بابائے اردومولوی عبدالحق کا مکتوب گاندھی جی کے نام

مکرمی گاندھی جی ! میں بہت دنوں سے سوچ رہاتھا کہ آپ کو خط لکھوں مگر اس خیال سے بازرہاکہ آپ جیسے عالی مرتبہ لیڈر نے جو دنیا کا وسیع تجربہ رکھتاہے اور مقبول خاص وعام ہے، قیام امن کے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے تو آپ کو اس بارے میں لکھنا سورج کو چراغ دکھانا ہے لیکن جب میں نے دیکھا کہ باوجود آپ کی کوشش کے معاملہ حد سے گزرچکاہے اور پانی سرسے اونچا ہوگیاہے تو میں نے بہت تامل کے بعد چند سطریں آپ کو لکھنے کی جرأت کی ہے ۔ میں نے کبھی ملکی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ میں اپنے آپ کو اہل نہیں سمجھتا لیکن میں بے خبر بھی نہیں رہاہوں، انڈین نیشنل کانگریس، مسلم لیگ اور سیاسی جماعتیں میرے سامنے وجود میں آئیں اور میں ان کا لٹریچر برابر پڑھتا ہوں اور میں نے ان کے بعض لیڈروں اور رازدانوں سے سیاسی امور اور نظریوں کے متعلق باتیں بھی کی ہیں۔ اس زمانے میں بہت سے اختلاف اور تنازع پیش آئے لیکن اس وقت جو حالت رونما ہوئی ہے اور جسے لکھتے ہوئے قلم کانپتاہے اور دل خون ہواجاتاہے ،اس کا کسی کو سان وگمان بھی نہیں تھا۔ آپ نے ضرور غور کیا ہوگا کہ ایسا کیوں ہوا ،آپ نے اور آپ کے ہم خیال کانگریسی لیڈروں نے اس کا سبب دوقوموں کے نظریے اور پاکستان کی تحریک کو قرار دیا ہے۔ دوقوموں کے نظریے کا الزام قائد اعظم محمدعلی جناح کو دیاگیاہے۔ یہ صحیح نہیں ہے اور واقعات اس کی تائید نہیں کرتے۔ یہ نظریہ نیا نہیں ہے بہت پرانا ہے ان کے بانی ہندو ہیں۔ جب ملک ہندوستان کی حکومت ۱۸۵۷ء کے بعد باقاعدہ طور پر گورنمنٹ برطانیہ کے ہاتھ میں آئی تو اس وقت سے ہندوستان میں قومی احیاء کا خیا ل پیدا ہوا ، اس کو سوامی دیانندسرسوتی کی آریائی تحریک نے بہت زیادہ پختہ اور مستحکم کردیا۔ اس تحریک کا مقصد ویدک کلچر، ویدک روایات، ویدک مذہب اور سنسکرت زبان کا ازسرنو زندہ کرنا تھا۔ سوامی جی نے عجیب عجیب طریقوں سے آریائی قوم کو سب قوموں سے فائق، آریائی مذہب اور کلچر کو تمام مذاہب اور کلچروں سے برتر اور سنسکرت زبان کو باقی زبانوں سے افضل ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اسی پر اکتفانہیں کیا بلکہ مذہب اسلام اور پیغمبرؐاسلام کی سخت مذمت اور توہین کی اور ہندوئوں کے دلوںمیں مسلمانوں کی طرف سے نفرت پیداکی۔
اس قومی احیاء اور برتری کے خیال نے ایک بات اور سمجھائی وہ یہ کہ اپنی قومیت کے لئے اپنی ایک زبان بھی الگ ہونی چاہئے۔ اس خیال نے دوقوموں کی تعریف کو ایسا مکمل کردیا کہ پھر ان کو ایک ہونے کی کوئی توقع باقی نہ رہی۔ چنانچہ اس بناپر ہندوئوں نے منظم طور پر کوشش کی کہ دفتروں عدالتوں اور مدرسوں سے اردو خارج کرکے ہندی رائج کی جائے۔ اس سے ہندوئوں اور مسلمانوں میں شدیداختلافات اور تنازعہ پیداہوا، یہاں تک کہ سرسیداحمدخان جیسا شخص جس کی تمام اصلاحی تحریکیں، تعلیمی ،عملی، معاشرتی ،لسانی خدمات ، ملک کے سب باشندوں کے لئے یکساں تھیں۔ جن میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے جن میں ہندومسلم کی تفریق کا بھولے سے بھی خیال نہیں آیاتھا ، بیزار ہوکر یہ کہہ اٹھا کہ اب ہم مل کر کام نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا یہ تھاکہ یہ زبان جو ہندو اور مسلمان دونوں کی یکجہتی سے وجود میں آئی اور ان دونوں کی کوشش سے بڑھی اور پھولی پھلی، اسے صرف اس لئے واپس نکالا جارہاہے کہ وہ اسلامی عہد کی یادگار ہے۔ شدھی سنگھٹن کے ہنگامے میں اس خیال نے زور پکڑلیا اور آخر میں آپ نے اپنے اصول عدم تشدد کے تحت بڑی خوبی اور ترکیب سے اس بھڑکتی ہوئی آگ پر آہستہ آہستہ تیل چھڑکنا شروع کردیا جس کے شعلے دور دور تک پہنچے اور آپ کی بدولت یہ فتنہ جو شمالی ہند کے بعض خاص علاقوںتک محدود تھا سارے ملک میںایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیل گیا اس کے بعد کسی کو شک نہ رہا کہ ہندواور مسلمان دوالگ قومیں ہیں۔
یہ تو تھا مذہبی اورتہذیبی پہلو۔ اب سیاست کی طرف آیئے۔ سیاسی اختلافات بھی ہندوئوں اور مسلمانوں میںنہیں ہیں یہ ایک مدت سے چلا آرہاہے لیکن دونوں قوموں میں بعض ایسے نیک دل اور ملک کے سچے دوست بھی تھے جو اس ناگوار تنازعہ کو سلجھانے کی کوشش کرتے رہے۔ متعدد بار ایسے مواقع آئے لیکن ہر بار انڈین نیشنل کانگریس کے بعض سربرآوردہ لیڈروں نے خفیف سی باتوں پر اڑکر سمجھوتے کوناکام کردیا ۔ جب کانگریسی حکومت کادورآیاتواس وقت بھی صوبائی حکومتوںکا برتائومسلمانوں سے اچھا نہ رہا اور کھلے طور پر ثابت ہوگیا کہ ان محبان وطن سے انصاف کی توقع رکھنا عبث ہے۔ یہ مواد آہستہ آہستہ پکتا رہا اور آخر پھوٹ کر بہا۔ تنگ اور بے زار ہوکر مسلمانوںنے تقسیم کا مطالبہ کیا کیونکہ عزت کی زندگی بسر کرنے کی کوئی دوسری صورت نظرنہیں آتی تھی۔ غرض دوقوموں کا نظریہ ہندوئوں کا پیداکیا ہواہے اور انہی کی بدولت پاکستان کا خیال وجود میں آیا۔ نہ وہ مسلمانوں کو ذلیل وتنگ کرتے نہ یہ نوبت آتی۔ آپ صاحبان نے وفاداری کی رٹ لگارکھی ہے، یہ آپ کا وظیفہ ہوگیا ہے جس کا شب وروز موقع بے موقع ورد کیا جاتاہے۔
آخریہ وفاداری ہے کیا بلا؟ آپ چاہتے کیا ہیں؟کیاآپ یہ چاہتے ہیں کہ ہرمسلمان جو ہندوستان میں آباد ہے آپ کو لکھ کر دے کہ میں پاکستان سے ہمدردی نہیں رکھتا۔ میں اس کا مخالف ہوں۔ گاندھی جی! وفاداری بازار میں نہیں بکتی ، اگر آپ کو مسلمانوں سے وفاداری چاہئے تو یہ آپ کے ہاتھ میں ہے ان کے ہاتھ میں نہیں ۔ اگر آپ ان سے انصاف انسانیت ، شرافت کا برتائوکریں گے تو وہ آپ کے سب سے زیادہ وفادار اور جاںنثار ثابت ہوںگے، لیکن اگر آپ نے اپنی روش نہ بدلی اور یہی طریقہ جاری رکھا اور مسلمانوں کو غیروفادار غدار، ففتھ کالمسٹ کہہ کر ان کا دل دکھاتے رہے تو آپ کو سچی وفاداری کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ آپ نے اپنے عبادتی جلسوں میں جس قسم کی تقریروں کاسلسلہ شروع کررکھا ہے وہ تضیع اوقات ہی نہیں بلکہ بعض حالات میں ملک کے حق میں مضرت رساں ثابت ہوتی ہیں۔ معلوم ہوتاہے کہ اس وحشیانہ اور خونریز ہنگامے سے آپ کے دماغ پر بھی کچھ اثر پڑاہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات آپ اپنے منصب سے تجاوز کرجاتے ہیں اگر آپ نے کشمیر کے معاملے میں سوچ سمجھ سے کام نہ لیا اور اپنی ضد پر قائم رہے تو یہ مسئلہ یہیں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان اور ہندوستان دونوں میں تہلکہ مچ جائے گا اور خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔ اس کی روک تھام ابھی سے ہونی چاہئے ۔ اس بارے میں آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں یہ مانا کہ آپ گورنمنٹ نہیں لیکن گورنمنٹ گرتوہیں اور اس پرآپ کا جو غیر معمولی اثر ہے وہ کسی دوسرے کا نہیں ہے۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ یہ پالیسی کہاں تک حق بجانب ہے آپ کی حکومت کے بعض ذمہ دار لیڈروں نے اس امر کا باربار اعادہ کیا ہے کہ ہندوستان کو پھر ایک ہونا پڑے گا اور تقسیم کالعدم ہوجائے گی، اس کے دوہی طریقے ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ آپ کی حکومت پاکستان پر چڑھائی کرکے اسے فتح کرے یا یہ کہ آپ پاکستان اور مسلمانوں کو اس قدر تنگ اورزچ کردیں کہ وہ مجبوراً عاجز ہوجائیں۔ ایسے نازک زمانے میں جبکہ ملک پر مصیبت کی گھٹاچھائی ہوئی ہے، ذمہ دار ارباب حکومت کا عام جلسوں میں ایسی باتیں کرنا کہاں تک قرین مصلحت ہے؟ ایک طرح یہ لڑائی کا چیلنج ہے اس طویل بیان کی آپ سے معافی چاہتا ہوں ممکن ہے بعض باتیں آپ کے خلاف مزاج ہوں۔
(شکریہ، آگ ۲۲؍جنوری۲۰۱۵ئ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *