دختران ملت کے نام کھلاخط

خیر وعافیت کی امید کے ساتھ سلام ورحمت فراوان
پیاری بہنو!
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں ، مسلمان کی کیا شان اور پہچان ہوتی ہے اس سے آپ ضرورواقف ہوںگی۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ مسلمان کا مقصدزندگی کیاہے، اور اس کا طرز زندگی (لائف اسٹائل)کیسا ہوناچاہئے مجھے امید ہے کہ آپ اسلامی طرز زندگی کو پسند کرتی ہوںگی اور اسی کے مطابق اپنی زندگی گزار نا چاہتی ہوںگی،ا ور اگر خدانخواستہ ایسانہیں ہے تو یہ بڑے افسوس کا مقام ہے ، ذراسوچئے! کیا یہ اپنے دین کے ساتھ غداری نہیں ہے کہ ہم جس دین کے ماننے والے ہیں ہماری زندگی اس کے مطابق نہ ہو، اس کا انجام دنیامیں ذلت ورسوائی اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔
خوب جان لیجئے اسلام دین فطرت ہے اس کے تمام احکامات انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں، اگر ہماری زندگی اس کے خلاف ہے توایسی زندگی غیر فطری زندگی ہے جو نہ تو ہمارے قلب ودماغ کو مطمئن کرسکتی ہے اور نہ ہی آخرت کے عذاب سے بچاسکتی ہے،اس حقیقت کا ادراک بھی ضروری ہے کہ انسان اپنے بارے میں خواہ سب سے زیادہ جانتا ہومگر اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اس کا خالق اس کے بارے میں اس سے کہیں زیادہ جانتاہے اس لئے انسان کی فلاح وخسران اور لائف اسٹائل کے بارے میں اس کے خالق کا بتایا ہوا طریقہ ہی زیادہ صحیح ، بہتر اور سودمند ہوسکتاہے کسی اور کا نہیں۔
خواہران اسلام !
آج میں تمہاری توجہ اسلام کے ایک اہم رکن پردہ کی طرف مبذول کراناچاہتا ہوں اگر آپ شرعی پردے کی پابند ہیں تو زہے نصیب اور اگر پابند نہیں ہیں یااس میں لاپرواہی کرتی ہیں تو آپ بہت ہی بدنصیب ہیں۔ ایسی بہنوں سے میںکہنا چاہتاہوں کہ تم کو تمہارے خداکا واسطہ پردہ کرو، تمہارے نبی کا واسطہ پردہ کرو، تمہاری عزت کا واسطہ پردہ کرو، تمہاری حفاظت کا واسطہ پردہ کرو، تمہاری آبرو کا واسطہ پردہ کرو، شیطان تمہیں بے پردہ کرنا چاہتاہے اس لئے پردہ کرو، وہ تمہیں ننگا کرنا چاہتاہے اس لئے پردہ کرو، وہ تمہیں بے حیا وبے شرم بنانا چاہتاہے اس لئے شرم وحیا کا دامن مت چھوڑو، دیکھو شیطان صفت انسان تمہیں ہوس بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں انہیں اس کا موقع نہ دو،کیا تم اپنے آپ کو مردوں کی بدنگاہی سے بچانا نہیں چاہتیں، تمہیں معلوم ہوناچاہئے کہ اسلام دین فطرت ہے اور عورت کی فطرت میں اللہ نے شرم وحیا کا وافر مادہ رکھا ہے اس لئے تمہاری فطرت کا بھی تقاضہ ہے کہ پردہ کرو، اپنی فطرت سے لڑنا کوئی اچھی بات نہیں، مغربی تہذیب کے اصول وضوابط غیر فطری ہیں تم انہیں اپنا کراپنے آپ کو مطمئن نہیں کرسکتی ہو، دیکھو بے پردگی تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی نہ دنیا میں اس سے کوئی عزت وراحت ملنے والی ہے اور نہ آخر میں اس کے بھیانک انجام سے بچ پائوگی ۔ بدکردار لوگ تمہیں بے پردہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ تمہیں گھر سے باہر لانا چاہتے ہیں وہ تمہیںجنس بازار بنانا چاہتے ہیں وہ تمہیں عزت سے ذلت کی طرف لانا چاہتے ہیں کیا تمہیں اپنا احترام عزیز نہیں؟اگر ہے تو کوچہ وبازار کی زینت بننے سے بچو، اپنے وقار اور مقام ومرتبہ کو سمجھو دیکھو ہر قیمتی چیز چھپاکر رکھی جاتی ہے تم اپنے آپ کو کیوں بے وقعت وبے قیمت بنارہی ہو، تم ایسے لباس کیوں پہنتی ہو جسے پہننے کے بعد بھی تم بے لباس نظرآتی ہو، کیا تم اپنے جسم کے ایک ایک عضوکی نمائش کرنا چاہتی ہو آخرکیوں؟ کہاںگئی تمہاری غیرت کیا تمہاری ماں نے تمہیں اسی لئے جنا تھا کہ تم اپنی عزت وشرافت کو نیلام کردو ، تم جنس بازار بن جائو، تم سڑک چھاپ ہوکر رہ جائو، ذراسوچو، ایسی عورتوں کا سماج میں کیا مقام ہے ، کیا ان کی کوئی عزت ہے؟ کیا ان سے کسی عظیم کام کی توقع کی جاسکتی ہے؟ کیا ایسی عورتوں کی گودوں میں پلنے والی اولادیں عظیم انسان بنیں گی؟ یادرکھئے !سڑک چھاپ عورتیں عظیم انسان نہیں پیداکرتیں، تاریخ میں جتنے بڑے لوگ گزرے ہیں ان کی مائوں نے انہیں عظیم بنایا تھا اگر عظیم انسان پیداکرنا ہے تو بڑوں کی مائوں کو اپنا آئیڈیل بنائو، فلموں میں ناچنے ، گانے والی ہیروئنوںکو نہیں۔
رکھیو بہنوں مجھے اس تلخ نوائی پہ معاف
آج کچھ دردمیرے دل میںسِواہوتاہے
(روح غالب سے معذرت کے ساتھ)لو میں نے اپنے دل کا درد بیان کردیا، جو کچھ کہنا چاہتا تھا صاف صاف کہہ دیا، اور کہوں تو تم کوگراں ہوسکتاہے، اس لئے بس کرتاہوں ۔ ع ’’شاید کہ اترجائے تیرے دل میں میری بات‘‘
ان معروضات کے ساتھ بہتر ہوگا اگر ہماری بہنیں پردے سے متعلق قرآنی آیات بالخصوص سورہ نور آیت نمبر ۳۱، احادیث مبارکہ اور اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کریں خاص طور سے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’پردہ‘‘ بہت اہم ہے۔
(آپ کا دینی بھائی )

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *