رمضان المبارک رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ

’’حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شعبان کی آخری تاریخ کو خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! تمہارے اوپر ایک بڑا بزرگ مہینہ سایہ فگن ہوا ہے۔ یہ بڑی برکت والا مہینہ ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس کی ایک رات (ایسی ہے کہ) ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے (اس کے) روزے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں کے قیام کو تطوّع (نفل) قرار دیا ہے۔ جس شخص نے اس مہینے میں کوئی نیکی کرکے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ اس شخص کے مانند ہے جس نے دوسرے دنوں میں کوئی فرض ادا کیا۔ اور جس نے اس مہینے میں ایک فرض ادا کیا تو وہ ایسا ہے جیسے دوسرے دنوں میں اس نے ستّر فرض ادا کئے۔ اور رمضان صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے، اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کرنے کا مہینہ ہے، اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس میں کسی روزہ دار کا روزہ کھلوائے تو وہ اس کے گناہوں کی مغفرت اور اس کی گردن کو دوزخ کی سزا سے بچانے کا ذریعہ ہے اور اس کے لئے اتنا ہی اجر ہے جتنا اس روزہ دار کے لئے روزہ رکھنے کا ہے، بغیر اس کے کہ اس روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی واقع ہو۔ حضرت سلمان ؓ کہتے ہیں کہ ہم (صحابہ کرامؓ)نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ !ہم میں سے ہر ایک کو یہ توفیق میسر نہیں ہے کہ کسی روزہ دار کا روزہ کھلوائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہ اجر اس شخص کو بھی دے گا جو کسی روزہ دار کو دودھ کی لسّی سے روزہ کھلوادے یا ایک کھجور کھلا دے یا ایک گھونٹ پانی پلا دے۔ اور جو شخص کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلادے تو اللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض سے پانی پلائے گا۔ (اس حوض سے پانی پی کر) پھر اسے پیاس محسوس نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ اور یہ وہ مہینہ ہے کہ جس کے آغاز میں رحمت ہے، وسط میں مغفرت ہے اور آخر میں دوزخ سے رہائی ہے۔ اور جس نے رمضان کے زمانے میں اپنے غلام سے ہلکی خدمت لی اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور اس کو دوزخ سے آزاد کر دے گا۔‘‘ (البیہقی)
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فضائل رمضان اور روزوں سے متعلق ہدایات بالعموم رمضان کے آنے سے پہلے شعبان کے جمعوں یا دوسرے اجتماعات میں دی ہیں۔ رمضان کے زمانے میں جو خطبے حضور ؐ دیتے تھے اگر چہ ان میں بھی احکام کا بیان ہوتا تھا لیکن خاص طور پر آپ ؐ کا طریقہ یہ تھا کہ رمضان کے آنے سے پہلے شعبان کے مہینے میں ایسے خطبے ارشاد فرمایا کرتے تھے جن میں رمضان کی فضیلت اور روزوں کے احکام کا بیان ہوتا تھا۔
نبی اکرم ﷺ نے اپنے اس خطبے میں فرمایا:
’’لوگو! تمہارے اوپر ایک مہینہ ایسا آرہا ہے جو عظیم ہے، یعنی بزرگی والا اور بڑی برکت والا ہے۔‘‘
ماہِ رمضان کے بزرگ یا بابرکت ہونے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اس کے دنوں، گھنٹوں یا منٹوں میں فی نفسہٖ کوئی ایسی برکت شامل ہے جو لوگوں کو خود بخود حاصل ہو جاتی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ایسے مواقع پیدا کر دیتا ہے جن کی بدولت تم اس کی بے حد و حساب برکات سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ اس مہینے میں ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی جتنی زیادہ عبادت کرے گا اور نیکیوں کے جتنے زیادہ کام کرے گا وہ سب اس کے لئے زیادہ سے زیادہ روحانی ترقی کا وسیلہ بنیں گے۔ اس لئے اس مہینے کے بزرگ اور بابرکت ہونے کا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ اس کے اندر تمہارے لئے برکتیں سمیٹنے کے بے شمار مواقع فراہم کر دئیے گئے ہیں۔
’’یہ وہ مہینہ ہے جس کی ایک رات ایسی ہے کہ ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے۔‘‘
اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نازل فرمایا۔ اس کے ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ کبھی ہزار مہینے میں بھی نوعِ انسانی کی فلاح کا وہ کام نہ ہوا ہوگا جتنا ا س ایک رات میں ہوا۔
’’اللہ تعالیٰ نے رمضان کے (دنوں کے) روزے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں کے قیام کو تطوّع (نفل) قرار دیا ہے۔‘‘
تطوّع سے مراد وہ کام ہے جو آدمی اپنے دل کی خوشی سے (VOLUNTARILY)انجام دے ، بغیر اس کے کہ وہ اس پر فرض کیا گیا ہو۔
رمضان میں دن کے روزے کو فرض اور رات کے قیام کو نفل قرار دے کر فرض اور نفل عبادات دونوں کے فائدوں کو جمع کر دیا گیا ہے۔ ادائے فرض کے فائدے کچھ اور ہیں اور از خود اپنی رضا و رغبت سے، بغیر اس کے کہ کوئی چیز لازم قرار دی گئی ہو، اللہ کی عبادت کرنے کے فائدے کچھ اور ہیں۔ اگر ایک آدمی اپنی ڈیوٹی بجا لاتا ہے تو وہ اسپر ایک اور قسم کے انعام کا مستحق ہوتا ہے اور اگر وہ اپنی ڈیوٹی سے بڑھ کر اپنے دل کی رضا سے کوئی خدمت بجالاتا ہے تو اس پر وہ کسی اور قسم کے انعام کا مستحق ہوتا ہے۔ ایک چیز وہ ہے جس پر وہ مزدوری کا مستحق ہے اور دوسری چیز وہ ہے جس پر اسے بونس (BONUS)کا مستحق قرار دیا جائے گا۔ معلوم ہوا کہ اس ماہ میں دو قسم کے مواقع پیدا کردئیے گئے ہیں۔ ایک تو ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے جس کے اجر کے آپ الگ مستحق ہوں گے اور ایک چیز آپ کے تطوّع پر چھوڑ دی گئی ہے کہ آپ اپنی رضا و رغبت سے راتوں کو عبادت کے لئے کھڑے ہوں تو اس پر آپ کو مزید انعامات ملیں گے۔ یہ گویا اس چیز کی تشریح ہے کہ اس بزرگ مہینے میں کیا کیا برکتیں رکھ دی گئی ہیں۔
اس کے بعد فرمایا: جس شخص نے اس مہینے میں کوئی نیکی کرکے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی اس کو ایسا اجر ملے گا جیسا کہ دوسرے دنوں میں فرض ادا کرنے پر ملتا ہے، اور جس نے اس مہینے میں فرض ادا کیا وہ ایسا ہے جیسے دوسرے دنوں میں اس نے ستر فرض ادا کئے۔‘‘
چونکہ یہاں فریضہ کے مقابلہ میں خصلۃ من الخیر کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اس لئے ان سے خود بخود یہ معنیٰ نکلتے ہیں کہ ان سے مراد نفل نیکی ہے۔ یعنی جو آدمی اس مہینے نفل کے طور پر کوئی نیکی کرتا ہے اسے اس پر ایسا اجر ملے گا جیسا دوسرے زمانے میں فرض ادا کرنے پر ملتا ہے۔
رمضان کے زمانے میں یہ فرق کیوں ہوتا ہے؟
رمضان کے زمانے میں عام دنوں کی بہ نسبت اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ عام دنوں میں تو آدمی بڑی حد تک یا ایک حد تک انفرادی حیثیت سے عبادات و فرائض کی بجا آوری کرتا ہے لیکن رمضان کا زمانہ وہ ہے جسے بحیثیتِ مجموعی پوری قوم کے لئے نیکی کا موسم قرار دیا گیا ہے۔ ساری قوم بیک وقت روزہ رکھتی اور افطار کرتی ہے۔ سب ایک ہی وقت میں جاکر تراویح پڑھتے اور دوسری عبادات انجام دیتے ہیں۔ اس طرح پوری قوم کے اندر نیکی کا ایک عام ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لئے اس زمانے میں نیکی خوب پھلتی پھولتی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح بارش کے زمانے میں فصل عام زمانے کی بہ نسبت خوب بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہے۔ چنانچہ رمضان کے دنوں میں آدمی جو نیکی بھی کرتا ہے وہ اکیلے اسی کی نیکی نہیں ہوتی بلکہ بے شمار نیکیاں مل کر اس کو بڑھا رہی ہوتی ہیں۔ پھر چونکہ رمضان نیکیوں کا عام موسم ہے اس لئے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا فیضان بھی عام ہوتا ہے۔ ایک آدمی جو نفل نماز بھی پڑھے ، کسی کے ساتھ بھلائی کا جو کام بھی کرے، جو خیرات بھی کرے اسے اس پر اتنا اجر ملے گا جتنا عام دنوں میں فرض ادا کرنے پر ملتا ہے۔ اسی طرح رمضان کے زمانے میں اگر کوئی شخص فرض ادا کرتا ہے، خواہ وہ زکوٰۃ یا نماز یا روزہ ہو، تو اسے اس کا اتنا اجر ملے گا جتنا اس کو عام دنوں میں ستّر گنا زکوٰۃ نکالنے، ستّر نمازیں پڑھنے یا ستّر روزے رکھنے کا ملتا ہے۔
’’صبر ‘‘ کے معنیٰ عربی لغت میں باندھنے اور روکنے کے ہیں۔ اس مقام پر صبر سے مراد ہے اپنے آپ کو اتنا باندھنا اور ایسا ضبطِ نفس کرنا کہ آدمی اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہ کرے اور اس کی اطاعت کے دائرے سے باہر نہ نکلے۔
ارشاد فرمایا کہ صبر ہی کا ثواب جنت ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ایک آدمی اگر جنت حاصل کرتا ہے تو اسی وجہ سے حاصل کرتا ہے کہ وہ اپنے نفس پر اتنا قابو پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ اس کی خواہشات نفس بے لگام نہیں ہونے پاتیں اور وہ ان کو رضائے الٰہی کا پابند بنا دیتا ہے۔
اس صبر کی جتنی مشق رمضان میں ہوتی ہے اور کسی زمانے میں نہیں ہوتی۔ رمضان میں آدمی مسلسل چوبیس گھنٹے صبر کی مشق کرتا ہے۔ سحری کا وقت اس کے اٹھنے کا نہیں ہوتا لیکن وہ اٹھتا ہے۔ وہ وقت کھانے کا نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے نفس سے کہتا ہے کہ تیرے رب نے یہی وقت تیرے کھانے کے لئے مقرر کیا ہے، اس وقت کھانا ہے تو کھالے ورنہ دِن بھر تجھے بھوکا رہنا پڑے گا۔ گویا اس طرح اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے آپ کے نفس کی لگام آپ کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور آپ اس پر سوار ہوتے ہیں (بجائے اس کے کہ یہ آپ پر سوار ہو) جس وقت اللہ کا حکم ہوا بس اسی وقت کھانا پینا بند ہو گیا۔ پھر آپ کا ہاتھ نہ کھانے کی طرف بڑھتا ہے نہ پینے کی طرف۔ دِن بھر آپ پر خواہ کچھ ہی گزر جائے آپ اپنے نفس کو بے قابو نہیں ہونے دیتے۔ پھر جس وقت اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے آپ فوراً افطار کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہے وہ طریقہ جس سے آپ کو اپنے نفس پر قابو پانے اور صبر کرنے کی مشق کرائی جاتی ہے اور یہی وہ صبر ہے جس کا نتیجہ جنت ہے کیونکہ اسی صبر کی بدولت تو آپ اس پر قادر ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکام و ہدایات کی خلاف ورزی سے بچیں اور ہر حال میں اس کی اطاعت و فرمانبرداری کو اپنا شعار بنائے رکھیں۔
پھر فرمایا کہ ’’ یہ مہینہ مواساۃ کا مہینہ ہے۔‘‘
مُواساۃ کے معنیٰ ہیں باہم ہمدردی کرنا اور ایک دوسرے کے دُکھ درد میں کام آنا۔ رمضان کے شھر المواساۃ ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ اس مہینہ میں لوگوں کو ایک دوسرے کی مدد اور ہمدردی کرنے کی تربیت دی جاتی ہے کیونکہ ایک آدمی کو جب خود بھوک کا تجربہ ہوتا ہے تبھی اسے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ دوسرے پر بھوک میں کیا گزرتی ہے اور وہ کس قسم کی ہمدردی کا مستحق ہوتا ہے۔
’’ اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے۔‘‘
کوئی شخص ناپ تول کر یا حساب لگاکر تو یہ نہیں بتاسکتا کہ رمضان میں اس کی آمدنی کتنی بڑھی یا اس کی تنخواہ میں کیا اضافہ ہوا لیکن لاکھوں، کروڑوں مسلمانوں کا یہ تجربہ ہے کہ رمضان میں جیسا کچھ وہ کھاپی لیتے ہیں۔ عام حالات میں وہ ان کو میسر نہیں آتا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لازماً کوئی ایسی برکت ہے جو اس مہینے میں اللہ تعالیٰ مومن کے رزق میں ڈال دیتا ہے۔
پھر فرمایا کہ ’’جو شخص کسی کا روزہ کھلوائے تو وہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا اور اس کی گردن کو دوزخ کی سزا سے بچانے کا ذریعہ ہے اور اس کو اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس روزہ دار کو روزہ رکھنے کا ملے گا بغیر اس کے کہ اس روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہو۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ کا فضل اتنا محدود نہیں ہے کہ وہ روزہ دار کے اجر میں سے کاٹ کر افطار کرانے والے کو کچھ دے دے کہ یہ تیرے افطار کرانے کا اجر ہے۔ نہیں بلکہ جتنا اجر روزہ رکھنے والے کو ملتا ہے اتنا ہی اجر اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے اس شخص کو دیتا ہے جو روزہ افطار کراتا ہے۔
یاد رہے کہ اَجر اُن افطاریوں کے لئے نہیں ہے جو بطور ریاکاری کے اپنی شان و شوکت کے مظاہرے کے لئے کرائی جاتی ہیں اور جن سے مقصود لوگوں کو یہ دکھانا ہوتا ہے کہ حضرت کتنے دولت مند ہیں اور راہِ خدا میں کس قدر خرچ کرنے والے ہیں۔
یہاں جس اجر کا ذکر کیا جارہا ہے وہ تو ان لوگوں کے لئے ہے جو اللہ کی خاطر لوگوں کو افطار کرائیں اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ ان لوگوں کو افطار کرائیں جو بہتر افطار کرنے کے قابل نہیں ہیں، بہ نسبت اس کے کہ کھاتے پیتے لوگوں کو افطار کرایا جائے۔
اوپر کی سطور میں نبی ﷺ کے جن ارشادات کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بعد حضرت سلمان فارسی ؓ بتاتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک کو اتنی توفیق نہیں ہے کہ روزہ دار کو روزہ کھلوائے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ اجر تو ہر اس شخص کا ہے جو کسی روزہ دار کو دودھ یا لسّی پلا دے یا ایک کھجور کھلا دے یا ایک گھونٹ پانی پلادے۔ یعنی یہ اجر بڑی بھاری افطاریوں کا نہیں ہے بلکہ یہ تو محض روزہ کھلوادینے کا اجر ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ کیسے ہی سادہ طریقے سے کھلوایا گیا ہو۔
پھر فرمایا :’’اور جو شخص کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلادے اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض سے پانی پلائے گا۔ پھر اسے اس وقت تک پیاس محسوس نہ ہوگی جب تک وہ جنت میں داخل نہ ہو جائے۔‘‘
احادیث میں آتا ہے کہ میدانِ حشر میں پانی کا ایک حوض ہوگا جسے حوض کوثر کہا جاتا ہے۔ اس حوض کے محافظ اور نگراں خود نبی ﷺ ہوں گے۔ اس سے پانی وہی پئے گا جس کو نبی ﷺ پلائیں گے۔ کسی دوسرے شخص کو اس سے پانی پینے کا موقع نہیں ملے گا۔ پھر اس حوض کے سوا میدانِ حشر میں کوئی دوسرا حوض بھی نہیں ہوگا جہاں سے کوئی شخص پانی پی سکے۔ حضور نبی کریم ﷺ اس حوض پر صرف انہی لوگوں کو آنے دیں گے جو اس قابل ہوں گے کہ آگے جاکر جنت میں داخل ہو سکیں۔چنانچہ جو شخص ایک روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاتا ہے اسے میدانِ حشر میں حوضِ کوثر سے پانی ملے گا تا آنکہ وہ جنت میں داخل ہو جائے۔
میدانِ حشر کے متعلق یہ بات بھی احادیث سے معلوم ہوتی ہے کہ وہاں کوئی سایہ اللہ کے سائے کے سوا نہیں ہوگا اور وہ سایہ صرف نیک آدمیوں کو میسّر آئے گا۔ بد آدمیوں کے لئے وہ سایہ نہیں ہوگا۔ تصور کیجئے کہ اس میدانِ حشر میں جہاں اللہ کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، اس شخص کو برابر پانی ملتا رہے گا جو یہاں کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کے کھانا کھلاتا ہے۔
پھر فرمایا ’’ اور یہ وہ مہینہ ہے جس کے آغاز میں رحمت ہے، وسط میں مغفرت ہے اور آخر میں دوزخ سے رہائی ہے۔
یعنی ادھر اس مبارک مہینے کی آمد پر آپ روزہ رکھنا شروع کرتے ہیں اُدھر اللہ کی رحمت آپ پر سایہ فگن ہو جاتی ہے۔ پھر رمضان کے وسط تک پہنچتے پہنچتے اللہ تعالیٰ آپ کے قصوروں سے درگزر فرمالیتا ہے اور آپ کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ اس طرح جب آپ رمضان کے آخر تک پہنچتے ہیں تو ادھر آپ آخری روزہ رکھتے ہیں ادھر آپ کو دوزخ کے خطرے سے آزادی حاصل ہو جاتی ہے۔
اس آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب آخری روزے کی وجہ سے آپ کو دوزخ سے آزادی حاصل ہو گئی تو آپ آزاد ہیں کہ جو جی چاہے کرتے پھریں، اب آپ پر کوئی گرفت نہیں ہوگی ۔ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ بعض لوگ رمضان کے ختم ہوتے ہی وہ سب پابندیاں توڑ ڈالتے ہیں جو اس مبارک مہینے میں انہوں نے اپنے اوپر عائد کر رکھی ہوتی ہیں۔ بس رمضان ختم ہوا اور وہ عین عید کے دِن (شوال کی پہلی ہی تاریخ کو) سنیما دیکھنے چلے گئے اور پھر اس سے آگے بڑھ کر ناچ گانے کا شوق بھی کر لیا۔ پھر کہیں بیٹھ کر کچھ تھوڑا بہت جوا وغیرہ بھی کھیل لیا۔ یہ سب کچھ اگر ایک شخص نے کرڈالا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ادھر وہ دوزخ کے خطرے سے آزاد ہوا اور ادھر اس نے پھر اس میں کودنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ ظاہر بات ہے کہ کوئی بھلا آدمی جس کے دِل میں ایمان کی کچھ روشنی اور خوفِ خدا کی کوئی رمق موجود ہو یہ کھیل نہیں کھیل سکتا۔
’’اور جس نے رمضان کے مہینے میں اپنے غلام (یا نوکر) سے ہلکی خدمت لی اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ سے آزاد کر دے گا۔‘‘
رمضان کے زمانے میں آدمی کو اس بات کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ جیسے وہ خود روزے سے ہے ویسے ہی اس کا نوکر بھی روزے سے ہے۔ نوکر اور خادِم سے اس طرح کَس کر خدمت لینا کہ جیسے وہ تو روزے سے نہیں ہے اور آپ ہیں کہ روزہ رکھ کر نڈھال ہوئے جاتے ہیں، یہ کسی بھلے آدمی کا کام نہیں ہو سکتا۔ جو شخص رمضان کے زمانے میں اپنے نوکر کے کام میں تخفیف کرتا ہے اور اس سے نرمی برتتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کی آگ سے بچائے گا۔
موجودہ زمانے میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ اپنے ماتحتوں سے ،نوکروں یا غلاموں سے نہیں رمضان کے زمانے میں معمول سے زیادہ کس کر کام لیتے ہیں۔ گویا وہ اپنے عمل سے یہ بات کہتے ہیں کہ اچھا تم نے روزہ رکھنے کی گستاخی کی ہے۔ اب تمہاری سزا یہ ہے کہ تمہاری ڈیوٹی عام دنوں سے دُگنی ہو گئی ہے تاکہ تمہیں ذرا معلوم تو ہو کہ اس زمانے میں اور ہمارے زیرِ سایہ تم روزہ رکھنے کی جسارت کرتے ہو۔ لیکن خوب سمجھ لیجئے کہ رسول اللہ ﷺ کی واضح ہدایت یہ ہے کہ اگر تمہارا کوئی غلام بھی ہے (یہاں مملوک کا لفظ ہے، خادم کا لفظ نہیں ہے) تو تمہارا یہ کام ہے کہ رمضان کے زمانے میں اس سے سخت قسم کا کام نہ لو۔ بلکہ اس کے ساتھ نرمی برتو اور اسے ہر ممکن سہولت دو۔ اس بات کا صلہ، اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لئے یہ ہوگا کہ وہ تمہیں دوزخ کی آگ سے بچائے گا۔
(ماخوذ تفہیم الاحادیث)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *