ہندوتو ۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔ ہندوستان

آریائی نسل پرستی
نسلی تفاخروتعصب اوردوسروں سے نفرت رکھنے میں یہودی اور آریائی نسل کے لوگ حددرجہ بڑھے ہوئے ہیں۔ جرمنی کی آریہ نسل نے یورپ میں جارحانہ قوم پرستی کی مثال قائم کی اور اس کے لئے ہٹلر نے نازی ازم کا جھنڈا بلند کیا توایران کے آریوں نے اسلام کی آفاقی امت کا جزوبن جانے کے باوجود اپنے نسلی فخر کوپوری طرح نہ سہی بڑی حدتک قائم رکھنا چاہااور ہندوستان کے آریوںنے نہ صرف یہ کہ یہاں کے قدیم باشندوں کو ملیچھ اور داس جیسے خطابات سے نوازابلکہ ایک سماج کی تشکیل کی جس نے نسلی بنیادوں پر اتنی اونچی دیواریں کھڑی کردیں جن سے اوپر اٹھ کردیکھنا اور سوچناناممکن بنادیا گیا۔ انہوں نے دوسری قوموں اور ان کی تہذیبی شناخت کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ ایسے خیالات کو عقیدوں کا لباس پہنایا جوکھلے طورپر انسان کی عظمت اور فطرت سے متصادم ہیں اتناہی نہیں بلکہ اس طبقاتی سماج کو ہر صورت اور ہر قیمت پر قائم رکھنے کی ذمہ داری بھی اپنے سرلی ،جو مستقل طورپراس میں آقائی کے مقام پر بیٹھاہواہے۔ اس طبقاتی نظام کی روح، نسلی برتری کا وہ جذبہ ہے جوآریوں کی قومی وراثت بن چکا ہے نسل پرستانہ بنیادوں پر قائم اس سماجی نظام نے انسانیت کو جس طرح پامال کیا اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ بلاشبہ اس زمین پر ظلم وتشدد کی بہت سی دردناک داستانیں مرتب ہوئیں۔ چنگیز وہلاکوجیسے انسان نما درندوں نے قتل وخون ریزی کی قابل نفرت مثالیں چھوڑیں۔ مگرانسانوں کے ساتھ طویل عرصے تک جانوروں جیساسلوک اور کہیں روانہیں رکھاجا سکا جیسانیچ ذات کہے جانے والے شودروںکے ساتھ ہندوستان میں ہوتارہا اور اب بھی ہورہاہے اس طرح طبقاتی اور نسلی برتری کے خلاف اندرسے بھی آوازیں اُٹھتی رہیں اوراسلام کی آمد نے تواس کو ہلاکر رکھ دیا ۔ بودھ اور جین مذہب کی تعبیر بھی یہی کی جاتی ہے کہ وہ ہندوستان میں قائم نسلی نفرت کے خلاف بغاوت کی آوازیں تھیں مگر جب سام دان دنڈبھید(سزادبائولالچ اور سازش)کی پالیسیوں سے انہیں بے اثر کردیاگیا اور وہ مزاحمت کے لائق نہیں رہے تو انہیں ہندوسماج کا گرین کارڈ جاری کردیا گیا اسلام اپنی فطری اورابدی تعلیمات کے مطابق وحدت الہ اور مساوات بنی آدم کے معاملے میں کسی سودے بازی کا قائل نہیں ہے۔
ع۔۔۔۔۔۔ باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے۔
اسی لئے آریائی نسل پرستوں کی نگاہ میں کانٹے کی طرح کھٹکتاہے ۔کوئی شخص جتنا اسلام کے قریب ہوگا اتناہی باطل خدائوں اور رنگ ونسل کی بنیاد پرانسانوں میں تفریق سے دورہوتا چلاجائے گا وہ خدائے واحد کا بندہ بن کر رہنے کی تعلیم دیتاہے اور کسی بھی دوسری خدائی کا منکرہے۔ چاہے یہ دوسری خدائی چاند،سورج دریائوں پہاڑوں اور درختوں کے نام پر قائم کی جائے یا کسی شخص، خاندان اور قوم وملک کے نام پر قائم ہواسلام اس کو ظلم عظیم قراردیتا ہے۔ بلاشبہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ (القرآن)اسلام کی یہی خوبی ہر عہد کے مشرکوں (مخلوق پرستوں)کی نظرمیں سب سے بڑی خرابی ہے اسی لئے ہندوستان کی آریانسل پرست ہندوتنظیموں کے نزدیک اسلام اور مسلمان سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ جس سے وہ خود بھی بچنا چاہتے ہیں اوردوسروںکو بھی بچانا چاہتے ہیں۔
منفی سوچ
نسل پرستانہ بنیادوںپرقائم سماج کے لیڈروں کے پاس کوئی مثبت اور مستقل فکر نہیں ہے نسلی فخروغرور میں دوسروں کے لئے کوئی کشش وتاثیر نہیں ہوسکتی۔ اگرگورے لوگ یہ سمجھیں کہ ہم برترہیں تواس سے کالوں کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے ۔مشرق کے بسنے والے اگر مغرب والوں سے خود کوافضل قراردیں تو مغرب والوں کو اس سے کیسے اتفاق ہو سکتاہے۔ اسی وجہ سے ہندوستان کے نسل پرست لیڈرمختلف اور متضاد خیالات اور رویوں کو اپناتے رہتے ہیں۔ وہ ویدک سماج سے خدائے واحد کے عقیدہ اور انسانی مساوات کے اصول کو بھی جوڑتے ہیں اور ان گنت دیوی دیوتائوںکی پوجااور پر ستش کو بھی اپنی پہچان کے طورپر قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک جانب وہ ان کی کتابوں کو اپنے افکار وعقائد کا ماخذ قراردیتے ہیں جو ہندوستان میں آریوں کی آمداور یہاں کی قدیم اقوام سے ان کی معرکہ آرائیوں کی یادیں تازہ کرتی ہیں۔ دوسری طرف خودکواصل ہندوستانی ثابت کرنے کے لئے جھوٹی تاریخ گھڑنے پر بھی کمربستہ ہیں۔ اپنے سماج میں ذات پات کی تقسیم بھی رکھنا چاہتے ہیں اور ہندوراشٹرکاجھنڈ ابھی اٹھائے پھرتے ہیں انہوںنے بارہاتسلیم کیا کہ ہندوکوئی مذہب نہیں حتیٰ کہ ہندولفظ بھی سنسکرت زبان سے تعلق نہیں رکھتا۔شاید اسی لئے اسے ہندئوںکے لئے توہین آمیز بھی قرار دیا گیا۔ ذیل کا اقتباس ملاحظہ ہو
’’یہ بات غیراختلافی ہے کہ اس لفظ ہندوکا استعمال ہمارے پراچین (قدیم) لٹریچر میں نہیںہوا۔ ویدوں میں ،برہمنوں میں،ویدانتوںمیں اور درشن شاستروںمیں ،اپنشدوں میں،سمرتیوں میں یہاں تک کہ پرانوں میں بھی لفظ ہندوکا استعمال دیکھنے میں نہیں آتا۔ تلسی داس جی کی رامائن میں ہندونہیں آریہ لفظ ہے۔ ہندولاء کے مشہور عالم بہت بڑے سنسکرت داں وکیل شری گلاب چندسرکار نے اپنی ’’ہندولائ‘‘ کتاب میں ہندولکھتے ہوئے صاف لکھا ہے کہ ہندولفظ کا چلن سنسکرت کی بنیادپر نہیں ہواہے۔ سرکار کا خیال ہے کہ میروتنتر کتاب بھارت میں انگریزوں کے آنے کے بعد لکھی گئی کیونکہ اس میں انگریزوں اور لندن کا بھی ذکر ہے‘‘۔ (آریہ متر۱۷؍مئی۱۹۵۹ء اودھ بہاری لال کلکتہ )
لفظ ہندواور آریہ مترکے متعلق کاشی کے پنڈتوں کی رائے بحوالہ روزنامہ بھارت مترمورخہ مئی ۱۹۲۵ء (اداریہ)
’’ہمعصر ارجن نے ایک خط شائع کیا ہے جو سوامی شردھانندکے پرانے کاغذوں میں ملاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمعصرنے لکھاہے کہ یہ خط ۱۸۷۰ء میں شائع ہوا اس خط کی نقل نیچے دی جاتی ہے۔ اس پرکاشی کے اس وقت کے پنڈتوں کے دستخط ہیں‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: ہندوکو پہلے ہنس ورن کہتے تھے پھرورن آشرمی کہنے لگے۔
سوال: شری بھاگوت کے گیارہویں باب میں لکھا ہے کہ ست یگ میں اور تریتہ میں چار ورن اور چار آشرم کی تقسیم ہوئی۔ اس سبب سے یہ لوگ ورن آشرمی کہلائے اب کچھ لوگ ہندونام کرکے خیال کرتے ہوں کہ ہندولفظ کی چرچاکسی شاستر(دھرم کی کتاب)میں نہیں ملتی اس لئے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہندوکہنا ٹھیک ہے یانہیں؟
جواب: ورن آشرمی دیس (ورن آشرمیوں کا ملک)بودھک جوہندولفظ ہے تو یون(مسلمان) سے ہے ورن آشرم بودھک (ورن آشرم کو ظاہر کرنے والا جو ہندولفظ ہے سویہ بھی یون (مسلمان)سے ملاہے ۔ اس لئے ہندوکہلانا بالکل نامناسب ہے۔
یہ فیصلہ کاشی ٹیڑھی نیم تلے شری مہاراج ابھیراج سن رکھچھک (محافظ) دھرم سبھا(دھرم کی محافظ انجمن)میں لوگوں نے کیا اس پر پنڈتوں کے دستخط ہیں‘‘ کیا ہندولفظ پرایا ہے؟ ورن آشرم دیس کا اشارہ کرنے والا جو ہندولفظ ہے ورن آشرم بودھک جو ہندولفظ ہے سوبھی یون (مسلمان)کا دیا ہے اس لئے ہندو کہلانا نامناسب ہے کافر کوہندوکہتے ہیں بون بولی میں (مسلمانوںکی بولی میں)اس لئے ہندونام کہنا ٹھیک نہیں ہے‘‘ (شری بگارت ساشتری )مگر آج ہندو فسطائیت کے علمبردار ’’ہندوتو‘‘ کی گاڑی کا سارا ایندھن ہندئوںکے مذہبی جذبات واحساسات سے حاصل کرتے رہتے ہیں ایک دور میں برہمن چھتریوں سے برسرپیکار رہے بلکہ ا نہیں نیست ونابود کردیا گیا پھر’’شاستر‘‘ (علم)نے ’’شستر‘‘ (ہتھیار)سے سمجھوتا کرلیا تاکہ باقی قوموں پر بالادستی قائم رکھی جاسکے اور چھتری بھی اعلی ذات بنادئے گئے۔ قدیم کتب میں جانوروں کی قربانی کے حوالے یگیہ کے عنوان سے آج بھی پڑھے سنے جاتے ہیں مگر جیورکشاکا اصول بھی ہندوتواکی فہرست میں شامل ہے۔ اس کی پابندی کے لئے دوسروںکو بھی مجبور کیا جارہاہے یہ بھی کہاجاتا ہے کہ برہمن کا دھرم چھتری کے دھرم سے اورویش کا دھرم شودرکے دھرم سے الگ ہے۔ رویوںاور خیالات کی اس سماجی بھول بھلیاں میں باہر والوں کو ہی خیریت نظر نہیں آئی بلکہ اندروالوںکو تھام کررکھنا بھی مشکل کام ہے اور اس مشکل کو آسان کرنے کے لئے ہندوتوکا نعرہ لگایا گیا ہے ۔
جدید سیاست اور تعلیم نے جو گرسکھائے ہیں ان سے بھرپور فائدہ اٹھاکر اپنے منصوبوںاور ارادوں کی تکمیل کی کوشش کی جارہی ہے۔ پرانے اصنام کی جگہ نئے لاکر رکھے جارہے ہیں، کیونکہ پرانے کے ہوتے غیروںکو کیا اپنوںکو بھی مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ اب دیش اور راشٹر یعنی وطن اور قوم کی پوجاکاراگ الاپا جا رہاہے بحث قوم ،وطن کی فطری حیثیت اور تعلق سے نہیں ہے بلکہ اس جدید معجون مرکب سے ہے جس کا نسخہ تو یورپ سے درآمد کیا گیا ہے مگر آیورویدک طریقہ پر اسے بھسم کرکے خالص ہندوستانی بناکر پیش کیا جارہاہے ۔ماضی میں انگریزوں سے نسلی تعلق کا اظہار کرنے والوں کے جانشین اب ۳۳؍کروڑ دیوتائوں کی فہرست میں کچھ اور خیالی معبودوں کا اضافہ کررہے ہیں۔ ان کی حمدوثنا کے گیت گائے جارہے ہیں ساتھ ہی مسلمانوں کو بھی ان کے دین وعقیدہ کے برخلاف ایساکرنے پر مجبور کیا جارہاہے۔ اس طرح ایک خاص نسل کے لوگ اپنے مفاد پرستانہ ڈھانچہ کو بہرصورت قائم رکھنا چاہتے ہیں چاہے اس کے لئے ایک نہیں ہزاربار جھوٹ بولنا پڑے، جھوٹی تاریخ گھڑنی پڑے انسانی حقوق پامال کرنے ہوں یا انسان کی عظمت وشرافت کو روندناپڑے۔ دراصل نسل پرستی یا مخلوق پرستی کے دامن میں دوسروں کو دینے کے لئے کچھ ہے نہیں اسی لئے وہ کچھ دینے کے بجائے ان سے چھیننے کاسبق سکھاتی ہے۔ نفرت اوردشمنی ہی اس کے ہتھیار ہیں۔کل بھی اورآج بھی اصلاً کسی مذہب یااصول کی پابندی مطلوب ہے اور نہ ہی وطن اور اہل وطن سے پیار۔
ہندوتواہے کیا؟
ہندوراشٹرنظریہ ہے یاصرف نعرہ اس کی حقیقت کیا ہے؟ شایداس سے وہ خود بھی واقف نہیںہیں۔ سنگھ کے گروئوںکی تصانیف بھی اس بارے میں پوری آگاہی دینے سے محروم ہیں کہ ہندوتواکے اصول کیا ہیں ان اصولوں کا ماخذ کیا ہے؟ ان کے صحیح اور مفید ہونے کے کیا دلائل ہیں ؟یہ کوئی مذہب ہے یا کوئی سیاسی تصور ہے اس کی نگاہ میں انسان کی کیا حیثیت ہے اس کی منزل کیا ہے وہ دوسروں کے کیا حقوق تسلیم کرتاہے؟ یہ اگر ماضی میں کبھی موجود تھا تو کب اور کہاں پھر اس کا تاریخی رول کیا رہااس نے دوسری قوموں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا وہ دوسروں کو زندہ رہنے اور ترقی کرنے کا حق دیتاہے یا نہیں؟ ایسے سارے سوالوں کا جب تک جواب نہ مل سکے ایک عام ہندوستانی باشندے کے نزدیک ہندوتو صرف ایک بے دلیل ’’دعویٰ‘ ‘ اور ایک کھوکلانعرہ ہے ۔۔۔۔۔ ہاں ابھی تک تو ہندوتو والے ایک ہی دلیل پیش کرسکتے ہیں وہ یہ کہ اس ملک میں ہماری اکثریت ہے (حالانکہ ہے نہیں)اس لئے یہ ہندوراشٹر ہے اور ہندوستان ہندودیش ہے یعنی بھینس ہماری ہے کیونکہ ہمارے ہاتھ میں لاٹھی ہے۔
تہذیبیں اورقومیں
نسل پرستی کے جارحانہ ارادوں اور طبقاتی سماج کے بالمقابل ہندوستان کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک الگ الگ عقیدوں اور تہذیبوں کا ملک ہے یہاں متعدد نسلوں کے لوگ رہتے ہیں۔ یہاں ان گنت بولیاں اور متعدد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہرمذہبی قومیت کو اپنے اپنے عقیدوں سے گہراتعلق ہے سب کو اپنی تہذیبی اقدار پیاری ہیں ہرایک نسل کے لوگ اپنی نسل سے فطری تعلق رکھتے ہیں ہرایک کو اپنی زبان اچھی لگتی ہے مگر ان سارے تعلقات کانہ تو یہ مطلب لینا صحیح ہے کہ دوسروں کے عقیدوں کو زورزبردستی تبدیل کرادیا جائے اور انہیں ان کے مذہبی تشخص سے محروم کردیا جائے، انہیں اپنی اقدار چھوڑنے پر مجبور کیاجائے ،ان کی زبان کھینچ لی جائے اور سب کو طاقت کے بل پرایک مذہب ایک زبان ایک تہذیب قبول کرنے کے لئے آمادہ کیا جائے۔ سچائیوں کا انکار کرکے جوراستہ اختیار کیا جائے گا وہ تعمیر کا نہیں تخریب کا راستہ ہوگا۔ ظلم کی راہ پر چل کر انصاف قائم نہیں رہ سکتا اور فطری حقوق پامال کرکے امن برقرار نہیں رکھا جاسکتاہے۔ ہندوستان میں اگر آریے رہتے ہیں تو دراوڑوں کی موجودگی سے کیوں انکار کیاجائے ؟اگراس سچ کو منوانا چاہتے ہیں کہ یہاں ہندورہتے ہیں اور ان کو رہنے کا حق حاصل ہے تو اس سچ کو کیوں نہ مانا جائے کہ یہاں مسلمان بھی رہتے ہیں اور ان کو بھی یہاں رہنے کا حق حاصل ہے اسی طرح سکھ ،عیسائی اور بودھ موجود ہیں ہندستان میں ہی وہ علاقے بھی ہیں جہاں ہندواکثریت میں ہیں اسی ملک میں ایسے خطے بھی ہیں جہان ہندواقلیت میں ہیں۔ اب ایک طریقہ یہ ہے سب کے لئے کوئی ایک معیار قائم کرلیا جائے دوسرایہ کہ پورے ملک میں اکثریت مان کر ہندئوں کی بالادستی کا شور مچایا جائے اور جہاں کہیں وہ اکثریت میں نہ ہوںوہاں انہیں اقلیت کے حوالہ سے خصوصی تحفظ دیا جائے مگر ایساہی تحفظ اگر دوسرے طلب کریں تو انہیں فرقہ پرستی کا الزام لگا کرخاموش کردیا جائے۔ پہلا طریقہ مبنی برانصاف ہے اس کو جتنا دیانت داری اور خلوص سے اپنا یا جائے گا اتحاد، امن اور اعتماد کے امکانات روشن ہوںگے ۔دوسرا طریقہ بے ایمانی اور بے انصافی کا ہے۔ اس لئے بے اعتمادی اور تصادم اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ بدقسمتی سے ہندوستان کی سیاست میں بے ایمانی کا عنصر غالب ہوتاچلاگیا ۔بلکہ لوگوں نے بے ایمانی کا نام سیاست رکھ لیا۔ اب یہ کہتے ہوئے بھی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ سیاست کا ایمانداری سے کوئی تعلق نہیں ۔اسی شیطانی طرز فکر نے زبردستی،عیاری ومکاری ،بدعہدی اوربے ایمانی کو پھلنے پھولنے کا خوب موقع دیا۔حق تسلیم کرنے کے بجائے حق دبانے والوں کے سرپرقومی لیڈری کے تاج رکھے گئے اور قومی مفاد کا نام لے کر ہر قسم کے جھوٹ اور فریب کو صداقت کے مقام پر پہنچایاگیا۔ اختلاف میں اتحاد کا نعرہ تودیا گیا مگر دن کی طرح روشن اس سچائی کا انکار کیاگیا کہ ہندوستان سب کاہے اور یہاں بہت سے عقیدوں مسلکوں اور تہذیبوں سے وابستہ لوگ رہتے ہیں۔اس غلط رویہ اور فکرکا ایک نتیجہ1947 میںہندوستان کی تقسیم کی صورت میں سامنے آچکاجب آزادی کے ساتھ ساتھ لاکھوں انسانوں کی جان ومال ،عزت وآبرو کے خون سے ہندوستان کی آزادی کا پہلا باب لکھا گیا اور دوسراالمیہ یہ ہے کہ اس کے بعد بھی ہوش نہ آیابھارت کو ایک خاص نسل اور طبقہ کے لوگ صرف ہندودیش قراردیکر ایک اور تباہ کن سانحہ کی جانب بڑھے چلے جارہے ہیں۔ حتیٰ کہ اس جارحانہ طرز فکر کو ہندوستان کے مستقبل کے طور پر پیش کیا جارہاہے۔ سچائیوں سے جنگ لڑکر جیتنے کی خواہش جتنی کل تباہ کن تھی اتنی ہی آج بھی ہے اور کل بھی رہے گی۔ جن لوگوں کا عقلی توازن تعصب نے بگاڑنہ دیاہو۔ ان کافرض ہے کہ اس حقیقت کو سمجھیں اور جرأت کے ساتھ پیش کریں کہ ہندوستان میں اگرایودھیا اور بنارس اور متھراجیسی بستیاں ہیں تو حیدرآباد اور اورنگ آباد ،دلی ، لکھنؤ جیسے مقامات بھی ہیں۔ جو مسلمانوں کے عظیم کارناموں کی یادتازہ کرتے ہیں اگر سنسکرت کے منتر گائے جاتے ہیں توعربی ، فارسی زبان کی کتابیں بھی روحوں کی تازگی کا سامان فراہم کرتی ہیں اگر اشوک کی لاٹ ہندوستان کی ماضی کی علامت مانی جاتی ہے تو قطب مینار اور تاج محل ،فتح پور سیکری کا بلند دروازہ بھی ایک عظیم عہد رفتہ کا پتہ دیتے ہیں۔ ہندی ہی قومی زبان نہیں ہے بلکہ بیس کے قریب دوسری زبانیں بھی اسی حیثیت کی مالک ہیں۔ اگر سنسکرت کو زندہ رہنے اور ترقی کرنے کا موقع فراہم کیا جاسکتاہے تو کوئی وجہ نہیں عربی زبان کی تعلیم پرانگلی اٹھائی جائے یہاں مندروں کی جائز تعمیرکو روکا نہیں جاسکتا تو مسجدوں ،گرجائوں اور گردواروں کی تخریب کاری کی اجازت بھی نہیں دی جانی چاہئے۔ اگر ہندوستان سے کسی تہذیب کو منسوب کیا جاسکتا ہے تو ایک ایسی مشترکہ تہذیب ہی ہوسکتی ہے ۔جس میں متعدد تہذیبوں، مختلف زبانوں اور مختلف عقائد وافکار کے مابین مخلصانہ معاہداتی تصور کارفرماہو۔ ایک دوسرے کی بات کو دلیل کے ساتھ سننے سمجھنے کا ماحول برقرار رکھا جاسکے کسی کو زورزبردستی اپنی تہذیب اپنی زبان سے محروم ہو جانے کا خوف دامن گیر نہ ہو۔ ہر فرقہ ومذہب کے لوگوں کواپنے تہذیبی دائرے میں پروان چڑھنے کی نہ صرف اجازت ہوبلکہ اسے یہ اطمینان میسرآسکے کہ اس کے معاملات میں حکومت یاعوام مداخلت نہیں کریں گے۔ حتیٰ کہ اس کی نئی نسل کی داخت پرداخت اور تعلیم وتربیت کے اختیارات بھی کسی نام پر سلب نہیں کئے جائیںگے۔
ہندوستان کے دستور سازاسمبلی کے بیشترارکان موجودہ سیاست دانوں خاص طور پر نسلی جارحیت اور طبقاتی اجارہ داری کی حامل تنظیموں کے لیڈروں سے زیادہ ہندوستان کی اس واقعاتی تصویر کو پہچانتے تھے اوراسی لئے انہوںنے درج ذیل حقائق کوشامل دستور کیا تھا۔ملاحظہ ہودستورہندباب سوم۔ بنیادی حقوق ’’مملکت کوئی ایساقانون نہیں بنائے گی جو اس حصہ سے عطاکئے ہوئے حق کو چھین لے یاان میں کمی کرے اور کوئی قانون جواس فقرے کی خلاف ورزی میں بنایاجائے خلاف ورزی کی حد تک باطل ہوگا۔ گویادستور میں بنیادی حقوق کے زیرعنوان جن حقیقتوں کو تسلیم کیاگیا ہے ان کے بالمقابل قانون سازی باطل ہوگی اس کے بعد شق وار حقوق درج کئے گئے۔
(۱)مساوات کا حق یعنی مملکت محض مذہب، نسل ،ذات، بمقام پیدائش یا ان میں سے کسی کی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف امتیاز نہیں برتے گی۔(۲) تقریر اظہاراور تنظیم کا حق، بھارت کے سارے علاقہ میں آزادانہ نقل وحرکت کا حق، استحصال کے خلاف حق مذہب کی آزادی کا حق وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثقافتی وتعلیمی آزادی کا حق بیان کرتے ہوئے اقلیتوں کو بایں الفاظ اطمینان دلایا گیا۔ ’’بھارت کے علاقہ میں یااس کے کسی حصہ میں رہنے والے شہریوں کے کسی طبقہ کو جس کی اپنی جداگانہ زبان رسم الخط یا ثقافت ہو اس کو محفوظ رکھنے کا حق ہوگا‘‘ دستور ہنددفعہ نمبر۲۹ بنیادی حقوق کی مزید وضاحت اس طرح کی گئی ’’ تمام اقلیتوں کو خواہ وہ مذہب کی بنیاد پر ہوں یا زبان کی بنیاد پراپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کاانتظام کرنے کا حق ہوگا‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’(دستور ہنددفعہ نمبر ۳۰)واضح ہوکہ بنیادی حقوق مراعات نہیں ہیں۔ جو عطاکی گئی ہوں یا قابل واپسی اور لائق تنسیخ ہوں۔ دستوری حوالے اس لئے بھی نہیں کہ یہ حقوق محتاج دستور ہیں بلکہ اس مفہوم میں دئے گئے ہیں کہ یہ وہ سچائیاں ہیں جن کا اعتراف اور تائید دستور ملکی بھی کرتا ہے اس میں ہندوستان کے باشندوں کے حقوق اس حدتک واضح ہیں کہ ان پر بحث واختلاف کی گنجائش بمشکل ہی نکالی جاسکتی ہے ہندوستان ان سب کا ہے جو یہاں کے شہری ہیں اور حقوق شہریت میں کسی کو کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے اگران سب کو واحدہ (Unity)کا نام دینے کی کوئی صورت ممکن ہے تو اسی طرح کے کسی کے حقوق سلب نہ کئے جائیں۔ مگرافسوس کہ ہندوستان کی تاریخ اس کی روایات اس کے ماحول اور دستور کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک مصنوعی تاریخ اقتدار کے بل پر ترتیب دی جارہی ہیں آریائی کلچر کو زبردستی ہندوستانی کلچر کا مقام دیا جارہاہے۔ علی الاعلان دستور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقلیتوں کی آزادی سلب کی جارہی ہے اور جارحانہ عزائم کا نام قوم پرستی، وطن پرستی اور ہندو ثقافت رکھا جارہاہے اور اب تو سارے تکلفات اٹھاکر اسی کو ہندوتوابھی کہا جارہا ہے ہندئوں کو قوم اور ہندوستان کو ہندودیش کہاجانے لگا سوچئے کیا یہ حقیقتوں کے خلاف جنگ نہیں ہے؟ کیا یہ جنگ ظلم کے ہتھیاروں کے علاوہ اور بھی کسی طرح لڑی جاسکتی ہے؟ کیااس طرح اس ملک کی تعمیر کی جاسکتی ہے۔
(جاری)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *