پیغامِ محمدیﷺ

دوستو! آج میری اور آپ کی یک ماہہ ملاقات کا سلسلہ ختم ہوتا ہے، آج میری تقریر کی آٹھویں قسط ہے۔ میں نے چاہا تھا کہ ان دو اخیر تقریروں میں اسلام کے بنیادی امور کے متعلق تمام باتیں آپ کے سامنے پیش کردوں مگر

صد سال می تو ان سخن اززلف یاربست
مسئلہ توحید کے متعلق تمام پہلے مذاہب میں جو حقیقت میں توحیدہی کا پیام لیکر اس دنیا میں آئے تھے، تین اسباب سے غلط فہمیاں اور گمراہیاں پیدا ہوئیں، ایک جسمانی تشبیہ و تمثیل، دوسرے صفات کو ذات سے الگ اور مستقل ماننا، اور تیسرے افعال کی نیرنگی سے دھوکا کھانا، پیغامِ محمدی ؐ نے ان گرہوں کو کھولا، ان غلط فہمیوں کو دور کیا اور ان حقیقتوں کو واضح کیا، سب سے پہلے تشبیہ و تمثل کو لیجئے:۔
(۱) خدا کو ، خدا کی صفتوں کو، اور خدا و بندہ کے باہمی تعلق کو واضح کرنے کے لئے خیالی یا مادّی تشبیہیں، اور تمثیلیں ، دوسرے مذاہب کے مقتدوں نے ایجاد کیں ، نتیجہ یہ ہوا کہ اصل خدا تو جاتا رہا، اور اس کی جگہ یہ تشبیہیں خدا بن گئیں، انہی تشبیہوں اور تمثیلوں نے مجسم ہو کر بتوں کی شکل اختیار کر لی، اور بُت پرستی شروع ہو گئی، خدا کو اپنے بندوں کے ساتھ جو لطف و کرم، اور محبت اور پیار ہے اس کو بھی تشبیہ و تمثیل کے رنگ میں ادا کرکے مجسم کر دیا گیا، آرین قوموں میں چونکہ عورت محبت کی دیوی ہے، اس لئے خدا اور بندہ کے تعلق کو ماں اور بیٹے کے لفظ سے ادا کیا گیا، اور اس لئے خدا ماتاکی شکل میں آگیا، بعض دوسرے ہندو فرقوں میں اس بے کیف محبت کو زن و شو اور میاں بیوی کے الفاظ میں ادا کیا گیا، سدا سہاگ فقیروں نے ساڑی اور چوڑی پہنکر اسی حقیقت کو نمایاں کیا ہے، رومیوں اور یونانیوں میں بھی عورت ہی کی شکل میں خدا ظاہر ہوا ہے، سامی قوموں میں عورت کا برملا ذکر تہذیب کے خلاف ہے، اس لئے خاندان کی اصل بنیاد باپ قرار دیا گیا ہے، اس طرح بابل و اسیر یا وشام کے کھنڈروں میں خدا مرد کی صورت میں جلوہ نما ہے، بنی اسرائیل کے ابتدائی تخیل میں خدا باپ اور تمام فرشتے اور انسان اس کی اولاد بتائے گئے ہیں، بعد کو باپ خدا کی اولاد صرف بنی اسرائیل قرار پاتی ہے، بنی اسرائیل کے بعض صحیفوں میں زن و شو کا تخیل بھی خدا اور بنی اسرائیل کے درمیان نظر آتا ہے، یہاں تک کہ بنی اسرائیل اور یروشلم بیوی فرض کئے جاتے ہیں،اور خدا شوہر بنتا ہے، عیسائیوں میں باپ اور بیٹے کی تمثیل نے اصلیت اور حقیقت کی جگہ لے لی، عربوں میں بھی اسی قسم کا تخیل تھا، خدا باپ تصور کیا جاتا تھا اور فرشتے اس کی بیٹیاں، پیغامِ محمدیؐ نے تمام تشبیہی اور تمثیلی صورتوں ، طریقوں اور محاوروں کو یک قلم موقوف کر دیا اور ان کا استعمال شرک قرار دیا، اس نے صاف اعلان کیا لیس کمثلہٖ شیئٌ ۔’’اس جیسی اور اس کی مثل کو ئی چیز نہیں۔‘‘اس ایک آیت نے شرک کی ساری بنیادوں کو ہلا دیا، پھر ایک نہایت ہی چھوٹی سورہ کے ذریعہ سے انسانوں کے سب سے بڑے وہم کو دور کیا:۔
قل ھوا للّٰہ احد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کفواً احدٌ ٭
ترجمہ: کہدے (اے پیغمبرؐ) اللہ ایک ہے، اللہ (خود ہر چیز سے) بے نیاز ہے (اور تمام چیزیں اس کی نیاز مند ہیں)۔ نہ وہ جنتا ہے (جو اسکے اولاد ہے) اور نہ وہ جنا جاتا ہے (جو کسی کی اولاد ہوکر پھر خدا ہو) اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے (جو زن و شو کا رشتہ قائم ہو سکے) (سورہ اخلاص)
اس ایک سورہ میں جو قرآن پاک کی سب سے چھوٹی سورہ ہے توحید کی نکھری ہوئی صورت ظاہر ہوئی ہے، جس کی بنا پر دینِ محمدیؐ ہر قسم کے شرک کے مغالطوں سے پاک ہوگیا ہے۔
دوستو! اس کے یہ معنیٰ نہیں ہیں کہ پیغام محمدی ؐ نے خدا اور بندہ کے درمیان محبت، پیار اور لطف و کرم کے تعلقات کو توڑ دیا ہے، نہیں اس نے ان تعلقات کو اور زیادہ پیوستہ اور مضبوط کر دیاہے، لیکن ان تعلقات کے ادا کرنے میں جو جسمانی تعبیریں مختلف انسانی شکلوں میں تھیں صرف اُن کو توڑ دیا ہے، اس لئے کہ اوّل تو یہ انسانی طریقۂ ادا حقیقت سے بہت کم رتبہ ہے ، یعنی اس کی نگاہ میں عبد و معبود کے درمیان جو تعلق ہے اس کے مقابلہ میں باپ ،بیٹے ، ماں ، بیٹیاں یا زن و شو کا تعلق محض ہیچ اور بالکل کم درجہ ہے، دوسرے یہ کہ ان تعبیروں سے شرک کی غلطیاں پیدا ہوتی ہیں، اسی لئے اسلام نے یہ کہا اُذْکُرُو اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَائَکُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا’ ’ تم اللہ کو اسی طرح یاد کرو جیسے اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو، بلکہ اس سے بہت بڑھ کر (یاد کرو)‘‘دیکھو کہ اس آیت میں محبت الٰہی کو ادا کرنا تھا تو یہ نہیں کہا کہ ’’خدا تمہارا باپ‘‘ یعنی خدا اور باپ کے رشتہ کو مشتبہ اور مشبہ بہ نہیں بنایا، بلکہ خدا کی محبت اور باپ کی محبت کو باہم مشبہ اور مشبہ بہ قرار دیا، اس سے یہ ظاہر ہوا کہ اس نے اس جسمانی رشتہ کو چھوڑ دیا، لیکن اس جسمانی رشتہ کی محبت کو باقی رکھا، آگے بڑھ کر اس نے کہا، بلکہ ’’باپ سے بہت زیادہ خدا سے محبت رکھنی چاہئے۔‘‘ او اشد ذکرًا، اس سے ظاہر ہوا کہ اس رشتہ کی محبت کو وہ خدا اور بندہ کی محبت اور تعلق کے مقابلہ میں کم رتبہ اور ہیچ سمجھتا ہے، اور اس میں ترقی کی ضرورت محسوس کرتا ہے، والذین اٰمنوا اشد حبا للّٰہ ’’ایمان والے سب سے زیادہ خدا سے محبت رکھتے ہیں، ‘‘ اسلام خدا کو ابوالعالمین دنیا کا باپ نہیں کہتا بلکہ رب العلمین دنیا کا پالن ہار کہتا ہے، کیونکہ اس کی نگاہ میں اَبْ سے رَبْ کا مرتبہ بہت بلند ہے، باپ کا تعلق بیٹے سے آنی اور عارضی ہے، مگر رب کا تعلق اپنے مربوب سے اس کی خلقت اور وجود کے اولین لمحہ سے لیکر آخرین لمحہ تک برابر بلا انقطاع قائم رہتا ہے، اسلام کا خدا ودود ہے یعنی محبت والا، رئووف ہے، یعنی ایسی رافت اور محبت والا، جو باپ کو اپنے بیٹے سے ہے، حنان ہے، یعنی ایسی محبت والا، جیسی ماں کو اپنے بیٹے سے ہے، مگر وہ نہ باپ ہے اور نہ ماں بلکہ ان تشبیہوں سے پاک ہے۔
(۲) حضرات! قدیم مذاہب کے عقیدۂ توحید میں غلط فہمیوں کا دوسرا سبب صفات کا مسئلہ ہے، یعنی صفات کو ذاتِ الٰہی سے الگ ،مستقل وجود کے طور پر تسلیم کرنا، ہندؤوں کے عام مذہب میں جو خداؤں کا لاتعداد لشکر نظر آتا ہے، وہ حقیقت میں اسی غلطی کا نتیجہ ہے کہ ہر ایک صفت کو انہوں نے ایک علیحدہ اور مستقل وجود مان لیا، اور اس طرح ایک خدا کے ۳۳ کرو ڑ خدا بن گئے، تعداد چھوڑ کر صفات کی تشبیہ اور تمثیل بھی انہوں نے مجسم کرکے پیش کی، خدا کی صفت قوت کو ظاہر کرنا تھا، تو انہوں نے اسے واقعی ہاتھ کے ذریعہ سے ظاہر کیا، اور اس کی جسمانی تمثیل میں کئی کئی ہاتھ بنا دئیے ، خدا کی حکمت بالغہ کو سمجھنا تھا، تو ایک سر کے بجائے دوسر کی مورت کھڑی کر دی۔
ہندو مذہب کے فرقوں پر غور کرو تو معلوم ہوگا کہ وہ اسی ایک مسئلہ صفات کے تجسم اور مستقل وجود کے تخیل سے مختلف فرقوں میں بٹ گئے ہیں، خدا کی تین بڑی صفتیں ہیں، خالقیت، قومیت اور ممیتیت، یعنی پیدا کرنے والا، قائم رکھنے والا اور فنا کر دینے والا، ہندو فرقوں نے ان صفتوں کو تین مستقل شخصیتیں تسلیم کر لیا، اور برہما، وشنو اور شیو یعنی خالق، قیوم، اور ممیت ،تین مستقل ہستیاں بن گئیں اور برہمن، وشنو پرست اور شیو پرست تین الگ الگ فرقے ہو گئے، اور تینوں کے پوجنے والے الگ ہو گئے، لنگایت فرقہ نے خالقیت کی صفت کو اپنا خدا ٹھہرا کر مرد عورت کے آلاتِ تولید کو اس خالق کا مظہر مان لیا، اور اُن کی تصویر پوجنی شروع کر دی۔
عیسائیوں نے خدا کی تین بڑی صفتوں، یعنی حیات، علم، اور ارادہ کو تین مستقل شخصیتیں تسلیم کر لیا، حیات باپ ہے، علم روح القدس ہے، اور ارادہ بیٹا ہے، اسی قسم کی چیزیں رومی، یونانی اور مصری تخیل میں بھی ملتی ہیں، لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام نے اس غلطی کا پردہ چاک کر دیا، اور صفات کی نیرنگی سے دھوکا کھا کر ایک کو چند سمجھنا انسان کی جہالت اور نادانی قرار دیا، قرآن نے کہا، الحمد للّٰہ رب العلمین۔سب خوبیاں اسی ایک پروردگارِ عالم کے لئے ہیں، ولہُ المثل الاعلیٰ سب اچھی صفتیں اسی کے لئے ہیں، اللّٰہ نور السموت والارض اللہ ہی آسمان و زمین کا نور ہے، عرب میں اسی ہستی کو صفت رحم سے متصف کرکے عیسائی اس کو رحمان کہتے تھے، عام مشرکین عرب اس کو اللہ کہتے تھے، قرآن نے کہا، قُل ادعواللّٰہ اودعوالرحمن ایّامّا تدعوا فلہ الْاسماء الحسنی یعنی اس کو اللہ کہکر پکارو یا رحمان کہہ کر، جو کہہ کر پکارو سب اچھے نام یا اچھی صفتیں اسی کی ہیں، فاللّٰہ ھوالولی وھو یحیی الموتیٰ وھو علیٰ کل شیء قدیر (شوریٰ) پس خدا وہی پیارا ہے، یا وہی کام بنانے والا ہے، وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، الا ان اللّٰہ ھوالغفور الرحیم، ہشیار بے شک وہی خدا غفور اور رحیم ہے، بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے، ہوالذی فی السماء الہ وفی الارض الہ ط وھو الحکیم العلیم (دخان )’’وہی سننے والا، علم والا ہے، جو آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ آسمانوں اور زمین کے بیچ میں ہے سب کا رب ہے، اگر تم کو یقین آئے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں، وہی جلاتا ہے، اور وہی مارتا ہے، وہی تمہارا اور تمہارے پہلے باپ دادوں کا رب ہے،‘‘ یعنی وہی برہما ہے، وہی شیو ہے، وہی وشنو ہے، تینوں ایک ہی کی صفتیں ہیں، صفات کے تعدد اور اختلاف سے موصوف میں تعدد اور اختلاف نہیں۔
فللّٰہ الحمد ربّ السموت ۔۔۔۔۔۔۔وھو العزیز الحکیم۔ (سورہ جاثیہ)
ترجمہ : خدا ہی کے لئے سب خوبی ہے، جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین ،رب ہے سارے جہاں کا،اور اسی کو ہے سب بڑائی آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی زبردست (اور) حکمت والا ہے۔
ھواللّٰہ الذی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم۔(سورۃ الحشر)
ترجمہ: وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں، چھپے اور کھلے کا جاننے والا، وہی ہے مہربان ،رحم والا، وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں وہ بادشاہ، پاک، صلح و امن، امن دینے والا، پناہ میں لینے والا، زبردست دباؤ والا ہے، بڑائیوں والا، پاک ہے اللہ ان باتوں سے جن کو یہ مشرک لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں، وہی خدا ہے جو خالق ہے، جو عدم سے لانے والا ہے، جو صورتگری کرنے والا ہے، اسی کے لئے ہیں سب اچھے نام (یا سب اچھی صفتیں) جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں (مخلوقات) ہیں، سب اس کی تسبیح پڑھتی ہیں ،وہی غالب (اور) دانا ہے۔
ان صفتوں والے خدا کو ہم نے صرف پیغامِ محمدیؐ ہی کے ذریعہ سے جانا ہے، ورنہ دوسروں نے تو ذات سے صفات کو الگ کرکے ایک خدا کے چند ٹکڑے کر ڈالے تھے، سبحان اللّٰہ عما یشرکون سے مراد ہی شرک ہے جو صفات کو ذات سے الگ کرکے لوگوں نے اختیار کیا تھا، اس آخری پیغام نے بتایا کہ وہی اللہ ہے، وہی خالق ہے، وہی باری ہے، وہی مصور ہے، وہی ملک ہے، وہی قدوس ہے، وہی مومن ہے، وہی عزیز و جبار ہے اور وہی رحمان و رحیم ہے، ایک ہی ذات کی یہ سب صفتیں ہیں، اور وہ ایک ہے۔
(۳) شرک کا تیسرا سرچشمہ، افعال الٰہی کی نیرنگی ہے، لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھا کہ ان مختلف افعال کی کرنے والی، مختلف ہستیاں ہیں، کوئی مارتی ہے، کوئی جلاتی ہے ، کوئی لڑائی لڑواتی ہے، کوئی صلح کراتی ہے، کسی کا کام محبت ہے ،کسی کا کام عداوت ہے، کوئی علم کا دیوتا ہے، کوئی دولت کی دیوی ہے، غرض ہر کام کے لئے الگ الگ سیکڑوں خدا ہیں، اسلام نے ان نادانوں کو بتایا کہ یہ سب ایک ہی خدا کے کام ہیں۔
تمام افعال کی دو بڑی قسمیں ہیں، ایک خیر اور ایک شر۔ یا یوں کہو کہ ایک اچھی اور دوسری بری، اس خیال سے کہ ایک ہی ذات سے خیر و شر کے دومتضاد کام نہیں ہو سکتے، زرتشتیوں نے خیر اور اچھے کاموں اور اچھی چیزوں کے لئے الگ خدا، شر اور برے کاموں اور بری چیزوں کے لئے الگ خدا ٹھہرایا، پہلے کا نام یزدان اور دوسرے کا نام اہرمن رکھا، اور دنیا کو اس یزدان اور اہر من کی باہمی کشمکش کا معرکہ گاہ ٹھہرایا، یہ غلطی اس لئے ہوئی کہ وہ خیر و شر کی حقیقت نہیں سمجھ سکے۔ دوستو! خیر و شر دنیا میں کوئی چیز نہیں ہے۔ کوئی شے اپنی اصل کے لحاظ سے نہ خیر ہے نہ شر، وہ خیر اور شر انسانوں کے صحیح یا غلط استعمال سے بن جاتی ہے، فرض کر لو آگ ہے، اگر اس سے کھانا پکاؤ یا انجن چلاؤ یا غریب کو تاپنے کو دو تو یہ خیر ہے، اور اگر اسی سے کسی غریب کا گھر جلادو تو یہ شر ہے، آگ اپنی اصل کے لحاظ سے نہ خیر ہے نہ شر، تم اپنے استعمال سے اس کو خیر یا شر بنادیتے ہو، تلوار خود نہ خیر ہے نہ شر، تم اس کو جیسا استعمال کرو ویسی ہی ہے، تاریکی نہ خیر ہے نہ شر، اگر تم اس کو لوگوں کے گھر میں چوری کا ذریعہ بناؤ تو شر اور اگر اپنے کو چھپا کر نیکیوں کے کرنے کا وقت بناؤ یا انسان کے حواس کے آرام و سکون اور راحت کا ذریعہ بناؤ تو خیر ہے۔
خدا نے کائنات بنائی، آسمان و زمین بنائے ، مادّہ کو خلق کیا، اشیاء میں خاصیتیں رکھیں، اور ان کو مختلف قوتیں بخشیں ، پھر انسان کو بنایا اس کو دِل و دماغ بخشا، عقل و حکمت دی، اب دیکھو کہ ایک انسان اس کائنات کی ترتیب ،اشیاء کی ترکیب اور خاصیتوں کو دیکھ کر ایک خالق و قادر کی صنعت کاری اور صورت گری پر تعجب کرتا ہوا فتبارک اللّٰہ احسن الخالقین پڑھ کر حضرت ابراہیم ؑ کی طرح یہ پکار اٹھتا ہے : انی وجھت وجہی للذی فطر السموت والارض حنیفا و ما انا من المشرکین۔ ’’میں نے اپنا منھ سب طرف سے پھیر کر اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں نہیں ہوں دوسری طرف اسی مادہ اور اس کی قوتوں اور خاصیتوں کی ظاہر داریوں میں پھنسکر انسان کے دل و دماغ کی عقل و حکمت خدا کا انکار کر بیٹھتی ہے ، اور مادہ ہی کو اصل کائنات اور علۃ العمل سمجھنے لگتی ہے، اور یہ کہہ اٹھتی ہے ، وماہی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر (جاثیہ) ’’اس دنیاوی زندگی کے علاوہ پھر کوئی دوسری زندگی نہیں ، ہم مرتے اور جیتے ہیں، اور ہم کو زمانہ کے سوا کوئی اور نہیں مارتا۔‘‘ کائنات اور اس کے عجائبات اور خواص، ہر شخص کے سامنے ایک ہی ہیں، البتہ دماغ ہزاروں ہیں، اُن کو دیکھ کر ایک دماغ خدا پرست ہو جاتا ہے، اور دوسرا گمراہ اور دہریہ بن جاتا ہے، غور کرو تو معلوم ہوگا کہ ایک ہی چیز ہے، جو ہدایت کرنے والی اور گمراہ کرنے والی دونوں ہے، یایوں کہو کہ کائنات اپنی اصل کے لحاظ سے نہ ہدایت کرنے والی ہے، نہ گمراہ کرنے والی، تم اپنی عقل کے اختلاف سے ہدایت پاتے ہو، یا گمراہ ہو جاتے ہو، تو گویا ایک ہی کائنات ہادی بھی ہے، اور مفصل بھی، جس طرح خدا کے اس کام (مادّہ) کے دونوں نتیجے ہیں، اسی طرح خدا کے پیغام کے بھی دونوں نتیجے ہیں، اسی قرآن یا انجیل کو پڑھ کر ایک انسان خدا کو پہچانتا ہے، اور تسلی پاتا ہے، اور دوسروں کے دِل میں شبہے پیدا ہوتے ہیں، خطرات آتے ہیں، اور انکار کی طرف مائل ہو جاتا ہے، پیغام ایک ہے، البتہ دل دو ہیں، اور یہ دونوں دِل اور دونوں دماغ ایک ہی خالق کے مخلوق ہیں۔ دو خالق نہیں ہیں، نتیجہ کیا نکلا؟ یہ نکلا کہ افعال کی دوئی فاعل کی دوئی کی دلیل نہیں، یہ تمام نیرنگیاں ایک ہی قدرت کے تماشے ہیں، خیر و شر دونوں اسی کے ہاتھ میں ہیں، ہدایت اور ضلالت دونوں ادھر ہی سے ہے۔
یضل بہٖ کثیرا ویھدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھم الخاسرون ۔(سورہ بقرہ ،ع۔۳ )
ترجمہ: اپنے اس کلام کے ذریعہ وہ (خدا )بہتوں کو راہِ راست نہیں دکھاتا، (یا گمراہ کرتا ہے) اور بہتوں کو راہِ راست دکھاتا ہے، انہی کو راہِ راست نہیں دکھاتا جو خدا کے عہد کو باندھکر توڑتے ہیں، جو اس کو کاٹتے ہیں، جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے، اور جو زمیں میں فساد کرتے ہیں، یہی ہیں گھاٹا اٹھانے والے۔
واللّٰہ لا یہد القوم الکٰفرین(سورہ بقرہ ، ع۔ ۳۶) ترجمہ: خدا کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔
ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ ہدایت اور ضلالت دونوں کی علۃ العلل وہی ہے، مگر دونوں کے لئے ابتدائی محرکات تمہارے ہی ہوتے ہیں، تم نے فسق کیا، قطع رحم کیا، فساد کیا، کفر کیا تو اس جت بعد ضلالت آئی، ضلالت پہلے اور فسق و فجور بعد کو نہیں آیا۔
خدا نے انسانوں کو پیدا کیا۔ اور بتا دیا کہ یہ راستہ منزلِ مقصود کو جاتا ہے اور یہ عمیق غار میں اُن کو لیجاکے گرا دیتا ہے۔ فرمایا:
انا ہدیناہ السبیل اما شاکرا واما کفورًا، (دہر)
ترجمہ: ہم نے راستہ اس کو دکھا دیا، (تو) وہ پھر یا شکر گزار بن جاتا ہے، یا کافر بن
جاتا ہے۔ تمام دنیا کی اچھی بری چیزوں کا وہی ایک خالق ہے، ارشاد ہوا
اللّٰہ ربکم خالق کل شی ء لا الٰہ الا ہو (مومن)
ترجمہ: اللہ تمہارا رب ہے ہر چیز کا وہی خالق ہے، اس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔
واللّٰہ خلقکم وما تعلمون (صافات ۔ع ۳)
اور خدا نے تم کو پیدا کیا اور جو تم بناتے ہو اس کو پیدا کیا۔
لیکن :۔
اعطیٰ کل شیئٍ خلقہ ثم ہدی (طہ ، ع۔۲)
ترجمہ : اس نے ہر چیز کو اسکی صورت بخشی، پھر ہدایت دے دی۔
اب تم ہو جو اسکو ہدایت اور ضلالت اور خیر و شر بنا لیتے ہو، اگر غلط راہ پر چلے تو ضلالت ہوئی، صحیح راہ پر چلے تو ہدایت ہوئی، صحیح مصرف میں استعمال کیا تو خیر، اور غلط استعمال کیا تو شر، ورنہ کوئی چیز اپنی اصل کی رو سے ہدایت ہے نہ ضلالت، خیر ہے نہ شر، اس لئے خیر و شر کو دو چیزیں سمجھ کر دو خدا کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک ہی خدا ہے، جو ان دونوں کا خالق ہے۔
ھل من خالق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فانّیٰ تؤفکون٭ (فاطر ، ع۔۱)
ترجمہ: کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے، وہی تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کدھر الٹے جاتے ہو۔
خدا نے اپنا پیغام تمہارے سپرد کر دیا، اب تم اس کو مانو یا نہ مانو۔
ثم اورثنا الکتب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باذن اللہ٭ (فاطر ع۔۴)
ترجمہ:۔پھر ہم نے کتاب کا وارث اُن کو بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا تو اُن میں کوئی اپنی جان کا برا کرتا ہے، اور کوئی خدا کے حکم سے خوبیاں لیکر آگے بڑھ جاتا ہے۔
ومَٓا اصابک من۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عن کثیر٭ (سورہ شورٰی ،ع۔۴)
ترجمہ: اور جو پڑے تم پر مصیبت ، سو اس کا بدلہ ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا، اور وہ معاف کرتا ہے بہت سی باتوں کو۔
فالھمہا فجورہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔من دسھا ٭(شمس)
ترجمہ: ہر نفس میں خدا نے اس کی گنہگاری اور نیکو کاری عام کردی ہے تو جس نے اس (نفس) کو پاک کیا، اس نے نجات پائی، اور جس نے اس کو مٹی میں ملایا وہ ناکام ہوا۔
۴۔ خدا کی عبادت ہر مذہب میں تھی اور ہے، لیکن قدیم مذاہب میں ایک عام غلط فہمی پھیل گئی تھی کہ عبادت کا مقصود جسم کو تکلیف دینا ہے، یا دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ جس قدر اس ظاہری جسم کو تکلیف دیجائے گی، اسی قدر روحانی ترقی ہوگی، اور دل کی اندرونی صفائی اور پاکی بڑھے گی، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندوؤں میں عام طور سے جوگ اور عیسائیوں میں رہبانیت پیدا ہوئی، اور بڑی بڑی مشکل ریاضتوں کا وجود ہوا، اور اُن کو روحانی ترقی کا ذریعہ سمجھا گیا، کوئی عمر بھر نہانے سے پرہیز کر لیتا تھا، کوئی عمر بھر ٹاٹ یا کمبل اوڑھے رہتا تھا، کوئی ہر موسم میں یہاں تک کہ شدید جاڑوں میں بھی ننگا رہتا تھا، کوئی عمر بھر کھڑا رہتا تھا، کوئی عمر بھر کے لئے غار میں بیٹھ جاتا تھا ، کوئی ساری عمر دھوپ میں کھڑا رہتا تھا، کوئی عمر بھر کے لئے کسی چٹان پر بیٹھ جاتا تھا، کوئی عہد کر لیتا تھا، کہ پوری زندگی صرف درختوں کی پتیاں کھاکر گذارے گا، کوئی عمر بھر تجرد میں گذار دیتا تھا، اور قطع نسل کو عبادت سمجھتا تھا، کوئی ایک ہاتھ ہوا میں کھڑا رکھ کر سکھا ڈالتا تھا، کوئی جس دم یعنی سانس روکنے کو عبادت جانتا تھا، کوئی درخت میں الٹا لٹک جاتا تھا، یہ تھا اسلام سے پہلے خدا پرستی کا اعلیٰ درجہ اور روحانیت کی سب سے ترقی یافتہ شکل، پیغام محمدیؐ نے آکر انسانوں کو ان مصیبتوں سے نجات دلائی اور بتایا کہ یہ روحانیت نہیں جسمانی تماشے ہیں، ہمارے خدا کو جسم کی شکل نہیں، بلکہ دل کا رنگ مرغوب ہے، طاقت سے زیادہ تکلیف اس کی شریعت میں نہیں۔ ٭٭٭٭
(قسط دوم)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *