کیا ہندوستانی مسلمانوں کو مسلکی خانہ جنگی میں دھکیلنے کی سازش کی جارہی ہے؟

کیا وطن عزیز میں مسلکی خانہ جنگی کی بساط بچھائی جارہی ہے؟ کیا مسلکی اختلافات کی آگ میں خفیہ ہاتھ گھی ڈال رہے ہیں یا پھر ہم خود اپنی تباہی کا سامان جمع کرنے میں مصروف ہیں ؟ گزشتہ کچھ عرصہ سے آنے والی خبروں کی ہولناکیوں نے سانسیں روک دی ہیں اور اگر اس مہیب خطرے کا فوری تدارک نہیں کیا گیا توپاکستان جیسے مناظر خدانخواستہ یہاں بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ اسلام اور ملک کی آڑمیں نفرتوں کی آگ سلگائی جارہی ہے۔ پیروکاروں کے دماغ میں نفرت کے ٹیومرپیداکردیئے گئے ہیں وہ شخص جو خود کو مسلمان کہتاہے اس کے خلاف کفر کا فتویٰ دینے والے کئی ہیں۔ اگر اخراج کا سلسلہ یوں ہی بڑھتارہاتو ’کافروں‘کی بہتات ہوجائے گی اور مسلمان چراغ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے ۔ مسلمان ایک دوسرے مسلمان کے خون سے وضو کرتے نظرآئیں گے۔ مسجدوں پر تنازع،مارپیٹ فائرنگ اور دست وگریباں ہونے کی خبریں عام ہوگئی ہیں۔ کہیں امامت کے مسئلے پر کشت وخون کی نوبت آجاتی ہے تو فرزندان توحید مسجد پر تالا گوارا کرلیتے ہیں ، نماز نہ ہونا برداشت کرلیتے ہیںمگردوسرے مسلک کا امام برداشت نہیں کرتے ۔ اب مسجدوں کے تنازعات تھانوں تک پہنچ رہے ہیں۔ انتظامیہ کے ساتھ عام مسلمان بھی حیران وپریشان ہے کہ وہ کہاں جائے۔ تمام مکاتب فکر کے علماء کو سنجیدگی کے ساتھ مشترکہ لائحۂ عمل بنانے کی ضرورت محسوس کرنی ہوگی تاکہ منتشر ملت کے عناصر ترکیبی کو بچاکر رکھاجائے۔ خداکاشکر ہے کہ ہمارے علمائے کرام اس سلسلے میں فکر مند ہیں اور وہ اپنی کوششوں میں لگے ہیں، بس ان کوششوں کو اجتماعی رنگ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ مسلکی فرقہ واریت کی آندھیوں کو تھماجاسکے۔
کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی
(بشکریہ ،روزنامہ خبریں)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *