علماء اور قائدین حق گو بنیں

سائنسی اعتبار سے ہر اس شخص کو زندہ کہا جاتا ہے جس کے تنفسی اعضاء کام کرتے رہتے ہیں اور جس کے یہاں سانس کی آمد و شد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پنڈت برج نرائین چکبست کے الفاظ میں زندگی عناصر میں ظہور ترتیب کا نام ہے اور موت ان عناصر کے پریشاں ہونے کا نام ہے۔ میڈیکل سائنس میں زندہ انسان وہ ہے جس کے دل اور دماغ مسلسل کام کرتے رہتے ہیں لیکن اخلاقی کردار کے اعتبار سے زندہ انسان کسی اور شخصیت کا نام ہے، ایسی شخصیت کا نام ہے جس کے اندر کچھ صفات اور کچھ خوبیاں موجود ہوتی ہیں۔ یہ صفات اگر نہیں ہیں تو پھر وہ زندہ انسان نہیں ہے، زندہ انسان اعلیٰ انسانی قدروں کا حامل ہوتا ہے اور ان قدروں کی حمایت کے لئے اس کے اندر ہمت اور جرأت ہوتی ہے، اسی لئے انسانوں کی بھیڑ میں زندہ انسان بہت کم نظر آتے ہیں۔ مولانا جلال الدین رومی نے ایک قصہ لکھا ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک پیر فرتوت جس کے سارے بال سفید تھے اور کمر خمیدہ تھی، چراغ لے کر اندھیرے میں سنسان راستوں میں کچھ تلاش کر رہے ہیں، انہوں نے پوچھا کہ آپ کیا تلاش کر رہے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ مجھے انسان کی تلاش ہے۔ جلال الدین رومی فارسی زبان کے شاعر تھے اردو کے شاعر غالب نے بھی اسی حقیقت کا اظہار اپنے شعر میں کیا ہے:
ع۔ بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
جس طرح آسمان سے موسلادھار بارش ہوتی ہے اور بارش کے قطروں میں کوئی ایک قطرہ موتی بنتا ہے، جس طرح زمین کی کان سے کوئی ہیرا بہت مشکل سے برآمد ہوتا ہے اسی طرح سے انسانوں کے ہجوم میں زندہ انسان مشکل سے ملتا ہے۔ زندہ شخصیت وہ شخصیت ہے جس کے اندر شعور، حسن عمل، ہمت، جذبہ اور استقامت اور حق کی حمایت اور ارادہ کی مضبوطی موجود ہوتی ہے، وہ بلند مقصد کے لئے جان دے سکتا ہے لیکن اعلیٰ قدروں اور مقصد حیات سے دستبردار نہیں ہو سکتا ۔ اگر یہ صفات کسی کے اندر موجود ہیں تو وہ شخصیت ایک زندہ شخصیت ہے اور اگر یہ صفات موجود نہیں ہیں تو پھر شخصیت زندہ شخصیت نہیں ہے وہ ایک مردہ انسان ہے۔ دنیا کے اندر اسلام کے حق میں کسی بڑی تبدیلی کے لئے زندہ شخصیتوں کا وجود ضروری ہے اسلام کے حق میں حالات کی تبدیلی اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں میں ضروری صفات نہ پیدا ہوجائیں ، ان میں زندہ شخصیتیں نہ ابھر آئیں ، ایسی شخصیتیں جو مسلمانوں کے دردناک حالات سے اوران پر ظلم سے متاثر ہوتی ہوں اور ان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتی ہوں۔ دنیا میں کہیں صالح اسلامی انقلاب نہیں آسکتا ہے جب تک کہ اندرون میں اسلامی انقلاب نہ آجائے، خارجی حالات کی کوئی تبدیلی اندرون کی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اندرونی تبدیلی یہ ہے کہ انسان خود اسلام پر عمل پیرا ہو اور اسلام کے بارے میں شدید طور پر حساس ہو جائے، دنیا میں کوئی واقعہ جس کی ضرب اسلام پر پڑتی ہو اسے بے چین کر دے، خارجی واقعہ اس کے دِل کو مضطرب کر دے۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہو گئی ہے کہ مسلم ملک میں جمہوریت کا قتل ہو رہا ہے اور آزادی اظہار پر پہرے بٹھا دئیے گئے ہیں۔ احتجاج کی آزادی سلب کر لی گئی ہے حکومت کے خلاف لکھنا اور بولنا جرم قرار دے دیا گیا ہے، حق گوئی مستوجب سزا ہو گئی ہے اسلامی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والوں کو مجرم قرار دیا گیا ہے، مظاہرہ کرنے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، اسلام پسندوں کو جو اسلامیت کا عالمی نشان ہیں اور احیاء اسلام کے علم بردار ہیں، جن کا مقصد دین کی سربلندی ہے، پھانسیاں دی جارہی ہیں۔ یہ انصاف پر اتنا بڑا ظلم ہے جس کے مقابلہ میں داعش کا ظلم بھی ہیچ ہے، داعش کا ظلم تو صرف عراق و شام کی شیعی حکومت کے مظالم کا رد عمل ہے لیکن مصر کا ظلم عصر حاضر کی سب سے بڑی اسلامی تحریک پر ہے، یہ وہ تحریک ہے جس کی کوششوں سے عرب دنیا کے ہر ملک میں اسلامی بیداری پیدا ہوئی ہے۔ اسلامی شریعت کے نفاذ کی آواز بلند ہوئی ہے، اس تحریک کے بانی امام حسن البناء شہید ؒکا مقصدانفرادی اور اجتماعی زندگی کو رضائے الٰہی کے رنگ میں رنگ دینا تھا۔ دیکھئے امام حسن البناؒء اور ان کی تحریک الاخوان الالمسلمون کے بارے میں مفکر اسلام مولانا ابولحسن علی ندوی ؒ کیا کہتے ہیں’’ انہوں نے ایک نسل تیار کی وہ ایک پوری قوم کے مربی تھے وہ ایک علمی ،فکری، اخلاقی مکتب فکر کے بانی تھے انہوں نے ایک ایسی دینی اسلامی تحریک اور قیادت پیدا کی جس سے زیادہ ہمہ گیر و فعال تحریک خصوصاً عرب ممالک میں عرصہ سے دیکھنے میں نہیں آئی تھی ۔۔۔ اس تحریک کے اثرات کو ختم کرنے اور اس کے نقوش کو مٹانے کی کوشش اور اس کے چلانے والوں کو قید و بند اور جلا وطنی کی سزائیں اور رونگٹے کھڑے کرنے والی اذیتیں دینا بدترین جرم ہے جس کو تاریخ بھی معاف نہیں کر سکتی۔‘‘ (پرانے چراغ جلد اوّل)
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ؒ بھی ایک جہاں دیدہ شخصیت تھے اور عالم اسلام کے حالات سے اچھی طرح واقف تھے ان کا بیان ملاحظہ کیجئے ’’عرب ممالک میں آپ عراق سے مراکش تک چلے جائیں ،ہر جگہ آپ یہی دیکھیں گے کہ جن لوگوں کو بھی اسلام سے گہرا اور قلبی تعلق ہے وہ زیادہ تر اخوان ہی کے آدمی ہیں یا ان کی تحریک سے متاثر ہیں، اسی طرح سے امریکا اور یورپ میں بھی آپ دیکھیں گے کہ جو عرب نوجوان اسلامی جذبہ سے سرشار ہیں وہ اکثر و بیشتر اخوانی ہیں۔۔۔۔(ماہنامہ ترجمان القرآن مئی ۱۲۰۷)
یہ واقعہ ہے کہ پہلی عرب اسرائیلی جنگ (۱۹۴۸ئ) میں اخوانی اس قدر بے جگری سے لڑے تھے کہ قریب تھا کہ اسرائیلی حکومت ہزیمت سے دوچار ہو جاتی اور اسرائیل کا قضیہ نامرضیہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتا لیکن دباؤ ڈال کر جنگ بند کرادی گئی لیکن اخوان کا خوف یہودیوں کے دلوں میں ایسا بیٹھ گیا تھا کہ جب ایک اخوانی محمد مرسی مصر میں حکومت کی کرسی پر بیٹھا تو بقول ایک مبصر کے اسرائیل کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، اس پر خوف سے رعشہ طاری ہو گیا کیونکہ اخوانی وہ لوگ ہیں جو شوق شہادت سے سرشار ہوکر میدانِ جہاد میں آتے ہیں اور موت سے ڈرتے نہیں بلکہ موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور خوشی خوشی گردنوں میں پھانسی کے پھندے پہن لیتے ہیں۔ اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں ہے ۶ دسمبر ۱۹۵۴ء کو مصر میں جمال عبد الناصر کے زمانہ میں چشم فلک نے یہ منظر دیکھا تھا اور چشم دیدگواہوں نے گواہی دی تھی کہ اخوانیوں کو جب جیل سے تختہ دار کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو ان کی زبان پر یہ الفاظ تھے اللہ کے راستے میں موت ہماری سب سے بڑی تمنا ہے۔ یہ وہ اخوان ہیں جو آزمائش کے دور سے گزر کر اور آگ کا دریا پار کرکے اور الیکشن جیت کرکے اقتدار میں آئے تھے اور مرسی صاحب مصر کی پوری تاریخ کے پہلے منتخب صدر تھے۔ اگر مرسی برسراقتدار رہتے تو نہ شام میں بشار الاسد کی ظالم حکومت قائم رہ سکتی تھی اور نہ فلسطین میں اسرائیل کی غاصب حکومت۔ بشار الاسد کی حکومت کے خلاف نعرہ جہاد انہوں نے ناوابستہ ممالک کی چوٹی کانفرنس کے موقع پر ایران کی سرزمین میں بھی بلند کیا تھا اور انہوں نے بار بار سربراہوں کے سامنے شام کے مسئلے کو اٹھایا اور کہا کہ وہاں عوام پر بیحد ظلم ہو رہا ہے اور وہ جب بھی یہ کہتے کہ شام میں ظلم ہو رہا ہے تو تہران کی اس چوٹی کانفرنس کے باکمال ایرانی مترجمین برجستہ فارسی میں ترجمہ کرتے کہ بحرین میں بے حد ظلم ہو رہا ہے۔ بعد میں بحرین نے اس دانستہ غلط ترجمہ پر احتجاج بھی کیا۔ مصر میں اخوان کی حکومت دراصل اسرائیل کے وجود کے لئے خطرہ تھی۔ چنانچہ مرسی کی حکومت کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی شاطرانہ چال کامیاب ہو گئی ۔ عبد الفتاح سیسی کو فوجی انقلاب کا ایجنٹ بنا دیا گیا اور سعودی عرب اور کئی خلیجی ملک اس کے دام ہمرنگ میں پھنس گئے اور عبد الفتاح سیسی جیسے اسرائیل کے ایجنٹ کے پشت پناہ اور ہم نوا بن گئے اور ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے حالات سے واقف لوگ خادم الحرمین مَلِک عبد اللہ سے ایک تبسم زیر لب کے ساتھ یہ کہنے لگے ’’ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو‘‘ راقم سطور نے قطر اور ترکی کی بین الاقوامی کانفرنسوں میں عالم اسلام کے مسلم علماء اور دانشوروں کو خلیجی موقوف پر چیں بجبیں دیکھا۔ سعودی حکومت اور خادم الحرمین کی بدنامی کسی کے لئے خوشگوار بات نہیں لیکن علما کا کام ہی یہی ہے کہ ہر حال میں حق بات کہیں ، قطب نما کا کام رات ہو یا دن ہر حال میں صحیح سمت سفر کی رہنمائی کرنا ہے، اگر قطب نما اپنا کام کرنا چھوڑ دے تو قافلے والوں کی منزل کھوٹی ہوگی اور سفینہ حیات کبھی ساحل مراد تک نہیں پہنچ سکے گا۔
اس وقت اخوان کا دور ابتلا دوبارہ واپس آگیا ہے، مصر میں نیا فرعون دوبارہ تخت نشیں ہو گیا ہے، جو روستم کی نئی کھیتی لہلہا رہی ہے، قید خانوں میں تعذیب کے نئے رنگ اور نئے ڈھنگ اختیار کئے جا رہے ہیں۔ خواتین کو بھی پابجولاں جیل خانوں میں لایا جارہا ہے ۔ہزاروں پولیس کی گولیوں سے شہادت سے سرخرو ہوئے، سو سے زیادہ لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے اور جن لوگوں کو یہ سزا سنائی گئی ہے ان کو دستور کے مطابق سرخ رنگ کا حلہ شاہانہ پہنا دیا گیا ہے الجزیرہ ٹی وی پر مرسی صاحب لوہے کے پنجرے میں سرخ جوڑا زیب تن کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اخبارات سے آزادی چھین لی گئی ہے حکومت کے موقف کے خلاف کوئی کچھ لکھ نہیں سکتا ہے۔ یہ تحریر جو ناظرین پڑھ رہے ہیں ہندوستان میں لکھی جا سکتی ہے عرب دنیا میں نہیں لکھی جا سکتی ہے، عرب دنیا تو اسلام اور جمہوریت کی قتل گاہ ہے اللہ کا دین زندگی کے ہر شعبہ میں برسرِعمل ہونے کے لئے آیا ہے وہ صرف مسجدوں اور حجروں کے لئے نہیں ہے ۔سیاست معیشت سماج میں اسے برسرپیکار ہونا چاہئے۔ اسلام نے انسان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں ان میں ایک اہم نعمت آزادی ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اس نعمت کی حفاظت کی گئی تھی۔ خلفائے راشدین کے زمانہ میں ایک عام آدمی کو بھی حاکم اور خلیفہ پر تنقید کا حق حاصل تھا۔
(ماخوذ راشٹریہ سہارا)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *