دِل کی زندگی

                آج دلوں کی سرزمین اس قدر بنجر ہوگئی ہے کہ اس میں کوئی روئیدگی، کوئی سبزہ، مہرووفا کی کوئی کونپل نہیں پھوٹتی۔ ہر فرد اپنے دِل کے ہاتھوں پریشان ہے، دوسرے انسان کے دل کی آہوں، سسکیوں کو سننے کی صلاحیت سے بھی محروم ہے۔ اپنے گھر سے لے کر باہر کی وسیع دنیا تک دلی صدمے وافر میسر ہیں، غم جگہ جگہ ملتا ہے، نفرت و کدورت کے چرکے قدم قدم پر لگ رہے ہیں۔

                ہمارے لئے دنیا و آخرت کی بھلائی اسی میں ہے کہ ہمارے سینوں میں دِل، اور دل میں جذبات محبت موجود رہیں۔ زندگی ایک پھول ہے اور محبت اس کی مٹھاس ہے، محبت سے ہی دل کی زندگی اور اطمینان کا سامان ہے۔ پاکیزہ اور پائیدار محبت کی خوبصورت رہنمائی ہمارے خالق نے اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔

                اللہ ارحم الراحمین ماں کے دِل میں بچے کی بے پناہ محبت ڈال دیتا ہے۔ پھر باپ کے دِل میں، بھائی کے دل میں بھائی کی، میاں بیوی کے درمیان، محبت جہاں بھی ہے، اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر تو اپنے خالق سے اور اس کے نبیؐ سے محبت حاصلِ زندگی ہے۔

محبت الٰہی:۔

                شیخ بدرالدین عینیؒ فرماتے ہیں: اسبابِ محبت تین ہیں: کمال، جمال ،جودوسخا۔ اللہ تعالیٰ اپنی صفات کے لحاظ سے لامتناہی کمالات کا حامل ہے کوئی خوبی ناقص نہیں ہے۔ اس کے کمالات کی کشش بندے کو گرویدہ کرتی ہے۔ جمال کے لحاظ سے بھی وہ ذات، انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ یعنی اس جیسا کوئی حسین و جمیل نہیں۔ جودوسخا پر غور کریں، ہم اس کی عطا کردہ نعمتوں کا شمار تک نہیں کر سکتے۔

                اللہ کے نبیؐ نے فرمایا، اس شخص نے ایمان کا شیریں مزہ پالیا جو اللہ کے رب ہونے پر راضی ہوگیا۔ رضائے الٰہی کی مٹھاس تمام حلاوتوں سے زیادہ میٹھی ہے۔ ہم بے نصیب مسلمان اس مٹھاس سے اپنے دل خالی کر بیٹھے۔ اب محبت الٰہی کی حلاوت کہاں سے نصیب ہو! یہ کلام اللہ سے حاصل ہوگی۔ جب قرآن کریم کو دِل کی دھڑکنوں میں اتارا جائے گا تو حب الٰہی کی سرسبز شاخیں، کونپلیں اور کلیاں کھِل جائیں گی۔ آگاہ رہو! ذکر الٰہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے (۲۸:۱۳)۔ ذہنی سکون کی تلاش میں لوگ ملک ملک پھرتے ہیں۔ اطمینان قلب، ظاہری نماز روزہ کرنے والوں کو بھی کم ہی میسر آتا ہے۔ کیونکہ دلوں میں حب الٰہی کے برابر برابر اور کبھی بالاتر، اور بہت سی چیزوں کی محبت حسین بتوں کی شکل میں سجائی ہوتی ہے۔

                ایک صحابی ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حضور ؐ ، ایسا عمل بتائیں کہ خدا اور بندگانِ خدا مجھ سے پیار کرنے لگیں! آپؐ نے فرمایا: دنیا سے بے نیاز ہو جا، خدا تجھے پیار کرے گا۔ (ابن ماجہ) اسی کو استغناء کہتے ہیں۔ حضور ؐ نے فرمایا: استغناء کی شان اور مقام دل ہے۔ ہمارے ماحول میں زاہد اسے سمجھتے ہیں جو تارک دنیا ہو، میلے کچیلے کپڑے پہنے ہو، کسی گندی کٹیا میں بسیرا ہو، کسی سے سیدھے منہ بات نہ کرے۔ حالانکہ ارشاد نبویؐ کے مطابق زہد یہ ہے کہ دل غیر اللہ سے بے نیاز ہو جائے۔بقول اقبال مرحومؒ

                                                                ع۔            کہ پایا میں نے ااستغناء میں معراج مسلمانی

                یہ استغنائے قلب جسے نصیب ہو جائے چاہے امیر ہو، غریب ہو، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو، اَن پڑھ ہو، اس کے دل میں حبّ الٰہی کا بیج ثمر بار ہوگا۔ چاہے اسے عبادت و ریاضت، مراحلِ چلہ کشی کا کوئی موقع ہی نہ ملا ہو، تخم حبّ الٰہی ان کے دِل کی زر خیر زمین کو مالامال کرے گا۔ فرعون کا جبر و قہر ایسے مومن کے ایمان اور اطمینان کو ذرا بھی جنبش نہیں دے سکتے۔ اسے سولی پر لٹکانے کا حکم مل جائے، تب بھی برملا کہے گا۔ فاقض ما انت قاض ‘‘(۷۲:۲۰) تو جو کچھ کرنا چاہے کر لے‘‘۔یعنی اب مجھے اپنے خدا کی محبت کے سوا کسی کی پروا نہیں ہے۔

                دورِ حاضر میں مادّہ پرستی نے اکثریت کو دولت کا پجاری بنا دیا ہے، جس کے نتیجہ میں دلوں کے اندر بے اطمینانی ہے۔ حصولِ سکون کے لئے نشہ آور چیزیں استعمال ہو رہی ہیں۔ راتوں کو فطری نیند غائب ہونے پر خواب آور دوائیں استعمال کرکے مصنوعی طریقے سے نیند کا سامان ہو رہا ہے۔ بجلی کی تیز روشنیوں نے رات کے ستاروں کی جھلملاہٹ اور چاند کے نظاروں کی آیات کو نور سے محروم کر دیا ہے۔ ٹیلی ویژن نے اہلِ ایمان کا ٹائم ٹیبل ایسا تلپٹ کیا کہ نہ نمازِ عشاء باجماعت مقدر ہوتی ہے، نہ مسنون طریقہ سے نمازِ عشاء کے فوراً بعد سونا قسمت میں ہے، نہ وقت سحر بیداری کی توفیق رہی۔

                                                ع۔                            شب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئے

                حضور ؐ نے فرمایا: جو کوئی اللہ کی ملاقات کا آرزو مند ہوگا ، اللہ کو اس سے ملنے کی چاہت ہوگی۔ جو اللہ سے ملنا پسند نہیں کرے گا، اللہ اس سے ملنا پسند نہیں کر ے گا ۔(مسند احمد) اگر اللہ کے ساتھ بندے کا معاملہ صاف نہیں ہے بلکہ خدا کا چور ہے تو کس منھ سے سامنے جائے گا۔ نری شرمساری ہے۔ ایک دوسرا شخص جس نے خدا کے احکام کی فرمابرداری میں زندگی گذاری، نہ وہ خدا کے حقوق کا مقروض ہے نہ کسی بندے کے حقوق کا۔ اس کا دل تو ہر وقت چاہے گا کہ میں خوشی خوشی اپنے خالق سے جا ملوں۔ اسے کوئی حجاب نہیں ، کوئی رکاوٹ نہیں۔ دل کا آئینہ صاف ہے، تو ڈر کس چیز کا؟

حبّ رسول ؐ

                خالق کی محبت دل میں جاگزیں ہو تو پھر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی پیدا ہو جاتی ہے، جس کی رہنمائی خدا تک رسائی کا ذریعہ ہے۔ ’’النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم‘‘ بلا شبہ نبی تو اہل ایمان کے لئے ان کی اپنی ذات پر مقدم ہے (۶:۳۳)

                غازی علیم الدین شہید ؒ ایک ترکھان کا نوجوان بیٹا کوچوان تھا۔ نہ کسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی، نہ کسی دارالعلوم سے فارغ التحصیل۔ جونہی اسے گستاخِ رسولؐ کی کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ کا علم ہوا، وہ کھانا پینا بھول گیا، اس کے دل میں حبّ رسول ؐ سے لبریز ایمان نے جوش مارا اور شاتمِ رسول کو جہنم واصل کرکے وہ پورے قلبی اطمینان کے ساتھ، ہنسی خوشی پھانسی پر لٹک گیا۔ اس کی شہادت پر، فلسفہ کا پی ایچ ڈی اقبال حسرت سے کہہ اٹھتا ہے ’’ترکھان دامنڈا ساڈے ساریاں تو بازی لے گیا، تے اسیں دیکھ دے ای رہ گئے۔‘‘

                قاضی عیاض ؒ نے ’’الشفائ‘‘ میں لکھا ہے: ایک رات حضرت عمرؓ رعایا کی خبر گیری کے لئے گشت کرتے کرتے ایک گھر کے پاس سے گذرے جس میں ٹمٹماتا ہوا چراغ جل رہا تھا۔ اندر ایک بڑھیا اون دھنک رہی تھی۔ ساتھ ساتھ محبت رسولؐ کا ترانہ نہایت جوش و خروش سے گا رہی تھی: موتیں تو بہتیری آتی رہتی ہیں، کاش ! مجھے معلوم ہو جاتا کہ میرے مرنے کے بعد میرے حبیب و محبوب سے ملاقات ہوگی اور زیارت نصیب ہوگی۔ یہ ترانہ محبت سن کر حضرت عمر ؓ کے قدم وہیں رُک گئے، دل گرفتہ ہوکر بیٹھ گئے۔ بہت دیر تک یادِ رسولؐ میں روتے رہے۔

                حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش مبارک صحابہ کرام ؓ دفن کرکے فارغ ہوئے۔ خادم رسول ؐ حضرت انس ؓ سے دختر رسول فاطمہؓ بتول نے پوچھا: انس ؓ ،کس حوصلے سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ مبارک پر مٹی ڈال کر آئے ہو! (البدایہ والنہایہ)

                وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک دِن حضرت ابوبکرؓ، عمر ؓ اور انسؓ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی ماں) کے یہاں پہنچے تو وہ پھوٹ کر رونے لگیں۔ ابوبکرؓ و عمرؓ نے کہا: کس لئے روتی ہو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ کے پاس اس دنیا سے بہتر نعمتیں ہیں۔ خاتون نے کہا: بالکل، مجھے علم ہے کہ خدا کے ہاں دنیا سے بہت بہتر انعام ہیں۔ مگر میں تو اس صدمے سے روتی ہوں کہ حضورؐ کے جانے کے بعد آسمانوں سے وحی آنا بند ہو گئی ہے۔ یہ بات سُن کر شیخینؓ بھی رونے لگے۔

                حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: حضورؐ ،آپ کی ذات مجھے میری جان ،میری بیوی، میرے بچوں سے زیادہ محبوب ہے۔ میرے گھر میں جب آپؐ کا ذکر خیر ہوتا ہے تو آپ کے شوقِ زیارت میں بے صبر ہوجاتا ہوں۔ فوراً آکر آپؐ کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہوں۔ جب مجھے اپنی اور آپؐ کی موت یاد آتی ہے، میں پریشان ہو جاتا ہوں۔ آپؐ جنت میں داخل ہونے کے بعد، انبیاء ؑکے ساتھ اعلیٰ منازل میں ہوں گے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ میں جنت میں آپ کی زیارتوں سے محروم نہ ہو جاؤں۔ حضورؐ یہ بات سُن کر خاموش ہو گئے تو جبرئیل ؑ وحی لے آئے کہ ’’جو لوگ اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کریں گے (یعنی زبانی نہیں، عملی محبت) وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کے ساتھ۔ یہ آیت صاف اشارہ دے رہی ہے کہ جیسے اہلِ جنت کا جشن زیارت الٰہی ہوا کرے گا، ویسے ہی زیارت نبویؐ کے حسین مواقع بِلا تردد حاصل ہوں گے۔ اہل جنت حضور ؐ سے ملاقاتیں، مصافحے، معانقے کرکے آنکھوں کو فرحت اور دِل کو سرور بخشیں گے۔ انشاء اللہ۔

                حضرت حسانؓ نے حضور ؐ کی مدح میں کیا خوب کہا ہے:

                                خلقت مبرا من کل عیب                          کانک قد خلقت کماتشاء

                آپؐ ہر عیب سے پاک صاف پیدا کئے گئے ہیں۔ گویا خالق نے آپؐ سے پوچھ پوچھ کر آپؐ کو بنایا۔

                                واجعل منک لم ترقط عینا                       واحسن منک لم تلد النّساء

                آپ ؐ جیسا خوبصورت کسی آنکھ نے دیکھا ہی نہیں۔ آپؐ جیسا حسین کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔ تری صورت، تری سیرت، ترا نقشہ،ترا جلوہ تبسم ، گفتگو، بندہ نوازی، خندہ پیشانی

                ربیعہ ؓ بن کعب اسلمی (خادم رسول اللہ ؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐ) سے ایک رات حضور ؐ نے فرمایا: مجھ سے کچھ مانگ لے۔ انہوں نے کہا: حضور! میرا سوال صرف یہ ہے کہ جنت میں آپؐ کی رفاقت نہ چھوٹ جائے۔ آپؐ نے فرمایا اپنی تمنا کے حصول کے لئے سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو۔ (صحیح مسلم)

                حضرت سہلؓ بن عبد اللہ کہتے ہیں: حب الٰہی کی نشانی حبّ قرآن، حبّ قرآن کی علامت حبّ نبیؐ، حب نبیؐ کی علامت حبّ سنت، حبّ سنت کی علامت حبّ آخرت، حبّ آخرت کی علامت دنیا سے بغض اور بغضِ دنیا کی علامت یہ ہے کہ دنیا کا ذخیرہ کرنے کے بجائے، توشہ آخرت لے کر آخرت تک پہنچ جائے ۔ (الشفائ)

                کاش! آج کے اندھے دانش وروں کو آنکھیں نصیب ہوتیں، تو رہبر کامل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع کمالات شخصیت نظر آجاتی۔ جن کو زندگی میں پاکیزگی ہی پاکیزگی، افکار و کردار کا حسین امتزاج، جن کی حیات مبارکہ سراسر خلق خدا کے لئے رحمت ہی رحمت۔ پوری تریسٹھ سالہ زندگی ایسی بے داغ چمکتی چادر، کہ کوئی معمولی دھبّہ نہ دکھایا جا سکے۔ اس راہبرؐ کامل کے ہوتے ہوئے اِدھر اُدھر بھٹکتے پھرنا کیسی بے نصیبی ہے۔

                حبّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا ہے کہ آپ ؐ کی پوری پوری فرماں برداری کی جائے اور ساری زندگی اسی عہد لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کی وفا میں گذر جائے۔

                ہوحلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم۔  ’’مومنوں پر نرم‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اہلِ ایمان کے مقابلے میں اپنی طاقت کبھی استعمال نہ کرے۔ اس کی ذہانت ،اس کی ہوشیاری، اس کی قابلیت، اس کا اثر و رسوخ اس کا مال، اس کی جسمانی قوت، کوئی چیز بھی مسلمانوں کو دبانے اور ستانے اور نقصان پہنچانے کے لئے نہ ہو۔ مسلمان اپنے درمیان اس کو ہمیشہ نرم خو، رحم دِل، ہمدرد اور حلیم انسان پائیں۔

                حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے ملتا ہے، اس کا ہاتھ محبت سے پکڑتا ہے، تو دونوں کے گناہ یوں جھڑتے ہیں جیسے خشک درخت کے پتّے تیز ہوا میں جھڑتے ہیں۔ چاہے دونوں کے گناہ سمندر کے جھاگ برابر ہوں۔ سب معاف ہو جاتے ہیں۔

                مومن کی شان گلاب کے شگفتہ و دِلکش پھول کی طرح ہے۔ جس شاخ پر مسکرا رہا ہوتا ہے وہ شاخ کانٹوں سے بھری ہوتی ہے۔ اسے دوسروں سے زخم پہنچے تو بھی یہ کسی کو ذرا دُکھ نہیں دیتا۔ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا : لوگوں سے محبت کرنا آدھی عقل مندی ہے۔ یعنی دیگر تمام امور حیات کی دانائی ایک طرف اور صرف انسانوں سے محبت کا عمل ایک طرف۔ حضور ؐ نے فرمایا: مومن سراپا محبت و الفت ہے۔اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو نہ کسی سے الفت رکھتا ہو نہ کوئی دوسرا اس سے انس رکھے۔ تمنا ہر فرد و بشر کی یہ ہے کہ لوگ مجھ سے پیار کریں۔ نسخہ نہایت سادہ اور آسان ہے کہ آپ ہر کسی سے پیار کریں لوگ آپ سے پیار کرنا شروع کر دیں گے۔

                مگر مومن کی شان صرف یہ ہی نہیں کہ خود صاف دِل رہے، بلکہ دوسروں کے دِل کی صفائی کا اہتمام کرے۔ کسی کو کسی سے غلط فہمی ہے تو اسے رفع کروائے۔تاکہ سب کے دل ایک دوسرے کے لئے صاف ہوں۔ دِل صاف ہو جائیں تو زبان خود بخود صاف ہو جاتی ہے۔ غیبت کے تیر ونشتر زبان سے اسی وقت چلتے ہیں جب دِل میلا ہو۔

                حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے کہ حسن و ظن بھی عبادت کے حسین مدارج سے ہے۔ جتنا بھی ممکن ہے، دوسرے کے بارے میں دِل صاف رہے۔ خواہ مخواہ دوسروں کی کرید لگاتے پھرنا، پھر اس کے چرچے کرنا، مناسب کام نہیں۔

                خدا وند کریم ہمیں ان ارشاداتِ نبوی ؐ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب کردے۔ آج ہمارے اڑوس پڑوس میں کتنے مظلوم و مجبور، مرد عورتیں، بچے بوڑھے سسک رہے ہیں، بلک رہے ہیں۔ کون ہے جو اپنی آنکھ کے درد کی طرح ،کسی دوسرے مسلمان کے درد کا درماں کرے۔ کون ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح دوسروں سے دُکھ سہہ کر ،ان کے سکھ کا سامان کرے۔ کون ہے جو دشمن سے پتھر کھاکر انہیں دعائیں دے؟ کون ہے جو سر شام پریشان حال بڑھیا کا سامان اٹھا کے اسے منزل تک پہنچا آئے۔ کون ہے جو ابوبکر ؓ کی طرح رات کی تاریکی میں ایک معذور بڑھیا کے گھر کی صفائی کرے۔ کون ہے جو عمر ؓ کی طرح راشن اپنی کمر پر اٹھا کر اپنی بیوی کو ساتھ لیکر کسی خانہ بدوش کی مدد کو جا پہنچے۔ کون ہے جو عثمان ؓ کی طرح اپنا سارا مالِ تجارت جہاد میں جھونک دے؟ کون ہے جو علیؓ کی طرح دشمن کے سینے پر بیٹھ کر صرف اس لئے اُسے چھوڑ دے کہ اس نے منہ پر تھوک دیا تھا؟ کون ہے جو دختر حاتم طائی کو ننگے سر گرفتار دیکھ کر اپنی چادر مبارک سے اس کا سر ڈھانپ دے؟ ہے کوئی آج جو اپنے ملازم کو سواری پر بیٹھا کر خود پیدل چلے؟ ہے کوئی جو مہمان کو کھلا کر خود بھوکا سوجائے؟ ہے کوئی جو اپنے اوپر کوڑا پھینکنے والی کی عیادت کرے؟ ہے کوئی جو غریبوں کی مجلس میں بیٹھ بیٹھ کر ان کی دِل جوئی کرے؟

                اللہ کی محبت، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ، مسلمان بھائی کی محبت، انسانوں کی محبت جو اللہ کی عیال ہیں ، یہی دِل کی زندگی اور قوت کا سامان ہے اور دِل کی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔

(ماخوذاسلامک مومنٹ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *