بلا تبصرہ

آر ایس ایس ودیا بھارتی کے ذریعہ مشنری کا مقابلہ کریگا

۲۶؍جولائی سے آر ایس ایس کے بھیّا جی جوشی کی صدارت میں ہونے والی ودّیا بھارتی کے عہدیداران کی میٹنگ میں طے کیا گیا کہ سنگھ شمالی مشرقی ریاستوں کے علاوہ جھارکھنڈ، اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کے آدی باسی اکثریت کے علاقوں میں اپنی تعلیمی اداروں کی کثرت اور سرگرمیاں بڑھائیگا۔ اس وقت ملک میں آر ایس ایس کی مکھوٹہ تنظیم ودّیا بھارتی سے 30000اسکولی اور 13000تعلیمی ادارہ جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ میٹنگ میں تاریخ کو دوبارہ لکھنے پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ خصوصاً مغل دور کی تاریخ دوبارہ لکھی جائے گی۔ اجلاس میں دلیل دی گئی کہ مہارانا پرتاپ ، شِواجی جیسے راجاؤں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ اسے دور کرنا ہوگا۔  (ہندی ہندوستان 27/7/15)

غریب لوگوں کو زیادہ ملتی ہے موت کی سزا بچ جاتے ہیں امیر

نیشنل لاء یونیورسٹی کے طلباء نے کمیشن کی مدد سے کی گئی تحقیق میں اعداد و شمار کی روشنی میں اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق میں 15سالوں میں موت کی سزا پانے والے 373قصور واروں کے ریکارڈ کی تحقیق سے پتہ چلا کہ ’’ان میں 3/4پسماندہ اور مذہبی اقلیتی طبقوں سے تھے۔ غریب ، زیر دست اور پسماندہ اور معاشی لحاظ سے کمزور طبقہ کے لوگوں کو ہماری عدالتوں سے سخت سزا ملتی ہے۔ کیونکہ اپنا کیس لڑنے کے لئے وہ قابل وکیل نہیں کر پاتے۔ دہشت گردی سے جڑے معاملات میں سزا پانے والوں میں 93.5%لوگ دلت اور مذہبی اقلیتوں سے ہیں۔ (صحافت 22/7/15،نئی دہلی)

 TOWARD UNFREEDOM

حجاب سے کون خوفزدہ ہے؟AIPMTکے امتحانات کے نگراں اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ حجاب یا Nunsکے مخصوص لباس سے حفاظتی انتظامات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اور اس تأثر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے قانونی مہر لگا دی۔ عدالت نے فیصلہ میں کہا کہ اگر مذہب حجاب یا اسکارف کے لئے حکم دیتا بھی ہے تب بھی کچھ گھنٹوں کے لئے اس پر عمل نہ کرنے سے عقیدہ خطرہ میں نہیں پڑ جائیگا۔ تمام آداب کی رعایت کرتے ہوئے یہ کہنا ہوگا کہ محترم عدالت کا یہ کہنا غلط ہے۔ یہ بڑی تعداد میں طالبات کو نقصان پہونچاتا ہے۔ طالبات کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے کچھ پابندیاں برداشت کرنی ہوتی ہیں۔ دوپٹہ یا حجاب ان میں سے ایک ہے۔ اس کے بغیر ان کے والدین یا سماج انہیں تعلیم سے روک سکتا ہے۔ عدالت اس فیصلہ کے ذریعہ طالبات کو محروم کر سکتی ہے۔ یہ بھی ایک تعجب خیز امر ہے کہ کیا یہ فیصلہ سکھ لڑکوں کی پگڑی پر بھی لاگو ہوگا؟ یا یہ کہ صرف مسلمان اور عیسائی لڑکیوں کو اس طرح کی policingکا نشانہ بنایا جائیگا۔ عدالت کا حکم شخص کے اپنے عقیدہ کے اظہار اور اس پر عمل کے حق کے جڑ پر وار کرتا ہے۔ جبکہ اپیل گذار اس بات پر راضی تھے کہ خاتون نگراں ان کے لباس کی تلاشی لے سکتی ہے۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیکر شہریوں کے بنیادی حقوق پر قدغن لگانے کی کوشش کی ہے۔ (انڈین ایکسپریس 29/7/15)

بینائی سے محروم مسلم اسسٹنٹ پروفیسر کو کرایہ پر مکان نہیں

مریم شمس الدین نے جو دہلی یونیورسٹی کے کسی کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں ،نے ایک ویڈیو میں وزیر اعلیٰ کیجریوال سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے ذریعہ اس مسئلہ کا حل چاہتی ہیں کہ راجدھانی میں کسی کو بھی میری طرح مذہب کی بنیاد پر مکان دینے سے انکار کر دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ جب مکان میں شفٹ ہونے لگیں تو مکان مالک نے انہیں مکان دینے سے انکار کر دیا۔ اگر مجھے ایک اسسٹنٹ پروفیسر ہوکر یہ سب برداشت کرنا پڑتا ہے تو طالبات کو کیا کچھ برداشت کرنا ہوتا ہوگا۔ (انڈین ایکسپریس 25/7/15)

آر ایس ایس کے سربراہ کو ‘Z’پلس حفاظت

آر ایس ایس کے سربراہ کو نئی حکومت نے ‘Z’پلس سیکورٹی مہیا کرائی ہے۔ یہ ذمہ داری CISFکو دی گئی ہے۔ یہ دستہ ہر وقت بھگوت کے ساتھ رہے گا۔ اس انتظام کے تحت قریب 60کمانڈو24گھنٹے حفاظت مہیّا کرائیں گے۔ (ہندی ہندوستان 8/6/15)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *