ہندوتو ۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔ ہندوستان

قومیت اور قومی یکجہتی

ہندوستان میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے اجتماعی وجود کو ختم کرنے کا خواب دیکھنے والے کو طریقہ کار کے لحاظ سے توبہت سے دائروں میں تقسیم کیا جاسکتاہے مگر بنیادی مقصد اور فکر کے اعتبار سے یہ سب ایک ہی ہیں۔ ہندودیش ،ہندوقوم، ہندوتہذیب کا منصوبہ ہندوستانی قومیت اور قومی یکجہتی کے پردوں میں بھی زیر عمل لایاجارہاہے ۔یعنی زہر کی گولیاں شکرمیں ملاکر بھی کھلائی جاتی ہیں اس معنیٰ میں کانگریس اور بی جے پی جیسی پارٹیاں واقعی ایک سکے کے دو رخ ہیں سنگھ خاندان اگراقلیتوں کو خوف زدہ کرتاہے تو کانگریس ان کو خود اعتمادی اور خودانحصاری سے محروم کرکے محافظ وپاسبان کا حاجت مند بناتی ہے آنجہانی اندراگاندھی نے مرحوم جنرل شاہنواز کوایک خط کے جواب میں تحریری طورپر آگاہ کیا تھا کہ اقلیت اکثریت کو ناراض کرکے زندہ نہیں رہ سکتی (ملاحظہ ہوملک ملت بچائو تحریک کے دوران جنرل شاہ نواز اور اندراگاندھی کی مراسلت)اس پارٹی نے ہری جنوں کو جملہ مراعات سے محروم رکھا اگروہ اسلام یاعیسائیت قبول کرلیں گویامراعات پسماندگی کی بناپر نہیں ہندوسماج سے وابستگی کی شرط پر دی جاتی ہیں ۔سنگھ خاندان نے قوم اور قوم پرستی کی تاریخ وضع کی ہے اور کانگریس نے اس کو سرکاری سند عطافرمادی ایک نے کہا کہ ہندوہی سچاہندوستانی ہوسکتاہے۔ دوسرے نے ثابت کیا کہ ہم زیادہ بہتر ہندوہیں ایک بڑے لیڈر نے امرجنسی کے بعد اندراگاندھی کو برسراقتدار لانے کے لئے یہ بھی گواہی دی کہ یہ Indra Gandhi is better Hindu Than Bajpayeeملاحظہ ہو اچاریہ ونوبابھاوے کااخباری انٹرویو۔ ’’کانگریس نے اقلیتوں کے اندر حقیقی لیڈر شپ کی جگہ مصنوعی اور زرخریدلیڈرشپ پیداکرنے اور ان کی حق طلبی کی کوششوںکو فرقہ پرستی کاالزام دے کر خاموش رکھنے کا جو حربہ استعمال کیا اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آریہ نسل پرستی کے وقار کو بحال رکھنے میں وہ زیادہ ماہر فن ہے۔ اقلیتوں کو بے دست وپارکھنے اور ان کی آواز کو دبانے کی پالیسی کی نمایاں مثال بابری مسجد کی تحریک کے دوران منظرعام پر آئی ۔مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلابے ایمانی کی گئی مسجد ڈھانے والوں اور مسجد بچانے والوںکو نہ صرف ایک ہی زمرے میں شمارکیا گیا، بلکہ مسجد کے تحفظ کے لئے زبان کھولنے والوں کے ساتھ تخریب کاروں جیساسلوک کیا گیا اور تخریب کاروں کو بھگت اور سیوک کی ڈگریاں تقسیم کی گئیں اور انہیں سرکاری تحفظ اور سرپرستی میں ان کے گھروں تک پہنچایا گیا۔ مرکز کی کانگریسی حکومت نے بی جے پی کی ریاستی حکومت اس وقت گرائی جب منصوبہ مکمل ہوگیا یعنی قتل بھی کرایا اور ثواب بھی لوٹناچاہا۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اگر اقلیتیں اپنے اوپر ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں یا اپناحق مانگتی ہیں تو کیا یہ فرقہ پرستی ہے ؟اگر قومی یکجہتی کا مطلب اکثریتی جبر کے آگے سپرانداز ہونا ہے تو ہندوقوم پرستی اور قومی یکجہتی میں واقعی فرق کیا ہے ؟صحیح یہ ہے کہ قومی یکجہتی کا مطلب اکثریت کے تابع فرمان بن کر رہنا نہیں ہے بلکہ مجموعی طورپر ملک کی تعمیر وترقی اور حفاظت کے لئے ایسی اصولی باتوں پر متفق ہونا ہے جو کسی کے حقیقی مفاد کے منافی نہ ہوں اس کے برعکس اگر عقیدوں میں یکجہتی، زبان وتہذیب میں یک رنگی کو قومی یکجہتی کے ہم معنیٰ بنادیا جائے گا تواکثریت کے زعم میں بدمست ہونے والوں کے علاوہ اور کون ہے جو اس سے اتفاق کرسکتاہے؟ کوئی بھی اقلیت اس قیمت پر قومی یکجہتی کا تحفہ حاصل کرنے پرراضی نہیں ہوسکتی۔

وطنی قومیت

انگریزوں نے سارے ہندوستانیوں کو بلاامتیاز INDIANیاہندوستانی کہنا شروع کیا یہ ایساہی ہے جیساکہ مسلمانوںنے ہندولفظ کا استعمال مقامی باشندوں کے لئے کیا تھا مگر مسلم عہد میں وطنی قومیت کا کوئی تصور موجود نہیں تھا نہ ہی مسلمانوں نے خود کوغیرملکی سمجھا بلکہ وہ اپنے نومسلم بھائیوں کے ساتھ اسی ملک کی ایک قوم بن گئے اور غیر مسلموںکو عام طور پر ہندوکہنے لگے خلاف ازیں انگریزوں نے نہ تو خود کو ہندو ستانی کہا اور نہ ہندوستان میں مستقل سکونت وحکومت کا حق دار قراردیا آخرتک وہ خود کو انگریز قوم کہتے رہے اور ہندوستان کو تاج برطانیہ کے تحت ممالک محروسہ British Coloniesکی فہرست میں شمار کرتے رہے موجودہ ہندوستانی قومیت کا تصور مغربی تصورِ قومی سے مستعار لیاگیا یعنی وطن کی بنیاد پر سارے ہندوستانی ایک قوم ہیں۔ تحریک آزادی میں اس تصور قومیت کو زبردست فروغ ملااور انگریزوں کے خلاف یہ ایک زبردست قوت محرکہ بن گیا متعدد مسلم ارباب علم ودانش نے اس کو اسلام کے تصور امت کے منافی قراردیا۔ علامہ اقبال ؔنے بھی جدیدسیاسی وطنیت کو وسیع تناظر میںغارت گردینِ مصطفویؐ کا نام دیکر اس کی قباحت سے آگاہ کیا۔مگرافسوس کہ علم وتحقیق کا موضوع بننے کے بجائے یہ ایک سیاسی تنازعہ بن گیا۔ہر سوال کا جواب سیاسی انداز پر دیاگیا اورہر دلیل راہ کی رکاوٹ سمجھ کر رد کردی گئی آزادی کی محبت میں مسلم علماء کسی خاص نتیجہ تک نہ پہنچ سکے اقلیتوں کو دستوری تحفظات کا تحفہ عنایت فرماکر حقیقت سے غافل کردیاگیا کچھ لوگوں نے متحدہ قومیت کی اصطلاح استعمال کرکے اپنا بوجھ ہلکا کرلیا بہرکیف ہندوستانی قومیت کے جدید سیاسی تصور کو جتنا واضح ہوناچاہئے تھا وہ نہ ہوسکا ساتھ ہی ملک کی تقسیم اورآزادی کا مرحلہ آگیا۔ بھارتی مسلمانوں کی سیاسی قیمت گھٹ کریہاں تک پہنچی کہ دستوری تحفظات کو ہی واحد سہارا تسلیم کرنا پڑا۔برسراقتدار اکثریت کے لیڈروں اور تنظیموں کو من چاہے طور پر سیاسی اصطلاحات ومسائل کی تفریق وتوضیح کا موقع مل گیا۔ سنگھ کے گروگوالکرکی کتاب ’’ہم اور ہماری قوم‘‘ اسی زعم بے جاکی ترجمانی ہے۔ جبر تشدد کے ماحول میں جان ومال، عزت وآبروکے تحفظ نے اقلیتوں کے نصب العین کا درجہ لے لیا۔ مسلسل ومتواتر حادثات نے ان میں یہ ہمت باقی نہ رکھی کہ وہ اکثریت کی وضع کردہ گمراہ کن توضیحات پر انگشت نمائی کرسکیں۔ حالانکہ ان کے سامنے ایساجارحانہ تصور قومیت پیش کیا جارہاتھا جس کی تائید نہ تو عقل وانصاف کی روسے کی جاسکتی ہے اور نہ ہی دستور ملکی اسکو جائز قراردیتاہے کسی خاص فرقہ کو یہ اجازت کیسے دی جاسکتی ہے کہ وہ دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گذار نے پر مجبور کردے یعنی تہذیب ہوتواس کی، زبان ہو تو اس کی اور دوسرے زندہ رہنے کی قیمت پراپنا سب کچھ چھوڑدیں ۔آریہ نسل پرستی کو ہندوقومیت یاہندوتوکے روپ میں پیش کرنے والوں کا پارہ اتنا چڑھا ہواہے کہ وہ اقلیتوں کی شکایت سننا بھی پسند نہیں کرتے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ وہ سوچتے ہیں وہی سب کو سوچنا چاہئے ۔یعنی سب کی کھوپڑیوں میں ان کا دماغ کام کرنا شروع کردے ،سب کی آنکھیں اسی طرح اور اسی طرف دیکھیں جس جانب وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے اس زعم باطل کو ملک کا سیاسی اور تعلیمی نظام بھی تقویت پہونچارہاہے۔ ذرائع ابلاغ پر بھی اسی طبقہ کے ہمنوائوںکا قبضہ ہے۔اقتصادی وتجارتی وسائل بھی بڑی حد تک انہیں کے ہاتھ میں ہیں۔ گویا آریوں کے طبقاتی سماج کا ’’پنرجنم‘‘ ہوچکاہے۔ انہیں فکر اب یہ ہے کہ اس کو کس طرح ہمیشہ زندہ رکھاجائے۔ مرکزی کابینہ ،سیاسی پارٹیوں کی لیڈرشپ اور افسرشاہی میں انہیں کودبدبہ حاصل رہتاہے۔ وقت پڑے تو ہریجنوں کے نازنخرے بلکہ گالیاں بھی برداشت کی جاتی ہیں۔مگر مسلمانوں کو دیانتداری سے تناسب آبادی کے لحاظ سے حصہ دینا تو بڑی بات ہے کچھ سوچنا بھی پسند نہیں ہے۔ آریہ نسل پر ست لیڈروں کا گمان ہے کہ جنہیں وہ کل شودراور آج ہریجن کہتے ہیں اپنے گھر کا پتہ بھول چکے ہیں۔ ان کا کوئی پرسنل لاء نہیں ہے ان کا اپنا کوئی کلچر نہیں ہے اس لئے منصوبہ بندسیاست کے تحت انہیں اپنے خاکہ میں سمویا جاسکتاہے۔ لیکن مسلمان اور عیسائی اپنی مذہبی وتہذیبی شناخت کا سودا کرنے پر رضامند نہیں ہوسکتے۔ اور وہ ایک عالمی رشتہ میں بندھے ہوئے ہیں۔ اس لئے انہیں ڈرانے دھمکانے اور محروم رکھنے کی روش اپنائی جاتی ہے ۔ قدرتی نتیجہ کے طور پر اقلیتوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہیں یہ خوف دامن گیر ہے کہ ان کے اپنے ملک میں ان کا کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔

                اکثریت کے بل پر ان کا سب کچھ چھینا جاسکتاہے۔ بابری مسجد اور گردوارہ امرتسر کے ظالمانہ انہدام نے تواس بے چینی کو دائمی بنادیا ہے۔ برا وقت پڑنے پر بارہا تجربہ ہو چکا ہے کہ خدا کے سوا اور کوئی ان کا مددگار نہیں ہے۔ یہاں دستور، انتظامیہ اور عدلیہ کوئی بھی تحفظ وانصاف دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ کچھ پتہ نہیں کہ کب ان کی کسی تنظیم کو بلاثبوت ’’ملک دشمن ‘‘ قراردیدیاجائے اور کس کے جرم بے گناہی کی سزا کس کو بھگتنا پڑے۔ جس ملک میں TADAجیسے وحشیایہ قوانین وضع کئے جاتے ہوں اور اقلیتوں پران کو بے دریغ استعمال کیا جاتاہو حتیٰ کہ ایساقانون منسوخ ہونے پر بھی ملزموں کی قید ختم نہ ہوتی ہو جہاں جس کو چاہے ’’دائود ابراہیم‘‘ گروہ کا آدمی قرار دیکر اس کا سب کچھ چھینا جاسکتاہو وہاں اس توقع کی کیا گنجائش ہے کہ اکثریتی جبر کے اس دیوکو ہندوستانی قومیت کا دیوتامان لینا چاہئے ۔ہندوستان کے بہی خواہوں کو سوچنا چاہئے کہ سب کے ملک کو صرف اپنا ملک مان کرچلنے والوں کی چال کتنی خطرناک ہے اوراس کے نتائج کتنے مہلک ہوں گے ۔یہ تووہی کھلی ہوئی نسل پرستی اور جارحیت ہے جو جرمنی میں ہٹلر اور اٹلی میں مسولینی کی صورت میں اپنا تعارف کراچکی ہے۔

ناجائز مطالبے

نہ جانے کس منھ سے مسلمانوں سے وفاداری کا مطالبہ کیا جاتاہے اگر کسی کو اپنا سمجھاہی نہیں جاتاتواپنائیت کے ناتے شکایت کیسی ؟فسطائی لیڈرکہتے ہیں ہندوستان ہماراہے ۔ ہندوہی قوم ہیں تو پھر ان سے وفاداری کی خواہش کیوں جوآپ کی نظر میں نہ ملک میں حصہ دارہیں ،نہ قوم میں شامل ہیں۔ در اصل ظالموں نے ہمیشہ ہی خود کو دلیل سے بے نیاز سمجھا ہے اور اسی لئے نسل پرستی کی بنیادوں پر ہندوتو یاہندوقوم پرستی کا محل تعمیر کرنے والے کھوکھلے دعوے اور بے اصل مطالبے کرتے رہتے ہیں ۔ کیا یہ مناسب ہے کہ ہندوسماج سے پوچھا جائے کہ ان کے اسلاف جے چند ،راناسانگا نے بابر اور غوری کو کیوں ہندوستان پر حملہ آورہونے کی ترغیب دی تھی اوراس طرح کسی کے شخصی فعل کو ایک قوم کا ذمہ دار ٹھہرایاجائے !کیا مرہٹہ سرداروں کے انگریزوں کے ساتھ مل کر سلطان ٹیپو کے خلاف جنگ کرنے کی ذمہ داری ہندومرہٹوں کے سرڈالی جاسکتی ہے؟ کیا گاندھی جی کے قاتل ناتھورام گوڈسے اور گوپال گوڈ سے کے مجرمانہ فعل کی بنیاد پر برہمنوں سے محاسبہ کیاجاناچاہئے ؟ کیا ۱۸۵۷ء میں پنجابی فوج کی وفاداریوں کا انگریزوں سے وابستہ رہنا اس بات کا جواز ہے کہ اس علاقے کے باشندوں کی حب الوطنی مشکوک ٹھہرائی جائے اگر یہ اور اس طرح کے بہت سے سوالوں کا جواب نفی میں ہے اور ہونا چاہئے تو ہندونسل پرست لیڈروں کو یہ حق کیسے مل گیا کہ بعض اشخاص اور واقعات کے حوالے سے کسی دوسری ہندوستانی قوم یا فرقہ سے اپنی پسند کے مطابق وفاداری کا ثبوت طلب کریں۔ اور جب تک وہ ایسانہ کرسکیں (اور انہیں ایساکرنا بھی نہیں چاہئے )اس وقت تک ان کی شہری حیثیت اور وطنی حصہ داری کا انکار کرتے رہیں ۔ بابر جیسے انصاف پسند اور وسیع المشرب بادشاہ کی بنائی ہوئی مسجد اور دوسری نشانیاں اگر مٹادینے کے قابل ٹھہرائی جائیں گی تو بودھوں اور جینیوں کے مندروں پر قبضہ کرکے انہیں ہندومندروں میں تبدیل کرنے کا حساب کتاب مانگنے پر کیاکہوگے؟ اور یہ منطق اور آگے بڑھے گی تو ہندوستان کے ایوان پارلیمنٹ سے لے کر وہ تمام ڈاکخانے اور ریلوے اسٹیشن اور لاکھوں تعمیرات منہدم کرنے کا پروگرام کب بنائوگے؟ جن کا انگریزی سامراج کی نشانی ہونے سے انکار ممکن نہیں ہے۔۔۔۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *