میدان بدر ۔غلبہ اسلام کی اولین سرزمین

’’اے اللہ ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے عہد اور تیرے وعدہ کا سوال کرتا ہوں ۔ اے اللہ ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو زمین پر تیری عبادت کرنے والا نہ رہے گا ۔ ‘‘
اللہ رب العالمین کے چہیتے بندے حضرت محمد مصطفی ﷺ کی یہ عاجزانہ دعا مالک الملک کے دربار میں ان عظیم ہستیوں کے حق میں تھی جن کو دنیا اصحاب بدرؓکے نام سے جانتی ہے اور اس وقت کی گئی تھی جب مٹھی بھر صحابہؓ نے بے سروسامانی کے عالم میں اپنی جان ہتھیلی پر لے کر مشرکین مکہ کے جم غفیر سے ٹکر لینے بدر کے میدان کا رخ کیا تھا۔ان کی بے سروسامانی کا اللہ نے بھی تذکرہ کیا ہے۔ ’’اور اللہ نے جنگ بدر میں تمہاری مدد کی جب تم کمزور (اوربے سروسامان )تھے‘‘ (آل عمران۔ آیت ۱۲۳) جنگ بدر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت ملنے کے بعد یہ پہلی جنگ تھی جس کا تذکرہ قرآن مجید میں بڑی تفصیل سے سورہ آل عمران اور الانفال میں ملتا ہے۔
جنگ بدر ۲ھ میں پیش آئی اور اس سے قبل تقریباً ۱۵ سال تک اسلام اپنی شہرت و مقبولیت میں مسلسل اضافہ کے باوجود مغلوب تھا۔ مکی زندگی تو سب پر عیاں ہے کہ کس طرح ظالم مشرکین اہل ایمان کے ساتھ جو چاہے سلوک کرتے رہے حتیٰ کہ انہیں اپنے گھر بار اور مال و اسباب چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑا۔ مدینہ منورہ میں جنگ بدر سے پہلے تک کے حالات بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کو یہاں بھی چین و سکون نصیب نہیں ہوا تھا۔مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازش میں ناکام ہونے کے بعد اہل مکہ نے اسلام کو مدینہ میں بھی پنپنے سے روکنے کا فیصلہ کیا اور مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے لگے۔ ان کی چراگاہوں پر حملے کئے‘ قافلوں کے راستے روکے جانے لگے۔ اہل مدینہ جب طواف کعبہ کے لئے پہنچے تو انہیں دھمکیاں دی گئیں کہ محمد اور ان کے ماننے والوں کو پناہ دینے کا انہیں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ مدینہ کے اطراف کے قبائل کو بھڑکایا جانے لگا اور خود مدینہ کی بستی میں شورش برپا کرنے اور مسلمانوں کی دشمنی پر اکسانے کی کوششیں کی جانے لگیں ۔ مدینہ کے باہر چھاپہ مار حملے شروع کردیئے گئے تب نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے اطراف حفاظتی دستوں کی گشت کے ذریعہ اپنے سابق ابنائے وطن کو احساس دلایا کہ اگر ظلم نے مزید سراٹھایا تو اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے ایسے وقت مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دے دی جب قریش مدینہ پر کاری ضرب لگانے کے لئے جنگ کی زبردست تیاری کر رہے تھے ۔ہجرت کے دوسرے سال قریش ایک ہزار کی تعداد میں اس کروفر کے ساتھ نکلے کہ سو سوار تھے‘ تمام روسائے قریش شریک تھے‘ عتبہ بن ربیعہ فوج کا سپہ سالار اعظم تھا۔اس کے علاوہ کئی سپہ سالار تھے۔ فوج کے پاس 100 گھوڑے اور 600 زرہیں تھیں۔ 500 سپاہی پورے ہتھیاروں سے لیس یعنی تلوار‘ ڈھال ‘ زرہ بکتر اور نیزہ وغیرہ۔ اونٹ اتنی کثرت سے تھے کہ طعام کے لئے روزانہ 9تا 10 اونٹ ذبح کرتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کو یہ اطلاع ملی تو آپؐ نے دشمنوں کی تعداد کا اندازہ اسی سے لگایا کہ ایک اونٹ 100 آدمیوں کے لئے کافی ہے تو ان کی تعداد 900 سے 1000 کے درمیان ہے۔
دوسری جانب اسلامی لشکر 313افراد پر مشتمل تھا۔ان میں کم و بیش 85 مہاجرین اور باقی انصار تھے۔ پورے لشکر میں صرف دو یا تین گھوڑے‘ 70 اونٹ تھے۔ صرف 6 زرہ پوش ‘ 8 شمشیر زن اور بقیہ سپاہیوں کے پاس نیزوں اور تیر کمانوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ دونوں لشکروں کے حالات جاننا اس لئے ضروری ہے تا کہ جنگ کی کیفیت کو اچھی طرح سمجھا جاسکے کہ کس طرح ایک قلیل وہ بھی بے سروسامان گروہ کو حق تعالیٰ نے کثیر اور کیل کانٹے سے لیس فوج پر غلبہ عطا فرمایا۔
غزوہ بدر کے بے شمار پہلو ہیں جو زیر بحث آسکتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ وہ جنگ جسے قرآن ’’یوم الفرقان۔ حق و باطل میں فرق کردینے والے دن ‘‘سے تعبیر کرتا ہے‘ دور حاضرمیں کیا افادیت رکھتی ہے۔
جنگ بدر سے قبل کا جو نقشہ قرآن نے کھینچا ہے اس پر غور فرمائیں۔ مسلم فوج کے سامنے دو راستے تھے ۔ فوج سے مقابلہ کریں یا تجارتی قافلہ پر حملہ کرکے اسے لوٹ لیں۔ سورہ الانفال میں ہے ’’یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کررہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا۔‘‘ (جزو آیت :۷)
چند مسلمانوں کی رائے ہوئی کہ قافلہ چونکہ پچاس ہزار دینار کی مالیت کا ہے اس لئے اس پر حملہ کیا جائے جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ان کی مفلوک الحالی ختم ہوجائے گی اور مستقبل میں کفار و مشرکین سے جنگ کے لئے ساز و سامان بھی مہیا ہوجائے گا اس صورت میں جنگ کا خدشہ بھی نہیں تھا۔جیسا کہ مذکورہ بالا آیت ہی کا اگلا ٹکڑا ہے : ’’تم چاہتے تھے کہ بے خدشہ گروہ تمہیں ملے ۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے حکم سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے ‘‘۔ (الانفال ۔ آیت :۷)پھر اس ٹکرائو کی مصلحت بھی بتادی : ’’تاکہ حق حق ہوکر رہے اور باطل باطل ہوکر رہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘ (الانفال ۔ آیت :۸)
اللہ کا وعدہ یہ تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک مسلمانوں کے ہاتھ لگے گا یعنی تجارتی قافلہ کا رخ کریں تو اسے پالیں گے اور دولت سے مالا مال ہوجائیں گے اور فوجی لشکر کی جانب بڑھیں تو فتح نصیب ہوگی اور ہمت و حوصلہ‘ ایمان و یقین‘ جذبہ جہاد‘ ایثار و قربانی‘ ثابت قدمی و اولوالعزمی جیسی صفات عالیہ سے مالا مال ہوں گے۔ تجارتی قافلہ ہاتھ لگنے کی صورت میں بھی جنگ ہوسکتی تھی کیونکہ مکہ سے مشرکین کی فوج کی روانگی کا ایک اہم مقصد تجارتی قافلہ کو بحفاظت بچاکرنکال لے جانا بھی تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ قافلہ پر حملہ ہو تو وہ اسے لٹتا ہوا دیکھیں اور واپس چلے جائیں۔ نتیجہ میں معرکہ ہوتا لیکن نقشہ کچھ اور ہوتا۔ مسلمانوں کو اپنی جان کے ساتھ مال کی حفاظت کی بھی فکر ہوتی جو انہیں قافلہ سے ہاتھ لگتا۔ بدر کے میدان میں مسلم فوج کے حق میں جو ہموار میدان مہیا ہوا وہ نہ ملتا اور دشمن کی فوج زیادہ مضبوط پوزیشن کی حامل ہوتی۔ روحانی اعتبار سے صحابہ ؓ کی فوج کمزور پڑجانے کا اندیشہ تھا کہ مال و دولت ہاتھ لگ جانے کے بعد دنیا کی محبت ‘اللہ اور اس کے رسول کی محبت پر غالب آسکتی تھی۔ ایک اور صورت یہ بھی ممکن تھی کہ اللہ اپنے وعدہ کے مطابق قافلہ پر غلبہ دے اور دشمن پر رعب ڈال کر اسے واپس ہونے پر مجبور کردے اور جنگ کی نوبت نہ آئے اور زیادہ قرین قیاس یہی تھا کیونکہ اللہ نے ایک ’’گروہ‘‘ پر غلبہ عطا کرنے کا وعدہ کرلیا تھاتب مال و دولت کے ساتھ مدینہ لوٹنے والے صحابہؓ کا وہ جذبہ ایمانی نہ ہوتا جو بدر کے میدان سے لوٹنے والے صحابہ کرامؓ کا بن گیا تھا۔ وہ تائید غیبی کے ان نظاروں سے محروم رہتے جس کا مشاہدہ بدر کے میدان میں انہیں کرایا گیا اور خطرات و مشکلات میں انہیں مال و دولت سے زیادہ ضرورت اسی تائید غیبی پر یقین کے حصول کی تھی۔
چنانچہ وعدہ تو دو گروہوں میں سے ایک عطا کرنے کا ہوا لیکن درحقیقت اللہ چاہتا تھا کہ فوج سے مڈبھیڑ کرادے۔ اس میں بے شمار فوائد مضمر تھے۔ ایمان کی پختگی کا سامان ‘ رسول اللہ ﷺ پر جاں نچھاور کرنے کے جذبہ کا استحکام ‘ دین کے لئے مرمٹنے کے عزم میں مضبوطی‘ مستقبل میں حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ ‘ فتح کی صورت میں مسلمانوں کی قوت اور حوصلوں میں اضافہ اور کفار و مشرکین پر دھاک‘ مدینہ کی نئی نئی مسلم بستی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں کرنے والوں کو تنبیہ ‘ مسلمانوں کو ترنوالہ سمجھنے کی ذہنیت پر ضرب‘ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے خواہشمند لیکن پریشان کن حالات سے رکے ہوئے افراد کو قبولیت اسلام میں جرأت کی فراہمی ‘خطرات و مشکلات میں قدموں میں لغزش اور دلوں میں ہول و ہیبت کے بجائے مضبوطی و ثابت قدمی کا مظاہرہ۔ ان کے علاوہ نہ معلوم اور کیا کیا فوائد تھے جس کی بناء پر اللہ رب العزت نے فرمایا :
’’ یاد کرو وہ وقت جب کہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دوسری جانب پڑائو ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے( ساحل) کی طرف تھا۔ اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرار داد ہوچکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کرجاتے ‘ لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لئے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کرچکا تھا اسے ظہور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے ۔ یقینا خدا سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘ (الانفال۔ آیت :۴۲)
یہاں اللہ کے فیصلہ سے مراد ’فتح‘ ہے جسے اللہ ظہور میں لانا چاہتا تھا اور اس کا مقصد ’’دلیل روشن‘‘ کو واضح کرنا یعنی حق و باطل میں ایسا واضح امتیاز قائم ہوجائے کہ ہر صاحبِ عقل سمجھ سکے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔دلیل روشن ہونے کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بدر محض چند قبائل کی لڑائی نہیں بلکہ حق و باطل کا معرکہ تھا۔ یہ نظریہ کی جنگ تھی ۔جوصفیں آمنے سامنے مقابل تھیں وہ محض قریشیوں اور مہاجر و انصار کی نہیں بلکہ کفر اور اسلام کی تھیں۔
بدر کے میدان میں نصرت الٰہی کے کئی مشاہدات ہوئے۔ بارش سے زمین مسلم فوج کے حق میں ہموار ہوگئی ‘ پانی جسم پر پڑنے سے ان کے جسموں کی تکان دور ہوگئی ‘ فرحت و شادابی نے ان کے دلوں کو اطمینان بخشا‘ موسم کی خوشگواری کے ذریعہ اللہ نے ان پر غنودگی طاری کردی جس سے دشمن کی کثرت تعداد کی ہیبت جاتی رہی اور بے خوفی پیدا ہوگئی۔ اور پھر وہ رات بھر اطمینان سے سوتے رہے جس سے تازہ دم ہوگئے۔ آسمان سے فرشتے مدد کے لئے نازل ہوئے ۔
یہ ساری باتیں اس بات کی غماز ہیں کہ زمین و آسمان کی تمام قوتیں مسلمانوں کی مدد کے لئے کمر بستہ ہیں کیونکہ انہیں زمین و آسمان کے رب کی نصرت و حمایت حاصل ہے۔ بدر کے میدان میں غیبی مدد کا یہ حال تھا کہ فرشتوں نے بنفس نفیس جنگ میں حصہ لیا اور دشمنانِ اسلام کی گردنیں سروں سے اتاریں۔ اس کا مشاہدہ کفر کے سرخیلوں نے بھی کیا اور صحابہؓ نے بھی۔
غیبی مدد کا ایک مشاہدہ رسول اللہ ﷺ کے معجزہ کی شکل میں ظاہر ہوا۔ شیخ صفی الرحمن مبارکپوری لکھتے ہیں : ’’لڑتے لڑتے حضرت عکاشہؓ کی تلوار ٹوٹ گئی۔ وہ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے انہیں لکڑی کا ایک ٹکڑا یا درخت کی ایک شاخ تھمادی اور فرمایا عکاشہ! اسی سے لڑائی کرو۔ عکاشہؓ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے لے کر ہلایا تو وہ ایک لمبی ‘ مضبوط اور چم چم کرتی سفید تلوار میں تبدیل ہوگئی۔ انھوں نے اسی سے لڑائی کی۔ اس تلوار کا نام عون یعنی مدد رکھا گیا تھا ۔ دور صدیقی میں مرتدین کے خلاف جنگ میں شہادت تک عکاشہؓ اسی سے لڑتے تھے۔ (الرحیق المختوم)
بدر میں گھمسان کا رن پڑا‘ 70مشرک ہلاک ہوئے جن میں بڑے بڑے سردار شامل تھے۔ 70گرفتار ہوئے۔کثیر مال غنیمت مسلم فوج کے ہاتھ لگا۔ مسلمانوں کی جانب صرف 14صحابہؓ شہید ہوئے۔
جنگ بدر کے نتائج : آخر میں جنگ کے نتائج پر ایک نظر ڈالتے ہوئے موجودہ حالات میں اس سے ملنے والی رہنمائی پر غور کریں گے۔
l اہل بدر کو بخشش کا مژدہ سنایا گیا۔
l جنگ میں کثرت و قلت کا فلسفہ ڈھیر ہوگیا۔
l یہ واضح ہوا کہ مسلمانوں کی فتح کا تعلق مال و اسباب سے نہیں اللہ کی نصرت و حمایت سے ہے ۔
l جنگ بدر کے بعد سارے عرب پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی۔
l ناموافق حالات میں ایک خوفناک جنگ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حالات کو مسلمانوں کے حق میں موافق بنادیا۔ جیسے مدینہ منورہ میں عبداللہ بن ابی بن سلول جو اعلانیہ دشمنی کرتا تھا اب بظاہر اسلام کے دائرہ میں آگیا گو تمام عمر منافق رہا جس سے خود رسول اللہ ﷺ بھی واقف تھے لیکن اب کھل کر مخالفت کی ہمت نہیں رہی ۔
l ادھر مکہ کے ہر گھر میں زلزلہ آگیا۔ انتقام کی آگ اور بھی بھڑکی لیکن رہ رہ کر شکست کا زخم ستانے لگا اور مشرکین کو اچھی طرح یہ احساس ہوگیا کہ مسلمان تر نوالہ نہیں ۔
l مشرکین کی شکست سے یہ ظاہر ہوگیا کہ مکہ سے جاری مخالفت اور مسلسل دشمنی اور عسکری غلبہ کے باوجود بڑے بڑے سرداروں کے سرکٹ جانا باطل کے کمزور ہونے کی علامت ہے۔
l یہ بھی ثابت ہوگیا کہ محمدﷺ کسی دنیاوی و سیاسی مقصد کے تحت یہ ساری جدوجہد نہیں کررہے تھے جیسا کہ مشرکین کا الزام تھا بلکہ آپ صلعم اس آفاقی دین کو غالب کرنے کی جدوجہد کررہے تھے جو زمین و آسمانوں کے رب کی جانب سے بھیجا گیا تھا۔
l مدینہ اور اس کے اطراف کے یہودیوں کے حوصلے پست ہوگئے جو قریش کے ساتھ مل کر ریشہ دوانیاں کرتے رہتے تھے لیکن بدبخت قوم نصیحت حاصل کرنے اور اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے اللہ کے رسولؐ اور آپؐ پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق کے بجائے حسد کی آگ میں اور بھی جھلسنے لگی ۔
l قبائل عرب فوری طور پر دامن اسلام میں پناہ لینے تیار نہیں ہوئے لیکن سہم ضرور گئے ۔
l مال غنیمت حلال کردیا گیا اور اس کی تقسیم کے احکام نازل ہوئے جو مسلمانوں کے لئے بہت بڑی نعمت تھی۔
l مسلم فوج روانہ ہوئی تو کسمپرسی کی حالت تھی مدینہ لوٹی تو کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے ہاتھ میں گھوڑے کی لگام ‘ اونٹ کی نکیل ‘تلوار و نیزہ اور دیگر ساز و سامان بطور غنیمت کے نہ رہے ہوں۔ قیدیوں کی شکل میں ایک متحرک یا منقولہ اثاثہ ہاتھ لگا جس کے بدل مکہ سے تاوان وصول کیا جانے والا تھا۔
l اہل مکہ کے لئے بڑے بڑے سرداروں کی ہلاکت‘ سپاہیوں کے زخم ہی کیا کم تھے کہ قیدیوں کی رہائی کے لئے تاوان ادا کرنا بدترین ذلت سے کم نہیں تھا۔ یہ شکست ان کے لئے ایسی ذلت بن گئی کہ مکہ میں اپنے عزیزوں کی موت پر نوحہ کرنے پر پابندی لگادی گئی اور اعلان کردیا گیا کہ کوئی شخص ماتم نہ کرے کہ اس سے مسلمانوں کو خوشی ہوگی۔
موجودہ دور میں غزوہ بدر کی افادیت :
l مسلمانوں کے سامنے دو قافلے تھے اور مسلمان تجارتی قافلہ کی طرف مائل نظر آتے تھے لیکن اللہ نے فوجی لشکر حوالہ کیا۔ مال میں بظاہر مسلمانوں کا بھلا تھا لیکن اللہ نے غلبہ اسلام کو پسند فرمایا جس میں مسلمانوں کا فائدہ ازخود مضمر ہے۔ اس سے یہ مشیت الٰہی معلوم ہوئی کہ مسلمانوں کے فائدہ پر اسلام کے فائدہ کو ترجیح دینا چاہئے ۔
l دور حاضر میں مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو ختم کرنے جنگ کو انسانیت ‘ انسانی حقوق اور امن و ہم آہنگی کے خلاف قرار دیا جاتا ہے حالانکہ یہ دعویٰ کرنے والے ممالک خود ہی دنیا بھر میں جنگ کے سامان بیچتے اور اس تجارت کے لئے ملکوں کو باہم لڑاتے ہیں۔ بہرحال جنگ بدر میں اللہ کی مشیت ‘ رسول ؐ کی شرکت اور فتح و نصرت اس بات کے غماز ہیں کہ فتنہ و فساد کو ختم کرنے مسلمانوں کا دشمن سے مقابلہ کرنا اور اسلام کو غالب کرنے جنگ کرنا کسی بھی اعتبار سے خلاف انسانیت نہیں ہوسکتابالخصوص جبکہ شریعت نے جنگ کے اصول و شرائط اور حدود بھی متعین کردیئے ہیں۔
l مسلمانوں کو کبھی بھی کم تعداد میں ہونے کے احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان کے ساتھ ملکوتی طاقتیں ہوتی ہیں۔ اگر ایک ہزار فرشتوں کو ۳۱۳ مجاہدین کے ساتھ شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد دشمنوں سے بڑھ جائے گی۔ اس طرح مسلمانوں کو جو غیبی مدد حاصل ہے اس سے غیرمسلم محروم ہیں۔
l جو لوگ گھروں سے نکال دیئے گئے وہ بزدل ہوکر بیٹھے نہیں رہ گئے بلکہ مقام ہجرت پر اپنے دین پر مضبوطی سے قائم بلکہ اس کے فروغ کے لئے سرگرم رہے اور جب مقابلہ کا وقت آیا تو غلام نے آقاپر تلوار اٹھائی اور اسلام کے رشتہ نے تمام رشتوں کی طناب کاٹ کر رکھ دی۔
l جنگ بدر اسباب کے ذریعہ نہیں جیتی گئی لہٰذا مسلمان کبھی مال و اسباب پر نظر نہ رکھیں بلکہ مسبب الاسباب پر نگاہ رکھیں۔
l رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے دنیا میں بھی سرفرازی ملتی ہے اور آخرت کی نجات بھی اسی میں مضمر ہے۔
l دشمن سے مقابلہ کے لئے رسول اللہ ﷺ نے جنگی تدبیر اختیار کی اور اللہ سے دعابھی کی لیکن مسلمان آج صرف دعائوں کے بھروسے پر اسلام کے غالب آنے کی امید کرتے ہیں۔
l اسلام ایک کامل دین ہے جو نہ صرف عبادات کے طور طریق بلکہ روز مرہ کی زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے اور جنگ کی تدابیر اور آداب بھی بتاتا ہے۔
l جہاد معیوب نہیںبلکہ محبوب ہے ۔یہ خالص قرآنی اصطلاح ہے جسے اس قدر بدنام کردیا گیا کہ لوگ جہاد کا لفظ زبان سے اداکرنے میں عار و تنگ ذہنی تصور کرتے ہیں حالانکہ قرآن مجید کی بے شمار آیات میں یہ لفظ آیاہے جس کی صرف تلاوت سے بھی 40نیکیاں ملتی ہیں۔
l اسلام اخلاقی تعلیمات سے پھلا پھولا لیکن جہاد کے ذریعہ غالب آیا۔
l آخری لیکن سب سے اہم بات یہ کہ موجودہ دور میں مسلمانوں نے طعام و قیام کی سہولتیں میسر ہوجانے کو خدا کا انعام سمجھتے ہوئے دین کے تقاضوں کو بھلادیا ہے حالانکہ دین کے تقاضوں کی تکمیل ہی مسلمان کی زندگی کا مقصد اولین ہونا چاہئے جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا ؎
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی
٭٭٭
(قسط ہفتم)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *