مکہ اور مدینہ نزدیک تھا

ملک شام اور شہر دمشق مسلمانوں کے پانچ مقدس ترین شہروں اور ملکوں میں شمار ہوتے ہیں، شام انبیاء ،صحابہ، اولیاء اور مؤرخین کا ملک ہے، دمشق اور حلب دونوں شہر مذہبی سیاحت کے عظیم مراکز ہیں۔ شام کو اور اعزازات بھی حاصل ہیں، یہ ملک دنیا کی قدیم ترین آرگنائزڈ سولائزیشنز میں شمار ہوتا ہے۔ دنیا کا 80فیصد حصہ جب پتھر اور غار کے دور سے گزر رہا تھا شام میں اس وقت باقاعدہ حکومت بھی تھی اور میونسپل کمیٹیوں کا نظام بھی۔ دمشق اور حلب دنیا کے قدیم ترین شہروں میں بھی شمار ہوتے ہیں، شام کا ایک اعزاز اس کا انسانی حسن ہے، شام میں پچھلے چھ ہزار سال سے دنیا کی خوبصورت ترین نسلیں آباد ہیں۔ ایک اعزاز ، یہ وہ ملک ہے جس نے عالم اسلام کو وہ لازوال ادارے دئے تھے جن پر ہم آج بھی فخر کرتے ہیں، حضرت عمر فاروق ؓ کا پولیس کا محکمہ ہو، ریگولر آرمی کا تصور ہو، ویلفیئر اسٹیٹ کا فارمولہ ہو یا پھر ڈاک کا نظام ہو، یہ تصورات دمشق سے مدینہ پہنچے تھے۔
آپ اب شام کے اردگرد موجود ممالک کو بھی دیکھئے ، شام 9مقدس ترین مسلمان ملکوں کے ہمسائے میں واقع ہے، شام کی سرحدین ترکی، عراق، اردن، لبنان، مصر، سعودی عرب، یمن، ایران اور عمان سے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ملتی ہیں، ان نو ممالک میں شامی قبائل بھی موجود ہیں اور شامیوں کے ہم ملک اور ہم عقیدہ لوگ بھی۔ ان 9ملکوں میں ہزاروں سال سے رابطے بھی استوار ہیں، نبی کریم ؐ نے اپنی تجارتی زندگی کا آغاز شام کے تجارتی قافلوں سے کیا تھا، مسلمانوں کے مقدس شہر دمشق اور حلب مسلمانوں کے دوسرے مقدس ترین شہروں مدینہ، مکہ، نجف، قم، استنبول، قونیہ، قاہرہ، جارڈن سٹی، صنعائ، تبوک اور بیروت سے زیادہ دور نہیں ہیں، ان شہروں کے درمیان کوئی سمندر اور بلند و بالا پہاڑ بھی موجود نہیں ہیں۔
آپ اگر دمشق اور حلب سے پیدل نکلیں تو آپ چند دِن بعد کسی نہ کسی مقدس شہر میں داخل ہو جائیں گے، ان نو مقدس ممالک میں شام کے ہم مذہب اور ہم مسلک لوگ آباد ہیں ، دمشق سے لے کر ازمیر، قم، صنعاء اور قاہرہ تک پانچ وقت اذان ہوتی ہے، پانچ وقت جماعت کھڑی ہوتی ہے، صدقہ اور خیرات بھی دی جاتی ہے، نقاب، حجاب اور اسکارف بھی لیا جاتا ہے، قرآن مجید پڑھا جاتا ہے، حلال گوشت کھایا جاتا ہے اور ایک اللہ اور ایک رسول ؐ کو مانا جاتا ہے لیکن جب 2011میں شام میں خانہ جنگی شروع ہوتی ہے اور شامی خاندان ہجرت پر مجبور ہوتے ہیں تو یہ لوگ برادر اسلامی ممالک کے بجائے ، یہ لوگ مقدس ترین مکہ، مدینہ، قم نجف، جارڈن اور بیروت کے بجائے اس یورپ کی طرف دوڑ پڑتے ہیں جہاں حلال گوشت نہیں ملتا، جہاں مسجد نہیں ہیں، جہاں چرچ کی گھنٹیاں بجتی ہیں، جہاں اسکارف، نقاب اور حجاب کی اجازت نہیں، جہاں تبلیغ جرم ہے۔ جہاں ڈاڑھی ، نماز اور تلاوت کو مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے، جہاں اسکولوں میں سیکولر تعلیم دی جاتی ہے، جہاں بچیاں مسلمان ہوں، عیسائی ہوں یا یہودی ہوں آپ انہیں بوائے فرینڈ رکھنے سے نہیں روک سکتے اور جہاں آپ کو انگریزی ،فرنچ، جرمن، یونانی اور آسٹرین زبان سیکھنا پڑتی ہے اور جہاں آپ کو ان عیسائی، یہودیوں اور لادین لوگوں کے ساتھ رہنا پڑے گا جو پچھلے چودہ سو سال سے عالم اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
آپ یہاں یہ بھی ذہن میں رکھئے گا، شام اور یورپ کے درمیان کوئی زمینی راستہ موجود نہیں، شامیوں کو یورپ پہنچنے کے لئے سیکڑوں میل لمبے سمندر پار کرنا پڑ رہاہے ۔ یہ لوگ یورپ پہنچنے کے لئے اس قدر بے تاب ہیں کہ یہ ایلان جیسے بچوں تک کی قربانی دے رہے ہیں، کیوں؟ آخر کیوں؟ عالم اسلام کو کبھی نہ کبھی مذہبی، سماجی اور نسلی عصبیت کو سائیڈ پر رکھ کر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ اس کیوں کا جواب تلاش کرنا پڑے گا، ہمیں حقائق کو بہر حال ماننا ہوگا اور وہ حقائق یہ ہیں، ملک میں اگر جبر، بد امنی، بے انصافی اور غربت ہو تو لوگ انبیائ، صحابہ، اولیاء اور اسکالرز کے دمشق سے بھی نقل مکانی کر جاتے ہیں۔ حقائق یہ ہیں کہ انسان جب گھر چھوڑ تا ہے تو یہ امن اور آزادی کے لئے مقدس ترین شہروں کے قریب سے گزر کر ان ملکوں، ان شہروں کی طرف دوڑ پڑتا ہے جہاں ان کے اور ان کی نسلوں و تہذیب کے ایمان تک کی گارنٹی نہیں ہوتی اور حقائق تو یہ ہیں امن، انصاف، عزت، جمہوریت ، انسانی حقوق اور ترقی کے برابر مواقع انسان کو اگر یہ سہولتیں ان ملکوں میں بھی نظر آئیں جن کو یہ صدیوں تک اپنے ایمان، اپنی تہذیب کا دشمن سمجھتا رہا ہو تو یہ سیکڑوں میل پیدل چل کر، کشتیوں میں بیٹھ کر اور اپنے ایلان کی قربانی دے کر بھی دشمن ملکوں میں پہنچ جاتا ہے اور حقائق تو یہ ہیں انسان پر امن زندگی کے لئے اذانوں، مسجدوں، حلال گوشت اور حجاب والے ملک چھوڑ کر چرچوں، گھنٹیوں، فحاشی، نیوڈ بیچز، کلبوں، شراب خانوں اور بوائے فرینڈ گرل فرینڈز کے معاشروں میں چلا جاتا ہے اور حقائق تو یہ ہیں انسان کو جب چوائس مل جائے تو یہ مقدس شہروں کے بجائے میونخ، بڈاپسٹ، پیرس اور لندن کا رُخ کرتا ہے اور آپ کو اگر اب بھی یقین نہ آئے تو آپ انٹرنیٹ سے جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل کا یہ بیان نکال کر فریم کرالیں اور اپنی میز پر رکھ لیں۔ اینجلا مرکل نے حیرت سے کہا ’’میں حیران ہوں، جرمنی آنے والے شامی مسلمانوں کو مکہ اور مدینہ نزدیک پڑتا تھا‘‘ آپ اینجلا مرکل کا یہ فقرہ اپنی میز پر رکھ لیں، مجھے یقین ہے، آپ زندگی میں جب کنفیوژ ہوں گے، یہ ایک فقرہ آپ کو دوسیکنڈ میں کنفیوژن سے نکال لے گا۔ آپ کو حقائق جاننے میں دیر نہیں لگے گی۔ (بشکریہ روزنامہ خبریں )

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *