این آئی اے کی جانب سے ہندو ملزمین کے خلاف نرم رویہ برتنے کا شدید دباؤ

مورخہ 25/6/2015کے انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس میں صفحہ اول کی ہیڈنیوز کے طور پرایک نہایت اہم اوردوررس نتائج کی حامل خبر شائع ہوئی ہے خبرمیں مالیگائوں 2008ء بلاسٹ دھماکہ میں سرکاری وکیل روہنی سالیان نے دعویٰ کیا ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بہت کچھ بدل گیاہے۔ گذشتہ سال 2014ء میں مجھے NIAکے ایک بڑے افسرنے فون کرکے ملنے کے لئے کہااور فون پر بات کرنے سے منع کردیا۔ میرے وہاںجانے پراس نے مجھے بتایا کہ اوپرسے حکم ہے کہ مجھے کیس میں نرم رہنا ہوگا۔ اور اپنے مخالف فیصلہ لینے ہوںگے۔ محترمہ سالیان نے کیس کے بارے میںہیمنت کرکرے کی تفتیش کے بارے میں تفتیش کے کاغذات میں شنکر آچاریہ کے لیپ ٹاپ میں سازشی میٹنگوں کی ریکارڈنگ کے بارے میں بہت کچھ سنسنی خیز اور حکومت کے رویہ پرانگلی اٹھانے والاہے۔ روہنی نے کہا ہے کہ میں نے NIAسے کہہ دیا ہے کہ مجھے سبکدوش کردیں تاکہ میں NIAکے خلاف دیگر مقدمات میں بحث کرسکوں، محترمہ نے یہ بھی بتایاکہ کورٹ میں مجھے اور دوسرے وکیل مریارپوتھمMariar Puthumکو سینٹروکیل سرکاری نے کس طرح ذلیل کیا اور پیش نہ ہونے کے لئے دبائوڈالا گیا۔ روہنی سالیان نے کہاہے کہ میں راسخ العقیدہ ہندوہوں مگر ہندوہونے کا مطلب ہوتاہے کہ آپ غلط نہیں کریںگے اور کسی کے خلاف تعصب نہیں کریںگے۔ جوبھی جرم کرتاہے وہ مجرم ہے چاہے جوبھی ہو۔
ایک نہایت ذمہ دار قانونی ماہر کے یہ انکشافات اگر صحیح ہیں تو موجودہ حکومت اور اس کے اہم سیکورٹی اداروں میں بیٹھے ذمہ داروں کی ذہنیت اور نیت پر سنگین سوالات کھڑے کرنے والے ہیں۔ موجودہ حکومت کے حمایتیوں خصوصاً نجمہ ہیبت اللہ،مختارعباس نقوی، ،شاہنوازحسین ، صہیب قاسمی،عمیرالیاسی،کلب جواد، مسلم بیداری فورم ،ڈاکٹر جسیم الدین،سراج الدین قریشی، ظفرشریش والا،شاہد صدیقی صاحبان فرمائیں گے کہ دن رات مسلم اقلیتوں کی تعلیم وترقی کا دعویٰ کرنے والے اندرونی طورپر اس عظیم فرقہ کے خلاف ہورہے ظلم وزیادتیوں کو رکوانے میں ناکام ہی نہیں بلکہ ظلم وزیادتی بڑھانے کے حربہ کیوں اپنا رہے ہیں؟ مسلم دشمنی کے اتنے واضح مستند شواہد کے بعد بھی کیا ’’ہردیہ پریورتن‘‘ کی بات کی جاسکتی ہے کیا یہ قلب کی تبدیلی کے بجائے اسٹریٹجی (حکمت عملی)کی تبدیلی تونہیں ہے؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *