جارح تہذیبی یلغاراور اُمّتِ مسلمہ

گائے بیل کے ذبیحہ پر پابندی:۔
19؍ سال قبل مہاراشٹر میں بنائے گئے قانون کو صدارتی دستخط کے بعد لاگو کر دیا گیاہے۔ جس میں گائے کے ساتھ اس کے خاندان کی کٹائی ممنوع قرار دی گئی ہے۔ اگر کوئی انہیں ذبح کرے گا‘ گوشت کا کاروبار کرے گا‘پکائے گا‘ کسی کے قبضے سے حاـصل کیا جائے گا اُسے سزاؤں کو بھُگتنا پڑے گا۔ اس قانون کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیاہے۔ حکومت نے جو argument عدالت کے سامنے رکھا ہے اس کا جائزہ ضروری ہے۔ پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ جانوروں کا قتل بڑی بے رحمی سے ہوتا ہے اس لئے پابندی لگائی گئی ہے۔ پوچھا یہ جانا چاہئے کہ کیا صرف گائے و بیل کو بے رحمی سے قتل کیاجاتاہے۔ بھینسیں‘ بکری ‘ مرغی اور بعض لوگ مچھلی کو کاٹتے ہیں۔ دوسروے جانوروں کے بارے میں رحم دلی کیوں نہیں دکھلائی جارہی ہے؟ صرف گائے و بیل سے ہی ہمدردی کیوں ہے؟ دوسری بات یہ کہی گئی کہ زراعت اور دودھ کے پیداوار( اتپادن) کو بڑھا نا مقصود ہے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ ڈنمارک اور آسٹریلیا ‘ بھارت سے بھی چھوٹے ممالک ہیں لیکن دودھ اور گوشت دونوں ممالک بھارت سے زیادہ برآمد (export)کرتے ہیں۔دودھ کی وجہ سے گوشت کی برآمد نہیں ہوسکتی، ایسا کیوںہے ؟اس پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ زراعت کے لئے آج مشنری اتنی advance ہوگئی ہے۔ ناگر چلانے‘ کھیت کو تیار کرنے‘ بونے‘ کٹائی اور دانے نکالنے تک کی مشینیں کام آرہی ہیں۔ جانوروں کا استعمال صفر ہوکر رہ گیا ہے۔
ہمیں ایسا محسوس ہوتاہے کہ ہم کیا کھائیں اور کیا پئیں، یہ بھی اب سرکار ہمیں حکم دے گی۔ جو بنیادی انسانی حقوق کے علیٰ الرغم (خلاف)ہے۔دستوری دفعات 16سے 31میں‘ کئی دفعات ہیں جس میں آزادیٔ مذہب ‘ مساوات تعلیم‘ تنظیم‘ تبلیغ ‘ مدارس وغیرہ کو اپنی مرضی سے بنانے چلانے اور سرگرمیاں انجام دینے کی آزادی دی گئیں ہیں۔اس کے علیٰ الرغم یہ قانون مندرجہ بالا دفعات کی خلاف ورزی کرتاہے۔ مذہبی طور پر ہندو سماج گوشت کا استعمال کرتا تھا ویدک دور اس کی شہادت (گواہی) دیتاہے۔
گئورکھشا ابھیان مذہبی ہے‘ کاروباری ہے یا بابری مسجد کی طرح شردھا کا خیال رکھنا ہے۔ اُسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج جن لوگوں نے گوشت خوری کو بالکل حرام کررکھا ہے وہ خود اپنے سنہری دور میں گائے اور بچھڑوں کے گوشت کے مزے لیتے رہے ہیں۔ آریا ورش کی بات کریں تو وہ تھے ہی گئوپالک۔ غذا کے لئے اُسے ہی استعمال کرتے تھے۔ شادی بیاہ رسم و رواج میں عام قاعدہ تھا کہ گایوں اور بچھڑوں کوکاٹ کر دعوتیں کی جاتی تھیں۔ مہمان نوازی کے لئے بہترین گوشت کے سوا اور کیا تھاان کے پاس۔ ویدوں کا زمانہ حضرت عیسیٰ ؑ سے 1500 – 2000 سال قدیم ہے۔ راجہ دشرتھ کے بارے میں آتا ہے کہ و ہ شکار کرتے تھے ایک دن انکے تیر سے شراون کمار کی جان تلف ہوگئی۔ہرنوں کا شکار کر اُسے کھایا جاتاتھا۔ یہ تاریخ تو تحتانیہ کی سطح پر پڑھائی جاتی ہے۔
بنواس میںرام و لکشمن خود شکار کر جانوروں کا گوشت کھاتے تھے اور سیتا کوبھی کھلاتے تھے۔ منوسمرتی میں اس لئے کہاگیا ہے۔’’ہر مہینہ جو شرادھ کیا جاتا ہے وہ ایشور وادی کہلاتا ہے۔ اس کو اچھے ماس (گوشت) سے کرنا چاہئے‘‘۔ (منوسمرتی : 3/123)
سوامی وویکانند نے کہا تھا’’آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پراچین کرم کانڈ کے مطابق وہ اچھا ہندو نہیںجو گئوماس نہیں کھاتا اُسے کچھ خاص اوسروں پر بیل کی بلی دیکر ماس اوّشئے کھانا چاہئے‘‘۔ (The Complete work of Swami Vivekanand Vol:3, Page 536)
اس سے بھی آگے سوامی جی فرماتے ہیں کہ ’’بھارت میں ایک سمئے ایسا بھی رہا ہے کہ جب بناگئو ماس کھائے کو ئی برہمن‘ برہمن نہیں رہ سکتا تھا‘‘۔ (Page 174)
ڈاکٹر وی ۔ ایم آپٹے کا خیال ہے جوانہوں نے اپنی کتاب میں صاف طور پر تحریر کیا ہے۔ ’’ رگ وید کے ایک شلوک (10/85) سے جسے وِواہ شلوک کہتے ہیں‘ شادی کے اہم رسم و رواج کا پتہ چلتاہے‘ دُلھا اور بارات دُلھن کے گھر جاتے تھے (10/17/1) وہاں دُلھن بارات کے ساتھ مل کرکھانا کھاتی تھی۔ مہمانوں کو اس اوسر پر ماری گئی گائیوں کا ماس پروسا جاتا تھا‘‘(10/85/13) ۔
ویدک انڈکس کی جلد نمبر ۲؎ صفحہ 145سے معلوم ہوتا ہے کہ ووھا سنسکار کے سمئے بھوجن کے لئے گائیں ماری جاتی تھیں‘‘۔
بنارس ہندو یونیوورسٹی میں موجود ویدک کوش (page:374) میں رگ وید کے دشم منڈل کے 85 ویں سوکت کے 13 ویں منتر کا حوالہ دیا گیا ہے۔ شادی بیاہ کی رسم و رواج میںمہمانوں کی تواضع کے لئے گوشت کا اہتمام ویدک زمانے کا خاصہ رہا ہے۔ مہمانوں سے قبل کھانے پینے کو اخلاقی اعتبار سے اچھا نہیںسمجھا جاتاتھا۔ منوسمرتی میں ہے کہ ’’یہ جو گائے کا دودھ اور گوشت ہے یہ زیادہ لذید ہوتا ہے اُسے مہمانوں سے پہلے نہ کھائے‘‘(39/6/9)۔ خوشی کے مواقع ہی نہیں بلکہ غم کے لمحات میں بھی گوشت کی ضرورت ویدک زمانے کا خاص وصف ہے۔ آخری رسومات میں شودھی کے لئے بھی گوودھ کیا جاتا تھا اس لئے کہاگیا ’’اگنیرورم پری گو بھی وریسّو سے پرنوشوّ پسوا مید ساچے‘‘ (رگ وید 10/16/7)۔ انتم سنسکار کے پرسنگ میں گوودھ اوّشک جان پڑتا ہے۔ یہاں اس کے ماس سے شوؤ (لاش)کو ڈھکنے کا وُللیک آتا ہے۔
شری مکندی لعل نے اپنی کتاب “Cow Slauter- Honour of dilema” میں یہ بات کہی ہے ’’پراچین بھارت میں سماروھوں میں گائیوں کو مارنا شوبھ مانا جاتاتھا۔ دلھا دلھن دیوی کے سامنے لال بیل کی کچّی کھال پر بیٹھتے تھے۔ وے کھال اس اؤسر پرمارے گئے بیل کی ہی ہوتی تھی۔ جسے اس اؤسر پر کھانے کے لئے مارا جاتاتھا۔ ایسے ہی راجیہ ابھیشیک کے سمئے بھاوی راجہ کو لال بیل کی کھال پر بٹھایا جاتا تھا۔اناج کے حصول کے لئے یگیہ کئے جاتے تھے ان میں اِندر کے لئے بیل پکائے جاتے تھے۔ یہ رگ وید سے معلوم ہوتاہے۔
’’اندھری ناتھے منی دَن اِندر تو یانتا سُنوتی سو مانوپی وستوّ
میشام پنچ نیتے تے ونشّبھا اتس تیثہ پُر کھشن ینمدھون ہوتی مان (رگ وید: 10/28/3)
ہے اِندر اَنّ کامنا سے جس سمئے تمہارے لئے ھوّن کیا جاتا ہے اس سمئے یجمان جلدی جلدی پتھر کے ٹکڑوں پر سومرس تیار کرتے ہیں اُسے تم پیتے ہو‘ یجمان بیل پکاتے ہیں‘ تم انہیں کھاتے ہو‘‘۔
ویدک لٹریچر میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے’’گودھن‘‘ جس کے معنی پراچین کال میں ’’گائے کو مارنے والا‘‘ لیا جاتاتھا لیکن پانچویں صدی عیسوی سے گودھن کے معنی گائیوں کو پالنے والا‘‘ لیا جاتاہے۔ اس تبدیلی کی بھی ایک وجہ ہے۔ مہابھارت کے کال میںراجہ رنتی دیو کی رسوئی کے لئے روزانہ دوہزار پشو کاٹے جاتے تھے‘ پرتی دِن دو ہزار گائیں کاٹی جاتی تھیں۔ اَنَ کے ساتھ ماس کا دان کرنے سے راجہ کی مقبولیت بہت تھی۔ (مہابھارت۔578)
شانتی پرو 29کی 179 اشلوک کے مطابق رنتی دیو کے گھر مہمان آئے اس نے 20100 گائیں کاٹی اور ان کی ضیافت کی۔ مہابھارت ہی کے ادھائے 29 اشلوک 123 سے معلوم ہوتاہے کہ کاٹی گئیں گائیوں کی کھالوں سے رس کر خون بہہ نکلا اور ایک مہاندی کا روپ دھار لیا۔ وے ندی چرمن وتی(charmanwati) کہلائی جسے آج لوگ چمبل کہتے ہیں۔
رگ وید میں راجہ دیوداس کا نام مشہور ہے جس کے لئے اتی تھی گو(Atithigav) ’اتی تھی کے لئے گو مارنے والا‘ مہمانوں کے لئے گائیوں کو کاٹنے والا کہا جاتاتھا۔ یجروید میں گائے کی چربی سے اجداد کو آسودگی ملنے کا بیان ہے (یجروید ادھیائے 35: منتر 20)۔ شتپاتھ برہمان 3/4/1/2 اتی تھی (مہمان) کے لئے مھوکش (بڑا بیل)مارنا چاہئے کہاگیاہے گائے یا بیل میں کِسے کھانا چاہئے ’’دونوں میں سے جونرم ہو اُسے کھانا چاہئے‘‘(شتپاتھ برہمان)
سوامی وویکانند سے کسی نے پوچھا کہ بھارت ورش کا سب سے سورن کال کونسا تھا انہوں نے جواب میں کہا ’’ویدک یوگ سورن یوگ تھا جب پانچ برہمن ایک گائے چٹ کرجاتے تھے‘‘۔ (Vivekanand A – Biography) ۔
اپنشدوں میں خاص کر (برہدا کونپشید 6/4/18 کہا گیا ہے۔ ’’جو یہ چاہے کہ میرا بیٹا (پتر) سبھاؤں میں واگمی (فصیح اللسان) اور سب ویدوں میں پارنگت ہوتھتا شتایوں ہو اُسے چاہئے کہ وہ اور اس کی پتنی بیل و سانڈ کا ماس پکا کر گھی اور بھات ملا کر کھائے‘‘۔اس اشلوک میں ایک لفظ وکشا ہے جس کی ترجمانی ادی شنکر آچاریہ کو چی ’’ویر سیچن میں سمرت بیل‘‘ کا ماس لیا ہے۔ جب کوئی برہمن گھر آئے اس کا میدوپرک سے سمّان کرنا چاہئے ۔ میدوپرک داتا گائے اس کے سمکش کرے یدی وہ آگیّا دے تو Gao Rassiya Pahatpa اتیادی منتر پڑھکر اُسے مار کر آگنیتک کو دے۔
’’اتر رام چترم ‘‘ میں لکھا ہے کہ بھوبھوتی جب والمیکی کے آشرم میں پہنچے تو ان کا ستیکار دو برس کی بچھیا کاماس کھلا کر کیا گیا۔ اسی دوران کسی طالب علم نے کہا کہ اس نے توپوری بچھیا چٹ کر ڈالی۔ اسی پر کہا گیا کہ ’’میدوپرک ماس یوکت ہونا چاہئے‘‘ اس لئے اتی تھی(مہمان) کے لئے گائے‘ بیل‘ بکرا کا پراودھان رکھا گیا۔
مندرجہ بالا سطور سے جو نقشہ سامنے آتا ہے وہ یہ کہ جانوروں کو مار کر کھانے کا عام رواج تھا بالخصوص گائے اور بیلوں سے ضیافتیں ہوا کرتی تھیں۔ گائے سے ہمدردی و اُسے بچانے کے لئے رگ وید کا سہارا لیا جاتاہے جس میں یہ کہاگیا ’’یہ گائے دونوں اشونی کماروں کے لئے دودھ دیتی ہے۔ یہ ہماراسوبھاگیہ بڑھائے یہ مارنے کے لئے نہیں ہے‘‘ (رگ وید 27/146/1) یہاں خاص گائے کو نہ مارنے کا ذکر ہے نہ کہ ہر گائے کے ذبیحہ سے روکا گیاہے۔
اس کو بنیاد بناکر پانچویں صدی عیسویٰ میں گئودھن غلط قرار دیاگیا اور اگر ڈاکٹر بھیم راؤ امیڈکر کی بات کو مانے تو انہوں نے کہا ہے ’’یہ برہمنوں کی جنگی چال کا حصّہ ہے کہ وہ گوشت خور بننے کے بجائے گائے کے پجاری بن گئے۔ بدھشٹ اور برہمنوں کے بیچ 400؍سالہ لڑائی میں یہ راز پنہاں ہے۔ بدھشٹ رحم کے جذبے کولے کر اپنی تعلیمات آگے بڑھارہے تھے‘ ان سے آگے بازی لے جاکر یہ لڑائی برہمنوں نے جیت لی‘‘ (Dr. Ambedkar – The untachable)
دنیا کی 80% آبادی گوشت خور ہے جانوروں ‘ سمندری مچھلیوں سے اپنی غذا حاصل کرتی ہے۔ بھارت میں بھی بڑی آبادی گوشت خور ہے بلکہ گوونش کو کھانے والی ہے۔مسلمانوں کے علاوہ عیسائی ‘ بدھشٹ‘ نیپالی‘ گورکھے‘ بنواسی‘ گونڈ‘ بھیل‘ پارسی ‘ چمار‘ بھنگی‘ ہریجن اور ساؤتھ انڈین ہندو۔ اس کے علاوہ بڑے کے گوشت پر ہی سرکس کے جانوروںاور zoo کے جانوروں کا دارومدار منحصر ہے۔
صرف بمبئی کی 3 تا 5 ستارہ ہوٹلوں میں 90ہزار کلو گوشت (بیف) کی کھپت ہے۔ بھارت دنیا کا دوسرے نمبر والا ملک ہے جہاں سے گوشت باہر بھیجا جاتا ہے۔ گوشت کی برآمد کرنے والی کمپنیوں کو حکومت نے 12 طریقوں سے سبسیڈی دے رکھی ہے۔ بھارت سالانہ 22.5 ؍لاکھ ٹن گوشت باہری ممالک برآمد کرتاہے۔ جس سے اربوں ڈالر کا کاروبار کیا جاتاہے۔
ذبیحہ کئے گئے جانوروں کی چربی بین الاقوامی مارکیٹ میںبڑی لاگت کا خام مال ہے۔ خون کو دواؤں میں استعمال کئے جانے کی بات معلوم ہوئی ہے۔ اس کی ہڈیوں سے شکر‘ جلیٹین (کپسول) اور دوائیں بنائی جاتی ہیں۔ سینگ و کھور سے کپڑوں کے بٹن بنانے کی گھریلو انڈسٹریز چل رہی ہیں۔ چمڑا سب سے اہم عنصر ہے۔ صرف مہاراشٹر سے 20؍ لاکھ چمڑے سالانہ تمل ناڈو جاتے ہیں اور تمل ناڈو میں وہ 40% ہی ہوتے ہیں۔ چمڑے کا بیوپار 12؍ ارب ڈالر سالانہ کا بتلایا جاتاہے جو تقریباً 754 ؍ارب روپئے بنتاہے۔
مہاراشٹر میں 338 ذبیحہ خانے ہیں ان سے متعلق مزدور و اسٹاف سب کی بے روزگاری کا مسئلہ ‘ زندہ جانوروں کی دیکھ بھال کے لئے جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے اس کا سالانہ خرچ 13000 ؍کروڑ تک جا پہنچتا ہے۔ بنگال کے ایک سروے کے مطابق سالانہ 25 ؍لاکھ گائیں بنگلہ دیش سرحد سے بھگادی جاتی ہیں۔ VHP کے بقول ملک میں روزانہ 50؍ ہزار گائیں کاٹی جاتی ہیں۔ اگر انہیں روک لیا گیا تو ان کاپالن و پوسن اربوں کھربوں روپیوں کی لاگت کا ہوگا۔ جس ملک میں چارے کا قحط ہو‘ پانی انسانوں کو ہفتے میں ایک مرتبہ مل رہا ہو۔ بھلاوہاں کیا جانوروں کی زندگیاں ‘ انسانوں سے بھی بڑھ جائیگی؟ایک اور مسئلہ جسے ہمیں سمجھنا چاہئے وہ یہ کہ گوشت ‘چمڑے‘ ہڈی کا مسئلہ چھوڑئیے۔ اللہ نے جس چیز کو حلال ٹھہرایا ہو اُسے ہم کیسے حرام تسلیم کرلیں؟ پیغمبروں کو بھی حلت و حرمت کا حق نہیں دیا گیا۔ یہ حق ہم کیسے حکومت کو دے دیں!
سورۃ التحریم میں اللہ نے نبی کریم ﷺکے واقعہ کو قیامت تک کے لئے ریکارڈ پر لے آیا ہے جس سے پتہ چلتاہے کہ حلال و حرام کا حق صرف اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے نبی کریمﷺ کو بھی یہ حق نہیں دیا گیاہے۔
یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ أَزْوَاجِکَ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ ـ (سورۃ التحریم: 1)
(اے نبیﷺ! تم کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے۔ تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو؟ اللہ معاف کرنے والا ‘ رحم فرمانے والا ہے۔)
اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ایک بیوی کی دلجوئی کے لئے شہد کو اپنے لئے حرام کرلیاتھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ساری دنیا اُس کی تلاوت کرتی ہے اور حلّت و حرمت کے بنیادی مسئلے کو اللہ کا حق سمجھتی ہے اور تسلیم کرتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ فرماتے ہیںکہ ’’اللہ دیتاہے اور میں بانٹتا ہوں‘‘۔ (الحدیث)
اس کے علیٰ الرغم قرآن میں اللہ تعالیٰ کاحکم ہے۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَکُم بَہِیْمَۃُ الأَنْعَامِ إِلاَّ مَا یُتْلَی عَلَیْْکُمْ غَیْْرَ مُحِلِّیْ الصَّیْْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ إِنَّ اللّہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ ـ (سورۃ المائدہ : ۱(
(اے لوگو! جو ایمان لائے ہو بندشوں کی پوری پابندی کرو۔ تمہارے لئے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کئے گئے۔ )
اس آیت میںلفظ انعام (مویشی)عربی زبان میں اونٹ ‘ گائے‘ بھیڑ‘ بکری اور ان کے نروں و اولاد کے لئے استعمال کیا گیاہے۔
قابلِ غور بات :۔
محمد رسول ﷺ کو باطل کے ارادوں سے آگاہ کیا جاتارہا اسی لئے آپﷺ کا روّیہ عقائد کے معاملات میں انتہائی بے لچک رہاہے۔
وَدُّوا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُونَ (سورۃ القلم: ۹)
( وہ چاہتے ہیںتم ذرا مداہنت اختیار کرو تو وہ بھی مداہنت برتیں گے۔)
مشرکین کا رویہ رہا ہے جب کہ اہلِ کتاب کی پالیسی کو قرآن مزید واضح کر قیامت تک ریکارڈ پر لے آیا ہے۔
وَلَن تَرْضَی عَنکَ الْیَہُودُ وَلاَ النَّصَارَی حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ ـ (سورۃ البقرہ : 120)
(یہ یہود و نصاریٰ ہر گز راضی نہ ہوں گے حتیٰ کہ آپ ان کی ملّت کی پیروی کرنے لگو۔)
زیادہ سے زیادہ محمد رسول اللہ ﷺ کو جو اجازت ملی تھی اس کا ذکر بھی سورۃ الکافرون میں کردیا گیاہے۔
قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ(1) لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ (2) وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (3) وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ (4) وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (5) لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ (6)ـ (سورۃ الکافرون)
(کہہ دوکہ اے کافرو! میں ان کی عبادت نہیںکرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔ نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتاہوں اورنہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں ، تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرادین ۔)
عقائد کی گمرہی سے تمدّن کج رو ہوجاتے ہیں ۔ تہذ یب کھوکھلی اورکلچر curruptہوجاتے ہیں۔الحمداللہ! مسلمانوں کی تہذیب و تمدّن جس حد تک بھی بچی ہوئی ہے وہ اللہ کے فضل کے بعد ا ن کی اعتقادی قوت ہے جو اس کا دفاع کر رہی ہیں۔ وندے ماترم‘ سرسوتی وندنا‘ سوریہ نمسکار ‘ یوگا جیسے ڈراموں سے ان کا اندرون بھی متاثر ہوگا۔ بیرون کو بگڑتے دیر کتنی لگتی ہے۔ جب کہ یہ ڈرامے سیاسی و حکومتی سطح سے وارد ہو رہے ہوں تو اس سے بچنا انتہائی ضروری ہو جاتاہے۔ اپنی کوششوں میں اُمّت میں بیداری کے ذریعے اللہ کے فضل کے راستے اس کی جناب میں دُعا شاید کچھ ہمیں اندھیروں کو دور کرکے روشنی کی کرنوں سے ہم آغوش کر سکے۔
کوشش ہمارا کام ہے، نتائج مرتب کرنا اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔ سو ہمیں اپنا کام خلوص ِ نیت ‘ جہدِ مسلسل ‘ مایوس ہوئے بغیر کرتے چلے جاناہے۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو! (آمین)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *