشکلات و مظالم کا سامنا ہے۔ جس پر علیحدہ سے تفصیلی غور و فکر کی ضرورت ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *