(مکتوب)

مدیر محترم!
وزیر اعظم نے اپنی 30/8/15کی ریڈیائی تقریر میں صوفی اسلام کی ترویج و اشاعت کی بات کہی ہے ۔ اور انتہا پسند اسلام کا مقابلہ کرنے کی بات بھی کہی ہے۔ خوبصورت باتیں ہیں۔ مگر کیا انتہا پسندی صرف مسلمانوں کی ہی بری ہے؟ کیا انتہا پسندی کو فروغ غیر مسلموں میں نہیں مل رہا ہے؟ صوفی اسلام کی ترویج کی بات کرنے کے ساتھ ساتھ آپکی ہی پارٹی نے اگست میں گجرات سرکار کی طرف سے سپریم کورٹ میں حلف نامہ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نشان مہتہ نے داخل کیا ہے جس میں کہا ہے کہ ہم گجرات زلزلہ اور 2001؁ کے دنگوں میں تباہ شدہ مذہبی مقامات کی مرمت نہیں کرا سکتے۔ اس کام کے لئے سرکاری پیسہ نہیں خرچ کیا جا سکتا۔ ان مذہبی مقامات میں بڑی تعداد میں صوفی اسلام کے مراکز مزارات، درگاہ، مقابر شامل ہیں۔ 2001؁ کے فسادات میں مشہور صوفی شاعر ولی دکنی کا مزار مسمار کرکے راتوں رات سڑک بنا دی گئی تھی۔ تو کیا ان صوفی مقامات کی مرمت نہیں کرائی جائیگی؟ سیکولر سرکار مذہبی مقام کی تعمیر نہیں کر سکتی مگر اگر سرکار تعمیر شدہ مذہبی مقام کی بربادی کو نہیں روک سکی تو یہ کس کی ذمہ داری ہے؟
ایک طرف مسلم انتہا پسندی کا ہوا کھڑا کیا جارہا ہے دوسری طرف پورے ملک کے اسکولوں میں مخصوص نظریہ کے حامل لوگوں اور درسی کتابوں Text Booksکو ٹھونسا جا رہا ہے۔ ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا مگر انتہا پسندی کا مذہب کیا صرف اسلام اور مسلمانوں سے ہی تعلق ہے؟ پورے یوروپ، میانمار، امریکہ، نیپال ہر جگہ عیسائی، بودھ اور ہندو انتہا پسند زور نہیں پکڑ رہے ہیں؟ اور وہ لوگ اپنے مخالفین پر ہر طرح کے مظالم بھی کر رہے ہیں تو اس کا ذکر اور ان سے مقابلہ کی بات کیوں نہیں ہوتی؟ بھارت میں آپکی حکومت کے قیام کے بعد فرقہ وارانہ فسادات میں آپکی وزارت داخلہ کے مطابق غیر معمولی بڑھوتری ہوئی ہے یہ کیوں ہوا ہے؟ اس کی وجہ صرف انتہا پسند مسلمان ہیں؟ ایک ملک کے وزیر اعظم کے ذریعہ مسلمانوں کے اندرونی معاملات کو ہوا دیکر کسی فریق کی حمایت کرنے کا کھیل ملک کے امن و امان کے لئے اچھا ماحول نہیں بنائیگا۔ وزیر اعظم کو شاید یاد نہ رہا ہو بھارت کی آزادی کی لڑائی میں سب سے زیادہ رول انہیں مبیّنہ انتہا پسند مسلمانوں کی قربانیوں کا رہا ہے۔ جنہیں آج سیاسی حساب کے لئے ، نکّو بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کے معاملات وہ خود سمجھ لیں گے۔ کیا اگر مسلمان بھی اتنی دلچسپی منڈل کی تفریقی سیاست میں لینے لگیں تو وزیر اعظم کو ہضم ہوگا؟ ڈاکٹر ایم اجمل ، 15، گاندھی روڈ

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *