بلا تبصرہ

مشرق وسطیٰ میں جاری خونی جنگ سونے کی کان ثابت ہو رہی ہے
نئی دہلی (ایجنسی)دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس اور امریکہ کی جنگ سے ایک طرف مشرق وسطیٰ کے ممالک تباہ ہو رہے ہیں تو دوسری طرف امریکی کمپنیوں کے لئے یہ خونی جنگ سونے کی کان ثابت ہو رہی ہے۔ ہندوستان آن لائن کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال سے عراق اور شام میں جاری امریکی بمباری کے درمیان ان کمپنیوں نے اربوں روپے کے ہتھیاروں کی سپلائی کی ہے۔ نیویارک میں واقع ایس او ایس انٹرنیشنل نے اپنی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی اس سال عراق میں 400ملین ڈالر یعنی 25.2ارب روپے کا کنٹریکٹ حاصل کر چکی ہے۔ (روزنامہ خبریں5/08/15)
تلک برطانوی ایجنٹ اور ہندوتو کے پرچارک تھے
دقیانوسی مضامین لکھتے تھے اور بانٹو اور راج کرو کی انگریزی مہم کو فروغ دیتے تھے : کاٹجو
نئی دہلی (ایجنسیاں) اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے اکثر موضوع بحث بننے والے سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو نے مجاہد آزادی بال گنگا دھر تلک کو برطانوی ایجنٹ قرار دے کر نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ تلک کی برسی کے موقع پر بلاگ میں کاٹجو نے لکھا کہ تلک کو عظیم لڑاکا سمجھا جاتا ہے ، لیکن میری رائے مختلف ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ اس کے لئے لوگ مجھے گالیاں بھی دیں گے، لیکن مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ میرا خیال ہے کہ بال گنگادھر تلک دقیانوسی نظریہ والے ،ہندو انتہا پسندوں کے پرچارک اور ایک برطانوی ایجنٹ تھے۔ ان کے نظریات، بیانات اور کام اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ (روزنامہ خبریں 02/08/15)
سنی علماء کونسل سے مسلم پرسنل لاء بورڈ متفق نہیں
لکھنؤ، 3ستمبر (صحافت بیورو) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور متعدد مسلم تنظیموں نے ایک ہی موقع پر 3بار طلاق کہے جانے کو ’’ایک بار کہا‘‘ ماننے سے متعلق گزارش تقریباً مسترد کردیا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے آج کہا کہ قرآن اور حدیث کے مطابق ایک بار میں تین طلاق کہنا حالانکہ جرم ہے لیکن اس سے طلاق ہر حال میں مکمل سمجھی جائے گی۔ بورڈ نے یہ بھی کہا کہ اس نظام میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ بورڈ کے ترجمان مولانا عبد الرحیم قریشی نے کہا کہ انہیں اخبار کی خبروں سے پتہ لگا ہے کہ آل انڈیا سنی علماء کونسل نے بورڈ کے ساتھ ساتھ دیوبندی اور بریلوی مسلک کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اسلامی قانون میں گنجائش ہو تو کسی شخص کی طرف سے ایک ہی موقع پر 3بار طلاق کہے جانے کے لئے ایک بار کہا ہوا مانا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر لوگ غصے میں ایک ہی دفعہ تین بار طلاق کہنے کے بعد پچھتاتے ہیں۔ قریشی نے کہا کہ خبروں کے مطابق کونسل نے پاکستان سمیت کئی ملکوں میں ایسا نظام لاگو ہونے کی بات بھی کہی ہے۔ حالانکہ بورڈ کو بھی ایسا کوئی خط نہیں ملا ہے لیکن وہ کونسل کی تجویز سے متفق نہیں ہے۔ بورڈ کے ترجمان نے کہا کہ کسی مسلم ملک میں کیا ہوتا ہے، اس سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش، ایران، سوڈان اور دیگر ملکوں میں کیا ہو رہا ہے، وہ ہم نہیں دیکھتے۔ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف، حدیث اور سنت کیا کہتی ہے؟ اسلام میں ایک ہی موقع پر 3بار طلاق کہنا اچھا نہیں مانا گیا ہے لیکن اس سے طلاق مکمل سمجھی جائے گی۔ اس نظام میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قریشی نے کہا کہ بورڈ نے گزشتہ ہفتے ملک کے تمام علماء کے نام ایک سوالنامہ بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک وقت میں 3طلاق کہنے والوں کو کیا جرمانے کی کوئی سزا دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کا بہت پرانا فتویٰ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی موقع پر 3بار طلاق کہنا جرم ہے مگر اس سے طلاق مکمل ہو جاتی ہے۔ پہلے ایسا کرنے والے شوہر کو کوڑے لگائے جاتے تھے لیکن اب تو ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے میں علماء سے سوال کیا گیاہے۔ (صحافت 9/8/15)
عام اور خاص کے لئے الگ الگ انصاف(نیلم کرشنا مورتی)
٭ دہلی کے اٹھارہ سال پرانے اُپہار آتشزنی سانحہ کے ملزمین ستیما مالکان سنیل اور گوپال انسل کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلہ پر متاثرین کی تنظیم اور حادثہ میں مارے گئے بھائی بہن کی والدہ نیلم کرشنا مورتی نے غصہ میں کہا ’’18سال پہلے میں نے بھگوان پر بھروسہ ختم کر دیا تھا، اب میرا عدلیہ پر سے بھی بھروسہ ختم ہو گیا ہے۔ میں بہت افسردہ اور مایوس ہوں دولت اور طاقت اداروں کے لئے اتنی اہمیت رکھتے ہیں کہ 59انسانی جانوں کا ضیاع صرف اعداد و شمار بن جاتے ہیں۔ (انڈین ایکسپریس 20/8/15)
٭ ہم اس فیصلہ کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اگر دہلی سرکار کے نزدیک انسانی جان کی کچھ بھی حرمت باقی ہے تو اسے وہ 60کروڑ روپیہ واپس کردینے چاہئے جو انسل برادر انہیں بطور جرمانہ ادا کریں گے۔ انہیں یہ رقم عدلیہ کو واپس کردینی چاہئے وہ جیسا مرضی سمجھے اسے خرچ کرے۔ نیلم کرشنا مورتی (ٹائمس آف انڈیا 21/8/15)
٭ امیر لوگ پیسہ دیکر سزا سے بچ جاتے ہیں مگر عام شہری کے لئے دوسرا قانون ہے۔ عام آدمی کی زندگی کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ میں نے اس فیصلہ سے یہی سمجھا ہے کہ عام اور خاص کے عدالتی قوانین الگ الگ ہیں۔ اگر یہاں معاملہ سیاستدانوں اور ججوں کے بچوں کا ہوتا تو ایک سال میں انصاف ہو گیا ہوتا۔ عدلیہ اس متاثرہ خاتون کے جذبات نہیں سمجھ سکتی جو 18سال عدلیہ کے سامنے انصاف کے لئے لڑتی رہی اور اسے اتنی بڑی ناامیدی ہاتھ لگی۔ عام آدمی کی کوئی فکر نہیں کرتا امیر آدمی اور طاقتور لوگ چھوٹ جاتے ہیں۔ (ٹائمس آف انڈیا 20/8/15)
عدلیہ کا ایک فیصلہ یہ بھی اور اس پر رد عمل
راجستھان ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلہ میں جین مذہب کی رسم نتھارا کو غیر قانونی اور خودکشی کی طرح کے جرم پر اکسانے والی مذہبی رسم ہے اور یہ جرم ہے۔ (اس رسم کے تحت جین مذہب کا پیروکار اپنی زندگی کو دھیرے دھیرے ختم کرنے کے قدم اٹھاتے ہوئے موت کو گلے لگا لیتے ہیں) فیصلہ میں کورٹ نے کہا کہ جینے کے حق کا مطلب مرنے کا حق نہیں ہے۔ اور یہ جین مذہب کا لازمی حصہ بھی نہیں ہے، جبکہ IPCکی دھارا 309کے تحت خودکشی جرم ہے مگر سپریم کورٹ نے خودکشی اور عزت کے ساتھ موت کو گلے لگانے میں فرق کیا ہے۔ (گیاں کور v/sپنچایت سرکار) حالیہ دنوں میں مذہبی آزادی کے حق کی تفسیر میں عدالتوں نے مسئلہ پیدا کرنے والا انداز اختیار کیا ہے کہ مذہب میں کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری ہے۔ عدالت نے اس معاملہ میں لاعلاج بیماری میں مبتلا مریضوں کو موت کو گلے لگانے کی آزادی اور ستی کی رسم کا بھی حوالہ دیا ہے۔ مگر عدالت کا انداز سامراجی مصلح والوں کا تھا نہ کہ مذہبی روایتی اقدار کی دنیا سے ناواقفیت کو دکھانا تھا۔ اس مذہبی رسم کے تحت آدمی اپنی زندگی کو غیر فطری انداز میں ختم نہیں کرتا بلکہ اپنے جسم اور دنیاوی سامان کو اپنے خاندان اور سماج کی مدد سے چھوڑ دیتا ہے۔ ابراہیمی مذاہب کے ٹھیک الٹا ہندو، جین اور بودھ مذاہب انسانی جسم پر خدائی حق کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ جسم سے چھٹکارا پانے کو اختیاری سمجھتے ہیں۔ اس عمل میں کیونکہ زورزبردستی کو دخل نہیں ہے اس لئے یہ غیر قانونی نہیں ہونا چاہئے۔ کورٹ نے اس معاملہ میں رائے دیکر نازک حساس معاملہ میں مداخلت کی ہے۔ سپریم کورٹ کو اس میں زیادہ ہمدردانہ رویہ دکھانا چاہئے۔ (اداریہ ٹائمس آف انڈیا ،نئی دہلی 26/08/15)
٭ راجستھان ہائی کورٹ کا فیصلہ جلد یا دیر سپریم کورٹ کے ذریعہ بدل دیا جائیگا۔ یہ فیصلہ جو 46صفحات پر مشتمل ہے اس کے 40صفحات میں مخالفین کے دلائل کو مختصراً سمیٹ دیا گیا ہے جس میں جلد بازی سے کام لیا گیا ہے ۔ اس کا اختتام تعبیر جواز اور منطق سے کیا گیا ہے اور اسے بہت ہی لاپرواہی یا بے پرواہی سے عامیانہ انداز میں تحریر کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایسا فیصلہ ہے جس میں شدید قانونی سقم اور حقائق سے ناواقفیت کا اظہار ہوتا ہے۔ سنتھارا موت کو بہترین طور پر خوش آمدید کہنے کا فن ہے۔ یہ ستی اور خود کشی سے الگ رسم ہے۔ بہت ہی سیدھے سادھے ،عامیانہ، سطحی اور لاپرواہی اور ضروری سنجیدگی سے خالی فیصلہ میں کوئی بھی سنجیدہ تجزیہ نہیں ملتا‘‘ ۔ (ٹائمس آف انڈیا 28/8/15)ابھی شیک منو سنگھوی کانگریس MPسابق ایڈیشنل سالسٹر جنرل آف انڈیا
٭نتھارا پر کورٹ کا فیصلہ کورٹ کے ذریعہ موت اور زندگی کے نظریہ کو نوآبادیاتی نگاہ سے دیکھنے کی کوشش ہے۔ مذہب اور نیشن اسٹیٹ دو طاقتیں ہیں جو موت کے متعلق رویہ کا رخ اور معنیٰ دیتے ہیں۔ اسٹیٹ اور مذہب بتاتے ہیں کہ کیسے مرنا ہے۔ ریاست اپنی فرمانروائی اور خود مختاری کا اظہار کرتے ہوئے وطن کے لئے مرنے کو سرخ روئی کا درجہ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی طریقہ کی موت کو جائز نہیں قرار دیتا۔ ریاست ہی فیصلہ کرتی ہے کہ کیا مذہبی ہے اور کیا غیر مذہبی ۔ مذہب میں ہی کیا ضروری (essentialلازمی) ہے کیا غیر لازمی۔ مگر بارہا ریاست کا نظریہ موت بھی ایک طرح کی مذہبیت تقدس لئے ہوتا ہے۔ یقینی طور پر IPCتعزیرات ہند کی جڑیں عیسائیت کے نظریہ موت اور حیات سے ادھار لی گئی ہیں اسی لئے IPCاس کے علاوہ کوئی اور طریقہ یا نظریہ سوچ ہی نہیں سکتا جو موت اور زندگی کو مختلف طریقہ سے دیکھتا ہے۔ جس طرح انگریزی کی تنگدامنی کی وجہ سے ’’محبت‘‘ کے لئے ایک ہی لفظ ’’Love‘‘ استعمال ہوتا ہے جبکہ سنسکرت میں اسی کے لئے 9الفاظ ہیں۔ اسی طرح ’’موت‘‘ کا بھی معاملہ ہے۔ کس طرح ایک IPCاور عیسائی تعلیمات سے ان نظریات کو سمجھا جا سکتا ہے جو خودکشی کو زور دیکر برا قرار دیتی ہے مگر وہ اس نظریہ کے لئے گنجائش پیدا کرتی ہے کہ جہاں ’’اہنسا‘‘ اس سے مطالبہ کرتی ہے کہ نہ وہ زندگی کو مزید طول دے اور نہ موت کو گلے لگائے۔ جین روایات میں ’خودکشی‘ اور سلکھاتایا سنتھارا میں ’نیت‘ کا فرق ہے۔ جین مذہب ’نیت‘ کی کیفیت پر زور دیتا ہے جبکہ IPCصرف نیت کی شکل دیکھتا ہے۔
سنتھارا مختلف قسم کے جذبات اور اہنسا پر فتح پانے کا نام ہے مگر یہ سمجھنا ججوں کے لئے مشکل ہے جو موت کی مختلف شکلوں کو ہی نہیں جانتے۔ ریاست ان رسموں کو روکنے میں بالکل بجا ہے جہاں زور زبردستی پایا جاتا ہو چاہے وہ مذہب کا ضروری حصہ ہوں یا غیر ضروری حصہ ہوں۔ سنتھارا اس سے بالکل الگ ہے کیونکہ یہ ان دو برائیوں پر مشتمل نہیں ہے جو اکثر مذاہب میں پائی جاتی ہیں۔ (۱) عورتوں کو ماتحت سمجھنا یا جبر کرنا۔ ریاست کا زندگی کا تحفظ کرنا اور انصاف کا بڑھاوا دینا الگ معاملہ ہے مگر موت اور زندگی کے مختلف معانی اور تفاسیر کو نو آبادیاتی نظر سے ڈھالنا الگ بات ہے اور اس فیصلہ میں یہی ہوا ہے۔ (پرتاپ بھانو مہتہ۔ صدر سنٹر پالیسی ریسرچ معاون ایڈیٹر انڈین ایکسپریس نئی دہلی 19/8/15)
(مندرجہ بالا اقتباسات ہائی کورٹ کے فیصلہ پر تبصرہ سے ماخوذ ہیں۔ ان میں استعمال کی گئی زبان، لہجہ اور عدالت کے لئے تضحیک صاف موجو ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس انداز پر حکومت، میڈیا، دیش بھکتی کے ٹھیکیدار سب کے سب چپ ہیں۔ خود عدلیہ بھی خاموش ہے۔ کیا اسی طرح کی زبان یا لہجہ مسلمان بھی طلاق، نفقہ، کم سن کی شادی وغیرہ معاملات میں عدالت کے فیصلوں پر اختیار کر سکتے ہیں؟؟؟)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *