حصو لِ تعلیم میں مادری زبان کی اہمیت

حصو لِ تعلیم انسان کی فطری ضرورت ہے۔جس طرح انسان اپنی بنیادی ضرو رتوں کے لئے کو شاں رہتا ہے۔ اسی طرح حصو لِ تعلیم بھی اس کے دائرہ کار کا ایک اہم حصّہ ہے۔ یوں تو انسان رسمی((formalاور غیر رسمی (Informal)طریقوںسے تعلیم حا صل کرتا ہے۔جسے آپ اور ہم بخوبی جا نتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں۔یہاں زیر قلم مو ضو ع روایتی حصو لِ تعلیم پرمر کوزہے۔
تحقیقاتی رپوٹو ںکا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ ماضی اور حال کے اکثر بڑے بڑے مفکرین تعلیم اس بات سے اتفاق رکھتے ہیںکہ کسی بھی بچّے کی ابتدائی تعلیم اس کی مادری زبان ہی میں ہو نا چاہئے ،کیوںکہ بچہ اسکول جا نے سے قبل ہی اپنی مادری زبان کے مختلف موضو عات کے کچھ ذخیرہ الفاظ سے واقف ہو جاتا ہے۔یہاں اس نے باقاعدہ کو ئی قواعد یا املا نویسی وغیرہ نہیں سیکھا ،مگر اپنے گھر میں بولی جا نے والی زبان بار بار سن کر اس نے یہ سب کچھ سیکھ لیا ہے۔اور وہ اب اپنے گھر کے ما حول سے نکل کر اسکول کے ماحول میں قدم رکھنے والا ہے،جہاں اسے ابتدائی تعلیم کھیل کھیل میں ،بڑ بڑ گیت کے ذریعہ ،اشارتی زبان کا استعمال وغیرہ مو ئثر طریقوں کو اپنا کر دی جا تی ہے۔مگر یہا ںسب سے اہم بات ہوتی ہے استاد کے ذریعہ دی جانے والی چھوٹی چھوٹی ہدایتوں کو بغورسننا اور ان پر متوقع حد تک عمل کرنا ۔اب اگر ابتدائی دنوں ہی میں اس کا واسطہ کوئی ایسی زبان سے ہوجاتا ہے جسے وہ نہیں کے برابر یا بہت کم حد تک جانتا ہو توسوچئے کہ اس کا کیاردّ عمل سامنے آئے گا۔کلاس روم میں یا گرائونڈپرجب اس کے اساتذہ کے ذریعہ اسے مختلف ہدایتیں دی جائے گی تو وہ ادھر ادھر دیکھے گا،دوسرے بچّوں کی تقلید کرے گا،کیونکہ جس زبان میں وہ ہدایتیں دی جا رہی ہیں وہ زبان اس بچّہ کے لیے قدرِ نئی یا انجان ہے۔یہاں فطری طور پر بچّہ احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے دیگر ساتھی وہ سب کر پا رہے ہیں جو وہ نہیں کر سکتا۔ والدین اور سرپرست اسکول اوقات میں اسے پیش آنے والی دقّتوں سے ناواقف ہیں،اس کی بیزارگی انہیں دکھائی نہیں دے گی ۔وہ یہی کہیںگے کہ شروعات میں تو ایسا ہوتا ہی ہے۔دھیرے دھیرے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔یہاں دراصل والدین اپنی سوچ وفکر اور خواہشوں کو اپنے ننھے پر لاد رہے ہیں۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو کم از کم یہ بات ضرور ہے کہ والدین اپنی رشتہ داروں،بھائی بہن،پڑوسی اور شناسا کی برابری کرنے کے لیے،یا انھیں یہ بتانے کے لیے کہ ہم بھی اپنے بچّوں کو انگریزی اسکول میں تعلیم دلوا سکتے ہیں،یا اپنے قلب کی تسکین کے لیے اپنے بچّوں کو اردو ذریعہ تعلیم اداروں کے علاوہ دیگر اداروں خصوصی انگریزی اداروں میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جب بچہّ ایسے تعلیمی ادارے میںقدم رکھتا ہے جہاں وہی زبان اس کے کانوں پر پڑرہی ہے جو وہ اپنے گھر پر سنتا ہے،سمجھتا ہے ،بولتا ہے تو وہ بہت جلد اس ماحول کو اپنا لیتا ہے۔یہاں بیزارگی نہیں خوشی دکھائی دے گی،اکتاہٹ کی بجائے دلچسپی نظر آئے گی،اور اس کا من کریگاکہ وہ شوق سے اسکول جائے۔
ایک سروے کے مطابق اکثر وہ طلبہ جن کی ابتدائی تعلیم مادری زبان میں نہیں ہوتی وہ بہت جلدDrop Out کا شکار ہو جاتے ہیں۔تحقیق بتاتی ہے کہ مادری زبان میں تفہیم وادراک کا عمل بہت پختہ اوردیرپا ہوتا ہے۔(UNESCO,2008 a ) ۔مادری زبان در اصل طالبِ علم کی انفرادی ،سماجی،قومی اور تہذیبی سر گر میوں کی عکّاسی کرتی ہے جسے حصولِ تعلیم کے لیے بہت معاون تسلیم کیا جاتاہے ۔حصولِ تعلیم کے دوران ہی کسی بھی طالبِ علم کے مستقبل کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔اس کی قوتِ فکر و عمل یہیں سے پروان چڑھتی ہے۔یہی مادری زبان طالبِ علم کو ہر موڑ پر استقامت اور پختگی بخشتی ہے۔مادری زبان کے ذریعہ طالبِ علم میںزریّں عادات و اطوار،برتائو،سماجی ومعاشی فہم،اقدار کی بلندیاںاور عمدہ تہذیب و تمدّن کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔اور الحمداللہ ہمیں یہ فخر ہے کہ ہماری مادری زبان اردو اپنے دامن میں یہ تمام بیش بہا خزنے سموئے ہوئے ہے۔تجربات کی روشنی میں دیکھا گیا ہے کہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے دیگر SecondیاThirdزبان کی تعلیم پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتابلکہ مادری زبان کی پختگی دیگر زبانوں کے حصول میںبے حد معاون ثابت ہو سکتی ہے۔حصولِ تعلیم میں اگر ابتدائی جماعتوں میںمادری زبان پر خاص دھیان دیا جائے تویقینا ہمارا طالبِ علم Bilingualیاmultilingualبن کر سامنے آئے گا۔اردو اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والاطالبِ علم اردو کے ساتھ ساتھ اگر مراٹھی،ہندی اور انگریزی پر بھی توجّہ مرکوز کرے تو بہت اچّھے نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں۔دسویں اور باروہویں بورڈ میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ اردو ذریعہ تعلیم کا طالبِ علم ہندی ،مراٹھی کمپوزٹ یا انگریزی( 3rd language)میں بورڈ اوّل آیا ہے ۔ایک اضافی بات یہ بھی ہے کہ اردو اداروں سے فارغ طلبہ کے انگریزی اور مراٹھی کے تلفّظ قدر بہتر ہوتے ہیں۔اور یہ طلبہ اردو کے ساتھ ہندی،مراٹھی اور انگریزی زبانوں سے بھی واقف ہو جاتے ہیں۔
اکثر یہ سننے کو ملا ہے کہ اردو تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کو کہاں نوکریاں ملتی ہیں،وہ دربدر بھٹکتے ہیں،تجارت میں وہ جم نہیں پاتے وغیرہ۔یہاں یہ بات واضح کردینا ضروری ہے کہ ہم والدین دراصل اردو اداروں کے کند ذہن یا اوسط طلبہ کو دیکھ کر یہ اندازہ لگا لیتے ہیںکہ اردو اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا یہی انجام ہوتا ہے۔آج اردو اداروں سے فارغ طلبہ میڈیکل ،انجینیئرنگ، آئی۔ٹی۔کمپیوٹر سائنس ،وکالت،صحافت،الیکٹرانک میڈیا،درس و تدریس اور تجارت کے ساتھ سا تھ سرکاری یا پرائیوٹ سیکٹر میں بڑی کامیابی سے جمے ہوے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو ذریعہ تعلیم اداروں کے صدرِ مدرسین و انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے اداروں سے فارغ ان طلبہ کو آج حاضر طلبہ اور ان کے والدین کے سامنے پیش کریں جو مختلف میدانوں میں کامیابیوں کے پرچم بلند کیے ہوئے ہیںاور یہ پیش قدمی جاری ہے۔مختلف پروگراموں، پمفلٹ اور برائوچر کے ذریعہ اردو اداروں کے اسٹار طلبہ کو ہمارے مسلم معاشرہ میں متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔تاکہ والدین و سرپرستوں کے ذہنوں میں بسی غلط فہمیوں اور اشکال کو دور کیا جا سکے ۔اس عمل کے دو فائدہے ہیں ایک تو اردو اداروں کے اسٹار طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوگی اور دوسرا یہ کہ والدین و سرپرستوں کے انگریزی ذریعہ تعلیم کی طرف بڑھتے رجحان پر کچھ حد تک روک لگے گی اور سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ اردو زبان ہمارے گھروں میں ،تعلیمی اداروں میں،معاشرہ میں،تہذیبی و ثقافتی امور میں زندہ رہے گی۔
حصولِ تعلیم کے اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مادری زبان میں حصولِ تعلیم میںاساتذہ کرام بہتر طور پر درس و تدریس انجام دے سکتے ہیں ،یہاں افہام و تفہیم کا عمل پختہ ہوگا۔اساتذہ خود اعتمادی سے برا ہِ راست سرپرست سے رابطہ کر سکتے ہیں اور طالبِ علم کے تعلیمی و دیگر مسائل پر کھل کر بحث کر سکتے ہیںجبکہ غیر مادری زبان سے خود طالبِ علم خائف ہے،سرپرست بھی اور ایک حد تک اساتذہ کرام بھی۔جس طرح مادری زبان اسکول میںاساتذہ اور طالبِ علم کے لیے معاون ہے اسی طرح گھر پرسرپرست اور طالبِ علم کے لیے بھی آسانی پیدا کرنے والی ہے۔پرائمر ی تعلیم سے لیکر سیکنڈری اور سینیئر سیکنڈری درجات کے Drop Outکو دیکھتے ہوئے خود UNESCOمادری زبان کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے مختلف پالیسیاںترتیب دے رہا ہے جبکہ چین، جاپان ،جرمنی اور فلپائن جیسے دیگر ممالک اپنے طلبہ کو مادری زبان سے جوڑے رکھنے میںبہت حد تک کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔
غیر مادری زبانیں خصوصََا انگریزی زبان کی اہمیت و افادیت سے ہر گز انکار نہیں،لیکن یہ بات بھی زیرِ غور ہونی چاہیے کہ واقعی ہم اپنے طلبہ کو اپنے گھروں میںاور اپنے اطراف وہ ماحول دے سکتے ہیں جو انگریزی زبان کے حصول کے لیے ضروری ہے؟انسانی ذہن،قلب اور سوچ و فکر کو پختگی دینے کا دوسرا نام تعلیم ہے۔اس کے حصول کو لازمی بنائیے یہ ہم سب کی اوّلین ذمہّ داری ہے۔

میدان بدر ۔غلبہ اسلام کی اولین سرزمین

’’اے اللہ ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے عہد اور تیرے وعدہ کا سوال کرتا ہوں ۔ اے اللہ ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو زمین پر تیری عبادت کرنے والا نہ رہے گا ۔ ‘‘
اللہ رب العالمین کے چہیتے بندے حضرت محمد مصطفی ﷺ کی یہ عاجزانہ دعا مالک الملک کے دربار میں ان عظیم ہستیوں کے حق میں تھی جن کو دنیا اصحاب بدرؓکے نام سے جانتی ہے اور اس وقت کی گئی تھی جب مٹھی بھر صحابہؓ نے بے سروسامانی کے عالم میں اپنی جان ہتھیلی پر لے کر مشرکین مکہ کے جم غفیر سے ٹکر لینے بدر کے میدان کا رخ کیا تھا۔ان کی بے سروسامانی کا اللہ نے بھی تذکرہ کیا ہے۔ ’’اور اللہ نے جنگ بدر میں تمہاری مدد کی جب تم کمزور (اوربے سروسامان )تھے‘‘ (آل عمران۔ آیت ۱۲۳) جنگ بدر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت ملنے کے بعد یہ پہلی جنگ تھی جس کا تذکرہ قرآن مجید میں بڑی تفصیل سے سورہ آل عمران اور الانفال میں ملتا ہے۔
جنگ بدر ۲ھ میں پیش آئی اور اس سے قبل تقریباً ۱۵ سال تک اسلام اپنی شہرت و مقبولیت میں مسلسل اضافہ کے باوجود مغلوب تھا۔ مکی زندگی تو سب پر عیاں ہے کہ کس طرح ظالم مشرکین اہل ایمان کے ساتھ جو چاہے سلوک کرتے رہے حتیٰ کہ انہیں اپنے گھر بار اور مال و اسباب چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑا۔ مدینہ منورہ میں جنگ بدر سے پہلے تک کے حالات بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کو یہاں بھی چین و سکون نصیب نہیں ہوا تھا۔مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازش میں ناکام ہونے کے بعد اہل مکہ نے اسلام کو مدینہ میں بھی پنپنے سے روکنے کا فیصلہ کیا اور مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے لگے۔ ان کی چراگاہوں پر حملے کئے‘ قافلوں کے راستے روکے جانے لگے۔ اہل مدینہ جب طواف کعبہ کے لئے پہنچے تو انہیں دھمکیاں دی گئیں کہ محمد اور ان کے ماننے والوں کو پناہ دینے کا انہیں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ مدینہ کے اطراف کے قبائل کو بھڑکایا جانے لگا اور خود مدینہ کی بستی میں شورش برپا کرنے اور مسلمانوں کی دشمنی پر اکسانے کی کوششیں کی جانے لگیں ۔ مدینہ کے باہر چھاپہ مار حملے شروع کردیئے گئے تب نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے اطراف حفاظتی دستوں کی گشت کے ذریعہ اپنے سابق ابنائے وطن کو احساس دلایا کہ اگر ظلم نے مزید سراٹھایا تو اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے ایسے وقت مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دے دی جب قریش مدینہ پر کاری ضرب لگانے کے لئے جنگ کی زبردست تیاری کر رہے تھے ۔ہجرت کے دوسرے سال قریش ایک ہزار کی تعداد میں اس کروفر کے ساتھ نکلے کہ سو سوار تھے‘ تمام روسائے قریش شریک تھے‘ عتبہ بن ربیعہ فوج کا سپہ سالار اعظم تھا۔اس کے علاوہ کئی سپہ سالار تھے۔ فوج کے پاس 100 گھوڑے اور 600 زرہیں تھیں۔ 500 سپاہی پورے ہتھیاروں سے لیس یعنی تلوار‘ ڈھال ‘ زرہ بکتر اور نیزہ وغیرہ۔ اونٹ اتنی کثرت سے تھے کہ طعام کے لئے روزانہ 9تا 10 اونٹ ذبح کرتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کو یہ اطلاع ملی تو آپؐ نے دشمنوں کی تعداد کا اندازہ اسی سے لگایا کہ ایک اونٹ 100 آدمیوں کے لئے کافی ہے تو ان کی تعداد 900 سے 1000 کے درمیان ہے۔
دوسری جانب اسلامی لشکر 313افراد پر مشتمل تھا۔ان میں کم و بیش 85 مہاجرین اور باقی انصار تھے۔ پورے لشکر میں صرف دو یا تین گھوڑے‘ 70 اونٹ تھے۔ صرف 6 زرہ پوش ‘ 8 شمشیر زن اور بقیہ سپاہیوں کے پاس نیزوں اور تیر کمانوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ دونوں لشکروں کے حالات جاننا اس لئے ضروری ہے تا کہ جنگ کی کیفیت کو اچھی طرح سمجھا جاسکے کہ کس طرح ایک قلیل وہ بھی بے سروسامان گروہ کو حق تعالیٰ نے کثیر اور کیل کانٹے سے لیس فوج پر غلبہ عطا فرمایا۔
غزوہ بدر کے بے شمار پہلو ہیں جو زیر بحث آسکتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ وہ جنگ جسے قرآن ’’یوم الفرقان۔ حق و باطل میں فرق کردینے والے دن ‘‘سے تعبیر کرتا ہے‘ دور حاضرمیں کیا افادیت رکھتی ہے۔
جنگ بدر سے قبل کا جو نقشہ قرآن نے کھینچا ہے اس پر غور فرمائیں۔ مسلم فوج کے سامنے دو راستے تھے ۔ فوج سے مقابلہ کریں یا تجارتی قافلہ پر حملہ کرکے اسے لوٹ لیں۔ سورہ الانفال میں ہے ’’یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کررہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا۔‘‘ (جزو آیت :۷)
چند مسلمانوں کی رائے ہوئی کہ قافلہ چونکہ پچاس ہزار دینار کی مالیت کا ہے اس لئے اس پر حملہ کیا جائے جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ان کی مفلوک الحالی ختم ہوجائے گی اور مستقبل میں کفار و مشرکین سے جنگ کے لئے ساز و سامان بھی مہیا ہوجائے گا اس صورت میں جنگ کا خدشہ بھی نہیں تھا۔جیسا کہ مذکورہ بالا آیت ہی کا اگلا ٹکڑا ہے : ’’تم چاہتے تھے کہ بے خدشہ گروہ تمہیں ملے ۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے حکم سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے ‘‘۔ (الانفال ۔ آیت :۷)پھر اس ٹکرائو کی مصلحت بھی بتادی : ’’تاکہ حق حق ہوکر رہے اور باطل باطل ہوکر رہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘ (الانفال ۔ آیت :۸)
اللہ کا وعدہ یہ تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک مسلمانوں کے ہاتھ لگے گا یعنی تجارتی قافلہ کا رخ کریں تو اسے پالیں گے اور دولت سے مالا مال ہوجائیں گے اور فوجی لشکر کی جانب بڑھیں تو فتح نصیب ہوگی اور ہمت و حوصلہ‘ ایمان و یقین‘ جذبہ جہاد‘ ایثار و قربانی‘ ثابت قدمی و اولوالعزمی جیسی صفات عالیہ سے مالا مال ہوں گے۔ تجارتی قافلہ ہاتھ لگنے کی صورت میں بھی جنگ ہوسکتی تھی کیونکہ مکہ سے مشرکین کی فوج کی روانگی کا ایک اہم مقصد تجارتی قافلہ کو بحفاظت بچاکرنکال لے جانا بھی تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ قافلہ پر حملہ ہو تو وہ اسے لٹتا ہوا دیکھیں اور واپس چلے جائیں۔ نتیجہ میں معرکہ ہوتا لیکن نقشہ کچھ اور ہوتا۔ مسلمانوں کو اپنی جان کے ساتھ مال کی حفاظت کی بھی فکر ہوتی جو انہیں قافلہ سے ہاتھ لگتا۔ بدر کے میدان میں مسلم فوج کے حق میں جو ہموار میدان مہیا ہوا وہ نہ ملتا اور دشمن کی فوج زیادہ مضبوط پوزیشن کی حامل ہوتی۔ روحانی اعتبار سے صحابہ ؓ کی فوج کمزور پڑجانے کا اندیشہ تھا کہ مال و دولت ہاتھ لگ جانے کے بعد دنیا کی محبت ‘اللہ اور اس کے رسول کی محبت پر غالب آسکتی تھی۔ ایک اور صورت یہ بھی ممکن تھی کہ اللہ اپنے وعدہ کے مطابق قافلہ پر غلبہ دے اور دشمن پر رعب ڈال کر اسے واپس ہونے پر مجبور کردے اور جنگ کی نوبت نہ آئے اور زیادہ قرین قیاس یہی تھا کیونکہ اللہ نے ایک ’’گروہ‘‘ پر غلبہ عطا کرنے کا وعدہ کرلیا تھاتب مال و دولت کے ساتھ مدینہ لوٹنے والے صحابہؓ کا وہ جذبہ ایمانی نہ ہوتا جو بدر کے میدان سے لوٹنے والے صحابہ کرامؓ کا بن گیا تھا۔ وہ تائید غیبی کے ان نظاروں سے محروم رہتے جس کا مشاہدہ بدر کے میدان میں انہیں کرایا گیا اور خطرات و مشکلات میں انہیں مال و دولت سے زیادہ ضرورت اسی تائید غیبی پر یقین کے حصول کی تھی۔
چنانچہ وعدہ تو دو گروہوں میں سے ایک عطا کرنے کا ہوا لیکن درحقیقت اللہ چاہتا تھا کہ فوج سے مڈبھیڑ کرادے۔ اس میں بے شمار فوائد مضمر تھے۔ ایمان کی پختگی کا سامان ‘ رسول اللہ ﷺ پر جاں نچھاور کرنے کے جذبہ کا استحکام ‘ دین کے لئے مرمٹنے کے عزم میں مضبوطی‘ مستقبل میں حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ ‘ فتح کی صورت میں مسلمانوں کی قوت اور حوصلوں میں اضافہ اور کفار و مشرکین پر دھاک‘ مدینہ کی نئی نئی مسلم بستی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں کرنے والوں کو تنبیہ ‘ مسلمانوں کو ترنوالہ سمجھنے کی ذہنیت پر ضرب‘ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے خواہشمند لیکن پریشان کن حالات سے رکے ہوئے افراد کو قبولیت اسلام میں جرأت کی فراہمی ‘خطرات و مشکلات میں قدموں میں لغزش اور دلوں میں ہول و ہیبت کے بجائے مضبوطی و ثابت قدمی کا مظاہرہ۔ ان کے علاوہ نہ معلوم اور کیا کیا فوائد تھے جس کی بناء پر اللہ رب العزت نے فرمایا :
’’ یاد کرو وہ وقت جب کہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دوسری جانب پڑائو ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے( ساحل) کی طرف تھا۔ اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرار داد ہوچکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کرجاتے ‘ لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لئے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کرچکا تھا اسے ظہور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے ۔ یقینا خدا سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘ (الانفال۔ آیت :۴۲)
یہاں اللہ کے فیصلہ سے مراد ’فتح‘ ہے جسے اللہ ظہور میں لانا چاہتا تھا اور اس کا مقصد ’’دلیل روشن‘‘ کو واضح کرنا یعنی حق و باطل میں ایسا واضح امتیاز قائم ہوجائے کہ ہر صاحبِ عقل سمجھ سکے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔دلیل روشن ہونے کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بدر محض چند قبائل کی لڑائی نہیں بلکہ حق و باطل کا معرکہ تھا۔ یہ نظریہ کی جنگ تھی ۔جوصفیں آمنے سامنے مقابل تھیں وہ محض قریشیوں اور مہاجر و انصار کی نہیں بلکہ کفر اور اسلام کی تھیں۔
بدر کے میدان میں نصرت الٰہی کے کئی مشاہدات ہوئے۔ بارش سے زمین مسلم فوج کے حق میں ہموار ہوگئی ‘ پانی جسم پر پڑنے سے ان کے جسموں کی تکان دور ہوگئی ‘ فرحت و شادابی نے ان کے دلوں کو اطمینان بخشا‘ موسم کی خوشگواری کے ذریعہ اللہ نے ان پر غنودگی طاری کردی جس سے دشمن کی کثرت تعداد کی ہیبت جاتی رہی اور بے خوفی پیدا ہوگئی۔ اور پھر وہ رات بھر اطمینان سے سوتے رہے جس سے تازہ دم ہوگئے۔ آسمان سے فرشتے مدد کے لئے نازل ہوئے ۔
یہ ساری باتیں اس بات کی غماز ہیں کہ زمین و آسمان کی تمام قوتیں مسلمانوں کی مدد کے لئے کمر بستہ ہیں کیونکہ انہیں زمین و آسمان کے رب کی نصرت و حمایت حاصل ہے۔ بدر کے میدان میں غیبی مدد کا یہ حال تھا کہ فرشتوں نے بنفس نفیس جنگ میں حصہ لیا اور دشمنانِ اسلام کی گردنیں سروں سے اتاریں۔ اس کا مشاہدہ کفر کے سرخیلوں نے بھی کیا اور صحابہؓ نے بھی۔
غیبی مدد کا ایک مشاہدہ رسول اللہ ﷺ کے معجزہ کی شکل میں ظاہر ہوا۔ شیخ صفی الرحمن مبارکپوری لکھتے ہیں : ’’لڑتے لڑتے حضرت عکاشہؓ کی تلوار ٹوٹ گئی۔ وہ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے انہیں لکڑی کا ایک ٹکڑا یا درخت کی ایک شاخ تھمادی اور فرمایا عکاشہ! اسی سے لڑائی کرو۔ عکاشہؓ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے لے کر ہلایا تو وہ ایک لمبی ‘ مضبوط اور چم چم کرتی سفید تلوار میں تبدیل ہوگئی۔ انھوں نے اسی سے لڑائی کی۔ اس تلوار کا نام عون یعنی مدد رکھا گیا تھا ۔ دور صدیقی میں مرتدین کے خلاف جنگ میں شہادت تک عکاشہؓ اسی سے لڑتے تھے۔ (الرحیق المختوم)
بدر میں گھمسان کا رن پڑا‘ 70مشرک ہلاک ہوئے جن میں بڑے بڑے سردار شامل تھے۔ 70گرفتار ہوئے۔کثیر مال غنیمت مسلم فوج کے ہاتھ لگا۔ مسلمانوں کی جانب صرف 14صحابہؓ شہید ہوئے۔
جنگ بدر کے نتائج : آخر میں جنگ کے نتائج پر ایک نظر ڈالتے ہوئے موجودہ حالات میں اس سے ملنے والی رہنمائی پر غور کریں گے۔
l اہل بدر کو بخشش کا مژدہ سنایا گیا۔
l جنگ میں کثرت و قلت کا فلسفہ ڈھیر ہوگیا۔
l یہ واضح ہوا کہ مسلمانوں کی فتح کا تعلق مال و اسباب سے نہیں اللہ کی نصرت و حمایت سے ہے ۔
l جنگ بدر کے بعد سارے عرب پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی۔
l ناموافق حالات میں ایک خوفناک جنگ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حالات کو مسلمانوں کے حق میں موافق بنادیا۔ جیسے مدینہ منورہ میں عبداللہ بن ابی بن سلول جو اعلانیہ دشمنی کرتا تھا اب بظاہر اسلام کے دائرہ میں آگیا گو تمام عمر منافق رہا جس سے خود رسول اللہ ﷺ بھی واقف تھے لیکن اب کھل کر مخالفت کی ہمت نہیں رہی ۔
l ادھر مکہ کے ہر گھر میں زلزلہ آگیا۔ انتقام کی آگ اور بھی بھڑکی لیکن رہ رہ کر شکست کا زخم ستانے لگا اور مشرکین کو اچھی طرح یہ احساس ہوگیا کہ مسلمان تر نوالہ نہیں ۔
l مشرکین کی شکست سے یہ ظاہر ہوگیا کہ مکہ سے جاری مخالفت اور مسلسل دشمنی اور عسکری غلبہ کے باوجود بڑے بڑے سرداروں کے سرکٹ جانا باطل کے کمزور ہونے کی علامت ہے۔
l یہ بھی ثابت ہوگیا کہ محمدﷺ کسی دنیاوی و سیاسی مقصد کے تحت یہ ساری جدوجہد نہیں کررہے تھے جیسا کہ مشرکین کا الزام تھا بلکہ آپ صلعم اس آفاقی دین کو غالب کرنے کی جدوجہد کررہے تھے جو زمین و آسمانوں کے رب کی جانب سے بھیجا گیا تھا۔
l مدینہ اور اس کے اطراف کے یہودیوں کے حوصلے پست ہوگئے جو قریش کے ساتھ مل کر ریشہ دوانیاں کرتے رہتے تھے لیکن بدبخت قوم نصیحت حاصل کرنے اور اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے اللہ کے رسولؐ اور آپؐ پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق کے بجائے حسد کی آگ میں اور بھی جھلسنے لگی ۔
l قبائل عرب فوری طور پر دامن اسلام میں پناہ لینے تیار نہیں ہوئے لیکن سہم ضرور گئے ۔
l مال غنیمت حلال کردیا گیا اور اس کی تقسیم کے احکام نازل ہوئے جو مسلمانوں کے لئے بہت بڑی نعمت تھی۔
l مسلم فوج روانہ ہوئی تو کسمپرسی کی حالت تھی مدینہ لوٹی تو کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے ہاتھ میں گھوڑے کی لگام ‘ اونٹ کی نکیل ‘تلوار و نیزہ اور دیگر ساز و سامان بطور غنیمت کے نہ رہے ہوں۔ قیدیوں کی شکل میں ایک متحرک یا منقولہ اثاثہ ہاتھ لگا جس کے بدل مکہ سے تاوان وصول کیا جانے والا تھا۔
l اہل مکہ کے لئے بڑے بڑے سرداروں کی ہلاکت‘ سپاہیوں کے زخم ہی کیا کم تھے کہ قیدیوں کی رہائی کے لئے تاوان ادا کرنا بدترین ذلت سے کم نہیں تھا۔ یہ شکست ان کے لئے ایسی ذلت بن گئی کہ مکہ میں اپنے عزیزوں کی موت پر نوحہ کرنے پر پابندی لگادی گئی اور اعلان کردیا گیا کہ کوئی شخص ماتم نہ کرے کہ اس سے مسلمانوں کو خوشی ہوگی۔
موجودہ دور میں غزوہ بدر کی افادیت :
l مسلمانوں کے سامنے دو قافلے تھے اور مسلمان تجارتی قافلہ کی طرف مائل نظر آتے تھے لیکن اللہ نے فوجی لشکر حوالہ کیا۔ مال میں بظاہر مسلمانوں کا بھلا تھا لیکن اللہ نے غلبہ اسلام کو پسند فرمایا جس میں مسلمانوں کا فائدہ ازخود مضمر ہے۔ اس سے یہ مشیت الٰہی معلوم ہوئی کہ مسلمانوں کے فائدہ پر اسلام کے فائدہ کو ترجیح دینا چاہئے ۔
l دور حاضر میں مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو ختم کرنے جنگ کو انسانیت ‘ انسانی حقوق اور امن و ہم آہنگی کے خلاف قرار دیا جاتا ہے حالانکہ یہ دعویٰ کرنے والے ممالک خود ہی دنیا بھر میں جنگ کے سامان بیچتے اور اس تجارت کے لئے ملکوں کو باہم لڑاتے ہیں۔ بہرحال جنگ بدر میں اللہ کی مشیت ‘ رسول ؐ کی شرکت اور فتح و نصرت اس بات کے غماز ہیں کہ فتنہ و فساد کو ختم کرنے مسلمانوں کا دشمن سے مقابلہ کرنا اور اسلام کو غالب کرنے جنگ کرنا کسی بھی اعتبار سے خلاف انسانیت نہیں ہوسکتابالخصوص جبکہ شریعت نے جنگ کے اصول و شرائط اور حدود بھی متعین کردیئے ہیں۔
l مسلمانوں کو کبھی بھی کم تعداد میں ہونے کے احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان کے ساتھ ملکوتی طاقتیں ہوتی ہیں۔ اگر ایک ہزار فرشتوں کو ۳۱۳ مجاہدین کے ساتھ شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد دشمنوں سے بڑھ جائے گی۔ اس طرح مسلمانوں کو جو غیبی مدد حاصل ہے اس سے غیرمسلم محروم ہیں۔
l جو لوگ گھروں سے نکال دیئے گئے وہ بزدل ہوکر بیٹھے نہیں رہ گئے بلکہ مقام ہجرت پر اپنے دین پر مضبوطی سے قائم بلکہ اس کے فروغ کے لئے سرگرم رہے اور جب مقابلہ کا وقت آیا تو غلام نے آقاپر تلوار اٹھائی اور اسلام کے رشتہ نے تمام رشتوں کی طناب کاٹ کر رکھ دی۔
l جنگ بدر اسباب کے ذریعہ نہیں جیتی گئی لہٰذا مسلمان کبھی مال و اسباب پر نظر نہ رکھیں بلکہ مسبب الاسباب پر نگاہ رکھیں۔
l رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے دنیا میں بھی سرفرازی ملتی ہے اور آخرت کی نجات بھی اسی میں مضمر ہے۔
l دشمن سے مقابلہ کے لئے رسول اللہ ﷺ نے جنگی تدبیر اختیار کی اور اللہ سے دعابھی کی لیکن مسلمان آج صرف دعائوں کے بھروسے پر اسلام کے غالب آنے کی امید کرتے ہیں۔
l اسلام ایک کامل دین ہے جو نہ صرف عبادات کے طور طریق بلکہ روز مرہ کی زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے اور جنگ کی تدابیر اور آداب بھی بتاتا ہے۔
l جہاد معیوب نہیںبلکہ محبوب ہے ۔یہ خالص قرآنی اصطلاح ہے جسے اس قدر بدنام کردیا گیا کہ لوگ جہاد کا لفظ زبان سے اداکرنے میں عار و تنگ ذہنی تصور کرتے ہیں حالانکہ قرآن مجید کی بے شمار آیات میں یہ لفظ آیاہے جس کی صرف تلاوت سے بھی 40نیکیاں ملتی ہیں۔
l اسلام اخلاقی تعلیمات سے پھلا پھولا لیکن جہاد کے ذریعہ غالب آیا۔
l آخری لیکن سب سے اہم بات یہ کہ موجودہ دور میں مسلمانوں نے طعام و قیام کی سہولتیں میسر ہوجانے کو خدا کا انعام سمجھتے ہوئے دین کے تقاضوں کو بھلادیا ہے حالانکہ دین کے تقاضوں کی تکمیل ہی مسلمان کی زندگی کا مقصد اولین ہونا چاہئے جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا ؎
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی
٭٭٭
(قسط ہفتم)

بلاتبصرہ

انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس ،دہلی کی ۷؍مئی ۲۰۱۵ئ؁ کی اشاعت میں ایک نہایت دلخراش اور فکر انگیز حادثہ کی اطلاع صفحہ اوّل پر شائع ہوئی ہے۔ اس نوعیت کی خبریں بحیثیت مجموعی پورے ہندوستانی معاشرہ سے آتی رہتی ہیں۔ کچھ دن ہنگامہ ہوتا ہے پھر سب خاموش بیٹھ جاتے ہیں کسی اگلے ایسے ہی دلخراش حادثہ کے انتظار میں۔
مظفر نگر کے پھگانہ قصبہ کے قریب کے گاؤں کے ایک مسلم سبزی فروش کی ۱۷؍سالہ بچی نے مئی ۲۰۱۵ئ؁ کے پہلے ہفتہ میں اپنی منگنی کے اگلے روز ایک غیر مسلم دلت لڑکے کے ساتھ مل کر ایک ہی دوپٹہ سے نیم کے پیڑ کے شاخ پر لٹک کر خودکشی کر لی۔ مسلم لڑکی کی مانگ میں سیندور تھا ۔ منگل سوتر پہنا ہوا تھا۔ نقلی جیولری پاس ہی پڑی ہوئی تھی۔ لڑکی کے ماں باپ کہتے ہیں کہ ہمیں تعلقات کے بارے میں جانکاری نہیں تھی ۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ جھوٹ بول رہے ہیں ۔ گاؤں کے لوگوں کو معلوم ہے کہ سالوں سے چکر چل رہا تھا۔ لڑکے کا دوست کہتا ہے کہ ہاں لڑکی ہی پہل کرتی تھی اور کن انکھیوں سے اشارہ بازری میں پہل کرتی تھی۔
آئے دن ہم اخباروں میں ’’غیرت کے نام پر قتل‘‘ کی بہیمانہ وارداتیں پڑھتے رہتے ہیں۔ جس طرح کے معاشرہ اور تہذیب میں ہم رہ رہے ہیں وہ پوری امت مسلمہ کے لئے ایک زبردست چیلنج ہے۔ ایک طرف بے قید آزادی کا نعرہ ہے ۔ اسکول، کالج، گھر، بس، ہر جگہ مسلسل مرد و زن کا فری میل جول ہے۔ مسلم سماج میں ’’تعلیم نسواں ‘‘اور ’’مساوات مردوزن ‘‘کے نئے نئے جھنڈا برادران دن رات مصروف کار ہیں۔ خواتین اور نئی نسل میں دینی تعلیمات کا کوئی نظم نہیں ہے اور یہی گروپ سب سے زیادہ مغربی تہذیب کے نشانہ پر بھی ہے اور ’’بہو لاؤ بیٹی بچاؤ‘‘ گروپ کے نشانہ پر بھی ہے۔ ورنہ ملت میں دین کی محنت بھی بہت ہو رہی ہے ۔ مدارس بھی بہت کھل رہے ہیں مگر خواتین کی بنیادی تعلیم کا نظم صفر کے برابر ہے۔ ہاں ‘Z’سیریل خوب دیکھے جا رہے ہیں۔ جب مسلم معاشرہ ہی اپنی بچیوں اور بچوں کے انجام کے اعتبار سے اتنا لاپرواہ ہو رہا ہے کہ اس خبر ہی نہیں کہ اس کے نونہال یا تو زنا میں مبتلا ہو رہے ہیں یا ارتداد میں یا دونوں میں تو اللہ کی مدد کیونکر آئیگی؟ اپنی لاڈلی نئی نسل کو جہنم کی طرف جانے سے روکنے کا کوئی نظم ہے؟؟؟
چین: سنکیانگ میں مسلمانوں کے روزہ رکھنے پر سرکاری پابندی عائد
بیجنگ (ایجنسیاں): چین نے مسلم اقلیتی طبقہ کی اکثریتی آبادی والے مغربی صوبہ سنکیانگ میں ماہ رمضان کے دوران سرکاری ملازمین، طلبہ وطالبات اور اساتذہ کے روزہ رکھنے پر پابندی لگادی ہے اور شہروں میں تمام ریستوراں اور ہوٹلوں کو کھلارکھنے کا حکم دیا گیاہے۔ رمضان کے پورے مہینے کے دوران دنیا بھرکے مسلمان روزہ رکھتے ہیں، جس کا آغاز ہوچکاہے۔ بیجنگ سے موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سنکیانگ کے دارالحکومت’ جِنگ ہے‘میں خوراک اور ادویات کے ریاستی محکمے کی ویب سائٹ پر تو یہ اعلان گزشتہ ہفتے ہی کردیاگیا تھا کہ رمضان کے مہینے کے دوران ریستوران معمول کے اوقات کار کے دوران ہمیشہ کی طرح کھلے رکھے جائیں گے۔ صوبہ سنکیانگ میں ‘بولے’نامی کائونٹی کی مقامی حکومت کی ویب سائٹ پر گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے آج کہاگیا کہ رمضان کے دوران سرکاری اہلکاروں کو روزہ رکھنے ،راتوں کو جاگنے یاایسی ہی دوسری مذہبی سرگرمیوں سے اجتناب کرناچاہئے۔
(روزنامہ خبریں 25جون2015ئ)
پاکستان: روہنگیامسلمانوں کے لئے50لاکھ ڈالر کی امداد کا فیصلہ
اسلام آباد(ایجنسیاں): پاکستان روہنگیا مسلمانوں کو خوراک اور دیگر امدادی سامان کی فراہمی کے لئے ’’اوآئی سی‘‘ کے خصوصی فنڈ کی تشکیل کی تجویز بھی پیش کرے گا۔ پاکستان نے انڈونیشیا، ملیشیااور تھائی لینڈ میں روہنگیامسلمانوں کے کیمپوں میں امداد کی تقسیم کے لئے 50لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر قومی اسمبلی نے بدھ کو روہنگیامسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ’مظالم‘کے خلاف ایک قرارداد بھی منظور کی ہے۔ یہ امداد عالمی ادارہ برائے خوراک ’’ورلڈ فوڈپروگرام‘‘کے ذریعے خوراک کی شکل میں فراہم کی جائے گی۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمدنواز شریف نے روہنگیامسلمانوں کے معاملے پر وزارتی کمیٹی کی تمام تجاویز کی منظوری دے دی ہے۔ کمیٹی کی تجاویز کے تحت وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو ایک خط لکھتے ہوئے انہیں اس انسانی بحران سے آگاہ کیا اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق روہنگیامسلمانوں کو شہری حقوق کی فراہمی کے لئے میانمار کی حکومت پر سفارتی اوراخلاقی دبائو میں اضافہ کرنے پرزوردیا ۔ بیان کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے امورخارجہ سرتاج عزیز بھی اسلامی ممالک کی تنظیم ’’او آئی سی‘‘ کے سیکریٹری جنرل کو ایک خط کے ذریعہ اس معاملے کے حل کے لئے کوششیں کرنے پر زور دیںگے۔
(روزنامہ خبریں 11؍جون 2015ئ)
بزدل صہیونی فوجیوں نے حماس رہنما عزالدین کو مسجد سے
باہر نکلتے وقت گولیوں سے بھون ڈالا
جنین(ایجنسیاں) قابض صہیونی فوجیوں نے بدھ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں نماز فجر کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر نکلتے ہوئے اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے رہنما کو گولیاں ماردیں جس کے نتیجے میںوہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ درندہ صفت اسرائیلی فوجیوں نے جنین کے شمال میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں تلاشی کے بہانے چھاپہ مار ااور گھرگھر تلاشی کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران مشتعل شہری اسرائیل کے خلاف نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے ۔ اسرائیلی فوجیوں نے انہیں منتشرکرنے کے لئے لاٹھی چارج کیااور ان پر اشک آورگیس پھینکی۔ اسی دوران مہاجر کیمپ کی ایک مسجد سے حماس رہنما23سالہ عزالدین ولیدبن عزہ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد باہر آرہے تھے کہ اسرائیلی فوجیوں نے ان پر گولیوںکی بوچھار کردی۔کئی گولیاں شہید کے سینے سے پارہوگئیں، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جام شہادت نوش کرگئے۔ مقامی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو بتایا کہ عز الدین بنی غزہ کی شہادت کے بعد جنین سمیت کئی دوسرے علاقوں میں اسرائیلی فوج کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ولید بنی غزہ شہادت کے بعد صرف دس منٹ تک موت وحیات کی کشمکش میں رہے تاہم اسپتال پہنچائے جانے سے قبل ہی جام شہادت نوش کرگئے۔ عزالدین بنی غزہ اسرائیلی فوج کو مطلوب نہیں تھے اور نہ ہی ان پر کسی قسم کی مزاحمتی کارروائی کا الزام عاید کیاتھا۔ بزدل صہیونی فوجیوں نے بنی غزہ کواس وقت گولیاں ماریں جب وہ نہتے تھے اور مسجد میں نماز فجر کی ادائی کے بعد باہر آرہے تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہید نے دوروز قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بک ‘‘ کے صفحے پر شہادت کی موت پانے کی آرزو کا اظہار کیاتھا۔ ادھر اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘نے بزدل صہیونی فوج کے حملے میں ایک نہتے کارکن کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شہادت کو اسرائیلی فوج کی وحشیانہ اور منظم ریاستی دہشت گردی کا نتیجہ قراردیاہے۔ (روزنامہ خبریں 11؍جون 2015ئ)

کیا ہندوستانی مسلمانوں کو مسلکی خانہ جنگی میں دھکیلنے کی سازش کی جارہی ہے؟

کیا وطن عزیز میں مسلکی خانہ جنگی کی بساط بچھائی جارہی ہے؟ کیا مسلکی اختلافات کی آگ میں خفیہ ہاتھ گھی ڈال رہے ہیں یا پھر ہم خود اپنی تباہی کا سامان جمع کرنے میں مصروف ہیں ؟ گزشتہ کچھ عرصہ سے آنے والی خبروں کی ہولناکیوں نے سانسیں روک دی ہیں اور اگر اس مہیب خطرے کا فوری تدارک نہیں کیا گیا توپاکستان جیسے مناظر خدانخواستہ یہاں بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ اسلام اور ملک کی آڑمیں نفرتوں کی آگ سلگائی جارہی ہے۔ پیروکاروں کے دماغ میں نفرت کے ٹیومرپیداکردیئے گئے ہیں وہ شخص جو خود کو مسلمان کہتاہے اس کے خلاف کفر کا فتویٰ دینے والے کئی ہیں۔ اگر اخراج کا سلسلہ یوں ہی بڑھتارہاتو ’کافروں‘کی بہتات ہوجائے گی اور مسلمان چراغ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے ۔ مسلمان ایک دوسرے مسلمان کے خون سے وضو کرتے نظرآئیں گے۔ مسجدوں پر تنازع،مارپیٹ فائرنگ اور دست وگریباں ہونے کی خبریں عام ہوگئی ہیں۔ کہیں امامت کے مسئلے پر کشت وخون کی نوبت آجاتی ہے تو فرزندان توحید مسجد پر تالا گوارا کرلیتے ہیں ، نماز نہ ہونا برداشت کرلیتے ہیںمگردوسرے مسلک کا امام برداشت نہیں کرتے ۔ اب مسجدوں کے تنازعات تھانوں تک پہنچ رہے ہیں۔ انتظامیہ کے ساتھ عام مسلمان بھی حیران وپریشان ہے کہ وہ کہاں جائے۔ تمام مکاتب فکر کے علماء کو سنجیدگی کے ساتھ مشترکہ لائحۂ عمل بنانے کی ضرورت محسوس کرنی ہوگی تاکہ منتشر ملت کے عناصر ترکیبی کو بچاکر رکھاجائے۔ خداکاشکر ہے کہ ہمارے علمائے کرام اس سلسلے میں فکر مند ہیں اور وہ اپنی کوششوں میں لگے ہیں، بس ان کوششوں کو اجتماعی رنگ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ مسلکی فرقہ واریت کی آندھیوں کو تھماجاسکے۔
کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی
(بشکریہ ،روزنامہ خبریں)

چٹان

یہودی کے گھر سے دعوت کھا کر ابو شحمہ جانے کے لیے اٹھے تو ان کے پیر لڑکھڑا رہے تھے۔ شاید یہودی نے پانی کے دھوکہ میں انہیں شراب پلا دی تھی۔ وہ اسی طرح لڑکھڑاتے ہوئے بنی النجار کے باغ سے باہر نکل آئے۔ شراب کے نشے اور باغ کی مہکتی فضا نے سرور کی ایک کیفیت ان کے ذہن پر طاری کر دی تھی۔ اسی لیے تو سامنے سے آتی ہوئی خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر وہ اپنے جذبات پر کنٹرول نہ کر سکے۔ جذبات کی رو میں وہ بہتے ہی چلے گئے۔اور پھر غفلت اور فراموشی کا ایک لمحہ۔ صرف ایک لمحہ جس نے امیر المومنین کے بیٹے ابو شحمہ کو ندامت کے نہ جانے کتنے داغ دے دئیے۔
ابو شحمہ کو ہوش آیا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ وہ بس فضاؤں کو گھورتے رہ گئے تھے۔
انہیں لگا کہ وہ کیچڑ کی ایک ایسی دلدل میں ڈوب گئے ہیں جس سے اب کبھی باہر نہ نکل پائیں گے۔ شرمندگی اور دہشت کی زردیاں ان کے چہرے پر امنڈآئیں اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
امیر المومنین عمرؓ فاروق دربار خلافت میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے مقدمات سن رہے تھے۔جلال اور دبدبے کا نور ان کی پیشانی پر جھلک رہا تھا۔ دنیا کے گوشے گوشے میں اسلام کا جھنڈا لہرانے والا عظیم الشان فاتح ایک بوریا نشین فقیر کی طرح سادے کپڑوں میں ملبوس خندہ پیشانی سے ہر ایک کا درد سن رہا تھا۔
تب ہی ایک خوبصورت سی، ایک پریشان سی لڑکی آتی دکھائی دی۔ شرم سے جھکی آنکھوں میںتیرتی افسردگی بھی امیر الومنین کی نگاہ سے چھپ نہ سکی۔ لڑکی کی گود میں ایک خوبصورت سابچہ ہمک رہا تھا۔
’’تم کو ن ہو بیٹی؟‘‘ امیر المومنین نے سلام کا جواب دے کر پوچھا۔ ’’یہاں کیسے آئیں؟‘‘
’’امیر المومنین ۔۔۔‘‘کہتے کہتے لڑکی رک گئی۔ الفاظ حلق میں اٹک گئے۔
آخر وہ کیسے کہے اپنی بپتا۔ کہاں سے لائے اتنی ہمت جو ساری کہانی سنا سکے۔ لیکن اسے کہنا تو تھا ہی۔ گناہ کا بھاری بوجھ اس کے سارے وجود کو پیسے ڈال رہا تھا۔
اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چھلک آئیں۔ دوسری طرف امیر المومنین اس کو ہمت دلارہے تھے۔
ہاں ہاں ۔کہو بیٹی ،ڈرو نہیں، مجھ سے ڈرو نہیں، مجھ سے گھبراؤ نہیں۔‘‘
لڑکی پورے وجود کے ساتھ لرزتی رہی اور دھیرے سے بولی۔یہ بچہ دیکھ رہے ہیں نا آپ؟
’’ہاں کیسا ہے یہ بچہ ‘‘امیر المومنین نے ذرا حیرت سے پوچھا۔ یہ آپ کا پوتا ہے امیر المومنین۔‘‘
’’کیا؟‘‘ امیر المومنین ایک دم چونک گئے ۔کیسی عجیب سی بات بتا رہی تھی یہ لڑکی۔
یہ بچہ میرے کون سے بیٹے کا ہے بیٹی۔۔۔۔
’’یہ ابو شحمہ کا ہے۔ اف وہ دن جب میں کہیں جا رہی تھی اور بنی النجار کے باغ سے ابو شحمہ لڑکھڑاتے ہوئے نکلے۔۔۔۔۔اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر ۔۔۔۔۔۔‘‘
لڑکی زور زور سے سسکنے لگی اور پھر کہتی ہی چلی گئی۔
’’میں سوچ رہی تھی امیر المومنین کہ گلا گھونٹ کر مر جاؤں یا کسی پہاڑ کی چوٹی سے کود کر جان دے دوں لیکن میں نے اس معصوم بچے کی زندگی کے لیے زندہ رہنے کا فیصلہ کیا۔‘‘
’’اب بتایئے فاروق اعظم ۔ میں کیا کروں۔۔۔۔بتائیے نا امیر المومنین؟‘‘
امیر المومنین عمرؓ فاروق لرز کر رہ گئے۔ ابو شحمہ کا چہرہ ان کی نگاہوں میںگھوم گیا۔ ان کا سب سے پیارا بیٹا تھا ابو شحمہ انہیں کتناپیار تھا اس سے۔
لیکن آج انہیں شاید اپنے ہاتھ سے اپنے پیار کی قبر کھودنی ہو گی۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل دیئے۔
دسترخوان سجا ہواتھا اور گھر کے اندر بیٹھے ابو شحمہ کھاناکھا رہے تھے۔ سامنے بیٹھی ہوئی ان کی ماں پیار سے انہیں دیکھ رہی تھیں۔ انہیںکھانا کھلا رہی تھیں تب ہی ایک دستک کی آواز آئی۔ دروازے پر کھڑے عمرؓ فاروق ابو شحمہ کو پوچھ رہے تھے۔
ہاں ہے تو ابو شحمہ۔۔۔ اچانک ایسی کیا ضرورت پیش آگئی آپ کو۔ وہ اس وقت کھانا کھا رہا ہے۔‘‘
امیر المومنین کی اہلیہ مسکرا رہی تھیں۔ آنے والے ہر طوفان سے بے خبر۔
’’کھانا۔۔۔‘‘ایک زخمی مسکراہٹ عمرؓ فاروق کے چہرے پر بکھر گئی۔’’ اچھا کھا لو شاید یہ تمہارا آخری کھاناہو۔‘‘
ابو شحمہ ایک دم سناٹے میں آگئے۔ ہاتھ کا نوالہ زمین پر گر پڑا۔ ان کاسارا جسم لرزنے لگا۔ انہوں نے بہت کوشش کی کہ وہ اپنے ابو کے استقبال میں کھڑے ہو جائیں۔ لیکن وہ اٹھ ہی نہ پائے۔ انہیں ایسالگاجیسے ان کے کاندھوں پر لداشرمندگی کا بوجھ انہیںزمین دوز کر دے گا اور اب وہ کبھی بھی اپنے پیروں پر کھڑے نہیںہو پائیں گے۔
’’جانتے ہو میں تمہارا کون ہوں ابو شحمہ؟‘‘ امیر المومنین پوچھ رہے تھے۔
’’آپ میرے ابو ہیں اور امیر المومنین ہیں۔‘‘ابو شحمہ ابھی تک سر جھکائے ہوئے تھے۔
’’تب کیا تم سچ مچ بتاؤگے کہ اس روز جب تم بنی النجار کے باغ سے نکلے تھے تو تم سے کیا گناہ سرزد ہواتھا؟‘‘
آنسوؤں کا بند ایک دم ہی ٹوٹ گیا اور ابو شحمہ زاروقطار رونے لگے۔
’’ہاں ابو! میں اس روز اس لڑکی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ میرے اچھے ابو میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتاہوں مجھے آپ یہیں قتل کر دیجئے۔ مگر خدا کے لیے مجھے لوگوں کے سامنے رسوا مت کیجئے گا۔‘‘
ڈبڈبائی آنکھوں سے آنسو برساتے ہوئے ابو شحمہ نے جب اپنے ابو کی طرف نظر اٹھائی تو وہ کانپ کر رہ گئے۔
یہ ان کے ابو کی آنکھیں تو نہ تھیں۔ ان آنکھوں میں آج پہلی بار محبتوں اور شفقتوں کی جگہ ایک عجیب ساجذبہ جھلک رہاتھا۔ وہ آنکھیں جیسے ان سے بالکل لاتعلق ہوگئی تھیں۔
’’ابو شحمہ‘‘ ایک گونجیلی آواز میں عمرؓ فاروق انہیں مخاطب کر رہے تھے۔’’تمہیں سرعام ۱۰۰کوڑے مارے جائیں گے۔ یہ وہ سزاہے جو قرآن نے تجویز کی ہے اور اس میں تبدیلی کا کوئی حق تمہارے باپ کو نہیں ہے۔ کیاتمہیں معلوم نہیں؟‘‘
عمرؓ فاروق نے تیزی سے جھک کر ابو شحمہ کاگٹہ پکڑا اور کھینچتے ہوئے باہر لے آئے جہاں لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ اکٹھا تھی۔
وہ اس وقت ابو شحمہ کے باپ نہیں صرف امیر المومنین تھے۔جسے ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنے پیارے بیٹے کی جان اور رسوائی کی قیمت پربھی خدا کے حکم کے آگے سر جھکانا تھا۔
نہ جانے کتنی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔ ابوشحمہ کتنے مقبول تھے مسلمانوں میں۔پھول کی طرح تروتازہ اور شاداب چہرہ۔ شاندار اور صحت مند ،خوش اخلاق اورملنسار۔۔۔۔۔ہر دلعزیز۔۔۔۔ابو شحمہ آج کس حال میں تھے۔
لیکن حضرت عمرؓ فاروق کاچہرہ ہر احساس سے بے نیاز تھا۔ جیسے پتھر کی چٹان سے ترشا ہوا چہرہ ہو۔ نرمی اور شفقت کی کوئی بھی رمق اس چہرے پر نہ تھی۔
بوڑھیوں کی معمولی التجاؤں پر بھی بھر آنے والی آنکھیں کتنی کٹھور اور اجنبی لگ رہی تھیں۔ لوگ حیرت سے عمرؓ کو دیکھ رہے تھے۔
’’افلح‘‘ عمرؓ فاروق نے سرد اور بے رحم لہجے میں اپنے غلام کو حکم دیا’’میرے بیٹے ابوشحمہ نے میرے سامنے بدکاری کااعتراف کیا ہے۔ تم اسے سو۱۰۰ کوڑے لگاؤ‘‘
’’نہیںامیر المومنین!‘‘افلح اپنی دونوں آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر چیخ پڑے۔’’ ابو شحمہ کے پھول سے بدن پر میرے ہاتھ کوڑے نہیں برسا سکیں گے۔فاروق اعظم۔‘‘
’’افلح۔۔‘‘تیز لہجے میں افلح کو مخاطب کرتے ہوئے امیر المومنین آگے بڑھ آئے تھے۔ میں عمرؓ فاروق بحیثیت امیر المومنین تمہیں حکم دیتا ہوں ۔ ابو شحمہ کو کوڑے لگاؤ۔۔۔۔۔ اور فورا۔۔۔۔ ذرا بھی دیر نہ ہو۔‘‘
لاچار سے افلح ابو شحمہ کی قمیص اتارنے لگے۔ ان کی آنکھیں دھاروں دھار آنسو بہا رہی تھیں۔
ابو شحمہ کی قمیض اتر گئی۔ وہ چپ چاپ سب کچھ دیکھتے رہے۔ سارے لوگ زار وقطار رو رہے تھے۔ ایک بھی آنکھ ایسی نہ تھی جس میںآنسو نہ ہو سوائے عمرؓ فاروق کے۔ وہ آج کس قدر بے رحم ہوگئے تھے۔
محبت کے ہلکے سے جذبہ کی پرچھائیں بھی تو آج ان کے چہرے پر نظر نہیں آرہی تھی۔
انہیں معاف کر دیجئے۔ابو شحمہ کو معاف کر دیجئے خدا کے لیے۔‘‘ سب لوگ امیر المومنین سے التجا کررہے تھے۔ لیکن عمرؓ فاروق تو شاید سن ہی نہیں رہے تھے۔
میں کہتا ہوں افلح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم شروع کیوں نہیں کرتے؟ وہ افلح کو ڈپٹ رہے تھے۔ شروع کرو اور دیکھو مارنے میںکوئی کوتاہی نہ ہو۔ تمہارے ہاتھوں میں ذرا بھی نرمی آئی تو میں برداشت نہیں کرو ںگا افلح۔‘‘
ابو شحمہ بھی اپنے باپ کے آگے گڑگڑانے لگے۔ لیکن حضرت عمرؓ فاروق تو ایک پتھر کی چٹان کی طرح بے حس وحرکت کھڑے تھے۔
ابو شحمہ پر کوڑے برسناشروع ہوگئے۔ ننگی پیٹھ پرافلح پوری قوت سے کوڑے برسا رہے تھے۔
چند ہی کوڑوں میں ساری کمر لہولہان ہوگئی تھی۔
لوگ سسکاریاں لیتے رہے۔ کوڑے برستے رہے۔دس —بیس—پچاس—
ستر کوڑے ہوگئے تو لرزتی ہوئی آواز میں ابوشحمہ نے چند گھونٹ پانی کی درخواست کی۔ ان کے حلق میں خشکی کے مارے کانٹے پڑ گئے تھے۔
ابو— دو گھونٹ پانی۔‘‘ وہ ٹوٹتی ہوئی آواز میںکہہ رہے تھے۔
لیکن عمرؓ فاروق نے پوری سختی سے یہ درخواست بھی رد کر دی۔
’’ابو شحمہ۔پانی یہاں نہیں۔ اب حوض کوثر پر پینا، افلح۔۔۔کوڑے پورے کرو۔‘‘
دس کوڑے اور لگے ابوشحمہ کی آنکھیں پتھر گئیں۔ زخمی نگاہوں سے بمشکل انہوں نے اپنے سخت گیر باپ کو دیکھا اور الوداعی سلام کیا۔
’’السلام علیکم ابو۔‘‘
’’خدا حافظ ابو شحمہ۔‘‘ فاروق اعظم مضبوط لہجے میںجواب دے رہے تھے۔ ’’حضورؐ سے ملاقات ہو تو میرا سلام عرض کرنااور کہنا کہ حضورؐ میں نے عمرؓ کو قرآن پڑھتے اور اس پر عمل کرتے چھوڑا ہے۔‘‘
کوڑے پڑتے رہے۔ ۹۰کوڑے ہوئے تو افلح کے بازو شل ہو گئے، وہ ایک منٹ رکے۔
’’کیوں تم رکے کیوں افلح۔‘‘ امیر المومنین نے غضبناک لہجے میں کہا۔
’’اجازت ہوتو یہ دیکھ لوں امیرا لمومنین کہ ان میں کوڑے کھانے کی تاب ہے یا نہیں۔‘‘ افلح کے لہجے میں ہزاروں التجائیں چھپی ہوئی تھیں۔
’’ہرگزنہیں افلح۔جس طرح یہ گناہ کرتے نہیں رکاآج کوڑے بھی نہیں رک سکتے۔‘‘
سپاٹ سے لہجے میں امیر المومنین نے کہا تو لوگوں کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔ وہ زور زور سے چیخ چیخ کر رونے لگے۔ امیر المومنین کی اہلیہ نے رونے کی آوازیں سنیں تو دوڑتی چلی آئیں۔ اپنے پیارے بیٹے کا حال دیکھا تو تڑپ کر رہ گئیں۔
۹۰ کوڑے پورے ہوگئے تھے۔ ابو شحمہ کے جسم میںکوئی حرکت باقی نہ تھی ممتا کی ماری ماںعمرؓ فاروق کے آگے زاروقطار روہی تھی۔
’’امیرا لمومنین۔ ۱۰کوڑے معاف کردیجئے۔مجھے خدا کی قسم ہے۔امیر المومنین میںایک ایک کوڑے کے بدلے پیدل چل کر حج کروں گی۔ مسکینوں کو کھاناکھلاؤں گی، کپڑے پہناؤں گی۔ میرے ابوشحمہ کی یہ اذیت اب کم کر دیجئے خدا کے لیے۔‘‘ لیکن عمرؓ فاروق نے اپنادل پتھر کر لیا تھا۔ انہوں نے زور سے افلح کو پکار کرکہا۔
’’کوڑے پورے کر و افلح۔ میں نے کیاکہاہے تم سے؟‘‘افلح کانپ کر رہ گئے۔ کیسی عجیب سی آواز تھی۔ جیسے چٹانیں بول رہی ہوں۔
سو کوڑے پورے ہوگئے۔ابوشحمہ ۔فاروق اعظم کے سب سے پیارے بیٹے ابوشحمہ نے آخری ہچکی لے کر آنکھیں موند لیں۔
تب ہی لوگوں نے حیرت سے دیکھا ۔حضرت عمرؓ فاروق تیزی سے نیچے جھکے اور ابو شحمہ کو گود میں اٹھالیا۔ لوگ حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ چٹان پگھل گئی تھی۔ فاروق اعظم کی آنکھوں سے کسی موسلادھار مینہ کی طرح آنسو برس رہے تھے۔
وہ ابو شحمہ کے رخساروں کو چومتے جارہے تھے خوب زور زور سے رو رہے تھے اور کہتے جارہے تھے۔ ’’قربان ہو تیرا باپ تجھ پر۔ میرے بیٹے تو نے حق پر جان دی ہے میرے پیارے بیٹے تو نے حق پر جان دی ہے۔‘‘

ہندوتو ۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔ ہندوستان

آریائی نسل پرستی
نسلی تفاخروتعصب اوردوسروں سے نفرت رکھنے میں یہودی اور آریائی نسل کے لوگ حددرجہ بڑھے ہوئے ہیں۔ جرمنی کی آریہ نسل نے یورپ میں جارحانہ قوم پرستی کی مثال قائم کی اور اس کے لئے ہٹلر نے نازی ازم کا جھنڈا بلند کیا توایران کے آریوں نے اسلام کی آفاقی امت کا جزوبن جانے کے باوجود اپنے نسلی فخر کوپوری طرح نہ سہی بڑی حدتک قائم رکھنا چاہااور ہندوستان کے آریوںنے نہ صرف یہ کہ یہاں کے قدیم باشندوں کو ملیچھ اور داس جیسے خطابات سے نوازابلکہ ایک سماج کی تشکیل کی جس نے نسلی بنیادوں پر اتنی اونچی دیواریں کھڑی کردیں جن سے اوپر اٹھ کردیکھنا اور سوچناناممکن بنادیا گیا۔ انہوں نے دوسری قوموں اور ان کی تہذیبی شناخت کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ ایسے خیالات کو عقیدوں کا لباس پہنایا جوکھلے طورپر انسان کی عظمت اور فطرت سے متصادم ہیں اتناہی نہیں بلکہ اس طبقاتی سماج کو ہر صورت اور ہر قیمت پر قائم رکھنے کی ذمہ داری بھی اپنے سرلی ،جو مستقل طورپراس میں آقائی کے مقام پر بیٹھاہواہے۔ اس طبقاتی نظام کی روح، نسلی برتری کا وہ جذبہ ہے جوآریوں کی قومی وراثت بن چکا ہے نسل پرستانہ بنیادوں پر قائم اس سماجی نظام نے انسانیت کو جس طرح پامال کیا اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ بلاشبہ اس زمین پر ظلم وتشدد کی بہت سی دردناک داستانیں مرتب ہوئیں۔ چنگیز وہلاکوجیسے انسان نما درندوں نے قتل وخون ریزی کی قابل نفرت مثالیں چھوڑیں۔ مگرانسانوں کے ساتھ طویل عرصے تک جانوروں جیساسلوک اور کہیں روانہیں رکھاجا سکا جیسانیچ ذات کہے جانے والے شودروںکے ساتھ ہندوستان میں ہوتارہا اور اب بھی ہورہاہے اس طرح طبقاتی اور نسلی برتری کے خلاف اندرسے بھی آوازیں اُٹھتی رہیں اوراسلام کی آمد نے تواس کو ہلاکر رکھ دیا ۔ بودھ اور جین مذہب کی تعبیر بھی یہی کی جاتی ہے کہ وہ ہندوستان میں قائم نسلی نفرت کے خلاف بغاوت کی آوازیں تھیں مگر جب سام دان دنڈبھید(سزادبائولالچ اور سازش)کی پالیسیوں سے انہیں بے اثر کردیاگیا اور وہ مزاحمت کے لائق نہیں رہے تو انہیں ہندوسماج کا گرین کارڈ جاری کردیا گیا اسلام اپنی فطری اورابدی تعلیمات کے مطابق وحدت الہ اور مساوات بنی آدم کے معاملے میں کسی سودے بازی کا قائل نہیں ہے۔
ع۔۔۔۔۔۔ باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے۔
اسی لئے آریائی نسل پرستوں کی نگاہ میں کانٹے کی طرح کھٹکتاہے ۔کوئی شخص جتنا اسلام کے قریب ہوگا اتناہی باطل خدائوں اور رنگ ونسل کی بنیاد پرانسانوں میں تفریق سے دورہوتا چلاجائے گا وہ خدائے واحد کا بندہ بن کر رہنے کی تعلیم دیتاہے اور کسی بھی دوسری خدائی کا منکرہے۔ چاہے یہ دوسری خدائی چاند،سورج دریائوں پہاڑوں اور درختوں کے نام پر قائم کی جائے یا کسی شخص، خاندان اور قوم وملک کے نام پر قائم ہواسلام اس کو ظلم عظیم قراردیتا ہے۔ بلاشبہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ (القرآن)اسلام کی یہی خوبی ہر عہد کے مشرکوں (مخلوق پرستوں)کی نظرمیں سب سے بڑی خرابی ہے اسی لئے ہندوستان کی آریانسل پرست ہندوتنظیموں کے نزدیک اسلام اور مسلمان سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ جس سے وہ خود بھی بچنا چاہتے ہیں اوردوسروںکو بھی بچانا چاہتے ہیں۔
منفی سوچ
نسل پرستانہ بنیادوںپرقائم سماج کے لیڈروں کے پاس کوئی مثبت اور مستقل فکر نہیں ہے نسلی فخروغرور میں دوسروں کے لئے کوئی کشش وتاثیر نہیں ہوسکتی۔ اگرگورے لوگ یہ سمجھیں کہ ہم برترہیں تواس سے کالوں کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے ۔مشرق کے بسنے والے اگر مغرب والوں سے خود کوافضل قراردیں تو مغرب والوں کو اس سے کیسے اتفاق ہو سکتاہے۔ اسی وجہ سے ہندوستان کے نسل پرست لیڈرمختلف اور متضاد خیالات اور رویوں کو اپناتے رہتے ہیں۔ وہ ویدک سماج سے خدائے واحد کے عقیدہ اور انسانی مساوات کے اصول کو بھی جوڑتے ہیں اور ان گنت دیوی دیوتائوںکی پوجااور پر ستش کو بھی اپنی پہچان کے طورپر قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک جانب وہ ان کی کتابوں کو اپنے افکار وعقائد کا ماخذ قراردیتے ہیں جو ہندوستان میں آریوں کی آمداور یہاں کی قدیم اقوام سے ان کی معرکہ آرائیوں کی یادیں تازہ کرتی ہیں۔ دوسری طرف خودکواصل ہندوستانی ثابت کرنے کے لئے جھوٹی تاریخ گھڑنے پر بھی کمربستہ ہیں۔ اپنے سماج میں ذات پات کی تقسیم بھی رکھنا چاہتے ہیں اور ہندوراشٹرکاجھنڈ ابھی اٹھائے پھرتے ہیں انہوںنے بارہاتسلیم کیا کہ ہندوکوئی مذہب نہیں حتیٰ کہ ہندولفظ بھی سنسکرت زبان سے تعلق نہیں رکھتا۔شاید اسی لئے اسے ہندئوںکے لئے توہین آمیز بھی قرار دیا گیا۔ ذیل کا اقتباس ملاحظہ ہو
’’یہ بات غیراختلافی ہے کہ اس لفظ ہندوکا استعمال ہمارے پراچین (قدیم) لٹریچر میں نہیںہوا۔ ویدوں میں ،برہمنوں میں،ویدانتوںمیں اور درشن شاستروںمیں ،اپنشدوں میں،سمرتیوں میں یہاں تک کہ پرانوں میں بھی لفظ ہندوکا استعمال دیکھنے میں نہیں آتا۔ تلسی داس جی کی رامائن میں ہندونہیں آریہ لفظ ہے۔ ہندولاء کے مشہور عالم بہت بڑے سنسکرت داں وکیل شری گلاب چندسرکار نے اپنی ’’ہندولائ‘‘ کتاب میں ہندولکھتے ہوئے صاف لکھا ہے کہ ہندولفظ کا چلن سنسکرت کی بنیادپر نہیں ہواہے۔ سرکار کا خیال ہے کہ میروتنتر کتاب بھارت میں انگریزوں کے آنے کے بعد لکھی گئی کیونکہ اس میں انگریزوں اور لندن کا بھی ذکر ہے‘‘۔ (آریہ متر۱۷؍مئی۱۹۵۹ء اودھ بہاری لال کلکتہ )
لفظ ہندواور آریہ مترکے متعلق کاشی کے پنڈتوں کی رائے بحوالہ روزنامہ بھارت مترمورخہ مئی ۱۹۲۵ء (اداریہ)
’’ہمعصر ارجن نے ایک خط شائع کیا ہے جو سوامی شردھانندکے پرانے کاغذوں میں ملاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمعصرنے لکھاہے کہ یہ خط ۱۸۷۰ء میں شائع ہوا اس خط کی نقل نیچے دی جاتی ہے۔ اس پرکاشی کے اس وقت کے پنڈتوں کے دستخط ہیں‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: ہندوکو پہلے ہنس ورن کہتے تھے پھرورن آشرمی کہنے لگے۔
سوال: شری بھاگوت کے گیارہویں باب میں لکھا ہے کہ ست یگ میں اور تریتہ میں چار ورن اور چار آشرم کی تقسیم ہوئی۔ اس سبب سے یہ لوگ ورن آشرمی کہلائے اب کچھ لوگ ہندونام کرکے خیال کرتے ہوں کہ ہندولفظ کی چرچاکسی شاستر(دھرم کی کتاب)میں نہیں ملتی اس لئے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہندوکہنا ٹھیک ہے یانہیں؟
جواب: ورن آشرمی دیس (ورن آشرمیوں کا ملک)بودھک جوہندولفظ ہے تو یون(مسلمان) سے ہے ورن آشرم بودھک (ورن آشرم کو ظاہر کرنے والا جو ہندولفظ ہے سویہ بھی یون (مسلمان)سے ملاہے ۔ اس لئے ہندوکہلانا بالکل نامناسب ہے۔
یہ فیصلہ کاشی ٹیڑھی نیم تلے شری مہاراج ابھیراج سن رکھچھک (محافظ) دھرم سبھا(دھرم کی محافظ انجمن)میں لوگوں نے کیا اس پر پنڈتوں کے دستخط ہیں‘‘ کیا ہندولفظ پرایا ہے؟ ورن آشرم دیس کا اشارہ کرنے والا جو ہندولفظ ہے ورن آشرم بودھک جو ہندولفظ ہے سوبھی یون (مسلمان)کا دیا ہے اس لئے ہندو کہلانا نامناسب ہے کافر کوہندوکہتے ہیں بون بولی میں (مسلمانوںکی بولی میں)اس لئے ہندونام کہنا ٹھیک نہیں ہے‘‘ (شری بگارت ساشتری )مگر آج ہندو فسطائیت کے علمبردار ’’ہندوتو‘‘ کی گاڑی کا سارا ایندھن ہندئوںکے مذہبی جذبات واحساسات سے حاصل کرتے رہتے ہیں ایک دور میں برہمن چھتریوں سے برسرپیکار رہے بلکہ ا نہیں نیست ونابود کردیا گیا پھر’’شاستر‘‘ (علم)نے ’’شستر‘‘ (ہتھیار)سے سمجھوتا کرلیا تاکہ باقی قوموں پر بالادستی قائم رکھی جاسکے اور چھتری بھی اعلی ذات بنادئے گئے۔ قدیم کتب میں جانوروں کی قربانی کے حوالے یگیہ کے عنوان سے آج بھی پڑھے سنے جاتے ہیں مگر جیورکشاکا اصول بھی ہندوتواکی فہرست میں شامل ہے۔ اس کی پابندی کے لئے دوسروںکو بھی مجبور کیا جارہاہے یہ بھی کہاجاتا ہے کہ برہمن کا دھرم چھتری کے دھرم سے اورویش کا دھرم شودرکے دھرم سے الگ ہے۔ رویوںاور خیالات کی اس سماجی بھول بھلیاں میں باہر والوں کو ہی خیریت نظر نہیں آئی بلکہ اندروالوںکو تھام کررکھنا بھی مشکل کام ہے اور اس مشکل کو آسان کرنے کے لئے ہندوتوکا نعرہ لگایا گیا ہے ۔
جدید سیاست اور تعلیم نے جو گرسکھائے ہیں ان سے بھرپور فائدہ اٹھاکر اپنے منصوبوںاور ارادوں کی تکمیل کی کوشش کی جارہی ہے۔ پرانے اصنام کی جگہ نئے لاکر رکھے جارہے ہیں، کیونکہ پرانے کے ہوتے غیروںکو کیا اپنوںکو بھی مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ اب دیش اور راشٹر یعنی وطن اور قوم کی پوجاکاراگ الاپا جا رہاہے بحث قوم ،وطن کی فطری حیثیت اور تعلق سے نہیں ہے بلکہ اس جدید معجون مرکب سے ہے جس کا نسخہ تو یورپ سے درآمد کیا گیا ہے مگر آیورویدک طریقہ پر اسے بھسم کرکے خالص ہندوستانی بناکر پیش کیا جارہاہے ۔ماضی میں انگریزوں سے نسلی تعلق کا اظہار کرنے والوں کے جانشین اب ۳۳؍کروڑ دیوتائوں کی فہرست میں کچھ اور خیالی معبودوں کا اضافہ کررہے ہیں۔ ان کی حمدوثنا کے گیت گائے جارہے ہیں ساتھ ہی مسلمانوں کو بھی ان کے دین وعقیدہ کے برخلاف ایساکرنے پر مجبور کیا جارہاہے۔ اس طرح ایک خاص نسل کے لوگ اپنے مفاد پرستانہ ڈھانچہ کو بہرصورت قائم رکھنا چاہتے ہیں چاہے اس کے لئے ایک نہیں ہزاربار جھوٹ بولنا پڑے، جھوٹی تاریخ گھڑنی پڑے انسانی حقوق پامال کرنے ہوں یا انسان کی عظمت وشرافت کو روندناپڑے۔ دراصل نسل پرستی یا مخلوق پرستی کے دامن میں دوسروں کو دینے کے لئے کچھ ہے نہیں اسی لئے وہ کچھ دینے کے بجائے ان سے چھیننے کاسبق سکھاتی ہے۔ نفرت اوردشمنی ہی اس کے ہتھیار ہیں۔کل بھی اورآج بھی اصلاً کسی مذہب یااصول کی پابندی مطلوب ہے اور نہ ہی وطن اور اہل وطن سے پیار۔
ہندوتواہے کیا؟
ہندوراشٹرنظریہ ہے یاصرف نعرہ اس کی حقیقت کیا ہے؟ شایداس سے وہ خود بھی واقف نہیںہیں۔ سنگھ کے گروئوںکی تصانیف بھی اس بارے میں پوری آگاہی دینے سے محروم ہیں کہ ہندوتواکے اصول کیا ہیں ان اصولوں کا ماخذ کیا ہے؟ ان کے صحیح اور مفید ہونے کے کیا دلائل ہیں ؟یہ کوئی مذہب ہے یا کوئی سیاسی تصور ہے اس کی نگاہ میں انسان کی کیا حیثیت ہے اس کی منزل کیا ہے وہ دوسروں کے کیا حقوق تسلیم کرتاہے؟ یہ اگر ماضی میں کبھی موجود تھا تو کب اور کہاں پھر اس کا تاریخی رول کیا رہااس نے دوسری قوموں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا وہ دوسروں کو زندہ رہنے اور ترقی کرنے کا حق دیتاہے یا نہیں؟ ایسے سارے سوالوں کا جب تک جواب نہ مل سکے ایک عام ہندوستانی باشندے کے نزدیک ہندوتو صرف ایک بے دلیل ’’دعویٰ‘ ‘ اور ایک کھوکلانعرہ ہے ۔۔۔۔۔ ہاں ابھی تک تو ہندوتو والے ایک ہی دلیل پیش کرسکتے ہیں وہ یہ کہ اس ملک میں ہماری اکثریت ہے (حالانکہ ہے نہیں)اس لئے یہ ہندوراشٹر ہے اور ہندوستان ہندودیش ہے یعنی بھینس ہماری ہے کیونکہ ہمارے ہاتھ میں لاٹھی ہے۔
تہذیبیں اورقومیں
نسل پرستی کے جارحانہ ارادوں اور طبقاتی سماج کے بالمقابل ہندوستان کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک الگ الگ عقیدوں اور تہذیبوں کا ملک ہے یہاں متعدد نسلوں کے لوگ رہتے ہیں۔ یہاں ان گنت بولیاں اور متعدد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہرمذہبی قومیت کو اپنے اپنے عقیدوں سے گہراتعلق ہے سب کو اپنی تہذیبی اقدار پیاری ہیں ہرایک نسل کے لوگ اپنی نسل سے فطری تعلق رکھتے ہیں ہرایک کو اپنی زبان اچھی لگتی ہے مگر ان سارے تعلقات کانہ تو یہ مطلب لینا صحیح ہے کہ دوسروں کے عقیدوں کو زورزبردستی تبدیل کرادیا جائے اور انہیں ان کے مذہبی تشخص سے محروم کردیا جائے، انہیں اپنی اقدار چھوڑنے پر مجبور کیاجائے ،ان کی زبان کھینچ لی جائے اور سب کو طاقت کے بل پرایک مذہب ایک زبان ایک تہذیب قبول کرنے کے لئے آمادہ کیا جائے۔ سچائیوں کا انکار کرکے جوراستہ اختیار کیا جائے گا وہ تعمیر کا نہیں تخریب کا راستہ ہوگا۔ ظلم کی راہ پر چل کر انصاف قائم نہیں رہ سکتا اور فطری حقوق پامال کرکے امن برقرار نہیں رکھا جاسکتاہے۔ ہندوستان میں اگر آریے رہتے ہیں تو دراوڑوں کی موجودگی سے کیوں انکار کیاجائے ؟اگراس سچ کو منوانا چاہتے ہیں کہ یہاں ہندورہتے ہیں اور ان کو رہنے کا حق حاصل ہے تو اس سچ کو کیوں نہ مانا جائے کہ یہاں مسلمان بھی رہتے ہیں اور ان کو بھی یہاں رہنے کا حق حاصل ہے اسی طرح سکھ ،عیسائی اور بودھ موجود ہیں ہندستان میں ہی وہ علاقے بھی ہیں جہاں ہندواکثریت میں ہیں اسی ملک میں ایسے خطے بھی ہیں جہان ہندواقلیت میں ہیں۔ اب ایک طریقہ یہ ہے سب کے لئے کوئی ایک معیار قائم کرلیا جائے دوسرایہ کہ پورے ملک میں اکثریت مان کر ہندئوں کی بالادستی کا شور مچایا جائے اور جہاں کہیں وہ اکثریت میں نہ ہوںوہاں انہیں اقلیت کے حوالہ سے خصوصی تحفظ دیا جائے مگر ایساہی تحفظ اگر دوسرے طلب کریں تو انہیں فرقہ پرستی کا الزام لگا کرخاموش کردیا جائے۔ پہلا طریقہ مبنی برانصاف ہے اس کو جتنا دیانت داری اور خلوص سے اپنا یا جائے گا اتحاد، امن اور اعتماد کے امکانات روشن ہوںگے ۔دوسرا طریقہ بے ایمانی اور بے انصافی کا ہے۔ اس لئے بے اعتمادی اور تصادم اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ بدقسمتی سے ہندوستان کی سیاست میں بے ایمانی کا عنصر غالب ہوتاچلاگیا ۔بلکہ لوگوں نے بے ایمانی کا نام سیاست رکھ لیا۔ اب یہ کہتے ہوئے بھی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ سیاست کا ایمانداری سے کوئی تعلق نہیں ۔اسی شیطانی طرز فکر نے زبردستی،عیاری ومکاری ،بدعہدی اوربے ایمانی کو پھلنے پھولنے کا خوب موقع دیا۔حق تسلیم کرنے کے بجائے حق دبانے والوں کے سرپرقومی لیڈری کے تاج رکھے گئے اور قومی مفاد کا نام لے کر ہر قسم کے جھوٹ اور فریب کو صداقت کے مقام پر پہنچایاگیا۔ اختلاف میں اتحاد کا نعرہ تودیا گیا مگر دن کی طرح روشن اس سچائی کا انکار کیاگیا کہ ہندوستان سب کاہے اور یہاں بہت سے عقیدوں مسلکوں اور تہذیبوں سے وابستہ لوگ رہتے ہیں۔اس غلط رویہ اور فکرکا ایک نتیجہ1947 میںہندوستان کی تقسیم کی صورت میں سامنے آچکاجب آزادی کے ساتھ ساتھ لاکھوں انسانوں کی جان ومال ،عزت وآبرو کے خون سے ہندوستان کی آزادی کا پہلا باب لکھا گیا اور دوسراالمیہ یہ ہے کہ اس کے بعد بھی ہوش نہ آیابھارت کو ایک خاص نسل اور طبقہ کے لوگ صرف ہندودیش قراردیکر ایک اور تباہ کن سانحہ کی جانب بڑھے چلے جارہے ہیں۔ حتیٰ کہ اس جارحانہ طرز فکر کو ہندوستان کے مستقبل کے طور پر پیش کیا جارہاہے۔ سچائیوں سے جنگ لڑکر جیتنے کی خواہش جتنی کل تباہ کن تھی اتنی ہی آج بھی ہے اور کل بھی رہے گی۔ جن لوگوں کا عقلی توازن تعصب نے بگاڑنہ دیاہو۔ ان کافرض ہے کہ اس حقیقت کو سمجھیں اور جرأت کے ساتھ پیش کریں کہ ہندوستان میں اگرایودھیا اور بنارس اور متھراجیسی بستیاں ہیں تو حیدرآباد اور اورنگ آباد ،دلی ، لکھنؤ جیسے مقامات بھی ہیں۔ جو مسلمانوں کے عظیم کارناموں کی یادتازہ کرتے ہیں اگر سنسکرت کے منتر گائے جاتے ہیں توعربی ، فارسی زبان کی کتابیں بھی روحوں کی تازگی کا سامان فراہم کرتی ہیں اگر اشوک کی لاٹ ہندوستان کی ماضی کی علامت مانی جاتی ہے تو قطب مینار اور تاج محل ،فتح پور سیکری کا بلند دروازہ بھی ایک عظیم عہد رفتہ کا پتہ دیتے ہیں۔ ہندی ہی قومی زبان نہیں ہے بلکہ بیس کے قریب دوسری زبانیں بھی اسی حیثیت کی مالک ہیں۔ اگر سنسکرت کو زندہ رہنے اور ترقی کرنے کا موقع فراہم کیا جاسکتاہے تو کوئی وجہ نہیں عربی زبان کی تعلیم پرانگلی اٹھائی جائے یہاں مندروں کی جائز تعمیرکو روکا نہیں جاسکتا تو مسجدوں ،گرجائوں اور گردواروں کی تخریب کاری کی اجازت بھی نہیں دی جانی چاہئے۔ اگر ہندوستان سے کسی تہذیب کو منسوب کیا جاسکتا ہے تو ایک ایسی مشترکہ تہذیب ہی ہوسکتی ہے ۔جس میں متعدد تہذیبوں، مختلف زبانوں اور مختلف عقائد وافکار کے مابین مخلصانہ معاہداتی تصور کارفرماہو۔ ایک دوسرے کی بات کو دلیل کے ساتھ سننے سمجھنے کا ماحول برقرار رکھا جاسکے کسی کو زورزبردستی اپنی تہذیب اپنی زبان سے محروم ہو جانے کا خوف دامن گیر نہ ہو۔ ہر فرقہ ومذہب کے لوگوں کواپنے تہذیبی دائرے میں پروان چڑھنے کی نہ صرف اجازت ہوبلکہ اسے یہ اطمینان میسرآسکے کہ اس کے معاملات میں حکومت یاعوام مداخلت نہیں کریں گے۔ حتیٰ کہ اس کی نئی نسل کی داخت پرداخت اور تعلیم وتربیت کے اختیارات بھی کسی نام پر سلب نہیں کئے جائیںگے۔
ہندوستان کے دستور سازاسمبلی کے بیشترارکان موجودہ سیاست دانوں خاص طور پر نسلی جارحیت اور طبقاتی اجارہ داری کی حامل تنظیموں کے لیڈروں سے زیادہ ہندوستان کی اس واقعاتی تصویر کو پہچانتے تھے اوراسی لئے انہوںنے درج ذیل حقائق کوشامل دستور کیا تھا۔ملاحظہ ہودستورہندباب سوم۔ بنیادی حقوق ’’مملکت کوئی ایساقانون نہیں بنائے گی جو اس حصہ سے عطاکئے ہوئے حق کو چھین لے یاان میں کمی کرے اور کوئی قانون جواس فقرے کی خلاف ورزی میں بنایاجائے خلاف ورزی کی حد تک باطل ہوگا۔ گویادستور میں بنیادی حقوق کے زیرعنوان جن حقیقتوں کو تسلیم کیاگیا ہے ان کے بالمقابل قانون سازی باطل ہوگی اس کے بعد شق وار حقوق درج کئے گئے۔
(۱)مساوات کا حق یعنی مملکت محض مذہب، نسل ،ذات، بمقام پیدائش یا ان میں سے کسی کی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف امتیاز نہیں برتے گی۔(۲) تقریر اظہاراور تنظیم کا حق، بھارت کے سارے علاقہ میں آزادانہ نقل وحرکت کا حق، استحصال کے خلاف حق مذہب کی آزادی کا حق وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثقافتی وتعلیمی آزادی کا حق بیان کرتے ہوئے اقلیتوں کو بایں الفاظ اطمینان دلایا گیا۔ ’’بھارت کے علاقہ میں یااس کے کسی حصہ میں رہنے والے شہریوں کے کسی طبقہ کو جس کی اپنی جداگانہ زبان رسم الخط یا ثقافت ہو اس کو محفوظ رکھنے کا حق ہوگا‘‘ دستور ہنددفعہ نمبر۲۹ بنیادی حقوق کی مزید وضاحت اس طرح کی گئی ’’ تمام اقلیتوں کو خواہ وہ مذہب کی بنیاد پر ہوں یا زبان کی بنیاد پراپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کاانتظام کرنے کا حق ہوگا‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’(دستور ہنددفعہ نمبر ۳۰)واضح ہوکہ بنیادی حقوق مراعات نہیں ہیں۔ جو عطاکی گئی ہوں یا قابل واپسی اور لائق تنسیخ ہوں۔ دستوری حوالے اس لئے بھی نہیں کہ یہ حقوق محتاج دستور ہیں بلکہ اس مفہوم میں دئے گئے ہیں کہ یہ وہ سچائیاں ہیں جن کا اعتراف اور تائید دستور ملکی بھی کرتا ہے اس میں ہندوستان کے باشندوں کے حقوق اس حدتک واضح ہیں کہ ان پر بحث واختلاف کی گنجائش بمشکل ہی نکالی جاسکتی ہے ہندوستان ان سب کا ہے جو یہاں کے شہری ہیں اور حقوق شہریت میں کسی کو کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے اگران سب کو واحدہ (Unity)کا نام دینے کی کوئی صورت ممکن ہے تو اسی طرح کے کسی کے حقوق سلب نہ کئے جائیں۔ مگرافسوس کہ ہندوستان کی تاریخ اس کی روایات اس کے ماحول اور دستور کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک مصنوعی تاریخ اقتدار کے بل پر ترتیب دی جارہی ہیں آریائی کلچر کو زبردستی ہندوستانی کلچر کا مقام دیا جارہاہے۔ علی الاعلان دستور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقلیتوں کی آزادی سلب کی جارہی ہے اور جارحانہ عزائم کا نام قوم پرستی، وطن پرستی اور ہندو ثقافت رکھا جارہاہے اور اب تو سارے تکلفات اٹھاکر اسی کو ہندوتوابھی کہا جارہا ہے ہندئوں کو قوم اور ہندوستان کو ہندودیش کہاجانے لگا سوچئے کیا یہ حقیقتوں کے خلاف جنگ نہیں ہے؟ کیا یہ جنگ ظلم کے ہتھیاروں کے علاوہ اور بھی کسی طرح لڑی جاسکتی ہے؟ کیااس طرح اس ملک کی تعمیر کی جاسکتی ہے۔
(جاری)

دختران ملت کے نام کھلاخط

خیر وعافیت کی امید کے ساتھ سلام ورحمت فراوان
پیاری بہنو!
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں ، مسلمان کی کیا شان اور پہچان ہوتی ہے اس سے آپ ضرورواقف ہوںگی۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ مسلمان کا مقصدزندگی کیاہے، اور اس کا طرز زندگی (لائف اسٹائل)کیسا ہوناچاہئے مجھے امید ہے کہ آپ اسلامی طرز زندگی کو پسند کرتی ہوںگی اور اسی کے مطابق اپنی زندگی گزار نا چاہتی ہوںگی،ا ور اگر خدانخواستہ ایسانہیں ہے تو یہ بڑے افسوس کا مقام ہے ، ذراسوچئے! کیا یہ اپنے دین کے ساتھ غداری نہیں ہے کہ ہم جس دین کے ماننے والے ہیں ہماری زندگی اس کے مطابق نہ ہو، اس کا انجام دنیامیں ذلت ورسوائی اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔
خوب جان لیجئے اسلام دین فطرت ہے اس کے تمام احکامات انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں، اگر ہماری زندگی اس کے خلاف ہے توایسی زندگی غیر فطری زندگی ہے جو نہ تو ہمارے قلب ودماغ کو مطمئن کرسکتی ہے اور نہ ہی آخرت کے عذاب سے بچاسکتی ہے،اس حقیقت کا ادراک بھی ضروری ہے کہ انسان اپنے بارے میں خواہ سب سے زیادہ جانتا ہومگر اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اس کا خالق اس کے بارے میں اس سے کہیں زیادہ جانتاہے اس لئے انسان کی فلاح وخسران اور لائف اسٹائل کے بارے میں اس کے خالق کا بتایا ہوا طریقہ ہی زیادہ صحیح ، بہتر اور سودمند ہوسکتاہے کسی اور کا نہیں۔
خواہران اسلام !
آج میں تمہاری توجہ اسلام کے ایک اہم رکن پردہ کی طرف مبذول کراناچاہتا ہوں اگر آپ شرعی پردے کی پابند ہیں تو زہے نصیب اور اگر پابند نہیں ہیں یااس میں لاپرواہی کرتی ہیں تو آپ بہت ہی بدنصیب ہیں۔ ایسی بہنوں سے میںکہنا چاہتاہوں کہ تم کو تمہارے خداکا واسطہ پردہ کرو، تمہارے نبی کا واسطہ پردہ کرو، تمہاری عزت کا واسطہ پردہ کرو، تمہاری حفاظت کا واسطہ پردہ کرو، تمہاری آبرو کا واسطہ پردہ کرو، شیطان تمہیں بے پردہ کرنا چاہتاہے اس لئے پردہ کرو، وہ تمہیں ننگا کرنا چاہتاہے اس لئے پردہ کرو، وہ تمہیں بے حیا وبے شرم بنانا چاہتاہے اس لئے شرم وحیا کا دامن مت چھوڑو، دیکھو شیطان صفت انسان تمہیں ہوس بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں انہیں اس کا موقع نہ دو،کیا تم اپنے آپ کو مردوں کی بدنگاہی سے بچانا نہیں چاہتیں، تمہیں معلوم ہوناچاہئے کہ اسلام دین فطرت ہے اور عورت کی فطرت میں اللہ نے شرم وحیا کا وافر مادہ رکھا ہے اس لئے تمہاری فطرت کا بھی تقاضہ ہے کہ پردہ کرو، اپنی فطرت سے لڑنا کوئی اچھی بات نہیں، مغربی تہذیب کے اصول وضوابط غیر فطری ہیں تم انہیں اپنا کراپنے آپ کو مطمئن نہیں کرسکتی ہو، دیکھو بے پردگی تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی نہ دنیا میں اس سے کوئی عزت وراحت ملنے والی ہے اور نہ آخر میں اس کے بھیانک انجام سے بچ پائوگی ۔ بدکردار لوگ تمہیں بے پردہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ تمہیں گھر سے باہر لانا چاہتے ہیں وہ تمہیںجنس بازار بنانا چاہتے ہیں وہ تمہیں عزت سے ذلت کی طرف لانا چاہتے ہیں کیا تمہیں اپنا احترام عزیز نہیں؟اگر ہے تو کوچہ وبازار کی زینت بننے سے بچو، اپنے وقار اور مقام ومرتبہ کو سمجھو دیکھو ہر قیمتی چیز چھپاکر رکھی جاتی ہے تم اپنے آپ کو کیوں بے وقعت وبے قیمت بنارہی ہو، تم ایسے لباس کیوں پہنتی ہو جسے پہننے کے بعد بھی تم بے لباس نظرآتی ہو، کیا تم اپنے جسم کے ایک ایک عضوکی نمائش کرنا چاہتی ہو آخرکیوں؟ کہاںگئی تمہاری غیرت کیا تمہاری ماں نے تمہیں اسی لئے جنا تھا کہ تم اپنی عزت وشرافت کو نیلام کردو ، تم جنس بازار بن جائو، تم سڑک چھاپ ہوکر رہ جائو، ذراسوچو، ایسی عورتوں کا سماج میں کیا مقام ہے ، کیا ان کی کوئی عزت ہے؟ کیا ان سے کسی عظیم کام کی توقع کی جاسکتی ہے؟ کیا ایسی عورتوں کی گودوں میں پلنے والی اولادیں عظیم انسان بنیں گی؟ یادرکھئے !سڑک چھاپ عورتیں عظیم انسان نہیں پیداکرتیں، تاریخ میں جتنے بڑے لوگ گزرے ہیں ان کی مائوں نے انہیں عظیم بنایا تھا اگر عظیم انسان پیداکرنا ہے تو بڑوں کی مائوں کو اپنا آئیڈیل بنائو، فلموں میں ناچنے ، گانے والی ہیروئنوںکو نہیں۔
رکھیو بہنوں مجھے اس تلخ نوائی پہ معاف
آج کچھ دردمیرے دل میںسِواہوتاہے
(روح غالب سے معذرت کے ساتھ)لو میں نے اپنے دل کا درد بیان کردیا، جو کچھ کہنا چاہتا تھا صاف صاف کہہ دیا، اور کہوں تو تم کوگراں ہوسکتاہے، اس لئے بس کرتاہوں ۔ ع ’’شاید کہ اترجائے تیرے دل میں میری بات‘‘
ان معروضات کے ساتھ بہتر ہوگا اگر ہماری بہنیں پردے سے متعلق قرآنی آیات بالخصوص سورہ نور آیت نمبر ۳۱، احادیث مبارکہ اور اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کریں خاص طور سے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’پردہ‘‘ بہت اہم ہے۔
(آپ کا دینی بھائی )

اسلام میں بھارت کا بھلا ہے!

مرکز میں برسرِاقتدار پارٹی سے وابستہ کچھ لوگوں نے اپنا مشغلہ یہ بنا رکھا ہے کہ مسلمانوں کو مشتعل اور اسلام کو بدنام کرتے رہیں۔آئے دِن ایسے بیانات سامنے آتے رہتے ہیں جن سے نفرت اور دل آزاری کو بڑھاوا ملتا ہے اور جوابی بیانات سے بھی ایک نفسیاتی تسلی کے علاوہ کچھ اور حاصل ہوتا نظر نہیں آتا۔ حکومت اور قانون کی چشم پوشی سے اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ یہ سب کچھ جانے بوجھے اور منظم انداز پر ہو رہا ہے۔ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لئے یہ صورت قابل اعتراض ہی نہیں باعث تشویش بھی ہے۔ مقامی زبانوں میں نکلنے والے بہت سے اخبارات بھی اس تشہیری مہم میں کوئی مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ بے بنیاد الزام تراشیوں اور کردار کشی و اشتعال انگیزی کی تردید و مذمت میں الجھ کر وقت اور صلاحیتیں صرف ہوتی ہیں تو چشم پوشی اور سکوت سے بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے کیونکہ اس طرح ایک فریق کے ناپاک ارادوں کو تقویت ملتی ہے اور دوسرے فریق کے سکوت کو اعتراف جرم تصور کیا جاتا ہے۔

گذشتہ دنوں ایک دریدہ دہن لیڈر کا بیان شائع ہوا کہ ہمیں ’’اسلام مکت بھارت چاہئے۔‘‘ اس بیان کی بے ہودگی ثابت کرنے میں زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہے۔ ظاہر ہے جب تک مسلمان بھارت کے شہری ہیں بھارت اسلام سے بے تعلق نہیں ہو سکتا۔ پچیس کروڑ مسلمان آج بھی ہندوستان کی دوسری اکثریت کادرجہ رکھتے ہیں اور اُن کی اپنی تاریخ و تہذیب ہے۔ وہ اپنے دینی و تہذبی ورثہ کے ساتھ ہندوستان کا جزو لا ینفک ہیں۔ غیر تقسیم شدہ ہندوستان پر وہ صدیوں حکمراں رہے ہیں۔ کم وبیش ایک ہزار برس تک مسلمان اپنے دینی و تہذیبی تشخص و امتیاز کے ساتھ ہندوستان کے مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک نہ صرف یہاں کے شہری رہے ہیں بلکہ انہوں نے اس ملک کو بہت کچھ دیا ہے۔ یعنی وہ یہاں کے شہری ہی نہیں بلکہ اس ملک کے محسن بھی ہیں۔ کوئی چاہے تو بھارت کے بڑے شہروں سے لیکر چھوٹے دیہات و قصبوں تک اس سچ کا مشاہدہ بھی کر سکتا ہے کہ :
۔ ع۔ پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
یہ اسلام ہی ہے جس نے ہندوستان سے انسانی مساوات کا تفصیلی تعارف کرایا اور غلام خاندان کی حکومتیں قائم کرکے اس کا مشاہدہ بھی کرا دیا۔ اس وقت کے برہمنی معاشرے میں انسان اپنی پیدائش (جنم) کی نسبت سے اچھا یا برا مانا جاتا تھا،یعنی اس کی قدر و قیمت اس کے افکار و کردار کے بجائے اس کے نسل و خاندان سے مقرر کی جاتی تھی۔ عقیدہ تناسخ (آواگون) کے نتیجے میں ہر مصیبت زدہ انسان ہمدردی اور تعاون کا مستحق ہونے سے پہلے مجرم اور خطا کار کا درجہ رکھتا تھا جو اپنے سابقہ نامعلوم گناہوں کی سزا پا رہا تھا۔ اسلام نے آخرت کے جامع اور حقیقت افروز عقیدے پر اخلاق و کردار کی پختہ بنیادیں فراہم کیں۔ ایک خاص طبقہ اسی لئے اسلام کی مخالفت کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے تناسخ (آواگون )اور نسلی امتیاز کے اصولوں پر معاشرے کی تشکیل نہیں کی جاسکتی۔

انگریزی استعمار کے خلاف آزادی کی لڑائی میں مسلمانوں کا کردار نہ صرف یہ کہ برابر کا ہے بلکہ سب سے بڑھ کر ہے۔ آزادی کی لڑائی کو اگر دو حصوں میں تقسیم کریں تو پہلا حصہ دست بدست مقابلہ آرائی کا ہے۔ جس میں بلاشبہ مسلمانوں کا پہلا مقام ہے۔ پلاسی کی جنگ ۱۷۵۷ئ؁سے لیکر ۱۸۵۷ئ؁ کی بغاوت تک کون سرِ فہرست ہے؟ کس کی قربانیاں زیادہ ہیں؟ سراج الدولہ ،حیدر علی، سلطان ٹیپو سے لیکر بہادر شاہ ظفر تک جنگ آزادی کے سورماؤں کی فہرست تیار کی جائے تو خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ اکثریت اسلام کے چاہنے والوں کی تھی۔ دوسرے دور میں برطانوی حکمرانوں نے اپنے پر فریب وعدوں کے ذریعہ اپنی حکومت کو طول دیا اور ہندوستان کو سیکڑوں ریاستوں میں تقسیم کرکے کسی حکمراں کو اس قابل نہ رکھا کہ وہ برطانوی اقتدار کا مقابلہ کر سکے۔ تو عوام کو میدان میں اتارنے والے کون تھے؟ کیا علماء اسلام نے انگریزوں کے خلاف جہاد کے فتوے دیکر یہ ثابت نہیں کیا کہ عوامی جدو جہد کے اس دور میں بھی اسلامی ہی برطانوی سامراج کا سب سے بڑا مخالف ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں خود کو کمزور پاکر جہاد کو اسلام سے بے تعلق کرنے کی ناکام کوششیں آج بھی جاری ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہندوستان کی آزادی میں اسلام اور مسلمانوں کے سوا کسی اور کا حصہ نہیں ہے مگر اس سچ کو کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے کہ جنگ آزادی میں مسلمان کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ آزادی کی جدوجہد میں شیخ الہند مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی، اشفاق اللہ خان جیسے درجنوں سرفروش ملت اسلامیہ ہی کے چشم و چراغ تھے۔

سچ یہ ہے کہ اسلام کل بھی ہندوستان کا محسن تھا اور آج بھی ہے۔ اس موضوع پر ہم ہندوستان کے ہر مذہب و فکر کے حامل سنجیدہ لوگوں کو غور و فکر اور باہمی گفتگو کی دعوت دینا چاہتے ہیں۔ ہمارا پختہ خیال ہے کہ یہ مکالمات سب کے لئے مفید ہوں گے۔ اس طرح اگر بے بنیاد الزام تراشیوں اور جوابی الزامات کا سلسلہ رُک سکے گا تو اس کے علاوہ جو لوگ قومی مفاد کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں ان پر بھی یہ واضح ہو سکے گا کہ فی الواقع ملک کا مفاد کس میں ہے؟ اسلام دوستی میں یا اسلام دشمنی میں۔ !
جو لوگ اپنے آپ کو وطن پرست (دیش بھگت) ثابت کرتے ہیں اور اس ملک کو ہندو راشٹر بنانا چاہتے ہیں،آخر وہ ہندو راشٹر کا نعرہ لگاکر ہی کیوں رہ جاتے ہیں؟ کیا ہندو راشٹر ایک نعرہ ہے یا اس کا کوئی نظریہ اور نظام بھی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کی کوئی مثال اور تعریف کیوں پیش نہیں کرتے؟ کیوں نہیں بتاتے کہ کون سی ہندو کتاب کو اس میں اصل اہمیت حاصل ہوگی؟ اوراس سے کیا فائدہ ہوگا؟ کیوں نہیں بتاتے کہ اس میں منو اسمرتی کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی یا نہیں۔ کون سی راماین کو سرکاری درجہ ملے گا اور کیا اس کے مطابق ہندو راشٹر میں ڈھول اور پشو (جانور) کی طرح شودراور عورت کو بھی اذیت دی جاسکے گی یا نہیں؟ یہ سب کچھ چھوڑ کر محض اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرکے ہندو راشٹر کے لئے جواز پیدا نہیں کیا جا سکتا ۔

ہماری اس گفتگو کا محور اسلام ہے۔ آپ بے جانے بوجھے اسلام کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ اگر ہر وہ چیز جس کا تعلق اسلام اور مسلمانوں سے ہے نا قابل قبول ہے اور آپ کو ’’اسلام مکت بھارت ‘‘(بھارت بلا اسلام)چاہئے تو کیا آپ مسلم ملکوں کا پیٹرول استعمال کرنا چھوڑ دیں گے؟ لاکھوں غیر مسلم بھارتیوں کو جو سعودی عرب سمیت مسلم ملکوں میں ملازمت کر رہے ہیں ،واپس بلا لیں گے؟ آپ اس جانب توجہ کیوں نہیں کرتے کہ بھارت کا مفاد آج بھی اسلام اور مسلم دنیا سے وابستہ ہے۔ دنیا کے سیاسی منظر پر نظر ڈالیں ،اگر بھارت کا شمار مسلمانوں کے دوست اور خیر خواہ کی حیثیت سے ہوتا ہے تو اس میں کس کا فائدہ ہے؟ اگر بلاشبہ مسلم دنیا سے خوش گوار تعلق میں بھارت کا فائدہ ہے تو وہ کون سے وطن پرستی ہے جو پھر بھی اسلام مکت (بغیر اسلام )بھارت کا مطالبہ کرتی ہے۔

سطور بالا میں ہم نے جو اشارے کئے ہیں وہ صرف ان مفادات تک محدود ہیں جن کا تعلق دنیا سے ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام سب سے بڑھ کر ابدی فائدوں کی ضمانت دیتا ہے۔ انسان کا اصل فائدہ اور نقصان اس عارضی زندگی تک محدود نہیں ہے ،اور نہ ہی اس کی اس کامیابی کا تعلق اس عارضی اور فانی دنیا تک ہے۔ بلا شبہ اسلام دین کے معاملے میں زور زبردستی کی اجازت نہیں دیتا لیکن یہ دعوت ضرور دیتا ہے کہ انسان کی فلاح و کامرانی اللہ کے دین میں ہے۔ اور اسلام اللہ کا دین ہے، انسانوں کے رب کا دین ہے، یعنی سب کا دین ہے۔ ۔۔ اس کی دعوت پر اسی حیثیت سے غور کیا جانا چاہئے۔

ہندوستان کو ہندو راشٹر قرار دینے والوں کی اصل کمزوری یہ ہے کہ ان کے پاس اپنے خیالات کی کوئی مضبوط اور معقول بنیاد نہیں ہے۔ یعنی ہندوراشٹر (ہندو قوم )کی نہ صرف یہ کہ کوئی متعین تعریف نہیں ہے بلکہ لفظ ’’ہندو ‘‘بھی متنازعہ ہے۔ جس پر ہندو علماء کو اعتراض رہا ہے۔ اس کا استعمال قدیم ہندو مذہبی کتابوں میں نہیں ہوا ہے۔ بعض اس لفظ کو مسلمانوں کی دین بتاتے ہیں اور اس سے نفرت کرتے ہیں۔ اور اپنے لئے دوسرے الفاظ کے استعمال کی ترغیب دیتے ہیں۔ آریہ سماج نے خود کو آریہ ورت ثابت کیا۔ ویدک سماج کی بات کی۔ یہ گاڑی بھی آگے نہ چلی کیوں کہ ہندوستان میں آریوں کے علاوہ دوسری بہت سی قومیں بھی رہتی ہیں۔ دراصل ہندو راشٹر کا تصور قوم پرستی کا وہ جارحانہ تصور ہے جو ہندوستانی جغرافیائی قوم پرستی کے مقابلہ میں ہندو انتہا پسندوں نے ایجاد کیا اور جس کو ڈاکٹر ہیڈ گوار مونجے ،گولوالکر اور ساورکر جیسے سیاسی لوگوں نے ڈیزائن کیاہے ۔ اس تصور قوم پرستی کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ اپنے سوا ہندوستان کی دوسری قومیتوں اور مذاہب کی نفی کرتا ہے اور اس نفی کے لئے زور زبردستی کے علاوہ کوئی دلیل بھی نہیں رکھتے۔ ہندو قوم پرستی کا یہ نظریہ نہ صرف مسلمانوں ،عیسائیوں، سکھوں، بودھوں اور پارسیوں وغیرہ کے لئے ناقابل قبول ہے بلکہ ہندوستان کی سلامتی اور وحدت کے لئے بھی مہلک ہے۔ ان سب باتوں پر سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ تبادلۂ خیال اور غور و فکر کی اہمیت کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔

بنی اسرائیل کا عروج و زوال اور امت مسلمہ

اللہ تعالیٰ نے اس اعلان کے ساتھ انسان کی تخلیق کی ’’اِنِّی جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً۔بے شک میں زمین میں ایک خلیفہ بنا نے والا ہوں۔‘‘پھر اسی اعلان کو اولاد نوح کے لیے یوں دہرایا۔۔۔۔۔۔۔وَاذْکُرُوْا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَائَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ۔۔۔۔(۷:۶۹)’’اور یا دکرو جب تم کو قوم نوح کے بعد ان کا جانشین بنایا۔‘‘پھر یہی ندا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بلند ہوتی ہے اِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔میں تم کو(ابراہیم کو) انسانوں کا امام بنائوںگا۔انسان کے متعلق اللہ کے اس اعلان کو قرآن مجید نے مختلف الفاظ میں بیان کیا ہے ۔کہیں پر زمین پر نیابت تو کہیںخلافت،کہیں تمکین تو کہیں زمین کی وراثت سے تعبیر کیا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا گیا امامت کا وعدہ اولاد یعقوب ؑکے حق میں ایک زمانے تک پورا ہوتا رہا۔ ایک زمانے تک وہ اس سے فیض یاب ہوتے رہے اور اس کے تقاضوں کو بھی پورا کرتے رہے۔ پھر رفتہ رفتہ بنی اسرائیل کی روش میں تبدیلی رونما ہونے لگی اورخلافت ارضی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بجائے محض آبائی وراثت پر فخر و غرور باقی رہ گیا اور عمل سے فرار کی روش پیدا ہوگئی۔عمل سے فرار کا یہ مزاج جب انتہا کو پہنچا تو اس نے مجرمانہ شکل اختیا رکرلی اور بات یہاں تک پہنچی کہ یہود اپنے انبیاء و ناصحین کے دشمن بن گئے۔اس صورت حال پر آخری زمانے کے انبیائے بنی اسرائیل نے انہیں کافی تنبیہ کی ،لیکن جرائم کی شدت اتنی بڑھ چکی تھی کہ بالآخر زبانوں سے یہ اعلان ہونے لگا کہ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسٰی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہ’’ِ ہم نے مسیح عیسیؑ ابن مریم اللہ کے رسول کو قتل کیا‘‘تب اللہ خالق دو جہاں نے نسل براہیمی کے دوسرے حصے بنی اسماعیل سے آخری نبی کی بعثت کا فیصلہ کیا۔
عرب میں بنی اسرائیل کی آبادی کی وجہ مورخین ان پیشن گوئیوں کو بتاتے ہیں جو آخری نبی کے متعلق یہود کے پاس موجودکتب ِآسمانی میں پائی جاتی تھیں۔ جب آخری نبی کی بعثت بنی اسماعیل میں ہوئی تو بنی اسرائیل کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ تبدیل امامت تو نہیں؟لیکن وہ انتظار کرتے رہے کہ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔اس انتظار میں یہ اطمینان بھی پوشیدہ تھا کہ مسلمانوں کا قبلہ تو وہی ہے جو بنی اسرائیل کا ہے ۔گویا سیادت و قیادت پوری طرح سے منتقل نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ قرآنی آیات نے ان کے لیے آخری موقع کا اعلان کردیا ۔اس اعلان کے بعد بھی جب یہود رسول اللہ ﷺکے متعلق مخلص نہیں ہوئے تب تحویل قبلہ کا اعلان ہوا جو اس بات کا اعلان تھا کہ اب بنی نوع انسان کی رہنمائی کا تاج امت محمدیہ ﷺکے سر پر رکھاجاتا ہے جس کا قبلہ اور مرکز کعبۃ اللہ ہوگا۔اس اعلان کے بعد یہود نے وہی روش اختیار کی جو تخلیق آدم اور اسے مسجود الملائکہ بناتے وقت ابلیس لعین نے اختیار کی تھی کہ بجائے اپنی غلطی کو ماننے کے اس پر اڑ گیا کہ میں ثابت کرکے رہوںگا کہ بنی آدم خلافت ارضی کے لائق نہیں ہے۔ٹھیک اسی طرح یہود اس بات پر اڑ گئے کہ زمینی وراثت کے اصل حقدار ہم ہی ہیںاور ہم یہ ثابت کرکے بتائیں گے کہ مسلمان اس نعمت کے لائق نہیں ہیں ۔یہیں سے ملت اسلامیہ اور ملت یہود میںاس معرکہ کی ابتدا ہوئی ہے جو ہمیں تاریخ کے اوراق میں ملتا ہے اور جو اب تک جاری ہے۔اس معرکہ خیر و شر میں ثبات قدمی کے لیے جتنی چیزیں ضروری تھیں ان تمام سے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات نے آگاہ کردیا۔ قرون اولیٰ کی امت اس سے اتنی زیادہ واقف تھی کہ اس بنا پر وہ ہر وقت اپنی ذمہ داری سے آگاہ اور دشمن سے چوکنا رہی۔مسلمان جب تک اصولی زندگی گزارتے رہے ،یہ امامت و خلافت کا تاج انہیں کے سر پر جگمگاتا رہا،لیکن جیسے جیسے امت اپنے اصولوں کو فراموش کرتی چلی گئی ویسے ویسے وہ اپنی اصل حیثیت سے غافل ہوتی چلی گئی۔ بالآخر خلافت ارضی کی یہ خلعت ان سے چھین لی گئی اور وہ زمین کے ہر گوشے میں ذلیل و خوار کردیے گئے۔
اس مقام پر آکرہمیں غور کرنا چاہیے کہ امت کے عروج و زوال کافلسفہ کیاہے؟امت مسلمہ کے وجود کا مقصد کیا ہے؟کیا ہم محض دنیا میں دوسری قوموں کی طرح ایک قوم ہیں؟ان جوابات سے پہلے اس سوال کا جواب معلوم کرنا ہوگا کہ نبی و رسول کی بعثت کا مقصد کیا ہے؟اور نبی آخر محمد رسول اللہ ﷺکو اللہ نے کس مقصد کے لئے مبعوث کیا تھا؟ آپﷺ خاتم النبیین ہیں اس لیے تمام انبیاء و رسل جس مقصد سے بھیجے گئے اس کو رسول آخر ﷺنے تمام و کمال تک پہنچایاہے ۔اس پوری بحث کا حاصل سمجھنا ہمارے لیے اس لیے بھی ضروری ہے اسی میں امت کے عروج و زوال کے اسباب مضمر ہیں۔
نبوت کا مقصد:
ذیل میں طویل بحث سے بچتے ہوئے محض ان آیات کے پیش کردیے جانے پر اکتفا کیا جا رہا ہے جو سابق انبیاء علیہم السلام کے بعثت کے مقصد کو واضح کرتی ہیں۔
(۱) ’’ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا،چنانچہ اس نے کہا:اے میری قوم!تم اللہ کی عبادت کرو،اس کے سوا تمہارے لیے کوئی الہ نہیں۔‘‘ُ(اعراف:۵۹)
(۲) ’’اور آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول بھیجا،اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ بے شک میرے سوا کوئی معبود نہیں،لہٰذا تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘َ(انبیائ:۲۵)
(۳) ’’اور بلا شبہ ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجاکہ اللہ کی عبادت کرو،تو اسی وقت وہ لوگ دو فریق(مومن اور کافر)ہوکر جھگڑنے لگے۔‘‘(نمل:۴۵)
(۴) ’’اور یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو،اور طاغوت سے بچو۔‘‘(نحل:۳۶)
(۵) ’’اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جو ہم نے (اے نبیﷺ)آپ کی طرف وحی کیا ہے اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم،موسیٰ اورعیسیٰ کو دیا تھا کہ تم اس دین کو قائم رکھواور تم اس میں فرقہ فرقہ نہ ہوجائو۔ ‘‘(شوری:۱۳)
(۶) ’’اے نبیﷺ)کہہ دیجیے:اے اہل کتاب!تم ہر گز اصل دین پر کاربند نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ تم تورات اور انجیل اور اپنے رب کی طرف سے نازل کی گئی (دوسری)کتابوں کے احکام کو ٹھیک ٹھیک قائم نہ کرو۔‘‘(مائدہ:۶۸)
مندرجہ بالا آیات میں لفظ ’’عبادت‘‘قابل غور ہے،اس لیے کہ عبادت کو محض پوجا اور پرستش کے معنی میں لینے کی وجہ سے دین اسلام کا حقیقی مفہوم بدل گیا ہے۔ہم صرف ایک مثال دیںگے۔ قرآن مجید نے فرعون اور اس کے وزراء کا ذکر کرتے ہوئے یہ وضاحت کی کہ جب انہوں نے بنی اسرائیل پر اپنے تسلط کا اظہار کیا تو یوں کہا’’فَقَالُوْا اَنُوْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمَھُمَا لَنَا عَابِدُوْنَ۔(المومنون:۴۷)’’چنانچہ وہ کہنے لگے کہ کیا ہم اپنی ہی طرح کے دو انسانوں پر ایمان لائیں ،جب کہ ان کی قوم کے لوگ ہمارے غلام(ماتحت)ہیں۔‘‘ابن اثیر کا قول ہے:معنی العبادۃ فی اللغۃ الطاعۃ مع الخضوع’’لغت میں عبادت کے معنی ہیں ،اطاعت عاجزی کے ساتھ۔‘‘(تاج العروس۲:۴۱۰؍قرآنی اصطلاحات اور علماء سلف و خلف ص۱۲۳)گویا عبادت محض پرستش نہیں ہے بلکہ انسان کا اپنے آپ کو کلی طور پراللہ کی غلامی اور اطاعت میں دے دینا ہے۔اور تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت یہی تھی کہ قوم اپنی زندگی کا اختیار اللہ کے حوالے کردے۔بس اسی دعوت کو لے کر خاتم النبیین ﷺ تشریف لائے۔
رسول اللہ ﷺکامقصد بعثت:
یہ بات جان لیجیے کہ دین کی اقامت اور اس کا غلبہ نبی اکرم ﷺکی بعثت کے بنیادی مقاصد میں سے ہیں۔یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سورہ الصف کی مرکزی آیت کے حوالے سے ہمارے سامنے آئے گی۔ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ اس میں اگر کسی کو اشتباہ ہے ،اور نیک نیتی کے ساتھ اشتباہ ہے تو وہ اللہ کے ہاں تو عذر پیش کر سکے گا ،لیکن واقعہ یہ ہے کہ دین کو دنیا میں ایک عملی اور ایک زندہ نظام کی حیثیت سے قائم اور برپا کرنا بعثت محمدیﷺ کا بنیادی مقصد ہے۔اسی کے لیے محنت،اسی کے لیے جد و جہد،اسی کے لیے کوشش،اسی کے لیے جینا،اسی کے لیے مرنا،اسی میں جان و مال کھپانا بندئہ مومن کے ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔
(سورئہ الصف کی تفسیر از ڈاکٹر اسرار ؒ،ص۱۹/۱۸)
وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ کی تفسیر میں مولانا امین احسن ؒ لکھتے ہیں:’’حضرات انبیاء علیھم السلام کی دعوت میں توحید کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے یعنی صرف اللہ کی کبریائی و یکتائی کا اعلان۔مفعول کی تقدیم سے یہاں حصر کا مضمون پیدا ہوگیا ہے۔یعنی اللہ کے سوا جو بھی کبریائی کے مدعی ہیں یا جن کی کبریائی کا بھی دعویٰ کیا جاسکتا ہے وہ سب باطل،تم صرف اپنے رب ہی کی عظمت و کبریائی کا اعلان کرو۔‘‘
اللہ رب العزت نے نبی آخر ﷺکی بعثت کا مقصدتین مقام پر تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ بیان کیا ہے :
ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ و لو کرہ المشرکون۰یہ آیت سورہ صف اور سورہ توبہ میں آئی ہے اورسورہ فتح کے آخری رکوع میں آیت نمبر ۲۸:ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شھیدا۔
مولانا مودودی ؒ جاہلی نظام کے متوالوں کا ذکر کرنے کے بعد رقم طراز ہیں:’’اللہ کا رسول ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ اس لیے بھیجا گیا ہے کہ جو ہدایت اور دین حق وہ اللہ کی طرف سے لایا ہے اسے پورے دین،یعنی نظام زندگی کے ہر شعبے پر غالب کردے۔یہ کام اسے بہرحال کرکے رہنا ہے۔کافر اور مشرک مان لیں تو،اور نہ مانیں تواور مزاحمت میں ایڑی چوٹی کا زور لگادیں تو،رسول کا یہ مشن ہر حالت میں پورا ہوکر رہے گا۔‘‘
(تفہیم القرآن،سورہ المدثر،ص۴۷۷)
ابن کثیر نے آیت ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ و لو کرہ المشرکون۰(سورہ توبہ:۳۳)کی تفسیر میں یہ روایت نقل کی کہ:حضرت عدیؓ فرماتے ہیں،میرے پاس رسول کریمﷺ تشریف لائے۔مجھ سے فرمایا۔’’اسلام قبول کر،تاکہ سلامتی ملے۔‘‘میںنے کہا میں تو ایک دین کو مانتا ہوں۔آپﷺ نے فرمایا۔’’تیرے دین کا تجھ سے زیادہ مجھے علم ہے۔‘‘میں نے کہا سچ؟آپﷺنے فرمایا ’’بالکل سچ۔کیا تو رکوسیہ میں سے نہیں ہے؟کیا تو اپنی قوم سے ٹیکس وصول نہیں کرتا؟‘‘میں نے کہا یہ تو سچ ہے۔آپﷺ نے فرمایا’’ تیرے دین میں یہ تیرے لیے حلال نہیں۔‘‘پس یہ سنتے ہی میں تو جھک گیا۔آپﷺ نے فرمایا:’’میں خوب جانتا ہوں کہ تجھے اسلام سے کون سی چیز روکتی ہے؟سن صرف ایک یہی بات تجھے روک رہی ہے کہ مسلمان بالکل ضعیف اور کمزور و ناتواں ہیں،تمام عرب انہیں گھیرے ہوئے ہے،یہ ان سے نپٹ نہیں سکتے لیکن سن حیرہ کا تجھے علم ہے؟‘‘میں نے کہا دیکھا تو نہیں لیکن سنا ضرور ہے۔آپﷺ نے فرمایا:’’اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امر دین کو پورا فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سانڈنی سوار حیرہ سے چل کر اکیلے امن کے ساتھ مکہ مکرمہ پہنچے گا اور بیت اللہ شریف کا طواف کرے گا۔واللہ تم کسریٰ کے خزانے فتح کروگے۔‘‘میں نے کہا۔کسریٰ بن ہرمز کے؟آپﷺ نے فرمایا:’’ہاں کسریٰ بن ہرمز کے۔تم میں مال کی اس قدر کثرت ہو پڑے گی کہ کوئی لینے والا نہ ہوگا۔‘‘اس حدیث کو بیان کرتے وقت حضرت عدی ؓنے فرمایا،رسول اللہ ﷺ کا فرمان پورا ہوا۔یہ دیکھو آج حیرہ سے سواریاں چلتی ہیں ۔‘‘گویا غلبہ دین کے بغیر کار نبوت مکمل نہیں ہو سکتا۔
اسی آیت کی تشریح میں شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ تحریر کرتے ہیں:’’اسلام کا غلبہ باقی ادیان پر معقولیت اور حجت و دلیل کے اعتبار سے ،یہ تو ہر زمانے میں بحمداللہ نمایاں طور پر حاصل رہا ہے۔باقی حکومت و سلطنت کے اعتبار سے وہ اس وقت حاصل ہوا ہے اور ہوگا جب مسلمان اصول اسلام کے پوری طرح پابند اور ایمان و تقوی کی راہوں میں مضبوط اور جہاد فی سبیل اللہ میںثابت قدم تھے یا آئندہ ہوںگے اور دین حق کا ایسا غلبہ کہ باطل ادیان کو مغلوب کرکے بالکل صفحہ ہستی سے محو کردے،یہ نزول مسیح ؑ کے بعد قریب قیامت کے ہونے والاہے۔‘‘لیظھرہ علی الدین کلہکی وضاحت میںصاحب روح البیان لکھتے ہیں:’’لیجعلہ ظاہرا ای عالیا وغالبا علی جمیع الادیان المخالفۃ لہ‘‘(روح البیان جلد ۹،ص۵۰۴)
اس پوری بحث سے یہ امر اظہر من الشمس ہوجاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا مقصد بعثت غلبہ دین ،اقامت دین یا اعلاء کلمۃ اللہ تھا۔چنانچہ جب آپﷺ نے کار نبوت کی یہ ذمہ داری مکمل کی تب جس رب نے آپﷺ کو قُمْ فَأَنْذِرْ۰وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ کا حکم دیا تھا اسی نے اعلان کیا کہ:الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا(مائدہ:۳)۔حجۃ الوداع کے موقع سے رسول اللہ ﷺ نے کار نبوت کی یہ ذمہ داری اپنی امت پر عائد کی۔
مسلمانوں کا عروج:
قرن اول کے مسلمانوں کے عروج پر حالی مرحوم نے جو کچھ کہا خوب کہا:
گھٹا اک پہاڑوں سے بطحا کے اٹھی پڑی چار سو یک بیک دھوم جس کی
کڑک اور دمک دور دور اس کی پہنچی جو ٹیگس پہ گرجی تو گنگا پہ برسی
رہے اس سے محروم آبی نہ خاکی
ہری ہوگئی ساری کھیتی خدا کی
رسول خدا ﷺامت کو جوپیغام دے گئے اول دور کے مسلمانوں نے اسے اس طرح اپنے دانتوں سے پکڑا کہ بس وہی پیغام ان کا اوڑھنا بچھونا ہوگیا۔ کار نبوت کو لے کر ساری دنیا میں پھیل گئے ،انہوں نے زمین کی خشکی و تری کو اپنے گھوڑوں کے سموں تلے روندا،کبھی یورپ کے کلیسا ان کی اذانوں سے گونجتے تو کبھی افریقہ کے تپتے صحرا، انسانوں کی کوئی آبادی باقی نہ رہی کہ جہاں تک حکم خدا وندی نہ پہنچا دیا ہو۔فتح و کامرانی کا یہ سلسلہ خلفاء راشدین مہدین کے مبارک دور سے شروع ہوکر خلافت بنو امیہ،بنو عباس اور خلافت عثمانیہ تک دراز ہے۔بقول اقبالؔ
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی کلمہ پڑھتے تھے ہم چھائوں میں تلواروں کی
اگر ہم امت مسلمہ کے دور عروج کو دیکھیں تو اس کے کچھ بنیادی اسباب سمجھ میں آتے ہیں۔جو جماعت رسول ا للہ ﷺ کی معیت میں تربیت پاکر تیار ہوئی تھی ’’قرآن برابر ان کے قلوب کو طاقت اور گرمی بخشتا رہا،رسول اللہ ﷺکی مجالس سے ان کو استحکام ،خواہشات نفس پر قابو ،رضائے الٰہی کی سچی طلب اور اس کی راہ میں اپنے کو مٹانے کی عادت،جنت سے عشق ،علم کی حرص،دین کی سمجھ اور احتساب نفس کی دولت حاصل ہوئی،وہ لوگ چستی و سستی میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتے،جس حال میں ہوتے خدا کی راہ میں اٹھ کھڑے ہوتے،یہ لوگ رسول اللہ ﷺکی معیت میں ۱۰ سال کے اندر ۲۷ بار جہاد کے لیے نکلے اور آپﷺ کے حکم سے ۱۰۰ مرتبہ سے زائد کمر بستہ ہوکر میدان جنگ کی طرف گئے،ان کے لیے دنیا سے بے تعلقی آسان بن گئی تھی،اہل و عیال کے مصائب برداشت کرنے کے عادی بن گئے تھے،قرآن کی آیات وہ بے شمار احکام لائیں جو ان کے لیے پہلے سے مانوس نہ تھے،نفس و مال،اولاد و خاندان کے بارے میں احکام نازل ہوئے جن کی تعمیل کچھ ہنسی کھیل نہ تھی،لیکن خدا اور رسول کی ہر بات ماننے کی عادت پڑ گئی تھی،شرک و کفر کی گتھی جب سلجھ گئی تو ساری گتھیاں ہاتھ لگاتے ہی سلجھ گئیں،رسول اللہ ﷺ نے ایک بار ان کے ایمان کے لیے کوشش فرمائی،پھر ہر امر و نہی اور ہر نئے حکم کے لیے مستقل کوشش اور جد و جہد کی ضرورت نہ رہی۔(انسانی دنیا پر مسلمانوںکے عروج و زوال کا اثرص۹۹)یہ وہ خصوصیا ت ہیں جو مسلمانوں میں نبی کریم ﷺ کی صحبت کی وجہ سے پیدا ہوئی تھیں۔ان تمام خصائص میں وہ بنیادی اوصاف کیا تھے جو مسلمانوں کے اقبال و سربلندی کی وجہ بنے،انہوں نے اس وقت کی تہذیب یافتہ اور اپنے سے زیادہ طاقتور اقوام کے مقابلہ میں خود کو کیسے صحیح ثابت کیا کہ بنی نوع انسانیت آنکھیں بند کرکے ان کے پیچھے چل پڑی، آخر وہ کیا گر تھے جن کی بنا پرانہوںنے زندگی کے مختلف میدانوں میں خودکو دوسروں سے بہتر ثابت کیا اور دنیا نے مان لیا،عروج و غلبہ کے ان اسباب کا جاننا ہمارے لیے اس وجہ سے ضروری ہے تا کہ یہ معلوم ہو کہ امت مسلمہ زوال کا شکار کیوں ہوئی۔وہ کیا اسباب تھے کہ جن کی وجہ سے امت اپنے مقام و مرتبہ سے ایسے غافل ہوئی کہ ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا۔
اسباب عروج:
قرآن مجید ہمیں غالب اقوام کی تاریخ سے واقف کراتا ہے تو اس کے کچھ اسباب بھی بتاتا ہے۔اقوام عالم پر غلبہ و تمکنت اور اقتدار اپنے حاملین سے کچھ تقاضے بھی کرتا ہے،جو قومیں غلبہ کی ان ضروریات کو پورا کرتی ہیں وہی اس کی حقدار بھی ہوتی ہیں اور ان کادور اقتداربھی طویل ہوتا ہے۔چنانچہ غالب اقوام میںعاد و ثمود کے علاوہ تفصیلی ذکر بنی اسرائیل کاملتا ہے۔
بنی اسرائیل کے زوال کے بعد چونکہ امت مسلمہ ہی کو دنیا کی امامت سے سرفرازکیا گیا تھا،اس لیے قرآن مجید نے امت کو عروج کے اسباب اور زوال امت کی وجوہات سے اول روز ہی واقف کرا دیا تاکہ مسلمان شروع ہی سے چوکنا رہیں۔امت مسلمہ کے عروج و تمکنت کے جن اسباب کو ہم شمار کر سکتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہو سکتے ہیں۔
(۱) قانون خدا کی بالاتری:حکمراں انسان جب یہ بھول جائے کہ وہ کسی کے سامنے جواب دہ ہے،کوئی اس کی نگرانی کر رہا ہے اور وہ ایسی ہستی ہے جو اس کے بیرون سے جس طرح واقف ہے ایسے ہی اس کے اندرون سے بھی واقف ہے،تب وہ انانیت کا شکار ہوکر فرعونیت کا دعویدار ہوجاتا ہے۔اور یہی کبر و غرور اس کے وجود کو عام لوگوں کے لیے فتنہ و آزمائش اور خود اس کے زوال کا سبب بن جاتا ہے۔چنانچہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو یہ درس دیا کہ وہ اس زمین پر اصل حاکم نہیں بلکہ اصل حاکم کے نائب یعنی خلیفہ ہیں۔یہ احساس و شعور ہی انسان کو قابو میں رکھتا ہے اور وہ اپنی پسند و ناپسندکو الٰہی قانون کے تحت رکھتا ہے۔مسلمانوں کی یہ وہ بنیادی صفت تھی جس نے انہیں اپنوں اور غیروں سب کے لیے یکساں کردیا تھا کہ قاضی کے کٹگھرے میں خلیفہ و ذمی دونوں برابر کے درجہ میں تھے۔یہ الٰہی قانون کا ہی کرشمہ تھا کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓنے جب دیکھا کہ ہم اہلیان شہر کی حفاظت نہیں کر سکتے تو آپ نے شہر والوں کا ٹیکس واپس کردیا ،اس کا نتیجہ کیا ہوا ہم سب جانتے ہیں۔
(۲) بے مثال قیادت:جس وقت مسلمان میدان عمل میں آئے دنیا کی ساری قیادتیں زنگ آلود ہو چکی تھیں اور مختلف روگوں نے انہیں گھن کی طرح کھا لیا تھا۔مسلمانوں نے انہیں قیادت کے منصب سے معزول کرکے دنیا کو اپنے تصرف میں لایا اور انسانوں کو اپنے ساتھ لے کرخدائی قانون کی روشنی میں متوازن اور صحیح رفتار کے ساتھ منزل مقصود کی طرف بڑھنا شروع کیا۔وہ حکومت کے منصب پر مصبوط اخلاقی تربیت اور مکمل تہذیب نفس کے بعد فائز ہوئے تھے،وہ سالہا سال رسول عربی ﷺکی تربیت میں رہے تھے،اس کا نتیجہ یہ تھا کہ دن بھر خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد بھی راتوں میں جاگ جاگ کر رعایا کی نگرانی و ضرورتوں کا خیال رکھتے تھے،وہ ایسے کہ :
کفایت جہاں چاہئے واں کفایت سخاوت جہاں چاہئے واں سخاوت
جچی اور تلی دشمنی اور محبت نہ بے وجہ الفت نہ بے وجہ نفرت
جھکا حق سے جو جھک گئے اس سے وہ بھی
رکا حق سے جو رک گئے اس سے وہ بھی
وہ نسلی ،رنگی اور تہذیبی تعصبوں کے ساتھ دنیا میں نہیں نکلے تھے بلکہ وہ تو اس لیے میدان میں آئے تھے کہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں لے آئیں۔ان کی نگاہ میں امیر و غریب اور حاکم و محکوم کوئی قانون سے بالا تر نہ تھا۔وہ ایک ابر کرم تھے ،جو تمام عالم پر محیط تھا اور اس کا فیض سب کے لیے عام تھا۔گویا: رہے اس سے محروم آبی نہ خاکی ہری ہوگئی ساری کھیتی خدا کی
وہ ایسی قیادت تھی جو نہ اپنوں پر بلا وجہ فیاض تھی اور نہ غیروں کے حقوق کو پامال کرتی تھی،جو نہ ظالم تھی اور نہ ظلم کو قبول کرتی تھی،جس نے ذمیوں کی حفاظت کا ذمہ لیا اور پورا کیا تو اپنوں کی ایسی حفاظت کی کہ آج اپنی بے بسی و بے مائگی پر بے اختیار آنسو نکل آتے ہیں۔
(۳) ذمہ دار معاشرہ:رسول اللہ ﷺکی نبوت کے وقت انسانی سماج مختلف رنگ و نسل اور اونچ نیچ کا شکار تھا،سوسائٹی پر ان کا اختیار تھا جو خاندانی و مالی اعتبار سے بڑے سمجھے جاتے تھے۔اس بڑے پن میں بڑوں کو نہ اپنے چھوٹو ں کی پسند و ناپسند کا احساس تھا اور نہ چھوٹوں کو اس کااختیار،نتیجہ یہ ہوا کہ سماج سے ایک دوسرے کی ذمہ داری کا احساس ختم ہوگیا۔اسلام نے اس ترتیب ہی کو پلٹ دیا،اب اسلامی معاشرہ کا ہر فردذمہ دار تھا،اس کی عقل و بلوغ اور اس کے شعور کو تسلیم کیا جا چکاتھا،وہ چاہے باپ کی حیثیت میں ہو یا ماںکی،وہ چاہے حکمراں ہو یا پھر رعایا،ایک عام مسلمان کی بات کا اتنا ہی وزن تھا جتنا کہ سپہ سالار کا کہ اگر عام مسلمان اپنے دشمن کو امان دے دیتا تو امیر بھی اسے اپنی دی امان سمجھتا تھا۔معاشرہ میں یہ احساس اپنی آخری انتہا کو پہنچ چکا تھا کہ لا طاعۃ المخلوق فی معصیۃ الخالق یعنی خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت نہیںکی جاتی۔ان کا امیر عوام کا سرپرست تھا تو عوام اپنے خلیفہ کی اولاد کے مانند۔
(۴) احتساب نفس اور ملامت ضمیر:اول دور کے مسلمانوں میں احتساب نفس کا ذوق ایسا پروان چڑھ چکا تھا کہ تنہائی میںہونے والی خطا بھی انہیں چین نہیں لینے دیتی تھی،پھر چاہے وہ ماعز بن مالک اسلمی ہوں یا پھر غامدیہ ہوں ،یا پھر نافق حظلہ نافق حنظلہ کی صدائیں ہوں۔اس احتساب نفس نے انہیں خودکی زندگی میں بھی اور اپنے حکمرانوں کے اقتدار میںبھی خوب باریک بیں بنا دیا تھا۔
(۵) امانت و دیانت:عرب کے بدو جو اپنی ڈاکہ زنی میں ضرب المثل تھے،امانت میں خیانت کا عام چلن تھا،چوری چکاری نے بہادری کا جامہ پہن لیا تھا،یہی عرب جب اسلام سے مشرف ہوئے تو امانت و دیانت کے ایسے خوگر ہوئے کہ آج تک زمانہ ان کی قسمیں کھاتا ہے۔مدائن کے میدان میں جب مسلمانوں کو فتح ملی اورمال غنیمت جمع کیا جانے لگا تو ایک شخص نے انتہائی قیمتی مال لاکر جمع کیا ،وہ اتنا قیمتی مال تھا کہ اب تک جتنا مال جمع ہوا تھا وہ بھی اس مال کے بالمقابل کچھ نہ تھا،لوگوں نے نام پوچھا تو اس نے کہا کہ میں یہ بتا نہیں سکتا کہ تم تعریف کروگے ،سب تعریف اللہ ہی کی ہے۔ایسے بے شمار واقعات تاریخ اسلامی کے صفحات میں محفوظ ہیں۔
(۶) عدل بین الناس:اس معاشرہ نے رسول اللہ ﷺ کی یہ بات اپنی گرہ میں باند ھ لی تھی کہ ’’تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں وہ اسی لیے تو تباہ ہوئیں کہ وہ لوگ کم تر درجے کے مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دیتے تھے اور اونچے درجے والوں کو چھوڑدیتے تھے۔‘‘عدل و انصاف کی ایسی لازوال تاریخ رقم کی کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
(۷) بے نظیر شجاعت اور زندگی کی حقارت:وہ عرب جو دور جہالت میں اپنی شان و افتخار کے لیے لڑا کرتے اسلام نے لڑائی کے اس رخ کو یوں تبدیل کیا کہ پھر تو زخم کے ساتھ زبان یہ صداء لگانے لگی کہ فزت برب کعبۃ۔چاہے میدان احد میں خنساء ؓکی بے نظیر بہادری ہو یا انس بن نضر ؓ جن کے جسم پر ۸۰سے زیادہ زخم گنے گئے،شجاعت و بہادری اور شہادت کا شوق اس قدر سر چڑھ کر بولتا تھا کہ عمر بن جموح ؓایک پیر سے معذوررسول اللہ ﷺسے اپنی خواہش کا اظہار یوں کرتے ہیں ’’یا رسول اللہ !یہ میرے بیٹے مجھ کوآپﷺ کے ہمراہ نکلنے سے روکتے ہیں اور بخدا میری یہ تمنا ہے کہ میں اپنے اسی معذور پائوں سے جنت میں چلوں پھروں‘‘،یہ واقعات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو بتا تا ہے کہ قرون اولی کے مسلمان اپنی بے نظیر شجاعت و بہادری میں کیسے ضرب المثل تھے اور ختم ہوجانے والی زندگی کے تعلق سے کیسے بیزار تھے۔
(۸) اطاعت و تابعداری،۹)مکمل سپردگی،۱۰)انسانی گلدستہ،۱۱)انسانوں کے غمخوار:
جو معاشرہ سرکشی میں اپنی مثال آپ تھا،جہاں انانیت ہی سب کچھ تھی،جو انسانوں کو خون میں تڑپتا دیکھ کراپنے سینہ کو ۵۶/ اینچ کاکردیا کرتے تھے،وہی جب اسلام کی آغوش میں آئے تو ایسی منضبط زندگی گزارنی شروع کی کہ چشم فلک نے اطاعت شعاری کی ایسی نظیر نہیں دیکھی،اپنے آپ کو جب رسول اللہ ﷺ کے حوالے کردیا تو پھر سارے پسند و ناپسند کے دھارے تبدیل ہوگئے،اب اپنا کچھ نہ رہا ،جوکچھ تھا وہ خدا و رسولؐ کا تھا،اللہ ورسول ؐکے نام پر باہم ایسے شیر و شکر ہوئے کہ ماں جائے سگے بھائی بھی اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر تھے،ایسا انسانی معاشرہ وجود میں آیا کہ جس میں ہر شخص دوسرے کا خیر خواہ تھایہاں تک کہ صاحب کتاب نے اس کی تصدیق کردی وَیُوْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ۔یہ اخلاص و للٰہیت محض اپنوں کے لیے خاص نہ تھی بلکہ یہ عام فیض تھا جس سے ہر کوئی اپنا و غیر فائدہ اٹھا سکتا تھا۔
استغنا :رسول اللہ ﷺکی صحبت نے انہیں دنیوی زندگی سے اس قدر بے نیاز کردیا تھا کہ وہ نعمت کے ملنے کو اپنے لیے آزمائش سمجھتے تھے،وہ اپنے لیے دنیا سے اتنا ہی لینا کافی جانتے تھے جس سے کہ دو وقت کا کھانا ہوجائے،ان کے لیے اتنا بھی گوارا نہ تھا کہ وہ پیٹ بھر کر کھاہی لیتے،استغنا کی یہ کیفیت محض کھان پان تک محدود نہ تھی بلکہ اقتدار و حکومت میں بھی ان کا معاملہ ایسا ہی تھا۔ (جاری)

(قسط دوم)

بابائے اردومولوی عبدالحق کا مکتوب گاندھی جی کے نام

مکرمی گاندھی جی ! میں بہت دنوں سے سوچ رہاتھا کہ آپ کو خط لکھوں مگر اس خیال سے بازرہاکہ آپ جیسے عالی مرتبہ لیڈر نے جو دنیا کا وسیع تجربہ رکھتاہے اور مقبول خاص وعام ہے، قیام امن کے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے تو آپ کو اس بارے میں لکھنا سورج کو چراغ دکھانا ہے لیکن جب میں نے دیکھا کہ باوجود آپ کی کوشش کے معاملہ حد سے گزرچکاہے اور پانی سرسے اونچا ہوگیاہے تو میں نے بہت تامل کے بعد چند سطریں آپ کو لکھنے کی جرأت کی ہے ۔ میں نے کبھی ملکی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ میں اپنے آپ کو اہل نہیں سمجھتا لیکن میں بے خبر بھی نہیں رہاہوں، انڈین نیشنل کانگریس، مسلم لیگ اور سیاسی جماعتیں میرے سامنے وجود میں آئیں اور میں ان کا لٹریچر برابر پڑھتا ہوں اور میں نے ان کے بعض لیڈروں اور رازدانوں سے سیاسی امور اور نظریوں کے متعلق باتیں بھی کی ہیں۔ اس زمانے میں بہت سے اختلاف اور تنازع پیش آئے لیکن اس وقت جو حالت رونما ہوئی ہے اور جسے لکھتے ہوئے قلم کانپتاہے اور دل خون ہواجاتاہے ،اس کا کسی کو سان وگمان بھی نہیں تھا۔ آپ نے ضرور غور کیا ہوگا کہ ایسا کیوں ہوا ،آپ نے اور آپ کے ہم خیال کانگریسی لیڈروں نے اس کا سبب دوقوموں کے نظریے اور پاکستان کی تحریک کو قرار دیا ہے۔ دوقوموں کے نظریے کا الزام قائد اعظم محمدعلی جناح کو دیاگیاہے۔ یہ صحیح نہیں ہے اور واقعات اس کی تائید نہیں کرتے۔ یہ نظریہ نیا نہیں ہے بہت پرانا ہے ان کے بانی ہندو ہیں۔ جب ملک ہندوستان کی حکومت ۱۸۵۷ء کے بعد باقاعدہ طور پر گورنمنٹ برطانیہ کے ہاتھ میں آئی تو اس وقت سے ہندوستان میں قومی احیاء کا خیا ل پیدا ہوا ، اس کو سوامی دیانندسرسوتی کی آریائی تحریک نے بہت زیادہ پختہ اور مستحکم کردیا۔ اس تحریک کا مقصد ویدک کلچر، ویدک روایات، ویدک مذہب اور سنسکرت زبان کا ازسرنو زندہ کرنا تھا۔ سوامی جی نے عجیب عجیب طریقوں سے آریائی قوم کو سب قوموں سے فائق، آریائی مذہب اور کلچر کو تمام مذاہب اور کلچروں سے برتر اور سنسکرت زبان کو باقی زبانوں سے افضل ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اسی پر اکتفانہیں کیا بلکہ مذہب اسلام اور پیغمبرؐاسلام کی سخت مذمت اور توہین کی اور ہندوئوں کے دلوںمیں مسلمانوں کی طرف سے نفرت پیداکی۔
اس قومی احیاء اور برتری کے خیال نے ایک بات اور سمجھائی وہ یہ کہ اپنی قومیت کے لئے اپنی ایک زبان بھی الگ ہونی چاہئے۔ اس خیال نے دوقوموں کی تعریف کو ایسا مکمل کردیا کہ پھر ان کو ایک ہونے کی کوئی توقع باقی نہ رہی۔ چنانچہ اس بناپر ہندوئوں نے منظم طور پر کوشش کی کہ دفتروں عدالتوں اور مدرسوں سے اردو خارج کرکے ہندی رائج کی جائے۔ اس سے ہندوئوں اور مسلمانوں میں شدیداختلافات اور تنازعہ پیداہوا، یہاں تک کہ سرسیداحمدخان جیسا شخص جس کی تمام اصلاحی تحریکیں، تعلیمی ،عملی، معاشرتی ،لسانی خدمات ، ملک کے سب باشندوں کے لئے یکساں تھیں۔ جن میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے جن میں ہندومسلم کی تفریق کا بھولے سے بھی خیال نہیں آیاتھا ، بیزار ہوکر یہ کہہ اٹھا کہ اب ہم مل کر کام نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا یہ تھاکہ یہ زبان جو ہندو اور مسلمان دونوں کی یکجہتی سے وجود میں آئی اور ان دونوں کی کوشش سے بڑھی اور پھولی پھلی، اسے صرف اس لئے واپس نکالا جارہاہے کہ وہ اسلامی عہد کی یادگار ہے۔ شدھی سنگھٹن کے ہنگامے میں اس خیال نے زور پکڑلیا اور آخر میں آپ نے اپنے اصول عدم تشدد کے تحت بڑی خوبی اور ترکیب سے اس بھڑکتی ہوئی آگ پر آہستہ آہستہ تیل چھڑکنا شروع کردیا جس کے شعلے دور دور تک پہنچے اور آپ کی بدولت یہ فتنہ جو شمالی ہند کے بعض خاص علاقوںتک محدود تھا سارے ملک میںایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیل گیا اس کے بعد کسی کو شک نہ رہا کہ ہندواور مسلمان دوالگ قومیں ہیں۔
یہ تو تھا مذہبی اورتہذیبی پہلو۔ اب سیاست کی طرف آیئے۔ سیاسی اختلافات بھی ہندوئوں اور مسلمانوں میںنہیں ہیں یہ ایک مدت سے چلا آرہاہے لیکن دونوں قوموں میں بعض ایسے نیک دل اور ملک کے سچے دوست بھی تھے جو اس ناگوار تنازعہ کو سلجھانے کی کوشش کرتے رہے۔ متعدد بار ایسے مواقع آئے لیکن ہر بار انڈین نیشنل کانگریس کے بعض سربرآوردہ لیڈروں نے خفیف سی باتوں پر اڑکر سمجھوتے کوناکام کردیا ۔ جب کانگریسی حکومت کادورآیاتواس وقت بھی صوبائی حکومتوںکا برتائومسلمانوں سے اچھا نہ رہا اور کھلے طور پر ثابت ہوگیا کہ ان محبان وطن سے انصاف کی توقع رکھنا عبث ہے۔ یہ مواد آہستہ آہستہ پکتا رہا اور آخر پھوٹ کر بہا۔ تنگ اور بے زار ہوکر مسلمانوںنے تقسیم کا مطالبہ کیا کیونکہ عزت کی زندگی بسر کرنے کی کوئی دوسری صورت نظرنہیں آتی تھی۔ غرض دوقوموں کا نظریہ ہندوئوں کا پیداکیا ہواہے اور انہی کی بدولت پاکستان کا خیال وجود میں آیا۔ نہ وہ مسلمانوں کو ذلیل وتنگ کرتے نہ یہ نوبت آتی۔ آپ صاحبان نے وفاداری کی رٹ لگارکھی ہے، یہ آپ کا وظیفہ ہوگیا ہے جس کا شب وروز موقع بے موقع ورد کیا جاتاہے۔
آخریہ وفاداری ہے کیا بلا؟ آپ چاہتے کیا ہیں؟کیاآپ یہ چاہتے ہیں کہ ہرمسلمان جو ہندوستان میں آباد ہے آپ کو لکھ کر دے کہ میں پاکستان سے ہمدردی نہیں رکھتا۔ میں اس کا مخالف ہوں۔ گاندھی جی! وفاداری بازار میں نہیں بکتی ، اگر آپ کو مسلمانوں سے وفاداری چاہئے تو یہ آپ کے ہاتھ میں ہے ان کے ہاتھ میں نہیں ۔ اگر آپ ان سے انصاف انسانیت ، شرافت کا برتائوکریں گے تو وہ آپ کے سب سے زیادہ وفادار اور جاںنثار ثابت ہوںگے، لیکن اگر آپ نے اپنی روش نہ بدلی اور یہی طریقہ جاری رکھا اور مسلمانوں کو غیروفادار غدار، ففتھ کالمسٹ کہہ کر ان کا دل دکھاتے رہے تو آپ کو سچی وفاداری کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ آپ نے اپنے عبادتی جلسوں میں جس قسم کی تقریروں کاسلسلہ شروع کررکھا ہے وہ تضیع اوقات ہی نہیں بلکہ بعض حالات میں ملک کے حق میں مضرت رساں ثابت ہوتی ہیں۔ معلوم ہوتاہے کہ اس وحشیانہ اور خونریز ہنگامے سے آپ کے دماغ پر بھی کچھ اثر پڑاہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات آپ اپنے منصب سے تجاوز کرجاتے ہیں اگر آپ نے کشمیر کے معاملے میں سوچ سمجھ سے کام نہ لیا اور اپنی ضد پر قائم رہے تو یہ مسئلہ یہیں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان اور ہندوستان دونوں میں تہلکہ مچ جائے گا اور خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔ اس کی روک تھام ابھی سے ہونی چاہئے ۔ اس بارے میں آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں یہ مانا کہ آپ گورنمنٹ نہیں لیکن گورنمنٹ گرتوہیں اور اس پرآپ کا جو غیر معمولی اثر ہے وہ کسی دوسرے کا نہیں ہے۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ یہ پالیسی کہاں تک حق بجانب ہے آپ کی حکومت کے بعض ذمہ دار لیڈروں نے اس امر کا باربار اعادہ کیا ہے کہ ہندوستان کو پھر ایک ہونا پڑے گا اور تقسیم کالعدم ہوجائے گی، اس کے دوہی طریقے ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ آپ کی حکومت پاکستان پر چڑھائی کرکے اسے فتح کرے یا یہ کہ آپ پاکستان اور مسلمانوں کو اس قدر تنگ اورزچ کردیں کہ وہ مجبوراً عاجز ہوجائیں۔ ایسے نازک زمانے میں جبکہ ملک پر مصیبت کی گھٹاچھائی ہوئی ہے، ذمہ دار ارباب حکومت کا عام جلسوں میں ایسی باتیں کرنا کہاں تک قرین مصلحت ہے؟ ایک طرح یہ لڑائی کا چیلنج ہے اس طویل بیان کی آپ سے معافی چاہتا ہوں ممکن ہے بعض باتیں آپ کے خلاف مزاج ہوں۔
(شکریہ، آگ ۲۲؍جنوری۲۰۱۵ئ)