احتساب فکرو عمل لازم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم عرصۂ محشر میں ہیں (۲)

جس طرح انسانی طبعی زندگی کی کچھ خاص علامات ہیں مثلاً جب دل کی دھڑکن رُک جاتی ہے، جب آنکھوں کی روشنی رخصت ہو جاتی ہے، جب نبضیں ڈوب جاتی ہیں ،جب خون کی گردش تھم جاتی ہے تو سمجھا جاتا ہے کہ انسان کا جسم اب زندگی کی دولت سے محروم ہو گیا ہے۔ اسی طرح حیات اجتماعی یا قوموں کے زندہ رہنے کی بھی کچھ نشانیاں ہیں۔ جنہیں اہل علم و بصیرت اور ارباب عقل و دانش نے اپنے اپنے انداز میں بیان کیا ہے۔ جب کوئی قوم یا ملت ان نشانیوں سے محروم ہو جاتی ہے یا ہونے لگتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ مردہ ہے۔ یا عالم نزع میں گرفتار ہے (علامہ اقبال ؒ)جب کسی ملت کے زیادہ تر افراد اپنے ذاتی فائدوں کو اپنے اجتماعی فائدوں پر ترجیح دیتے ہیں یا اپنی مادّی فوائد پر اخلاقی اور معنوی مفادات پر ترجیح دینے لگتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قوم اپنے اخلاقی مفادات سے محروم ہونے والی ہے۔ اسی طرح احتساب فکرو عمل بھی زندہ قوموں یا قومی زندگی کی علامت ہے۔ احتساب فکر و عمل کی یہ صلاحیت ایک بڑی دولت ہے جس سے محرومی کی علامت یہ ہے کہ ایسی قوم قوت ارادی کی خوبی سے محروم ہو گئی او راس نے خود کو گردش حالات کے سپرد کر دیا ہے۔ اب اس کی تقدیر محض یہ ہے کہ وقت کی آندھی جس طرف چاہے اسے اڑا کر لے جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یقینا ہندوستانی مسلمانوں پر ظلم و زیادتی اور بے انصافی کرنے والوں کو یہ کہہ کر معاف نہیں کیا جا سکتا کہ امت مسلمہ خود ہی قصور وار ہے اور اس میں فلاں فلاں خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم اپنے منصب و مقام کو فراموش کر دیں اوراپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی برتتے رہیں۔ اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرنا تو کجا ان کو سننا بھی پسند نہ کریں ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہم بڑی حد تک خود احتسابی کی دولت سے محروم ہیں۔ ہمارے عوام ہی نہیں خواص اور ذمہ داروں کے یہاں بھی اس کا فقدان ہے۔ ہمارے خود پسند سربراہوں اور تنظیموں کو یہ بھی پسند نہیں کہ ان پر سنجیدہ تنقید کی جائے۔ وہ اپنی مدح سرائی چاہتے ہیں بلکہ خود ستائی میں مبتلا ہیں اور اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کو کارناموں کی فہرست میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ جماعتی اور مسلکی عصبیت ہماری پہچان بن کر رہ گئی ہے۔ ہم دینی مسلمات اور واجبات کو ترک کرتے ہیں اور فروعات پر اصرار کرتے ہیں۔ اس کا اندازہ ان معمولی نسبتوں سے کیا جاسکتا ہے جن پر ہمیں بے جا ناز ہے۔ ظاہر ہے کہ جو جس مسلک سے وابستہ ہے یا جس گروہ سے منسلک ہے اس کو بہتر سمجھتا ہے۔ اس حد تک کوئی اعتراض بھی نہیں کیا جاسکتا۔ قابل اعتراض اور قابل اصلاح بات یہ ہے کہ ہم اپنے مسلک کے علاوہ کسی اور مسلک کی اور اپنے بزرگوں کے سوا اوروں کی نفی کریں۔ جب کہ معلوم ہے کہ ہم سب کا دین ایک ہے اور اصولوں میں باہم متحد ہیں، سارے اہل ایمان بھائی بھائی ہیں ۔ازروئے کتاب و سنت سب کے دینی و ملی حقوق مساوی ہیں۔ سارے اہل ایمان کو خدا کی کتاب ایک دوسرے کا بھائی قرار دیتی ہے۔ اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات میں واضح طور پر ایک مسلمان کی جان و مال اور عزت آبرو کو محترم قرار دیا گیا۔ قتل مسلم ہی نہیں ایذاء مسلم بھی بالاتفاق حرام ہے۔ اختلاف رائے اور تنقید کی حدود و شرائط موجود ہیں۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی مسلمان عوام سے پہلے علماء اور اکابرین باہم دست و گریباں اور برسرپیکار ہیں۔ اختلافِ مسالک کے نام پر مسجدیں اور مدرسے منقسم ہیں،الزام تراشیوں ، منافرت اور اشتعال کا بازار گرم ہے۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے کے خلاف ایسی کارروائیاں بھی ہو رہی ہیں جن کا دینی مراکز اور مساجد کے تعلق سے کوئی جواز نہیں ہے۔ ہر ایک اپنی غلطی اور کوتاہی کے لئے دوسرے کی غلطی اور کوتاہی کو وجہ جواز قرار دے رہا ہے۔ کہیں کہیں تو باپ اور بیٹے ،چچا اور بھتیجے ایک دوسرے کے مرد مقابل کھڑے ہیں۔ اگر ایک کی پشت پناہی ایک سیاسی اور لادینی جماعت کر رہی ہے تو دوسرے کی سرپرستی اس کی مخالف پارٹی کر رہی ہے۔ اور دونوں اس تماشے سے لطف اندوز اور فیض یاب ہورہے ہیں۔ اور دونوں کا شمار دین و ملت کے سرپرستوں اور محسنوں میں ہورہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درست ہے کہ یہ تکلیف دہ صورت حالت بیک لحظہ ختم ہونے والی نہیں ہے۔ مسالک کا اختلاف حدودِ شریعت میں رہتے ہوئے ایسا ہے بھی نہیں کہ اسے زور زبردستی ختم کیا جائے۔ بجائے خود یہ مطلوب بھی نہیں ہے۔ قابل غور یہ ہے کہ ہر روز ہونے والی باہمی چپقلش کو ختم کرنے کے لئے ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ مسلمان جھگڑالو قوم ہے ،ان میں تحمل و برداشت نہیں ہے۔ لڑنا بھڑنا ان کی خصلت ہے، یا ساری بے اصل باتیں اور بے بنیاد الزام تراشیاں ہمارے موجودہ حالات پر چسپاں ہو رہی ہیں۔ حکومتوں اور ملکوں کی لڑائیاں تو ایک بڑا پیچیدہ معاملہ ہے ،ہمارا معاشرہ اور ہماری تنظیمیں بھی اپنے عمل سے اس کو تقویت پہنچا رہی ہیں۔ حالانکہ غیر مسلموں کے مابین بھی اختلافات ہیں ، مگر اس کے باوجود باہمی ربط و اتحاد کی راہیں نکالی جاتی ہیں۔ وہ بھی اتحاد و اتفاق کی بنیادیں تلاش کر رہے ہیں جن کے یہاں معبودوں میں بھی اختلاف ہے۔لیکن جن کا خدا ئے واحد اور اس کے آخری رسول اصول دین اور کتاب الٰہی پر ایمان ہے وہ ایک دوسرے کے جان و مال ،عزت و آبرو کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ان کے عوام کالانعام ہی نہیں خواص بھی ایک دوسرے سے ملتے اور تنازعات کو ختم کرتے نظر نہیں آتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگریزی استبداد کے خاتمے کے بعد برصغیر ہندو پاک میں ایک نئے اور پیچیدہ سیاسی دور کا آغاز ہوا۔ ہندوستان کی مسلم آبادی دو بلکہ تین ملکوں میں تقسیم ہو گئی۔ مسلمان جو پہلے ہی قلیل التعداد تھے اس نئی تقسیم سے مزید کمزور ہوکر رہ گئے اور اس تقسیم کو بھی کھلے دِل سے تسلیم نہیں کیا گیا بلکہ الٹا مسلمانوں کے سر پر ملک کی تقسیم کا الزام تھوپ دیا گیا۔ حالانکہ تقسیم ملک باہمی رضامندی سے عمل میں آئی تھی۔ اگر یہ کوئی جرم تھا تو اس کے لئے انگریزی حکومت کے ساتھ ساتھ کانگریس و مسلم لیگ دونوں ہی ذمہ دار تھے۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ ملک کی تقسیم کے لئے سب سے بڑھ کر کانگریس کے وہ لیڈر ذمہ دار تھے جو پہلے اس سے اختلاف کرتے تھے اور پھر اس پر راضی ہو گئے۔ جس میں پٹیل، نہرو اور گاندھی جی بھی شامل تھے۔ لے دے کر مولانا آزاد ہی اس کی مخالفت کرتے رہے۔ ۱؎ ہندوستان کی اس نئی تقسیم سے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہوا۔ جس کی تلافی کی کوئی صورت اب تک پیدا نہیں ہو سکی۔ بھارت میں مسلمانوں کی کس مپرسی ،محرومی اور مایوسی کی ایک نئی داستان مرتب ہونے لگی۔ جس میں آئے دن کے ہونے والے مسلم کش فسادات کا حد درجہ افسوس ناک سلسلہ بھی شامل ہے جو بند ہوتا نظر نہیں آتا اور جس کا مقصد مسلمانوں کو غلاموں کی طرح زندہ رہنے پر مجبور کرنا ہے۔ ان موقعوں پر حکومت ، انتظامیہ ،پولیس اور پریس سبھی مسلمانوں کے مرد مقابل بن جاتے ہیں۔ اگر کچھ لوگ حق و انصاف کی بات کرتے ہیں تو انہیں شدید مخالفت اورمزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا جانتی ہے کہ تقسیم ملک کے وقت ہندوستان کی مسلم ملت تقسیم کے عمل سے دوچار تھی۔ دونوں طرف علماء و عوام اور لیڈران تھے ۔ سب کو اپنی اپنی رائے پر اصرار تھا۔ اور اس وقت کوئی ایسی مؤثر کوشش نہیں کی جارہی تھی جو اس طوفان کو روک سکتی۔ دوسری جانب یہ حال تھا کہ ملک کی تقسیم کی مخالفت کرنے والے اچانک اس کے حامی بن گئے۔ ان میں اور کوئی انتشار نہیں ہوا۔ کیا اس میں ہمارے لئے کچھ قابل غور نہیں تھا؟ تحریک خلافت کی ناکامی ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کے زوال کا پیش خیمہ بنی۔ سب کچھ قربان کرکے بھی مسلمانوں کے حصے میں مایوسی و محرومی کے سوا کچھ نہ آیا۔ تحریک خلافت کی اصل قیادت رخصت ہو گئی اور اس کی میراث ہندوستانی تحریک آزادی کی قیادت کے حصہ میں آئی۔ جس میں کوئی خوبی ہو بہرحال وہ انگریزی سامراج کے مقابل ’انقلاب پسند ‘نہیں تھی۔ بلکہ اعتدال پسند تھی۔ اس میں نئی ہندوستانی قومیت کا تصور واضح نہیں تھا۔ متحدہ ہندوستانی قومیت اور ہندو قوم پرستی دونوں کے حامی جمع تھے۔ جس کے نتیجہ میں ایک جانب مسلم لیگ کو اپنے اندیشوں کی تائید کے لئے بہت کچھ کہنے کا موقع ملا اور ہندو قوم پرستی کو تقسیم ملک میں ہی فائدہ نظر آنے لگا۔ یہاں تک کہ کانگریس کی پوری لیڈر شپ بشمول گاندھی جی اس پر راضی ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بر صغیر ہندوستان پہلے دو حصوں میں اس کے بعد تین حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ اس کا نقصان بھی سب سے زیادہ ہندوستانی مسلمانوں کو پہنچا۔ مگر ہم نے اس سے کیا سبق سیکھا؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب یقینا نفی میں ہے۔ اور ہماری موجودہ حالت اس منفی جواب کی منہ بولتی تصویر ہے۔ روز ایک تازہ زخم ہے، روز ایک نیا دردہے۔ اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم آج بھی اس کے علاج کے لئے پوری طرح سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ ہماری بے خبری اوربے حسی، بے ضمیری تک پہنچ چکی ہے۔ پہلے جب کوئی بڑا خطرہ درپیش ہوتا تھا تو ہم جمع ہوتے تھے ایک مشترک درد کا احساس ہوتا تھا اور اس کے علاج کی فکر بھی ہوتی تھی ۔ مولانا حفظ الرحمن صاحب مرحوم نے متعدد کنونشن طلب کئے ۔ ان کا کانگریسی ہونا انہیں اس سے باز نہیں رکھ سکا ۔ مسلمانوں کی قیادت ملی قیادت کی صورت میں ابھرتی رہی۔ مسلم مجلس مشاورت بنی ، مسلم پرسنل لاء بورڈ بنا۔ مگر آج اس کے آثار بھی معذوم نظر آرہے ہیں۔ ملکی سیاسی پارٹیوں کو ہمارا اس طرح ملنا بھی گوارا نہیں۔ برسراقتدار طبقہ طاقت کے نشے میں چور ہے۔ ارباب سیاست چاہتے ہیں کہ ہمارا اپنا اجتماعی وجود قائم نہ رہے ۔ کچھ باصلاحیت مسلمان بے نتیجہ سیاسی خدمات انجام دیتے رہتے ہیں اور بس۔ صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ تقسیم ملک سے لے کر آج تک ملک کی دوسری بڑی آبادی پر مشتمل مسلمانوں کی حصہ داری اکثریت کے دعویداروں کو نہ پہلے تسلیم تھی اور نہ آج تسلیم ہے۔ جب تک دیانتداری کے ساتھ اس سچ کو تسلیم نہیں کیا جائیگا ،مسلمانوں کو انصاف نہیں مل سکے گا۔ حالانکہ لفظوں کے الٹ پھیر سے حقیقتیں تبدیل نہیں کی جاسکتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں غور کرنا چاہئے کہ آخر کس چیز نے ہمیں اس مومنانہ فراست سے محروم کر دیا جس کے حوالے سے ہمیں آگاہ کیا گیا تھا کہ ’’مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جا سکتا۔ ‘‘(الحدیث) مگر آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ایک ہی سوراخ سے سو سو بار ڈسے جاتے ہیں۔ اب ہم مسلسل پسپائی کی حالت میں مبتلا ہیں۔ آخر ایک ہزار سالہ پیش قدمی مسلسل پسپائی میں کیوں اور کس طرح بدل گئی؟ کیا ہم اس نازک سوال کا کوئی معقول اور واضح جواب تلاش کر سکتے ہیں؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *