اہانت کا حق

وہ سلسلہ جو ۱۹۸۸ء میں سلمان رشدی کی کتاب ’’شیطانی آیات‘‘ سے شروع ہوا تھا، ۲۰۰۵ میں ڈنمارک کے اخبار جیلینڈس پوسٹن میں شائع ہونے والے مذموم کارٹونس کی وجہ سے جس نے شدت اختیار کر لی تھی وہ اب ویڈیو فلم (Innocence of Muslims)کی وجہ سے انتہا کو پہنچ گیا۔ جسے عالمی سطح پر سخت جارحانہ اور قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔ محمدؐ رسول اللہ کی توہین کا مغرب میں ایک طویل تاریخی سلسلہ ہے۔ جیسے کہ Minou Reeves نے اپنی عالمانہ تحقیق Mumhammed in Europe: A thousand years of Western Myth making(شائع شدہ ۲۰۰۱ئ) میں واضح کیا ہے۔
یہ سلسلہ بہر کیف جاری رہے گا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں جو نکات اٹھائے جا رہے ہیں انہیں اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے تاکہ آنے والی صورتحال سے مقابلہ کی تیاری کی جا سکے۔ مغرب کے فکری تساہل، اخلاقی اندھے پن، تہذیبی کج روی اور سیاسی غرور کی بناء پر یہ بحث بے سمت ہو کر رہ گئی ہے۔ خود ہمارے ملک میں یہ انداز اختیار کرنے والوں کی کمی نہیں جو اسی مسابقت کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ جیسے کہ George Town Universityکے Louis Michael Slidmanلکھتے ہیں: ’’ہمارے ملک میں اظہاررائے کی تو بڑی آزادی ہے مگر خود اظہاررائے کی آزادی پر اظہاررائے کی کافی آزادی نہیں ہے۔‘‘
اس نازک مسئلہ کو اظہاررائے کی آزادی کے تحت بڑے سپاٹ انداز میں دبا دیا جاتا ہے۔ اور رشدی، ڈنمارک کارٹونسٹ اور حالیہ فلم ساز نے جو مسئلہ چھیڑا ہے اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔شریانی باسو کے مطابق رشدی یہ دعوی کر چکا ہے کہ اس کی کتاب’’مذہب اور الہام کے متعلق سیکولر نقطہ نظر سے لکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔‘‘ (Sunday18/9/88)جب کہ کچھ ہی دن بعد اس نے این۔ رام سے کہا کہ ’’محمدؐ سے مشابہت رکھنے والے ایک نبی کے متعلق میں نے افسانہ لکھا ہے‘‘(The HIndu 10/10/88)فرانسیسی مارکسسٹ Maxime Rodinsonکی کتاب ’’محمدؐ‘‘(1971)یا وی ایس نائپال کی تصنیف ’Among the believers: An Islamic Journey‘ (1981)کے خلاف مسلمانوں نے اتنے شدیدرد عمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ لائبریریوں اور کتب فروشوں کی الماریاں اسلام سے شدید مخالفت پر مبنی کتابوں سے بھری پڑی ہیں۔ مسلمان اس لیے مشتعل ہو گئے کہ رشدی نے بے احتیاطی سے نہیں جان بوجھ کر توہین کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ یہی اصل مسئلہ اس وقت بھی تھا اور اب بھی برقرار ہے۔
رشدی کی کتاب کے دو ابواب ’Mohaund‘اور ’جاہلیت کی طرف واپسی‘ اسی سے متعلق ہیں یہ ناقابل تصور ہے کہ رشدی لفظ ’Mohound‘کی تاریخ سے ناواقف ہو۔ جسے صلیبیوں نے ایجاد کیا تھا جسے محمدؐ کے نام کے پہلے حصے اور ’ hound‘کو ملا کر بنایا گیا ہے۔Shorter Oxford Dictionary کے مطابق مہاوند کا مطلب ’’جھوٹے نبی محمدؐ ۔۔۔ یا شیطان کا ایک نام ہے‘‘(نعوذ باللہ) اور Concise Oxford Dictionaryکے مطابق اس کا مطلب ہے ’’محمدؐ جنہیں غلطی سے خدا سمجھ لیا گیا تھا‘‘ Brewster’s Dictionaryیہ محمدؐ کی تذلیل کے لیے بگاڑا ہوا نام ہے خصوصا ًصلیبی اور رومانوی کہانیوں میں ۔۔۔جسے کبھی کبھی شیطان کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے‘‘(نعوذ باللہ) جب کوئی مصنف محض ’’مہاوند‘‘کا لفظ استعمال کرتا ہے تو حضرت محمدؐ کی توہین کے ارادہ ہی سے کرتا ہے۔ رشدی کی کتاب میں حضرت محمدؐ کی زندگی کی تفصیل سے تصویر کشی کی گئی ہے وہ بھی رکیک توہین آمیز الفاظ میں۔ جاہلیت کی جسم فروش خواتین کو (معاذ اللہ) ازواج مطہرات کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔حالانکہ ان کی سب سے چھوٹی بیوی حضرت عائشہ ؓ مسلمانوں کی توجہ کا خاص مرکز ہیں۔ آنحضورؐ کی زندگی کے مشہور واقعات کی رشدی نے بیہودہ انداز میں خاکہ نگاری کی ہے۔ صفحہ ۳۹۴ پر ان کی موت کا تذکرہ ہے۔ آخری الفاظ جو ان سے منسوب کیے گئے ہیں وہ ایک دیوی لات کے شکریہ پر مبنی ہیں۔ (نعوذ باللہ) وہ نبیؐ جس کا فرمان ہے کہ ’عالم کے قلم کی سیاہی شہید کے خون سے زیادہ مقدس ہے‘‘ ان سے وہ الفاظ وابستہ کیے گئے ہیں کہ ’’قلم کار اور جسم فروش عورت میں مجھے کوئی فرق نظر نہیں آتا۔‘‘(صفحہ۳۹۳۔نعوذ باللہ من ذالک) رشدی کے اسلام کی طرف لوٹنے پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت چنداں نہیں ہے۔ یا اس کے یپیپر بیک ایڈیشن کی اشاعت پر روک لگانے سے بھی کچھ حاصل نہیں ۔ نہ اس کے تائب ہونے کے دعوے کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کسی بھی قسم کاادبی معیار اس سنگین غلطی کا ازالہ نہیں کر سکتا۔ جب کہ کارٹونس اور حالیہ فلم میں تو کسی ادبی معیار کا بھی مظاہرہ نہیں کیا گیا ہے۔ مگر جو کچھ بھی سامنے آیا ہے، مغربی روایات کے عین مطابق، اظہار رائے کے نام پر ’اہانت کے حق‘ کا جواز فراہم کیا جار ہا ہے۔ اس معاملہ میں کوئی مغالطہ نہیں اور ا س کا راست مقابلہ کیا جانا چاہیے!
دی اکنامسٹ نے 1990میں لکھے گئے برنارڈ لیوس(جو کہ ڈک چینی کے مشیر تھے) کے مضمون’The roots of muslims rage‘(مسلمانوں کے اشتعال کی بنیادیں) کی دہائی دی ہے۔ جس کا دعوی ہے کہ مغرب اسلام سے نابلد نہیں بلکہ دوسرے ہیں۔ بیشتر مسلم ممالک میں مغرب کے رویہ سے ناواقفیت کی بناء پر عوامی رد عمل کا اظہار آسان ہو گیا ہے۔(The Economist 15/9/12)ایک ہفتہ بعد اسی اکنامسٹ نے مصری صدر محمد مرسی پر یہ کہہ کر اعتراض کیا کہ ’’وہ بخوبی جانتے ہیں کہ مغرب میں اظہار رائے کی آزادی کے پیش نظر یہ ممکن نہیں کہ کسی کو محمدؐ ،عیسی ؑیا موسیؑ یا کسی بھی ایسی شخصیت کی اہانت سے روکا جا سکتا، ’’جسے لوگ مقدس سمجھتے ہوں‘‘۔فرانس میں ڈنمارک کارٹونس کی تازہ اشاعت کو بھی آزادیٔ اظہار رائے کے بہانے ڈھانک دیا گیا۔’’یہ اخوان کے مذہبی رہنما اور مرسی کے قریبی ساتھی کی صریح ناواقفیت اور بددیانتی ہے کہ ’’ہولوکاسٹ کا انکار مغرب میں غیر قانونی ہے۔‘‘ جب کہ امریکہ میں نہیں ہے اور جرمنی میں مختلف تاریخی وجوہات کی بنا پر ظاہر ہے کہ یہ غیر قانونی ہے۔‘‘
دیکھا جائے تو دی اکنامسٹ ہی در حقیقت بددیانتی سے کام لے رہا ہے۔ اسے معلوم ہے یا ہونا چا ہیے کہ امریکی دستور کی پہلی ترمیم کسی انسانی گروہ کی اجتماعی تذلیل یا اس کے خلاف نفرت کے اظہار کی اجامت نہیں دیتی۔ اسے یہ بھی اندازہ ہونا چاہیے کہ ہولوکاسٹ کے انکار سے مغربی ذہنوں کو وہ اذیت نہیں پہنچ سکتی جو مشرق میں مذہبی رہنماوں کی توہین سے پہنچتی ہے۔
امریکی رویہ: دو زیادہ تجربہ کار امریکی کالم نگار اس معاملہ میں امریکی رویہ کو سمجھنے میں مدد دے کستے ہیں۔ Nicholas D. Kristoffلکھتے ہیں ’’حضرت عیسیؑ کے (معاذ اللہ) پیشاب کرنے سے متعلق ایک تصویر(Piss Chirst)جس کے لیے کچھ امریکی ٹیکس دہندگان نے خصوصی تعاون دیا تھا اس میں ایک مصلوب شخص کو آرٹسٹ نے اس کے اپنے پیشاب میں ڈوبا ہوا دکھایا گیا ہے۔ لیکن قدامت پسند عیسائیوں نے واشنگٹن مال پر کوئی ہنگامہ نہیں کیا۔ Marmonایک کتاب میں چرچ کے عقائد کو فضول او رخرافات قرار دیا گیا ہے مگر تشدد کے مظاہرہ کیوں کیا گیا؟ مجھے اس سوال اور اس سے وابستہ ایک اور سوال کا جواب دینے دیجئے۔’’کیا ہمیں ان مذاہب کی توہین کی آزادی پر قدغن لگانا چاہیے جو زیادہ سخت گیر ہیں؟‘‘ ان کا کالم Exploiting Prophet Mohd.(پیغمبر محمدؐ کا استحصال) 24ستمبر2012کے International Herold Tribuneمیں شائع ہوا ہے۔ منطق الٹی ہے کہ ’’وہ مسلمان جو حضرت محمدؐ کی توہین پر اعتراض کرتے ہیں وہ در حقیقت ان کا استحصال کرتے ہیں۔‘‘ توقع کے عین مطابق وہ لکھتے ہیں کہ ’’رد عمل کی وجہ خود ان کے اپنے ہاں اظہار رائے کی آزادی کا فقدان ہے۔ لندن میں ان کی قبیل کے ہی کالم نگار Roger Cohenلکھتے ہیں ’’مسلم دنیا بیک وقت دونوں چیزیں حاصل نہیں کر سکتی ایک طرف اسلام کو سیاسی زندگی سے خلط ملط کرنا، بلکہ سیاسی تشدد کی بنیاد بنانا تو دوسری طرف یہ کہنا کہ ان کا مذہب کسی قسم کی رقابت یا تضحیک کی بنیاد نہیں بن سکتا۔‘‘ (۲۲ ستمبر ۱۲) جب کہ مغرب و مشرق میں تہذیبی فرق ہے عقائد کا کا نہیں۔ خود ہندوستانی عیسائی حضرت عیسیؑ کے متعلق Kristofکے اقتباس پر شدید اشتعال کا شکار ہو جائیں گے جب کہ ’رقابت‘ اور ’تضحیک‘ ہم معنی بھی نہیں ہیں۔
عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی ایک قابل احترام ڈپلومیٹ ہیں انہوں نے ا قوام متحدہ کی سیکوریٹی کاونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’بین الاقوامی برادری نے جس طرح جسمانی اذیت کو قابل تعزیر قرار دیا ہے اسی طرح نفسیاتی اور روحانی اذیت کو بھی قابل تعزیر جرم قرار دیا جانا چاہیے۔‘‘ جو کہ نیویارک یونیورسٹی اسکول کے پروفیسر Jeremy Waldronکی کتاب ’The harm in hate speech‘(اظہار نفرت کی تکلیف) کا موضوع ہے کہ نفرت پر مبنی الفاظ اذیت پہونچاتے ہیں۔ جب کہ امریکی دستور کی پہلی ترمیم کی حتمی حیثیت امریکی پروپگینڈہ کرنے والوں کے لیے ایک مفروضہ بن چکی ہے۔ جب کہ امریکی سپریم کورٹ نے گروئی گالی گوچ اور جارحانہ الفاظ پر سزائیں دی ہیں۔ مثلاً 1942میں فیصل کیے گئے Chaplinskyبنام New Hempshireکے ایک مقدمہ میں جارحانہ الفاظ کے استعمال سے متعلق ایک اصول وضع کیا جس کے مطابق کسی ذاتی توہین کے متعلق الفاظ کو اظہار رائے کی آزادی کی شق سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ا سکے مطابق ایسے اظہار کے ذریعہ نہ کسی قسم کے نظریہ کو پیش کیا جا سکتا ہے نہ حقائق کی طرف پیش قدمی کے معاملہ میں کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور نہ اس کی کوئی سماجی حیثیت ہے۔
گروہی اہانت سے متعلق قوانین: جیسے کہ Oliver Wendell Holmesنے نشان دہی کی ہے کہ قانون ہمیشہ رائے عامہ سے پیچھے رہتا ہے اور ارئے عامہ سماجی ضروریات سے پیچھے۔Thomas I. Emersonکی کتاب The system of Freedom of Expressionقانونی سفر کی ایک اچھی روداد ہے۔ امریکہ میں گروہی توہین سے متعلق قوانین کبھی نسلی اور مذہبی عدم تحمل کے خلاف بہترین ہتھیار تھے۔ خصوصا جنگ عظیم دوم کے بعد نسلی منافرت کی روک تھام کے لیے ان کا بھر پور استعمال کیا گیا۔ لیکن حالیہ برسوں میں ان کی طرف کم توجہ دی گئی ہے۔ پھر بھی مختلف ذرائع کی جانب سے نفرت کے پروپیگنڈہ کے خلاف ان قوانین کے استعمال کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ دیگر مختلف ممالک میں بھی گروہی توہین کے خلاف ان قوانین کا ا ستعمال کسی نہ کسی صورت میں کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں برطانیہ نے اپنے نسلی مسائل کے حل کے لیے ان کا استعمال کیا ہے۔
گروہی تذلیل سے متعلق قوانین کی امریکہ نے مختلف شکلیں اختیار کی ہیں۔ عام بدگوئی کے خلاف نقض امن کے قوانین اور بداخلاقی پر مبنی قوانین کا استعمال بھی انہی مقاصد کے لیے کیا جا چکا ہے۔ نفرت کے پروپیگنڈہ کو روکنے کے لیے کوئی بھی سنجیدہ کوشش اس مقصد کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کرتی ہے۔ فی الحال اس قسم کی قانون سازی اگرچہ محدود شکل میں تقریبا درجن بھر ممالک میں موجود ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے گروہی تذلیل سے متعلق قانون کا ا ستعمال صرف ایک ہی موقع پر یعنی 1952کے Beauhanais-Vs-Ilinoisکیس میں کیا ہے۔ اس مقدمہ نے کسی بھی فرد کے لیے ایسی کسی اشاعت کو ظاہر کرنے یا بیچنے کو غیر قانونی قرار دیا ہے جو کہ رنگ، نسل، ذات یا مذہب پر مشتمل شہریوں کے کسی بھی گروہ کے خلاف برائی، بدعنوانی جرائم پسندی، بے حیائی یا بے اصول پن کے پروپگنڈہ پر مشتمل ہو۔ یا ان کی تذلیل ، تحقیر یا توہین کرے اور نقض امن کا باعث ہو۔ White Circle Leagueکے صدرJoseph Beauharnaisنے شکاگو میں ایک ایسا پرچہ تقسیم کیا تھا جس میں میئر اور سٹی کونسل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ’’سفید فام لوگوں کے خلاف حق تلفی، اذیت اور ان کی جائدادوں میں سیاہ فاموں کی مداخلت کو روکا جائے۔‘‘ اور ایک ملین سفید فاموں کو سیاہ فاموں کے خلاف متحد ہو جانے کا پیغام دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ سفید فاموں کے ستائے جانے کے باوجود اگر اتحاد قائم نہ ہو سکا توکم از کم سیاہ فام نیگروؤں کے ذریعہ ہونے والے عصمت دری، ڈکیتی، چاقو زنی، بندوقوں اور منشیات کا استعمال گوروں کو ضرور متحد کر دے گا۔‘‘ اس نفرت انگیز پروپگنڈہ کے لیے سپریم کورٹ نے Beauharnaisکو مجرم قرار دیا تھا۔ اور دو سو ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ جس کی کورٹ کی بنچ نے پانچ مقابل چار ووٹوںسے توثیق کر دی تھی۔
جج فرینکفرٹ نے اکثریت کی جانب سے بولتے ہوئے توہین سے متعلق اس فوجداری قانون کا حوالہ دیا تھا۔ ا نہوں نے واضح کیا کہ ہر ملک میں اس قسم کا قانون موجود ہے۔ ان کے مطابق گروہی تذلیل گفتگو کی وہ مخصوص قسم ہے جس کی روک تھام اور سزا میں کوئی قانونی دشواری نہیں ہے۔‘‘ کورٹ کے سامنے اصل سوال یہ تھا کہ دستور کی چودھویں ترمیم کسی ایسے شخص کو جو اس قسم کے جرم کا مرتکب ہو سزا دینے سے روکتی ہے۔ انہو ںنے مزید کہا کہ اگر کسی فرد کے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ قابل تعزیر ہوں تو ریاست کو اس فرد کے خلاف سزا کے اختیار سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر چہ یہی الفاظ کسی گروہ کے متعلق استعمال کیوں نہ کیے جائیں۔‘‘
اس مقدمہ میں دستور کی پہلی ترمیم کے متعلق جج فرینکفرٹ نے کہا’’توہین آمیز الفاظ چونکہ دستور ی تحفظ سے باہر ہیں، یہ ہماری یا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نازیبا اور فحش الفاظ کی ادائیگی کے لیے لازماً سزا مقرر کرلے۔ برطانیہ کے رائل گورٹ تھیٹر نے ایک ڈرامہ ’Perdition‘ 1987میںیہودی تنظیموں کی بنا پر منسوخ کر دیا تھا۔ Jeremy Waldronکی کتاب ’The harm in hate speech‘اس سلسلہ کی دیانت دارانہ بحث کے لیے سب سے زیادہ قابل قدر اضافہ ہے۔ وہ امریکہ کے اس نظریہ کو مسترد کرتے ہیں کہ ’جو لوگ نفرت انگیز گفتگو کا نشانہ بنے ہیں وہ اسی کے ساتھ جینا سیکھیں۔‘ یعنی اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے ماحول میں زندگی گزارنا، اپنا کاروبار کرنا اور اپنے بچوں کی پرورش اسی ماحول میں کرنا سیکھیں۔ اکثر امریکہ کے مباحث میں نفرت انگیز اظہار خیال سے متعلق فلسفیانہ دلائل محض، اچانک، پرجوش انداز میں بلا سوچے سمجھے دیے جاتے ہیں۔ جو کہ مغرور، خود پسند اور اپنے سوا کسی کی خاطر میں نہ لانے والے امریکی رویہ کا بہت اچھے انداز میں انکار کرتا ہے۔
نفرت انگیز اظہار رائے کی قیمت کسی قوم کو یکساں طور پر نہیں چکانی پڑتی یہ اسی حصہ کو زیادہ متاثر کرتی ہے جسے نشانہ بنایا گیا ہو۔ وہ سماجی طور پر اچھوت بنا دیے جاتے ہیں۔ جیسے کہ 9/11کے بعد کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے۔ حالانکہ اس کتاب میں موضوع تشددکو نہیں وقار کو بنایا گیا ہے۔ اس میں یہی ایک بنیادی جھول ہے وہ ایک فرد کے حقوق کا تو تحفظ کرتی ہے مگر گروہی حقوق سے اس کی وابستگی کا انکار کرتی ہے۔ قانون سازی سے متعلق مصنف والڈران لکھتے ہیں کہ ’’نفرت کے اظہار سے متعلق آئین سازی سے میرا مطلب ہے اس قسم کی آئین سازی جو کہ کناڈا، ڈنمارک، جرمنی، نیوزی لینڈ اور برطانیہ میں کی گئی ہے۔جس کی رو سے علی الاعلان ایسے بیانات دینا جس سے کسی مخصوص گروہ کے خلاف نفرت کے جذبات بھڑکتے ہوں اس لیے ممنوعہ قرار دیے جانے چاہیے کہ وہ نقض امن کا باعث بن سکتے ہیں۔ (کناڈا) یا ایسے بیانات جن کی وجہ سے عوام کے کسی گروہ کو دھمکی دی جائے یا ان کی تضحیک یا توہین جو خواہ وہ ان کی رنگت کی وجہ سے ہو یا قومی اور نسلی بنیادو ں کی وجہ سے (ڈنمارک،) یا توہین آمیز گھناؤنے انداز میں آبادی کے کسی گروہ کی شبیہہ بگاڑتے ہوئے اس کے انسانی وقار پر حملہ کیا جائے۔(جرمنی) یا دھمکیوں گالیوں اور توہین آمیز ا لفاظ کے ذریعہ کسی گروہ کے خلاف دشمنی کے جذبات پیدا کیے جائیں۔(نیوژی لینڈ) یا دھمکی بھرے، گالیوں پر مشتمل توہین آمیز الفاظ کے ذریعہ نسلی منافرت کو اکسایا جائے(برطانیہ) جیسے کہ دیکھا جا سکتا ہے نفرت آمیز اظہار رائے کے معاملہ میں ان قوانین میں مشابہت بھی پائی جاتی ہے اور کچھ فرق بھی ہیں پھر صر ف امریکہ ہی کیوں اپنے دستور کی پہلی ترمیم کی بنیاد پر خود کو مستثنیٰ رکھنے کے نشہ میں مبتلا ہے۔ جب کہ اس کے سپریم کورٹ نے خود ہی مستثنیات کو علیحدہ کر دکھایا ہے۔
کناڈا کے گیگستر بنام آر نامی ایک مثالی کیس 1990میں کنیڈا کے چیف جسٹس Brian Dicksonنے نفرت کے عام اظہار کے لوگوں پر اثرات کے متعلق کہا تھا’’توہین ،دشمنی اور تذلیل پر مشتمل نفرت انگیز پروپگنڈے کے افراد کی خود اعتمادی پر شدید منفی اثرات ہوتے ہیں یہ اثرات پروپگنڈہ کا شکار ہونے والے گروہ کو شدید ا قدامات پر ابھار سکتے ہیں۔ اور اس ملک کے لیے بھی برے نتائج سامنے آتے ہیں جو نسلی، مذہبی اور تہذیبی اکائیوں کا احترام کرتے ہوئے تحمل اور انسانی وقار کے تحفظ میں فخر محسوس کرتے ہیں‘‘۔
اپنی کتاب میں والڈران لکھتے ہیں کہ دستور کی پہلی ترمیم کی بنیا پر سیاسی وجوہات کی بنا پر سزا دینے کے عمل کے مقابلہ میں عیسائیت کی توہین پر سزا دینے کا عمل کہیں زیادہ تیزی سے کمزور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کیوں کہ ملحدوں کو سزا دینے کی منطق امریکہ میں مذہب کے متعلق پائے جانے والے نظریات سے میل نہیں کھاتی۔Anthony Lewisنے اپنی کتاب Freedon of Thought that we hate: A Biography of the First Amendment (2007)یعنی اظہار رائے کی آزادی جس سے ہمیںنفرت ہے:پہلی ترمیم کی سوانح عمری (مطبوعہ ۲۰۰۷) میں مصنف نے لکھا ہے ’’ایک ایسے زمانے میں جہاں الفاظ نے قتل عام اور دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کی ہے میرے لیے یہ تسلیم کرنا پہلے جتنا ا ٓسان نہیں رہا کہ برائی کاعلاج صرف اچھے الفاظ سے کیا جا سکتا ہے۔‘‘ فحش تصاویر پر بے لگام آزادی کی طرح نفرت انگیز ا ظہار رائے بھی سنگین مشکلات پیدا کر سکتا ہے‘‘۔ مصنف نے Catharine Mackinکی کتاب (مطبوعہ1992) Only Words(صرف الفاظ) کا حوالہ دیا ہے۔ انہو ںنے اپنا نظریہ دو ٹوک انداز میں پیش کیا ہے کہ ’’الفاظ کام کرتے ہیں‘‘ وہ عریانیت زدہ سماج کا گہرے انداز میں تجزیہ کرتی ہیں ان کے مطابق’’ جیسے جیسے عریانیت کی صنعت پھیلتی جا رہی ہے جنس کا تجربہ زیادہ سے زیادہ عام ہوتا چلا جا رہا ہے۔ انسان جیسے ’’چیز‘‘ بن کر رہ گیا ہے۔ عریاں تصویر کشی کا مقصد خواتین کو کمتر درجہ کی انسان تصور کرتے ہوئے محض جنسی تسکین کا ذریعہ قرار دینا ہے خواتین کو مردوں کی جنسی خواہش کے استعمال اور استحصال کے لیے غیر انسانی درجہ تک پہنچاتا اور تہذیبی سطح پر پست کر دیتا ہے‘‘ والڈران کہتے ہیں ’’نسلی اور علاقائی عصبیت پر مشتمل پوسٹرس اور علامتیں بھی اسی نوعیت کی ہیں جو مخصوص علاقوں میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں پر مشتمل انسانی گروہوں کی تذلیل کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں‘‘۔
دونوں ہی مصنفین اس طرح کے معاملات کو پوری طرح ’توہین‘ کے قوانین کے تحت لانے میں تامل سے کام لیتے نظر آتے ہیں ۔والڈران اپنی مضبوط بحث کے نتائج سے قدرے گریز کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’انفرادی طور پر عیسائی توہین کے معاملہ میں تحفظ کا حق رکھتا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی بھی پوپ، راہب یا عیسائیت کا اصول بھی یہ حق رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کی نیک نامی یا وقار کو بھی تحفظ حاصل ہوگا۔ اسی اصول کے مطابق انفرادی طور پر ہر مسلمان کو توہین کے خلاف تحفظ کا حق حاصل ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کے عقائد یا حضرت محمدؐ کو توہین کے خلاف تحفظ کا حق حاصل ہوگا۔ کسی بھی گروہ کے ممبرس کا شہری وقار ان کے مذہبی مقام سے علیحدہ ایک چیز ہے۔ اگر چہ قرآن یا رسولؐ پر حملہ کتنا ہی جارحانہ کیوں نہ ہو۔‘‘
اس مغالطہ کے ذریعہ والڈران کی فکری بے راہ روی کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ عظیم جج Benjamin N Cardozisکی حقیقت پسندی کی یاد دلاتا ہے جن کے مطابق ’ہم کسی چیز کو بہترین طریقہ پر دیکھنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں مگر اپنی آنکھوں کے سوا کسی اور کی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے۔‘‘ کتاب کے مصنف (والڈران) کا علمی مقام اتنا بلند ہے کہ وہ کسی پوپ، راہب اور مذہبی اصولوں اور کسی مذہب کے بانیوں میں فر ق نہیں کر سکتے۔ ا سکے علاوہ’توہین‘ یا ’تذلیل‘ کو تنقید پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں سب و شتم اور بدنام کرنے کا بنیادی عنصر پایا جاتا ہے۔ میکالے کے فوجداری قوانین اپنی چار بنیادی وضاحتوں میں کہتے ہیں ’اس کا اطلاق اس توہین پر بھی ہوتا ہے جس کا تعلق کسی مرنے والے سے ہو۔ کہ اگر وہ زندہ ہو تا تو اس سے منسوب کی جانے والے خصوصیات کی وجہ سے اس کی بدنامی ہوتی یا اس کے پسماندگان یا خاندان کے لیے اذیت کا باعث ہوتی۔ جرمن فوجداری قوانین کی دفعہ ۱۸۹ بھی یہی کہتی ہے کہ ’جو کوئی کسی مردہ شخص کی عزت سے کھلواڑ کرے اسے کم سے کم دو سال کی سزا دی جائے گی یا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔‘ اسی دلیل کا اطلاق مذاہب کے بانیوں مثلاً ’زرتشت، گوتم بدھ، موسیؑ، عیسیؑ اور حضرت محمدؐ پر کیا جا سکتا ہے۔ البتہ کھینچ تان کر اس کا اطلاق مقامی ہیروز پر مثلاً چھترپتی شیواجی یا سبھاش چندربوس پر نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ مذہبی شخصیات پر بھی تنقید کی اجازت دی جاسکتی ہے توہین آمیز حملے کی نہیں یہ پرلے درجہ کی بے احتیاطی اور غیر ذمہ دارانہ خود پسندی ہے اسی بنا پر برطانیہ کے Hastley Showcrossاور Nissim Eizekielکے ذریعہ رشدی پر شدید سنسرشپ کا جواز فراہم کیا جا سکتا ہے۔ Ronald Dahlنے اسے ایک خطرناک موقع پرست قرار دیا تھا۔
وکیلوں کے لیے یہ حد بندی مشکل نہیں۔ محمد علی جناح نے ۵ ستمبر ۱۹۲۷ئ؁ کو سنٹرل اسمبلی میں فوجداری قوانین میں ترمیم پر بحث کرتے ہوئے کہا تھا’’ میں شدت سے اس اصول کی حمایت کرتا ہوں کہ یہ اقدام ان لوگوں کے خلاف ہونا چاہیے جو بلا وجہ کسی مذہب یا ا سکے بانیوں یا پیغمبروں کی توہین یا کردار کشی کرتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ جو تاریخی اور تحقیقی مقاصد کی بنا پر تنقید کریں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔‘‘ ہندوستان کے فوجداری قوانین کی دفعہ 295-Aکے مطابق ’قصداً‘ اور بدنیتی کے ساتھ ہندوستانی شہریوں کے کسی بھی گروہ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کسی کو مجرم قرار دینے کے لیے کافی ہے۔
برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈس نے ۲۱؍فروری ۱۹۷۹ء میں ایک ایسے مقدمہ میں جس میں ایک ہم جنس پرست شاعر نے حضرت عیسیؑ کی سولی پر موت کے بعد ان کے جسم کے ساتھ کسی کی ہم جنسی پر مبنی نظم لکھتی تھی تو اسے Blasphemy(کفر) کا مرتکب اور قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا۔ ججوں میں جسے سب سے زیادہ لبرل سمجھا جاتا تھا یعنی Lord Scarman وہ اُسے سزا دلانے میں سب سے آگے تھے۔ اس مقدمہ کی طویل بحث کے دوران ججوں نے اپنے فیصلے میں یہ بھی شامل کیا تھا کہ برطانیہ میں نہ صرف عیسائیوں بلکہ غیر عیسائیوں کے لیے بھی اس قسم کا تحفظ ہونا چا ہیے۔ انہو ںنے کہا تھا ’’تیزی سے تکثیریت کی طرف بڑھتے جدید برطانوی سماج میں نہ صرف یہ ضروری ہے کہ مختلف مذاہب کے عقائد اور جذبات اور مذہبی رسومات کا احترام کیا جائے بلکہ انہیں توہین ، تذلیل اور تضحیک سے تحفظ فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ جب کہ تقریبا ایک صدی پہلے لارڈ میکالے نے پارلیمنٹ میں ًBlasphemyسے متعلق قوانین پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اگر میں ہندوستان میں جج ہوتا تو کسی ایسے عیسائی کو سزا دینے میں کوئی حرج نہ محسوس کرتا جس نے کسی مسجد کو ناپاک کیا ہو۔‘‘ جب میکالے قانون ساز اسمبلی کے رکن بنے تو انہوں نے اس بات کا خیال رکھا کہ سب کے مذہبی جذبات کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ان دنوں ہندوستان ایک تکثیری سماج تھا آج برطانیہ ہے۔‘‘
یہی وہ چیز ہے جسے کچھ یورپی ممالک اور امریکہ مسلمانوں کے علی الرغم تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ تکثیری سماج میں ان لوگوں کو بھی سمو لیا جاتا ہے جن کا نظریہ حیات ان کے اپنے نظریہ سے مختلف ہو۔ نسلی منافرت سے متعلق برطانیہ میں قانون سازی کا حوالہ دیتے ہوئے Scarmanکہتے ہیں کہ ’’کسی مصنف یا پبلشرکا اپنی نیک نیتی کا دعویٰ کرتے ہوئے اور اظہار رائے کی آزادی کی دہائی دیتے ہوئے قانونی گرفت سے فرار ہو جانا قابل برداشت نہیں ہو سکتا، در آں حالیکہ اس کے الفاظ کفریہ یا اپنے ساتھی شہریوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے ہوں۔ یہ کسی بھی تکثیری سماج کے آگے بڑھنے کا راستہ نہیںہو سکتا‘‘۔ Scarmanایک نرم خو جج تھے انہوں نے تسلیم کیا کہ ہم جنس پرست شاعر نے جو کچھ لکھا وہ ہم جنس پرستوں کو راحت پہنچانے کے لیے تھا گویا کہ عیسائیت میں اس کی بھی گنجائش موجود ہے۔ مگر ان کے نیت کچھ بھی ہو انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کو اس طرح پیش کیا جیسا کہ وہ چاہتے تھے جو قانوناً جرم ہے۔ والڈران اپنے ایک سرسری ریمارک کے ذریعہ گہری تحقیق سے گریز کرتے ہیں کہ’’ ہر گروہ کے عقائد بظاہر دوسروں کے عقائد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔‘‘ انہیں چاہیے کہ وہ کیرالہ آئیں جہاں چرچ، مندر اور مسجد ایک دوسرے کے قریب قریب کھڑے ہیں وہ ایک یقین رکھنے والے عیسائی ہونے کے باوجود کہتے ہیں کہ ایسا نہیںکہ عیسائیت سے کبھی اختلاف نہیں کیا گیا ہو اور اس کی تضحیک نہ کی گئی ہو۔ یہاں وہ اپنے خیالات اور اصل مسئلہ میں فرق کرنے سے قاصر ہیں۔ سائبر کرائم سے متعلق Additional protocol to the European Convention on cyber crimeکے مطابق نسل پرستانہ یا دیگر انسانی گروہوں سے نفرت پر مبنی مواد کا مطلب ہے ’وہ تحریری مواد جو کہ نسل پرستی، علاقائی یا مذہبی بنیادوں پر کسی فرد یا گروہ کے خلاف نفرت پیدا کرنے ،فروغ دینے یا اکسانے کا باعث ہو‘ قابل تعزیر ہے۔
مذہب کی بنیاد پر نفرت کے جذبات کو اکسانا جرم ہے پھر یورپ میں مسلمانوں کو سیاسی وجوہات کے علاوہ اور کس بنا پر نشانہ بنایا جا رہا ہے ؟ کیوں آخر ایک تاریخی حقیقت یعنی ہولوکاسٹ کا انکار جرم قررا دیا گیا ہے کیونکہ وہ یہودیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے اور ان لوگوں کو تقویت پہنچاتا ہے جو ان سے نفرت کرتے ہیں حالانکہ اس میں کسی قسم کی بدکلامی شامل نہیں ہے۔ پھر قانون مذہب کی توہین کو قابل تعزیر کیوںنہیں بناتا؟ جب کہ ہولوکاسٹ کے انکار پر فرانس، جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا میں سخت سزائیں دی جا چکی ہیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔(بشکریہ فرنٹ لائن ۱؍نومبر ۲۰۱۲ئ)

رسولوں میں انتخابؐ

وہ لطف رنگ سحاب بھی ہے نسیم رحمت مآبؐ بھی ہے
رسولوں میں انتخابؐ بھی ہے زمیں پہ گردوں کاب بھی ہے
رفیقؐ بھی ہے، خلیقؐ بھی، شفیقؐ و رمزِ طریق بھی ہے
وہ ایک بحر عمیق بھی ہے بشر فرشتہ جناب بھی ہے
وہ پیکرِ نور ہے مجسم وہ رازِ عرفان حق کا محرم
وہ عاجزوں بیکسوں کا ہمدم وہ اک جلالتمابؐ بھی ہے
رحیم بھی ہے کریم بھی ہے نعیم بھی ہے حکیم بھی ہے
جہاں میں فضل عظیم بھی ہے علیمِ راہ ثواب بھی ہے
مئے رسالت کا نورپیکر‘خمِ حقیقت کا صاف منظر
وہ بادۂ معرفت کا ساغر جہاں میں دورِ شراب بھی ہے
وہ بحر عرفاں کا ہے سفینہ کہ‘ حق کا سینہ ہے اک خزینہ
ہے بامِ حقانیت کا زینہ وہ گویا قد ِحساب بھی ہے
وہ ذرہ ہو کر مہر ٹھہرا‘ وہ قطرہ ہو کر بنا ہے دریا
بشر بھی فوق البشر ہے یکتا وہ بحر بھی ہے حباب بھی ہے
وہ سینہ اس کا فلکِ فضا ہے وہ قلب اس کا رہِ صفا ہے
وہاں وہ بیدار رہنما ہے خضر جہاں محو خواب بھی ہے
وہ قاب قوسین کا نظارا‘جیبؐ کہہ کر جسے پکارا
احد کا احمدؐ سے ہے اشارا سوال بھی ہے جواب بھی ہے
ہے روحِ فردوس کا خزانہ کہ نعت گوئی کا ہے ترانہ
کہ جس کا شیدا ہے اک زمانہ‘ یہ باغِ رضواں کا باب بھی ہے

روحِ محمد ؐ اس کے بدن سے نکال دو

ابھی چند ہی دن پہلے راقم السطور نے ایک پاکستانی کالم نگار کا مضمون پڑھا جس میں انہوں نے ایک یہودی سے کئی سال پہلے فرانس میں ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ بقول کالم نگار کے، مذکورہ یہودی ـ’’اسلام میں شدت پسندی‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کر رہا تھا اور جب اس کالم نویس نے اُن سے پوچھا کہ آپ کی ریسرچ کہاں پہونچی ہے اور آپ کس نتیجے پر پہونچے ہیں؟ تو اس ریسرچ اسکالر یہودی نے در جواب کہا کہ میری ریسرچ مکمل ہو چکی ہے اور اب میں اپنی Thesisلکھ رہا ہوں۔میں نے اپنی ریسرچ میں یہ پایا ہے کہ:
’’مسلمان اسلام کے بجائے اپنے رسولﷺسے محبت کرتے ہیں۔ قرآن کے احکامات پر (نعوذباللہ) تنقید کی جائے تو ان کا ردعمل شدید نہیں ہوتاہے، مسجدوں کو (العیاذ باللہ) مسمار کیا جائے تویہ لوگ آپے سے باہر نہیں ہوتے ہیں، اُن کے نوجوانوں کو تہہ تیغ کیاجائے تو انہیں اتنا دُکھ نہیں ہوتا۔ (خدا نخواستہ) ان کی عفت مآب ماؤں بہنوں کی عزت لوٹ لی جائے تو یہ اپنے معمولات میں فرق نہیں آنے دیتے ہیں، انہیں اسلامی عبادات وغیرہ سے روکا جائے تویہ برداشت کر لیتے ہیں، لیکن جب ان کے رسول ﷺ کی شان میں کوئی معمولی سی گستاخی بھی کرتا ہے تو پھر یہ لوگ کٹ مرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ تمام آپسی اختلافات کو بھلا کر یک جُٹ ہو جاتے ہیں اور ردّ عمل میں خطرناک قسم کی شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کو اگر مختلف خانوں میں بانٹے رکھنا ہے تو کسی بھی سطح پر اُن کے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کا سوچا بھی نہیں جانا چاہیے اور مسلمان کو زیر کرنے کے لئے ایسی حکمتِ عملی ترتیب دینی چاہیے کہ مسلمانوں کے دلوں سے (خاکم بدہن) محبتِ رسول ﷺ نکل جائے‘‘۔
یہودی ریسرچ اسکالر کے تجزیہ(کا بیشتر حصہ تسلیم نہ کرنے کے با وصف اُس) کا ایک پہلو صد فیصد سچائی پر مبنی ہے کہ مشرق و مغرب میں مسلمانوںکو اپنے نبی ﷺ سے اس حد تک محبت ہے کہ انؐ کے لئے وہ اپنی جان، مال، اولاد یعنی سب کچھ لٹا سکتے ہیں۔حُبّ رسولﷺکی جب بات ہو تو ایک گنہ گاراور نافرمان مسلمان بھی سر پہ کفن باندھ کر میدانِ عمل میں کود سکتا ہے۔ پھر مسلمانوں کا راستہ نہ فوج روک سکتی ہے، اور نہ ہی کروز میزائل انہیں ڈرا سکتے ہیں، نہ اُنہیں خوف زدہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی ایٹم بم کی تباہ کاریوں کی اُنہیں پرواہ ہے۔ نبی ﷺ کی محبت کے بغیر مسلمان بلاشبہ مسلمان ہی نہیںہے۔ اس کا ایمان مکمل نہیں ہے۔ اس کی عبادات اور دینی مشغولیات اُسی وقت ثمر آور ثابت ہو سکتی ہیں جب تک نہ دُنیا کی ہر چیز سے زیادہ اُس کے دل میں رسولِ رحمت ﷺ کی محبت ہو۔ موت کا ڈر تو دشمنانِ دین کو لگا رہے گا، کیونکہ اُن کے لئے تو سب کچھ یہی دُنیا ہے۔ مسلمان کے لئے اس سے بڑا کوئی انعام نہیں ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ؐ کے لئے ہر مشکل اور ہر مصیبت کا خندہ پیشانی سے استقبال کرے۔

محمد ﷺ اور اسلام پیغمبر، ایک ہیرو کی حیثیت سے

یورپ کے شمالی علاقوں سویڈن، ڈنمارک اور ناروے وغیرہ میں (جنھیں ہم سیکنڈے نیوین ممالک کہتے ہیں) جب جہالت، ناشائستگی، بت پرستی و شرک اور لامذہبیت کا دور دورہ تھا اور انسان بے سمت و بے لگام زندگی بسر کر رہے تھے، عرب ممالک میں اسی دور میں مذہب کی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ اس سے میری مراد مسلمانوں کے پیغمبر برحق کی بعثت سے ہے۔ یورپ کی اس بے خدا تہذیب کے پس منظر میں دنیائے عرب میں ظہور اسلام کے زمانہ کے حالات پر نظر ڈالیں تو آپ کو ایک بہت بڑی تبدیلی و تغیر کا احساس ہوگا۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ ایک نئے دور کا آغاز تھا جس نے بنی نوع انسان کے حالات و خیالات میں ایک انقلاب عظیم برپا کردیا تھا اور جس کی بدولت انسان، سوچ کی نئی رفعتوں سے روشناس ہوگیا تھا۔
اس انقلاب کو برپا کرنے والی شخصیت (حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تھے جو ایک مذہبی ہیرو کی حیثیت سے ظہور پذیر ہوئے۔ ان کا یہ دعوی نہ تھا کہ وہ خدا ہیں اور نہ ہی ان کے پیروکاروں نے انہیں خدائی کا درجہ دیاتھا۔مذہبی ہیرو کو خدا ماننے کا زمانہ گذر چکا ہے، اب یہ دور کبھی واپس نہ آئے گا۔ تاریخی حالات اور واقعات نے انسانوں کو یہ سبق دے دیا ہے کہ کوئی انسان خواہ جتنی بھی ترقی کرلے، خدا نہیں بن سکتا۔
آج کی تقریر کے لئے ہم نے سرزمینِ عرب میں پیدا ہونے والی ایک عظیم شخصیت (حضرت) محمد (ﷺ) کا انتخاب اس لئے نہیں کیا کہ آپؐ افضل ترین پیغمبر مانے جاتے ہیں بلکہ اس لئے کیا ہے کہ ہم بطور غیر مسلم ان پر مکمل تنقید کر سکتے ہیں اور پوری آزادی سے اپنے خیال کا اظہار کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کی اعلی صفات کا اعتراف کر لینے سے یہ خطرہ نہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص دائرہ اسلام میں داخل ہوجائے گا۔ اس لیے میں آپ ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی وہ تمام صفات بیان کردینا چاہتا ہوں جو حق و انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر بیان کی جاسکتی ہیں۔ میں آپؐ کو نبیوں میں سے سچا ترین (Truest) قرار نہیں دیتا پھر بھی آپؐ کو پورے وثوق کے ساتھ سچا (True)نبی ضرور سمجھتا ہوں۔ ان کی کامیابی اور عظمت کا راز معلوم کرنے کے لیے ہمیں تعصبات سے پاک ہوکر کھلے ذہن کے ساتھ غور کرنا پڑے گا۔
حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تعلیمات کیا تھیں اور ان میں اس دنیا کا کیا تصور پیش کیا گیا تھا؟ ان کی تعلیمات کا صحیح جائزہ اس وقت لیا جاسکتا ہے جب ہم انھیں ایک سچا انسان گردانتے ہوں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ نظریہ جڑ پکڑ چکا ہے کہ ’’اسلام اور اس کا پیغمبر سحرو فسوں تھے‘‘ (نعوذ باللہ) ہمیں اپنے اس طرز فکر اور اس فرسودہ خیالی سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ ہم لوگوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بارے میں جو جھوٹ اور افترا پھیلا رکھا ہے وہ ہمارے لیے حد درجہ باعث ننگ بن رہا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ انجیل کے عالم اور ممتاز مستشرق ایڈورڈ پوکاک (Edward Pococke)نے ڈچ مستشرق گروٹیئس (Grotius) سے جب پوچھا کہ آپ کے پاس اس الزام کا کیا ثبوت ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ایک کبوتر سدھا رکھا تھا جو ان کے کان میں سے مٹر کے دانے اٹھا اٹھا کر کھاتا رہتا تھا اور اس کبوتر کو فرشتہ قرار دیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ ’’اس وقت وحی آ رہی ہے‘‘ گرو ٹیئس نے تسلیم کیا کہ اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اس قسم کے لغو اور بے سروپا الزامات سے اجتناب کریں۔
بارہ سو سال سے ’اٹھارہ کروڑ انسان‘ اس دین اسلام کو اپنے سینوں سے لگائے ہوئے ہیں، یہ اٹھارہ کروڑ نفوس بھی ہماری طرح اولاد آدم ہیں۔ فی زمانہ حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ماننے والوں کی تعداد دنیا کے سب ادیان پر ایمان رکھنے والوں سے زیادہ ہے۔ (کارلائل کے زمانہ میں ممکن ہے کہ مسلمانوں کی تعداد اٹھارہ کروڑ ہی ہو مگر مسلمہ اور مصدقہ ریکارڈ کے مطابق دنیا بھر کے مسلمانوں کی تعداد ۱۹۹۶ء کے دوران ایک ارب ۱۰؍ کروڑ سے زائد تھی— مترجم) ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ انسانوں کی اتنی کثیر تعداد روحانی دیوالیہ پن کی شکار ہے جنھیں مرتے دم تک اپنے اس دیوالیہ پن کا احساس نہیں ہوتا۔
آپ کہتے ہیں کہ اس مذہب کی عمارت جھوٹ پر کھڑی کی گئی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جھوٹا آدمی اینٹوں کی معمولی سی عمارت بھی تیار نہیں کر سکتا چہ جائیکہ وہ ایک مذہب کا بانی ہو اور جس نے ایک تہذیب کی بنیاد رکھی ہو۔
اگر ہم حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو— سازشی اور حریص (نعوذ باللہ) قرار دیں اور ان کی تعلیمات کو بھی بے بصیرتی اور نادانی قرار دیں تو یہ ہماری سخت حماقت اور جہالت ہوگی۔ انھوں نے جو سادہ اور غیر مرصع پیغام دیا وہ برحق تھا۔ وہ پردہ غیب (Unknown Deep)سے ابھرنے والی، حیران کن آواز تھی۔ ان کا نہ کوئی قول جھوٹ نکلا او رنہ کوئی فعل غلط ثابت ہوا۔ ان کی کوئی گفتگو نہ بے معنی تھی اور نہ ان جیسی کوئی مثال پہلے موجود تھی۔ وہ زندگی کا ایک روشن جلوہ تھا جو سینہ فطرت سے اس لیے ظہور پذیر ہوا کہ دنیا کو منور کر ڈالے کیونکہ اس کائنات کا خالق، اس کے ذریعہ دنیا کو اندھیروں سے نجات دلانا چاہتا تھا۔ وہ جو پیغام سرمدی لے کر آئے تھے اس کی اہمیت و عظمت اپنی جگہ قائم ہے۔ اسے پہنچانے والوں کی لغزشیں اور کوتاہیاں اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتیں۔ حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر ایسا کوئی الزام ثابت نہیں کیا جاسکا۔
نبیؐ کے منہ سے جو بات نکلتی ہے، ہمارا ضمیر گواہی دیتا ہے کہ وہ غیر معمولی بات ہے۔ اس جیسے الفاظ کسی عام انسان کی زبان سے نکل ہی نہیں سکتے۔ وہ ’’محرم راز درون خانہ‘‘ ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد و مدعا، اس کے ہر لفظ اور ہر حرکت سے منعکس ہوتا ہے۔ سنی سنائی باتوں سے وہ قطعاً بیگانہ ہوتا ہے۔ اس کا دل سچائیوں کا امین اور حقائق کی روشنیوں سے منور ہوتا ہے۔ اس کی باتیں الہامی ہوتی ہیں۔ ۔۔ یہ چرب زبان نہیں بلکہ کم سخن ہوتے ہیں۔ لیکن جب بولنے پر آتے ہیں تو فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیتے ہیں۔ یہ بے حد مخلص، سچے اور سنجیدہ ہوتے ہیں۔
ہمیں ایک اور بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ آپؐ نے مروجہ معنوں میں کسی مدرسہ یا مکتب میں تعلیم نہیں پائی تھی، آپؐ کو ایسی کوئی سہولت یا موقع میسر نہ آیا تھا۔ چنانچہ یہ بات درست لگتی ہے آپؐ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ ریگستانی زندگی کے مشاہدات اور ذاتی تجربات ہی آپؐ کی تعلیم کا کل سرمایہ تھے۔ غور کیجیے تو یہ امر نہایت حیرت انگیز ہے آپؐ کتابی علم سے بالکل ناآشنا تھے۔ آپؐ کا ذریعہ معلومات آنکھوں سے کیا ہوا مشاہدہ تھا یا اس دور افتادہ ریگستان میں پہنچنے والی خبریں تھیں۔ علم و حکمت کے جو ذخائر اس دور میں موجود تھے ان تک آپؐ کی رسائی نہ تھی۔ انبیاء (علیہم السلام) کی جو تعلیمات دنیا کے مختلف خطوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود تھیں وہ آپؐ تک نہیں پہنچ سکتی تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ آپؐ میں ابتداء ہی سے غور و فکر کی عادت تھی۔ احباب اور ہم عمر نوجوان آپؐ کو ’’الامین‘‘ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ آپؐ کا ہر قول و فعل صداقت اور دیانت کا مظہر ہوتا تھا۔ آپؐ کی ہر بات پر مغز اور پر معنی ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ کم سخن تھے اور بلا ضرورت کوئی بات نہ کرتے تھے۔ آپؐ کی گفتگو میں تدبر اور حکمت کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ آپ ہمیشہ نفس ِ مضمون پر یوں اظہار خیال کرتے کہ سننے والوں کو ہمہ تن گوش ہونا پڑتا تھا۔ لوگ ساری عمر آپؐ کو سنجیدہ، شفیق، راست باز اور راست گفتار سمجھتے رہے آپؐ متین فکر، متواضع، ملنسار اور خوش طبع تھے۔ آپؐ کے چہرہ مبارک پر ہر وقت مسکراہٹ بکھری رہتی تھی۔ بعض لوگوں کے چہروں پر تصنع اور ریاکاری کی جو مسکراہٹ موجود ہوتی ہے، آپؐ ایسے تصنع سے کوسوں دور تھے۔ آپؐ صاحب جمال تھے۔ آپؐ کے حسین چہرے سے ذہانت، ذکاوت اور دیانت کا رنگ جھلکتا تھا۔ آپؐ کا رنگ گندمی تھا اور آنکھیں سیاہ اور چمکدار تھیں۔ مجھے تو آپؐ کی پیشانی کی وہ رگ بھی بہت پیاری لگتی ہے جو غصے کی حالت میں پھول کر سیاہی مائل ہوجاتی تھی۔ یہ بنو ہاشم کا ایک امتیازی نشان تھا جو آپؐ کی پیشانی پر نمایاں طور پر موجود تھا۔
۔۔۔میں ایسی قیاس آرائیوں کو کبھی نہیں مان سکتا۔ ہرگز نہیں یہ سیاہ چشم، پاک طینت اور صاف باطن انسان جو مادر صحرا کی آغوش میں پلا تھا، جذبۂ ہوس اور شہرت طلبی میں مبتلا نہیں ہوسکتا تھا۔ اس شخصیت میں کچھ اور ہی خیالات موجزن تھے۔ یہ شخصیت اس قسم کی ہلکی باتوں سے بالاتر تھی اور مجسم خلوص اور صداقت تھی۔ ایسی شخصیت، خلوص اور سچائی کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی تھی۔ اس کا خمیر ہی اخلاص کے بطن سے اٹھایا گیا تھا۔
دنیا کے دیگر لوگ جب اوہام اور تخیلات میں بری طرح مبتلا ہوچکے تھے اور اپنے اوہام کو دوسروں سے منوانے کے لیے جنگ و جدل میں مصروف تھے یہ ہستی ان اوہام سے کوسوں دور تھی۔ آپؐ اپنی روح اور حقائق کی بنا پر سب سے الگ تھلگ تھے۔ راز ہستی، آپؐ پر روز روشن کی طرح عیاں ہوچکا تھا، آپؐ کا وجود وہم و گماں سے ماورا اور صفات ایزدی کا پر تو تھا۔ اس پر خلوص انسان کی ندا ہاتف غیب کی آواز تھی جسے لوگ انتہائی توجہ اور انہماک کے ساتھ سنتے تھے اور انھیں سننا بھی چاہیے تھا کیونکہ اس کے مقابلے میں دنیا کی ہر چیز ہیچ تھی اور آج بھی ہیچ ہے۔
ہزاروں خیالات اور سوالات آپؐ کے دل میں پیدا ہوتے رہتے، وہ سفر میں ہوتے یا حضر میں، یہ سوالات آپؐ سے جواب مانگتے رہتے کہ ’’میں کون ہوں اور یہ وسیع و ناپیدا کنار کائنات جس میں میں سانس لے رہاہوں کیا چیز ہے؟ موت اور زندگی کا راز کیا ہے؟ اور میرا عمل اور یقین کیسا ہونا چاہیے؟‘‘ کوہِ حرا کی بلندی اور کوہِ سینا کی ہیبت ناک چٹانیں، ریگستانی تنہائی اور خاموشی، نیلے ستاروں سے مزین یہ آسمان اور سوالوں کا کیا جواب دے سکتے تھے؟ بالآخر ان کی اپنی پاکیزہ روح نے ان کا جواب بذریعہ وحی حاصل کیا۔ یہ ایسے سوالات ہیں جو ہمیں بھی خود سے پوچھنے چاہئیں اور ان کا جواب تلاش کرنا چاہیے۔ اس امی شخصؐ کے خیال میں یہ سوالات اتنے اہم تھے کہ وہ انھیں ہر چیز سے زیادہ اہم گردانتا تھا۔ جبکہ یونانی علوم کے پیچیدہ مباحث، ان کے رنگا رنگ فرقوں کا استدلال، یہودیوں کی قدیم، مبہم اور پر اسرار روایات اور عربوں کی احمقانہ صنم پرستی، ان میں سے کسی میں انھیں ان مسائل کا جواب نہیں ملتا تھا۔
ہیرو کی پہلی خصوصیت جو تمام خصوصیات سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اشیا کی ظاہری صورت کو دیکھ کر ان کی اصل حقیقت تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رسم و رواج اور مقبول روایات اچھی بھی ہوسکتی ہیں اور بری بھی۔ اگر یہ روایات حقیقت کی مظہر نہ ہوں تو یہ محض بت پرستی ہوتی ہیں۔ لکڑی کے ایک ٹکڑے کو خدا مان لیا جائے تو ایک حقیقت پسند شخص اسے مضحکہ خیز اور قابل نفریں حرکت ہی سمجھے گا۔ سونے کی ملمع کاری سے مزین اصنام جن کی قریش ِ مکہ پرستش کرتے تھے اس بلند و بالا ہستی کے نزدیک کس کام کے تھے؟ ساری دنیا انھیں پوجتی رہے ہمارے اس ہیرو کو اس سے کیا غرض تھی؟ اس ہستی کے سامنے تو حقیقت کبریٰ (Great Reality)روز ِ روشن کی طرح واضح اور صاف تھی۔ ا نھیں اس حقیقت کبریٰ کا اعلان کرنا تھا۔ اور اس اعلان کے لیے یہی موقع مناسب تھا۔ اس کا اعلان نہ کرنا بے بسی کے ساتھ موت کو قبول کرنے کے مترادف تھا (غالباً ’’فاضل مقرر کی‘‘ اس سے مراد اعلان ِنبوت کرنے سے ہے —مترجم)
جہاں تک اس الزام کا تعلق ہے کہ ان افعال کا محرک، کوئی دنیاوی لالچ تھی ہرگز قرین قیاس نہیں ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سارے عالم عرب میں وہ کونسی چیز تھی جو آپؐ کو مطمئن کرسکتی تھی؟ کیا یونان کے ہر کولیس (ہرقل روم) یا خسرو ایران کا تاج؟ یا ساری دنیا کے بادشاہوں کے تاج انھیں اپنے اس اعلان حق سے باز رکھ سکتے تھے؟ یہ ان کے کس کام کے تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ترغیبات ان کے پیش نظر تھیں ہی نہیں۔ جنت کی نعمتیں اور دوزخ کے ہولناک عذاب کے سوا کوئی چیز ان کے لیے قابل توجہ نہ تھی۔ دنیا بھر کے تاج و تخت کی چند روزہ بہار ان کے لیے کیا معنی رکھتی تھی؟ کیا شیخ ِ مکہ یا شاہِ عرب بن کر عصائے شاہی ہاتھ میں لینے سے انھیں اخروی نجات زیادہ یقینی نظر آسکتی تھی؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ لہٰذا اس ناقص اور بعید از قیاس خیال کو ہمیں ذہن سے جھٹک دینا ہوگا کہ اس عظیم شخصیت نے جو کچھ کیا کسی لالچ کے تحت کیا ہوگا یا اس میںمکر و فن کا کوئی عنصر شامل تھا۔ اس قسم کی یا وہ گوئی حقیقت سے کوئی لگاؤ نہیں کھاتی۔
زور شمشیر والا اعتراض میری رائے میں وقعت نہیں رکھتا۔ میرے نزدیک اس دنیا میں ہر شخص کو جدو جہد کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ وہ ہر چند تبلیغ کرے، بحث میں الجھے، زبان استعمال کرے یا تلوار لیکن بالآخر وہ کسی ایسی چیز پر غالب نہ آسکے گا جو مغلوب ہونے کی مستحق نہ ہو۔ جو چیز اس سے بہتر ہے وہ اسے ہرگز مغلوب نہیں کرسکے گا۔ تاہم جو چیز اس سے کم تر ہے اس پر وہ ضرور قابو پا لے گا۔ اس عظیم کشمکش اور مبارزت عظمیٰ میں فیصلہ کن کردار خود قدرت ادا کرتی ہے۔ جو کبھی غلطی نہیں کرتی۔ اور بالآخر وہی چیز فتحمند ہوگی جو فطرت سے سب سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔ اسے ہم صادق ترین (Truest)اکائی قرار دے سکتے ہیں۔
حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور ان کی کامیابیوں پر غور کرتے ہوئے آپ کو فطرت کی کارفرمائیوں کو ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ فطرت میں گہرائی، حکمت و انصاف، تحمل اور صداقت کے تمام عناصر موجود ہوتے ہیں۔ جن کی بنا پر فطرت کبھی نا انصافی نہیں کرتی۔ آپ زمین کے آغوش میں گندم کے دانے بودیں، ساتھ کچھ بھوسہ اور کوڑا کرکٹ بھی اس میں شامل کردیں لیکن مادر گیتی صرف گندم ہی اگائے گی۔ کوڑا کرکٹ بھی’ زمین‘ کسی استعمال میں لے آئے گی، اس کے وجود کو تبدیل کردے گی لیکن گندم اوپر ہی لہلہاتی نظر آئے گی۔ اصل چیز محفوظ رہے گی۔ نقل مفقود ہوجائے گی۔
آج تک مجھے فرض شناسی اور عبودیت کی اس سے بہتر تعریف (Definition) معلوم نہیں ہوسکی۔ تمام نیکیاں، مقصد ِ تخلیق ِ کائنات کا ساتھ دینے میں مضمر ہیں۔ اسی سے انسان کو حقیقی کامیابی حاصل ہوتی ہے اور وہ صراط مستقیم پر رہتا ہے۔ عقیدہ تثلیث میں ذات اور صفات کی بحثیں خواہ کتنے ہی زور و شور سے جاری رہیں لیکن ان کا اگر کوئی مدعا و مطلب نہیں تو سب بے کار ہے۔ غور طلب امر یہ نہیں کہ ان نظریوں اور منطقی مسئلوں کو الفاظ کا جامہ صحیح پہنایا گیا ہے یا غلط، بلکہ یہ ہے کہ بنی آدم انھیں اپنے دل میں جگہ دینے کو تیار ہیں یا نہیں؟ اسلام نے ان تمام مہمل مذہبی قوتوں کو ملیا میٹ کر دیا ہے اور میری رائے میں اس کو اس کا حق حاصل تھا۔ وہ سراپا حقیقت تھا جو خاص سینہ فطرت سے از سر نو نمودار ہوا، عربوں کی بت پرستی اور شامیوں کے عقائدغرضیکہ ہر اس مذہب کو جو صداقت پر استوار نہ تھا، اس کے سامنے جھکنا پڑا۔ یہ مذاہب ایندھن کی لکڑی کی طرح شعلوں کی لپیٹ میں آگئے۔ اسلام کی آتش ِ صداقت نے انھیں جلاکر خاکستر کردیا۔
(حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذاتی زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ان کا تئیس سالہ دور انتہائی کشمکش میں گزرا، قریش کے ساتھ جنگیں، اندرونی خلفشار اور سازشوں کے پھیلے ہوئے جال تھے۔ وہ چو مکھی لڑائی کی حالت میں تھے۔ حالات نے انھیں کبھی چین نہیں لینے دیا۔ جب کبھی انھوں نے کوئی فیصلہ کیا تو ان کو الہام محسوس ہوا جو جبرائیل ؑکے ذریعہ موصول ہوا، آپ کہتے ہیں کہ یہ سب فراڈ اور جعلسازی تھا۔ میں کہتا ہوں کہ ایسا بالکل نہیں۔ یہ آگ کی بھٹی کی طرح تپتا ہوا ذہن کسی جعل ساز کا ذہن نہ تھا۔ محمدؐ کی زندگی ایک بہت بڑی سچائی اور بہت بڑی حقیقت تھی۔ یہ کائنات پر محیط سچائی تھی، ہمارے جو لوگ اس پیغام کو نقالی، دھوکہ اور دوسری آسمانی کتابوں میں سے مضامین کی چوری قرار دیتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ انھوں نے حالات اور واقعات کا بالکل غلط اندازہ لگایا ہے۔
مجھے قرآن کی اس آیت نے بہت متاثر کیا جس میں انسانوں کے مابین محبت اور مودت کا ذکر آتا ہے۔ اگر یہ باہمی محبت پیدا نہ کی جاتی تو دنیا کا نقشہ کیا ہوتا؟ یہ آیت حقیقت کا ایسا انکشاف ہے جو انسانی ذہن میں دنیاوی ذرائع سے داخل نہیں ہوسکتا۔ قرآن میں ایسی شاعرانہ بلند خیالی اور ایسی تمثیلات پائی جاتی ہیں جو براہ راست خالق حقیقی کی جانب سے وارد شدہ محسوس ہوتی ہیں۔ یہ اشیا کے قلب تک پہنچتی ہیں۔ یہ تمام شواہد حضرت محمدؐ کی گہری بصیرت، غیر تربیت یافتہ (Untutored)ذہانت اور عاقبت اندیشانہ بصارت پر دلالت کرتے ہیں۔ جنھوں نے ان کے کلام میں بادشاہت ، مذہبی رہنمائی اور ہر میدان میں درجۂ کمال کے اوصاف پیدا کردیئے تھے۔
اہل اسلام کی ہوس پرستیوں کے متعلق آج تک بہت کچھ لکھا اور کہا جاچکا ہے۔ (اس سے مصنف کا اشارہ اسلام میں تعدد ِ ازدواج کی طرف ہے) جو اصلیت سے بہت زیادہ کہہ یا لکھ دیا گیا ہے۔ اسے اہل مغرب نے مبالغے کی حد تک اچھا لا ہے۔ ایسی باتیں جن سے ہمارے معاشرے کے لوگ بدکتے ہیں، محمدؐ کی پیدا کردہ نہیں تھیں بلکہ عربوں میں صدیوں سے رائج چلی آ رہی تھیں۔ پیغمبر اسلام نے ان عادات اور رسم و رواج کو مختلف سمتوں سے محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ محمدؐ کا دین آسان نہیں روزے، وضو، پانچ وقت کی روزانہ نماز کے اہتمام اور ادائیگی میں سخت اور پیچیدہ قواعد، شراب سے مکمل اجتناب وغیرہ۔ یہ نہ سمجھئے کہ اسلام ایک آسان دین ہونے کی وجہ سے لوگوں میں مقبول ہوگیا۔ کوئی بھی مذہب آسانیوں اور آسائشوں کے زینوں پر چڑھ کر ترقی نہیں کرتا۔ یہ کہنا انسانیت کی توہین ہے کہ کردار کی عظمت کے مظاہرے اور عہد آفریں کارنامے محض دنیاوی اور اخروی عیش و آرام کے لالچ میں آکر انجام دیئے جاتے ہیں۔ ادنیٰ سے ادنیٰ انسان میں بھی عالی ظرفی کا ایک معیار ہوتا ہے۔ کرائے کے سپاہی جو چند سکوں کی خاطر میدان جنگ میں لڑتے ہیں وہ بھی اپنی عزت نفس سے خالی نہیں ہوتے، ان سے اگر بہادری کا کوئی کارنامہ انجام پاجائے تو آپ(یہ نہیں) کہہ سکتے کہ اس سپاہی نے ایک شلنگ فی یوم کی خاطر جان دے دی۔ ابن آدم کا معیار ،کام و دہن کی لذت نہیں بلکہ خدا کے حضور سرخروئی ہے۔ آپ کسی ادنیٰ سے انسان کو یہ راستہ دکھا دیں آپ دیکھیں گے کہ اس کی معمولی شخصیت بھی شعلہ جوالا بن کر چمکنے لگے گی۔ سختیاں برداشت کرنا نفس کا نہیں بلکہ دل کا معاملہ ہے۔
(حضرت) محمدؐ کے متعلق آپ کچھ بھی کہیں لیکن آپ یہ بات قطعاً نہیں کہہ سکتے کہ وہ نفسانی خواہشات رکھتے تھے۔ اگر کوئی محض ایسا کہتا ہے تو وہ سخت غلطی پر ہے ۔ آپ نفسانی خواہشات کہتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ دنیاوی خواہشات نام کی کوئی چیز ان میں نہیں پائی جاتی تھی۔ ان کے گھر کا ماحول نہایت سادہ تھا، کھانے میں جو کی روٹی اور صرف پانی تھا۔ بعض اوقات مہینوں ان کے چولہے میں آگ تک نہیں جلتی تھی۔ مسلمانوں کو بجا طور پر فخر ہے کہ ان کے پیغمبرؐ اپنے جوتے گانٹھ لیا کرتے اور کپڑوں کو خود پیوند لگا لیتے تھے۔ اگر محمدؐ کا کردار بلند نہ ہوتا تو ان کی قوم ان کو اس طرح دل و جان سے نہ چاہتی۔ تئیس سال قوم سے ان کا واسطہ رہا۔ اس دوران فاقہ مستی اور مار پیٹ سے لے کر شدید جنگوں تک کی نوبت آئی۔ ان کی قوم نے قریب سے ان کا مشاہدہ کیا۔ کوئی بات چھپی ہوئی نہ تھی۔ محمدؐ انہی میں رہتے تھے اور انہی کے سامنے روز مرہ کے کاروبار، جوتے گانٹھنے سے لے کر سیاست دانی اور جنگ و جدال تک، ہر رنگ میں لوگوں نے ان کو دیکھا۔ کسی شہنشاہ کی اتنی عزت نہیں ہوئی جتنی گدڑی میں لپٹے ہوئے اس عظیم ہستی کو حاصل تھی۔ ان کا تئیس سالہ دور نبوت ایک ’’ہیرو‘‘ کی تمام صفات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
(حضرت) محمدؐ کی جانب سے حرمت ِ شراب کا اقدام مجھے بیحد پسند ہے وہ ایک پسماندہ صحرائی معاشرے کو اپنے قدموں پر کھڑا کر رہے تھے۔ ان کی شخصیت ایک کھلی کتاب تھی۔ غرور نام کی کوئی چیز ان میں نہ تھی۔ لیکن عاجزی اور فروتنی بھی نہ تھی۔ پیوند لگے کپڑوں میں وہ ایران اور روم کے بادشاہوں کو دو ٹوک الفاظ میں مخاطب کرکے انھیں ان کے فرائض بتاتے ہیں۔ قبائلی ماحول میں زندگی اور موت کی کشمکش کے دوران انھیں سخت اقدامات بھی کرنا پڑے لیکن یہاں بھی انسانی ہمدردی اور بلند اخلاقی نمایاں نظر آتی ہے۔ محمدؐ نہ تو اپنے سخت اقدامات پر شرمندہ ہیں اور نہ اپنی نوازشات اور عفو و درگزر پر نازاں۔ ان کے ہر اقدام کی اپنی ایک اہمیت ہے۔
اس ارض خاکی پر انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سوال کا جواب ایسے طریقے سے دیا ہے کہ اس پر ہمارے بعض مسیحی علما کو شرم آجانی چاہیے۔ انھوں نے بینتھم (Bentham)اور ولیم پیلے (William Paley) کی طرح نیکی اور بدی، نفع و نقصان کے تصورات کی جمع و تفریق کا حساب نہیں لگایا۔ انھوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ نیکی ہر حالت میں کرنے کا کام ہے اور بدی سے، بہر صورت اجتناب کرنے کی ضرورت ہے۔ نیکی دائمی زندگی کا پیغام ہے۔ اور بدی دائمی موت اور برے انجام کا۔ ان دونوں میں محض اچھے اور برے کا فرق نہیں بلکہ جنت اور دوزخ کا فرق ہے۔ تم انھیں ناپ نہیں سکتے۔ کیونکہ ان میں کوئی مشترک پیمانہ نہیں۔ ایک، انسان کے حق میں ابدی حیات ہے اور دوسری دوامی موت ہے۔ بینتھم کا نظریہ افادیت (Utilitarianism) یعنی نفع و نقصان کو نیکی کا معیار قر ار دینا، بہ الفاظ دیگر خدا کی اس وسیع کائنات کو آلہ بے جان بنا دینا اور انسان کی علوی روح (Infinite Celestial Soul)کو خس و خاشاک اور خوشی و غمی کا پیمانہ بنا دینا، ہے۔
اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ انسان اور اس کے انجام کا غلط تر اور فروتر نظریہ کس نے پیش کیا؟ انسان اور کائنات کے تصور میں ٹھوکر کس نے کھائی؟ محمدؐ نے یا ان لوگوں نے؟ ’’میں کہوں گا کہ ٹھوکر ان لوگوں نے کھائی ہے، محمدؐ نے نہیں۔‘‘
آپ کسی رات قاہرہ (مصر) کی کسی سڑک پر نکل جایئے، جب چوکیدار اندھیرے میں کسی کو پکارتا ہے تو اسے جواب ملتا ہے ’’لا الہ الا اللہ واللہ اکبر۔‘‘ یہ الفاظ آپ کی روح اور جسم میں سرایت کرجائیں گے۔اسلام کے پرجوش مبلغین، آج بھی ملایا سے پپوا نیوگنی کے سیاہ فاموں اور بت پرست وحشی قبائلی علاقوں تک اسلام کا یہی حیات بخش پیغام پھیلانے میں مصروف نظر آتے ہیں اور دیگر مذاہب پر غلبہ پا رہے ہیں جو ان سے ہرگز بہتر نہیں۔
عرب قوم کے لیے اسلام، اندھیروں سے اجالے کی طرف پیش قدمی کا پیغام تھا، اسی نے اہل عرب کو اصلی زندگی عطا کی۔ یہ غریب چرواہوں کی قوم تھی، جو مدت ِ مدید سے صحراؤں میں آوارہ گردی کر رہی تھی، گمنام تھی جسے کوئی پوچھنے والا اور جس پر کوئی توجہ دینے والا نہ تھا، ایک عظیم پیغمبر ان کے پاس ایک ایسا پیغام لے کر آیا جو ان کی فہم سے مطابقت رکھتا تھا۔ اس پر ایمان لانے کے بعد گمنامی کی گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے انسان، یک دم دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ یہ چھوٹی قوم دنیا بھر کی بڑی قوم میں ڈھل گئی۔ ایک صدی کے اندر اندر عرب، ایک طرف غرناطہ اور دوسری جانب دہلی تک دستک دینے لگے۔ دنیا پر ان کی شجاعت و ذہانت کی دھاک بیٹھ گئی۔ عرب سے نکلنے والی روشنی نے پورے عالم کو منور کردیا جو ایک حیات بخش پیغام عقیدے اور عمل کا نام ہے۔ عرب قوم، (حضرت) محمدؐ اور ایک صدی کا عرصہ، کیا یہ آسمان سے نازل ہونے والی ایک چنگاری نہ تھی؟ کہ جس نے سیاہ اور مہیب ریت کے ڈھیر پر گر کر اسے دھماکہ خیز بارود بنا دیا اور جو دہلی سے غرناطہ تک کے آسمان کو منور کرگیا۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ عظیم انسان ہمیشہ ایک برق ِ آسمانی ہوتا ہے۔ جونیابھر کے دیگر انسانوں کو اپنی آمد کے منتظر پاتا ہے۔ اور وہ انھیں اپنے ساتھ ملا کر ایک شعلہ جوالا بن جاتا ہے۔

مومن کامل

حدثنا أبو الیمان قال :أخبرنا شعیب قال:حدثنا أبو الزناد ،عن الاعرج،عن أبی ہریرۃؓ عن النبیﷺ قال:(والذی نفسی بیدہ لا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب الیہ من والدہ و ولدہ )
حدیث کی تشریح
رسول ﷺ کی محبت بھی جز وایمان ہے ۔اس میں یہ حدیث نقل کی کہ حدثناأبو الیمان الخ یہ بڑی مضبوط سندکی حدیث لے کر آئے ہیں ، اس میں سارے اونچے درجے کے محدثین ہیں ۔ابوالیمان ،حکم بن نافع اور شعیب بن ابی حمزہ جوہریؒکے مشہور شاگرد ہیں اور ان کے اوپر ابوالزناد عن الاعرج عن أبی ہریرہ یہ وہ طریق ہے جس کے بارے میں امام بخاری ؒکا مقولہ مشہور ہے :ابوہریرہؓ کی اسانید میں اصح الاسانید ہے،بلکہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے تہذیب التہذیب میں امام بخاریؒ کی طرف یہ مقولہ منسوب کیا ہے کہ امام بخاری نے مطلقاًاس حدیث کو اصح قرار دیا ہے۔
وہ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت کرے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایا:
والذی نفسی بیدہ لا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب الیہ من والدہ وولدہ۔
تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد سے اور اولاد سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔
اگلی حدیث جو انسؓ سے مروی ہے اس میں اضافہ ہے والناس أجمعین .والد سے ۔ولد سے اور تمام انسانوں سے جس میں انسان کی اپنی جان بھی شامل ہے ،والد اور ولد کا ذکر اس لیے کیا کہ والد اور ولد سے انسان کی محبت اپنی سی ہوتی ہے ۔اس واسطے اس کو مقدم کیا ہے۔اور اگلی حدیث میں اس کی وضاحت آگئی کہ والناس أجمعین،تمام انسانوں میں سے نبی کریم ﷺ سے محبت سب سے زیادہ ہو، اس کے بغیر آدمی مومن نہیں ہوسکتا۔
کون سی محبت مدار ایمان ہے؟
اس میں کلام ہوا ہے کہ رسول ﷺ کی جس محبت کو مدار ایمان قرار دیا گیا ہے اس محبت سے کون سی محبت مراد ہے؟
آیا محبت طبعی مراد ہے یا محبت عقلی؟
اور اشکال کی وجہ یہ ہے کہ اگر محبت طبعی مراد ہے تو وہ عام طور پر غیر اختیاری ہوتی ہے۔ایک کے ساتھ محبت زیادہ اور دوسرے کے ساتھ کچھ کم ہے تو یہ آدمی کے اختیار میں نہیں ہوتا ۔اس واسطے نبی کریم ﷺ نے خود اپنی ازواج مطہرات کے بارے میں فرمایا:
اللّھم ھذا قسمی فیما أملک فلا تلمنی فیما لا أملک۔
’’اے اللہ! جو کچھ میرے اختیار میں ہے اس کے اعتبار سے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان عدل وانصاف کرتا ہوں ،لیکن جو چیز میرے اختیار سے باہر ہے اس میں آپ مجھے ملامت نہ فرمائیے گا‘‘۔
تو اس سے مراد محبت قلب ،میلان قلب ،جو انسان کے اختیار سے باہر ہے ،اگر محبت طبعی مراد لی جائے تو یہ غیر اختیاری چیز ہے اور غیر اختیاری چیز کا انسان مکلّف نہیں ۔
اور اگر عقلی محبت مراد لی جائے کہ طبعاً تو اس درجہ کی محبت نہ ہو ،لیکن عقلی طور پر انسان یہ سمجھتا ہو کہ نبی کریم ﷺ تمام دنیا میں سب سے زیادہ قابل محبت اور قابل تعظیم ہیں۔اس پر یہ اعتراض تو نہیں ہوتا کہ غیر اختیاری چیز ہے کیونکہ یہ اختیاری ہے۔
حضرت عمرؓ کی حدیث مشہور پر اشکال و جواب
کنا مع النبی ﷺ و ھو آخذ بید عمر بن الخطاب فقال لہ عمر(یا رسول اللہ، لأنت أحب الیّ من کل شئی الا من نفسی،) فقال النبیﷺ(لا والذی نفسی بیدہ حتی أکون أحب الیک من نفسک) فقال لہ عمر:(فانہ الآن واللہ لأنت أحب الیّ من نفسی۔فقال النبیﷺ الآن یا عمر)
مذکورہ حدیث پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ حضرت فاروق اعظم ؓنے نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے آپ کے ساتھ ہر چیز سے زیادہ محبت ہے ،لیکن اپنی جان سے زیادہ نہیں ،اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم اس وقت تک مومن نہیں ہوگے جب تک مجھ سے اپنی جان سے بھی زیادہ محبت نہ ہو اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ الآن ،اب اپنی جان سے بھی زیادہ محبت ہے ،تو پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ الآن ،اب تم نے ایمان کے اس تقاضے کو پورا کیا۔
اشکال
اشکال یہ ہوتا ہے کہ اگر محبت عقلی مراد ہے تو حضرت عمرؓ نے ابتداء میں کیسے نفی کی کہ مجھے اپنی جان سے زیادہ محبت نہیں ہے۔کیونکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ حضرت عمرؓ کی عقلی محبت تو اپنی جان سے بھی زیادہ تھی اور یہ اعتقاد بدرجہ اتم موجود تھا کہ آپ ﷺ سب سے زیادہ قابل اطاعت ہیں اور ایسا یقینا نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے محبت عقلی کی نفی کی ہو یقینا وہ محبت طبعی کی نفی کی تھی۔اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ جب تک میں محبوب نہ ہوجاؤں اس وقت تک تم مومن نہیں ہوسکتے۔
توجیہات
اس اشکال کے جواب میں شرّاح حضرات نے مختلف توجیہات کی ہیں :
ایک توجیہ یہ ہے جو متعدد شرّاح نے بھی اختیار کی ہے اور حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒنے بھی اپنے مواعظ میں تفصیل کے ساتھ ذکر کی ہے ،وہ یہ ہے کہ محبت سے محبت عقلی مراد ہے،کیونکہ محبت طبعی انسان کے اختیار میں نہیں ہوتی ہے،اور حضرت فاروق اعظمؓ نے جو نفی کی تھی وہ محبت عقلی کی نہیں تھی بلکہ محبت طبعی کی تھی اور یہ سمجھتے ہوئے کہ تھی کہ اس حدیث میں جو محبت مطلوب ہے وہ محبت طبعی مجھے حاصل نہیں ہے اس درجہ کی جو مطلوب ہے ،اس واسطے یہ اشکال ہوا کہ مؤمن ہوا یا نہیں ؟
لیکن جب نبی کریم ﷺنے دوبارہ دہرایا یعنی جب تک مجھ سے اپنی جان سے بھی زیادہ محبت نہیں ہوگی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتے تو اس وقت فاروق اعظم ؓ کو تنبہ ہوا کہ اس حدیث میں محبت طبعی مراد نہیں، بلکہ محبت عقلی مراد ہے،تو انہوں فرمایا کہ الآن ،اب بات سمجھ آگئی،کیونکہ محبت عقلی کا حصول مطلوب ہے اور الحمداللہ وہ مجھے حاصل ہے۔اس واسطے میرا اشکال حل ہو گیا،توآپﷺ نے فرمایا کہ الآن ،اب ٹھیک ہوگیا ،یہ وہ توجیہ ہے جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے بیان فرمائی اور متعدد شراح کے کلام سے بھی مؤید ہے ۔علامہ خطابیؒ،قاضی عیاض یہ سب حضرات یہی فرماتے ہیں۔
دوسری تو جیہ جو بعض حضرات نے بیان فرمائی وہ یہ ہے کہ محبت طبعی ہی مراد ہے ،اور اس پر یہ اشکال کہ یہ غیر اختیاری ہے تو یہ درست نہیں ۔اس واسطے کہ محبت طبعی کا وہ درجہ مراد ہے جو اپنے اختیار سے حاصل ہوتا ہے یعنی اس محبت کے اسباب پر غور کریں ،تو اسباب پر غور کرنے سے جو محبت پیدا ہوگی وہ محبت طبعی ہی ہوگی۔اور اس درجہ میں محبت طبعی کا حصول ہو جائے گا۔
اسباب محبت
کوئی انسان یہ سوچے کہ جب کسی سے محبت ہوتی ہے تو وہ کس بنا پر ہوتی ہے؟اس کے اسباب متعدد ہوتے ہیں ،کبھی کسی کے جمال سے محبت ہوتی ہے ،کبھی کسی کے کمال سے محبت ہوتی ہے کبھی کسی کے نوال(عطائ) سے ہوتی ہے۔یعنی تین اسباب جمال،کمال،اور نوال ۔نوال جس کے معنی ہیں احسان وعطا۔یہ تینوں اسباب نبی کریم ﷺ کے وجود مبارک میں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔جمال بھی اعلی درجے کا ،کمال بھی اعلی درجے کا اور نوال بھی اعلی درجے کا ۔
جب آدمی یہ سوچے گا تو اس سوچنے کے نتیجے میں محبت پیدا ہوگی اور وہ محبت طبعی ہوگی اور جب آدمی ان اسباب کادوسروں سے موازنہ کرے گا کہ کیا آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور میں اتنا جمال ہے ؟کیا آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور میں اتنا نوال ہے ؟جب جواب نفی میں آئے گا تو پھر وہ محبت طبعی بھی جو اسباب سے پیدا ہوتی ہے سارے انسانوں کے مقابلے میں زیادہ ہوگی ۔
جوش و خروش حقیقی محبت کی دلیل نہیں
یہ سمجھ لینا چاہیے کہ محبت طبعی کا زیادہ ہونا اور چیز ہے اور جوش و خروش ہونا دوسری چیز ہے ۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کے ساتھ طبعی محبت زیادہ ہو ،لیکن جوش وخروش اتنا زیادہ نہ ہو ،اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے باپ سے محبت زیادہ ہوتی ہے بہ نسبت بیوی کے لیکن بیوی میں اس کا جوش و خروش زیادہ نظر آتا ہے،باپ میں نظر نہیں آتا۔
بعض اوقات ماں باپ سے محبت زیادہ ہوتی ہے اور اولاد سے بھی اتنی ہی ہوتی ہے۔لیکن اولاد میں جوش و خروش زیادہ نظر آتا ہے ،اس کو چمٹا رہا ہے ،پیار کررہا ہے،گود میں لیے پھر رہا ہے ،لیکن باپ کو تو گود میں نہیں لے سکتا ،اس کو اس طرح چمٹاکر پیار نہیں کر سکتا۔اگر چہ فی نفسہ والدین سے محبت زیادہ ہے ،جس کی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ اختیار مل جائے کہ یہ لو،یا وہ لو دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ہوگا تو بعض اوقات انسان اپنے والد پر اولاد کو بھی ترجیح دیتا ہے ،لیکن والد کے ساتھ جوش و خروش کا اتنا اظہار نہیں ہوتا جتنا اولاد کے ساتھ ہوتا ہے ۔تویہ جوش و خروش غیر اختیاری ہوتا ہے اور یہ مطلوب نہیں۔
اور اس کا مامور بہ اس درجہ میں نہیں ہے کہ آدمی مومن نہ ہو ،لیکن وہ حبِّ طبعی جوناشی ہوتی ہے استحضارِ اسبابِ محبت سے اس حب طبعی کے اندر زیادتی و افضلیت مقصود ہے۔وہ محبت طبعی نبی کریم ﷺ سے زیادہ ہونی چاہیے۔
اگر اس پہلو سے دیکھا جائے تو آدمی کتنا ہی گیا گزرا ہو،فاجرہو اور گناہوں میں مبتلا ہو ،شرابی کبابی ہو ،لیکن جب سرور دو عالم ﷺ کے ناموس کا مسئلہ آجائے گا تووہ اپنی جان دے دیگا ، جس سے تاریخ اسلام بھری پڑی ہے ۔
ایک شاعر کی محبت طبعی اور ایمان کی چنگاری
ماضی قریب کا ایک مشہور اردو کا شاعر تھا عشقیہ نظمیں کہا کرتا تھا ،اللہ بچائے پینے پلانے کا بھی عادی تھا۔ دین سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا ،شاعری بھی فاسقانہ تھی اور چونکہ مشہور ہو گیا تھا اس واسطے اس کو غرور بھی بہت تھا۔کسی کو اپنے آگے نہیں مانتا تھا ۔کسی بڑے شاعر ، ادیب اور صحافی کا نام لیا جاتا تو اس کے اوپر دو چار فقرے کس دیتا تھا۔
ایک جگہ یہ بیٹھا ہواتھا، پینے پلانے کا دور ہو رہا تھا اور ایک کمبخت دہریہ آیا اور اس نے سوچا کہ یہ بہت اچھا موقع ہے کہ یہ شخص شراب پی رہا ہے نشہ میں ہے تو اس سے کچھ کلمات کہلوائے جائیں ،جو اپنے مطلب دہریت ،الحاد اور بے دینی کے موافق ہوں ۔اس سے پوچھا کہ فلاں شاعر کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ اس نے ایک فقرہ کہا کہ وہ تو بڑا بیو قوف ہے ۔پھر پوچھا کہ فلاں فلسفی کے بارے میں کیا خیال ہے ؟اس پر بھی دو چار جملے کس دئیے۔اسی سیاق میں اس کمبخت ،بدبخت نے یہ پوچھا کہ محمد ﷺ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟
جب اس نے یہ پوچھا تو وہ شراب پی رہا تھا اور ہاتھ میں پیالہ اور نشے میں تھا ،وہ اٹھا کر اس نے ایک طرف رکھا اور دوسرا گلاس اٹھا کر اس کے منھ پر مارا اور کہا کہ کمبخت تو مجھ سے میری زندگی کا آخری سہارا بھی چھیننا چاہتا ہے ۔یاد رکھ میں کتنا ہی گناہ گار سہی لیکن اس ذات گرامی کا غلام ہوں اور آپ کے بارے میںزبان سے کوئی کلمہ نکالنا تو کجا کوئی کلمہ آپ ﷺ کے بارے میں سن بھی نہیں سکتا ۔ لڑنے ،مرنے اور اس کی جان لینے کو تیار ہو گیا۔
دیکھنے میں بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ دین اور مذہب سے کوئی ادنی تعلق ہوگا ،لیکن سر ور دو عالم ﷺ کے اسم گرامی آنے کے بعد ایک مسلمان جس کے اندر ایمان کی چنگاری ہے وہ کبھی بھی سر کار دو عالم ﷺ کی محبت میں پیچھے نہیں رہتا۔
یہ حب طبعی بعض اوقات ظاہر نہیں ہوتی ،لیکن وہ محبت طبعی جو اسباب محبت کے استحضار سے ناشی ہوتی ہے،وہ ہر مسلمان کے اندر موجود ہے ۔اس لیے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوگا جب تک کہ اس حب طبعی کو اختیار نہ کرے،جو اسباب مُحبّ میں غور کرنے سے اور اس کے استحضار سے پیدا ہوتی ہے اور وہ حب طبعی ہی ہے ،لیکن اس کا راستہ استدلال اور اختیار میں ہے۔
لوگوں نے حب عقلی کی مثال یوں دی کہ جیسے ایک آدمی دوا پیتا ہے ،تو دوا بظاہر کڑوی لگ رہی ہے ،لیکن عقلاً سمجھتا ہے کہ میرے لیے یہ نافع ہے اس لیے وہ پیتا ہے ۔سرکار دو عالم ﷺ کی محبت کو اس دوا سے تشبیہ دینا یہ بات مناسب نہیں ،غلط ہے،گویا اصلاً تو پسند نہیں آرہی ہے،لیکن عقل سے سوچ کر اچھی لگ رہی ہے،اس لیے اس کو اختیار کیا۔یہ عنوان اچھا نہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ حب طبعی ہی مراد ہے،(لیکن حب طبعی اس طرح ہے جس طرح میں عرض کیا )اور جب حب طبعی کی اسی طرح تشریح کی جائے جس کو حضرت حکیم الامت نے حب عقلی قرار دیا اس میں اور اس میں کچھ زیادہ فرق نہیں ۔اس لیے کہ یہ حب طبعی بھی استحضار اسباب محبت سے پیدا ہو رہی ہے، اور یہ طریقہ استدلالی ہوا۔
اور جو طریقہ استدلالی ہو اس کو آپ عقلی بھی کہہ سکتے ہیں۔وہ عقلی ہے سبب کے درجے میں اور اسباب پر غور کرنے کے درجے میں اور طبعی کے درجے میں عقلی استدلالی کے ذریعہ اس تک پہنچ رہے ہیں اس واسطے عقلی ہے،اور نتیجہ حب طبعی ہے ۔یہ چیز جب حاصل ہو جائے تو ایمان کامل ہو گیا۔
(مأخذ از انعام الباری ،جلد اول ،صفحہ ۳۸۳،مطبع :مکتبہ الحرا ئ،کراچی)

شاتمین رسول ﷺ کو سزا کیوں نہیں؟

جب کبھی شاتمین رسول کے لیے شرعی سزا کا ذکر کیا جاتاہے مسلمانوں کا ایک طبقہ شرمندگی محسوس کرنے لگتا ہے ۔اسے یہ فکر ستاتی ہے کہ’’دنیا کیا کہے گی؟‘‘کہ‘اسلام خوںریزی کا مذہب ہے‘،مسلمان وحشی ہیں ۔قتل وغارت تو وحشیانہ تہذیب کی علامت ہے ۔دنیا میں تو خطرناک ترین مجرموں کے لیے بھی سزائے موت میں تخفیف کی باتیں ہو رہی ہیں ۔بلکہ اس سزا کو یک قلم موقوف کرنے پر اتفاق رائے پیدا کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں ہم دنیا کو کس طرح باور کرا سکیں گے کہ ہم ’’روشن خیال‘‘ ہیں ،’’وسیع النظر‘‘ہیں ،شدت پسند یا تنگ نظر نہیں ،تحمل اور برداشت کی اخلاقیات سے عاری نہیں ،مذہبی جنون میں مبتلا نہیں ۔پھر آخر جو لوگ آنحضور ؐ پر ایمان ہی نہیں رکھتے ان پر آپؐ کی حرمت واجب ہی کیونکر ہوتی ہے ؟
حالیہ مذموم اور دل آزارترین فلم کے خلاف عالمی سطح پر مسلمانوں کا جو رد عمل سامنے آیا اس نے بھی بیچاروں کو شرمندہ کر دیا ہے۔ وہ اس کے شرعی جواز پر بھی سوال اٹھانے اور بال کی کھال اتارنے میں لگے ہیں ۔اور لیبیا میں امریکی سفیر اور اس کے ساتھیوں کی ہلاکت نے تو انہیں شدید احساس جرم میں مبتلا کر کے رکھا دیا ہے ۔جبکہ CIAکے ڈائریکٹر ڈیوڈپیٹر یاس کے استعفیٰ کے بعد کی تحقیقات کے دوران جو دستاویزات سامنے آئیں ہیں ،ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ لیبیا میں امریکی سفارت خانہ سے متصل ایک قید خانہ بھی تھا ۔مظاہرین میں شامل لیبیائی ملیشیا کے کچھ افراد نے اس جیل سے قیدیوں کی رہائی کے لیے یہ حملہ کیا تھا۔تاہم حقائق کا باریک بینی سے تجزیہ اور اس سے صحیح نتائج اخذ کرنا ایک تو میڈیا کی پروپگنڈہ وار کی وجہ سے مشکل ہو گیا ہے ،دوسرے ہمارے ذہنی غلامی اور فکری تساہل کا یہ عالم ہے کہ ہم اس کا ارادہ بھی نہیں رکھتے۔
شاتمین رسول ؐ کے لیے سزا کے معاملہ میں مداہنت آمیز رویہ رکھنے والوں کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ اس کی بنیاد میں حقیقت پسندی سے کہیں زیادہ ذہنی غلامی کا عنصر پایا جاتا ہے ۔معاملات کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی بجائے مغرب کی آنکھوں سے دیکھتے اور اسی کے ذہن سے سوچتے ہیں ،خواہ ان کا تعلق طبقۂ علماء سے ہو یا عصری علوم کے پروردہ افراد سے ۔مگر ؎
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے ،مغرب سے نہیںہے !
ضروری ہے کہ ان کے تمام اندیشوں کی حقیقت کو واضح کیا جائے تاکہ اس معاملہ میں کسی قسم کی مداہنت کے بغیر مثبت اور مبنی بر حقائق موقف اختیار کیا جا سکے ۔پہلا سوال تو یہی ہے کہ کیا اسلام کو اپنے نزول کی ابتداء (حضرت آدم ؑ) سے لیکر انتہا(حضرت محمدؐ)تک اس بات کی پروا رہی کہ’’دنیا کیا کہے گی؟‘‘اسلام دنیا کے معیارات کے مطابق خود ڈھلنے کے لیے نازل ہوا ہے یا دنیا کو اپنے معیارات کے مطابق ڈھالنے کے لیے؟آخر اس مذہب کی حقیقت ہی کیا ہے جو مروّجہ معیارات کے مطابق ڈھل جائے ؟دوسری بات یہ کہ اسلام پر خونریزی کے الزامات لگانے والوں کو غور سے دیکھیں کیا وہ سرتاپا معصوموں کے خون میں رنگے ہوئے نہیںہیں ؟جہاں تک عام طور سے سزائے موت کو موقوف کرنے کا سوال ہے اس کا مقصد جرائم پروری کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ؟کیا مجرمین کے ساتھ نرمی کا مطلب جرم کاشکار ہونے والوں کے ساتھ نا انصافی نہیں ہے؟اس تناظر میں مغرب میں بڑھتے ہوئے جرائم کے رجحان کو سمجھنا مشکل نہیں ہے ۔گو سزا ئے موت کے خلاف مہم چلاتے ہوئے وہ یہ باور کرانے کی کوشش کر تے ہیں کہ اصل مقصود ’’انسانی جان کا احترام ‘‘ہے ۔کیاا نہوں نے انسانی جان کی قدر وقیمت کا واقعی اندازہ لگا لیا ہے ؟یقینا ۔ اسی لئے تو وہ دونوں عظیم عالمی جنگوں سے لیکر آج تک کروڑوں انسانی جانوں کے اتلاف کے مرتکب ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔شاید ان کے مطابق اپنے مفادات کے حصول کے لیے تو قتل وغارت کسی بھی حد تک رواہے۔۹/۱۱کے بعد شروع کی جانے والی جنگوں کو (Crusades)کہہ کے جارج بش نے خود ہی اس مذہبی جنون کے عنصر کا راز فاش کر دیا تھا جو ان میں سے سب سے زیادہ کا رفرما ہے ۔گو تیل کے کنویں اور معدنیات کے ذخیرے ان کے ماسوا ہیں ۔لہذا ان کے مطابق سیکو لر فاشنرم کے تحت تو ہر قسم کی قتل و غارت کا جواز فراہم کیا جا سکتا ہے مگر کسی مذہبی رہنما کی حرمت کے نام پر ایک انسان کی جان پر بھی آنچ نہیں آنے دی جاسکتی ۔خواہ وہ مذہب پسندوں کی کتنی ہی دل آزاری ، توہین، تحقیر ،تذلیل اور تضحیک کا مرتکب کیوں نہ ہو ا ہو ۔سوال یہ ہے کہ روشن خیالی ،وسیع النظری کی تعریف بھی یہی سیکولر فاشسٹ طے کریں گے؟جن کو فکری انحطاط ،اخلاقی دیوالیہ پن ،تہذیبی تنزل مگر تکنیکی اور سیاسی بر تری کے غرور نے اندھا کر کے رکھ دیا ہے ؟
جولوگ یہ باور کرانے میں سارا زور صرف کرتے ہیں کہ ’’زمانہ قلم کا ہے !‘‘وہ کس طرح یہ فراموش کر سکتے ہیں کہ گذشتہ پورے ہزارے میں مغربی مفکرین اور مستشرقین کی جانب سے رسول اکرم ؐ پر جو بیہودہ اعتراضات کئے جاتے رہے ہمارے اہل علم ان کے جواب مدلل طور سے قلم ہی کے ذریعے دیتے رہے ہیں مگر معاملہ اب اعتراضات سے آگے بڑھ کہ مغلظات اور کردار کشی کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔اس نئے سلسلہ کی ابتداء رشدی نے اپنے شیطانی ناول سے کی تھی۔سوال یہ ہے کہ مہذب دنیا کے وہ باشندے جو ہمیں اس پر تحمل کا درس دیتے نہیں تھکتے خود اپنے اوپر بے بنیاد اور رکیک الزامات کو برداشت کر لیں گے؟کیا اسے افراد کی شخصی آزادی میں مداخلت قرار دیتے ہوئے ہتک عزت کا مقدمہ قائم نہیں کیا جائے گا ؟اور کیا وہ اپنے مرے ہوئے رشتہ داروں کے متعلق بھی اس طرح کی دریدہ دہنی کو برداشت کر سکتے ہیں ؟یا ان کے متعلق ان کے جذبات شدید تر ہونگے؟تو ساری وسیع النظری ، روشن خیالی ،اور تحمل و برداشت کی ’’اخلاقیات‘‘ کی تان آنحضور ﷺکی ذات اقدس پر سب وشتم پر جاکے ہی کیوں ٹوٹتی ہے جنہیں مسلمان اپنے والدین بلکہ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں ۔
شاتمین رسولؐ کے جرائم سنگین ترین ہیں ۔اوّل تو وہ مسلّمہ تاریخی حقائق سے انکار کرتے ہیں ۔آنحضور ؐ پر ایمان کسی کو ہو یا نہ ہو وہ اس بات سے انکار تو نہیں کر سکتا کہ آپؐ کی ہستی اور سیرت تاریخ کی مکمل روشنی میں مستند ترین طریقہ پر لکھی گئی ہے ۔آپؐ کی ہستی کوئی دیومالائی یا ماقبل تاریخ شخصیت نہیں ہے بلکہ جس قدر مستند آپؐ کی تاریخ ہے دنیا میں کسی اور کی ہو نہیں سکتی ۔پھر کسی کو اس عظیم ترین ،بر گزیدہ اور تاریخی طور پرتسلیم شدہ ہستی کی کردار کشی کا حق کیسے دیا جا سکتا ہے ؟دوسرے ،شاتمین رسولؐ دنیا میں شمع رسالتؐ کے اربوں پروانوں کے لیے شدید ذہنی ،نفسیاتی اور روحانی اذیت کا باعث بنتے ہیں۔ انہیں اس کا اختیار دینا کون سی اخلاقیات کے تحت روا ہے ؟جبکہ انفرادی اذیت قابل تعزیر جرم ہے تو اربوں انسانوں کو اس بدترین اذیت سے دوچار کرنا ،قابل معافی کیو نکر ہو سکتا ہے ؟مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ہم عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی کے الفاظ نوٹ کریں جو انہوں نے حالیہ دل آزار ترین فلم کی ریلیز کے بعد ۲۶ نومبر ۲۰۱۲ئ؁کو ایک مطالبہ کی صورت میں اقوام متحدہ سے خلاب کرتے ہوئے ادا کئے تھے۔انہوں نے کہا تھا ’’جب بین الاقوامی برادری نے جسمانی اذیت کو قابل تعزیر جرم تسلیم کیا ہے تو نفسیاتی اور روحانی اذیت کو بھی قابل تعزیر جرم قرار دیا جانا چاہیے ۔‘‘دوسری جانب ماہرین قانون بجا طور پر یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کے متعلق مغرب کے مختلف ممالک میں موجود Blasphemyسے متعلق قوانین کا اطلاق آنحضورؐ کی ذات گرامی کی بے حرمتی کے معاملات پر کیوں نہیںکیا جاتا ؟اس سے غرض نہیں کی کوئی شخص آپؐ پر ایمان لائے یا نہ لائے ،مسلم ہویا کھلا کافر ،مگر آپؐ کے خلاف دریدہ دہنی کا حق اسے کسی قیمت پر نہیں دیا جاسکتا ۔شاتمین رسولؐ درحقیقت اپنے گھناؤنے الفاظ کے ذریعے اعلیٰ انسانی قدروں کے بھی قتل کے مرتکب ہوئے ہیں جو ساری انسانی برادری کے خلاف ایک سنگین جرم ہے ۔
بعض لوگ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ آپ ؐ نے اپنی ذات کے لئے خود کسی سے بدلہ نہیں لیا۔مگر سیرت کی کتابوں سے ایسی کئی دلیلیں پیش کی جاسکتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ نے شاتمین رسولؐ کو قتل کرنے کا خود حکم دیا ۔اگرچہ آپؐ نے بعض کو معاف بھی فرمایا ۔مگر یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے تائب ہو جانے کے بعد آپؐ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اسلام قبول کرنے کے بعد ساری زندگی دین کی خدمت میں گزاردی۔ مستقبل میں کون دین کے لئے کتنا مدد گار ہوگا اس کا اندازہ آپؐ کو وحی کے ذریعے ہو جاتا تھا ۔اور معافی کون صدق دل سے مانگ رہا ہے یہ بھی صرف آپؐ ہی جان سکتے تھے۔کیا آپؐ نے اپنے صحابیؓ حذیفہ بن الیمان کو منافقین کے دلوں کی حالت سے باخبر نہیں کر دیا تھا ؟آج جب آپؐ خود معاف کرنے کے لئے موجود نہیں رہے تو امت کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ شاتمین رسولؐ کو معاف کردے۔یہ چیز تاریخی طور پر ثابت شدہ ہے کہ صحابہؓ کرام نے شاتمین رسولؐ کی معافی تو کجا ان کے لیے توبہ کرنے کے حق کو بھی تسلیم نہیں کیا ہے ۔اور اس ضمن میں متعدد اور مستند کتابیں موجود ہیں جس میں بڑی عرق ریزی کے ساتھ اس موضوع پر تحقیق کی گئی ہے ۔جو لوگ جاننا چاہتے ہیں وہ ان کا مطالعہ کر سکتے ہیں ۔بہر کیف یہ ثابت اور تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی شاتم رسولؐ کو معاف کرنے کا امت کو اختیار ہی نہیں ہے ۔اسلام تو کسی بھی مرنے والوں کو برے القاب سے یاد کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔چہ جائیکہ معاملہ رسولؐ اکرم کی ذات گرامی کا ہو۔پھر سوال یہ بھی تو ہے کہ ’رشدی‘تسلیمہ‘ڈچ فلمساز‘تھیوڈووان گوگ‘ڈنمارک کارٹونسٹ‘ جیری فالویل یا نکولاس بسیلے میں سے کس کو اپنی مذموم حرکتوں پر افسوس ہوا ہے ؟اگرچہ ان پر توبہ یا معافی کے دروازے بند ہیں مگر جو لوگ اپنی رکیک حرکتوں پر مسلسل دیدہ دلیری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ،ان کے لیے معافی کا خیال بھی ہمارے اس روشن خیال طبقے کو کیوں آتا ہے ؟کیا جو نقصان اور اذیت انہوں نے پہنچائی ہے اس کا ازالہ ممکن ہے ؟
کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ان مذموم اور ذلیل حرکتو ںسے اسلام کا بال بیکا نہیں کیا جا سکتا فحاشی اور دریدہ دہنی پر مشتمل اس پورے گورکھ دھندے کے باوجود آپؐ کی عزت واکرام میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا کیوں کہ اللہ نے خود آپؐ کے ذکر کو بلند فرمایا ہے ’’و رفعنا لک ذکرک‘‘جس کا ثبوت ہے ۔اور واقعہ بھی یہی ہے کہ اس منفی اور گھناؤنے پروپگنڈے نے خود آپؐ کی سیرت کے مطالعہ کے لیے بھر پور مواقع دئے ہیں اور آپؐ کے شیدائیوں کا حلقہ وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ہمیں معلوم ہے قرن اولیٰ میں آپ کو شاعر اور کاہن کہنے والوں کی مذموم حرکتوںکے نتائج بھی اس سے مختلف نہیں تھے۔اس میں بھی شک نہیں کہ قبول اسلام کے واقعات کے پس پشت وجوہات کا تجزیہ کرنے والے مغربی مفکرین نے بھی رشدی جیسے معاملات کو ان کا اہم محرک قرار دیا ہے ۔تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان پوری بے عزتی کے ساتھ اسے برداشت کرتے چلے جائیں ۔سعید نفوس آپؐ کی سیرت کا مطالعہ کر کے حلقہ بگوش اسلام ہوتی رہیں گی ۔مگر خبیث نفوس کو آپؐ کی حرمت کو پا مال کرنے کی آزادی حاصل رہی تو ہر کس و ناکس آپؐ کی ناموس سے کھلواڑ کی جسارت کرنے لگے گا اور خدانخواستہ آپؐ کی ذات گرامی کو بھی معاذ اللہ حضرت عیسیٰؑ کی طرح مستقل تضحیک کا نشانہ بنایا جانے لگے گا ۔
اس موقع پر ہمیں حضرت امام مالکؒ کا وہ قول یاد آتا ہے :ما بقاء الامۃ بعد شتم نبیّھایعنی اس امت کی کیا زندگی جس کے نبی ؐ کو گالیاں دی جا ئیں ۔یا یہ کہ اس امت کی بقاء کا کیا سوال ہے بعد اسکے کہ اس کے نبی کو گا لیاں دی جائیں ۔سوال یہ ہے کہ نبیؐ کی ہستی کے بغیر امت کا تصور کیسے کیا جا سکتا ہے ؟اپنے نبیؐ کی حرمت کے بغیر امت کی حیثیت ہی کیا ہے ۔نبیؐ کی ذات کا اعتبار اور احترام اگر قائم ہے تو امت کی شناخت اور بقاء کی ضمانت دی جا سکتی ہے ورنہ نہیں ۔جو امت اپنے نبیؐ کی حرمت کا تحفظ نہیں کر سکتی وہ خود اپنے تحفظ سے محروم ہو جاتی ہے ۔

غازی زاہد حسین

سال ۱۹۶۱ئ؁ میں ایک عیسائی مبلغ پادری سیموئیل نے مغلپورہ ورکشاپ میں دوران ِ تبلیغ آنحضور ﷺ کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ زاہد حسین اور اس کے ساتھیوں نے سیموئیل کو سختی سے منع کیا کہ وہ اپنی ہرزہ سرائی بند کرے، لیکن وہ شیطان اپنی شرارت سے باز نہ آیا، جس پر زاہد حسین نے مشتعل ہوکر اس گستاخ کا سر پھاڑ دیا، جس کے نتیجہ میں وہ بدبخت ہلاک ہوگیا۔ زاہد حسین نے عدالت کے روبرو اعتراف قتل کرلیا، جس پر اس کو اشتعال انگیزی کی بنا پر صرف جرمانہ کی سزا دی گئی۔ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں نگرانی دائر کی گئی جو خارج ہوئی۔ اس مقدمہ کی پیروی ڈاکٹر جاوید اقبال ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ نے کی جو اس وقت پیشہ قانون سے وابستہ تھے اور ان کی معاونت برادر عزیز میاں شیر عالم نے کی تھی۔
سال ۱۹۶۴ئ؁ میں اس غازی زاہد حسین کو جب یہ معلوم ہوا کہ لاہور کی ایک عیسائی مشنری کی مشہور دکان پاکستان بائبل سوسائٹی انار کلی میں ایک رسوائے زمانہ کتاب ’’اثمار ِ شیریں‘‘ فروخت ہورہی ہے، جس میں رسول کریم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز مواد موجود ہے۔ اس پر یہ مرد غازی ایک بار پھر تڑپ اٹھا اور اپنے معتمد ساتھی الطاف حسین شاہ کے ساتھ مل کر اس نے بائبل سوسائٹی کی اس دکان میں، جہاں یہ کتاب فروخت ہو رہی تھی، آگ لگا دی اور اس کے منیجر ہیکٹر گوہر مسیح پر الطاف حسین شاہ نے پستول سے قاتلانہ حملہ کردیا لیکن وہ بال بال بچ گیا۔ عدالت کے سامنے جب یہ مقدمہ پیش ہوا تو ان دونوں نے بلا پس و پیش اقبال جرم کیا، جس پر علاقہ مجسٹریٹ نے دونوں کو تین تین سال سزائے قید سنائی اور ایڈیشنل جج لاہور نے اس سزا کو بحال رکھا۔ اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں نگرانی دائر ہوئی۔ زاہد حسین کے عزیزوں کو جو اس مقدمے کی پیروی کر رہے تھے، خواب میں بشارت ہوئی کہ میاں شیر عالم ایڈو و کیٹ کو ملزمان کی جانب سے وکیل مقرر کریں۔ چنانچہ ان کی جانب سے میاں شیر عالم اور استغاثے کی جانب سے مسٹر جرمی ریٹائرڈ پبلک پر اسیکیوٹرپیش ہوئے۔ مقدمہ جب جسٹس شیخ شوکت علی کے سامنے پیش ہوا، تو فاضل جج نے مسٹر جرمی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’اگرچہ کہ وہ خود ایک گنہگار مسلمان اور مذہبی رواداری کی حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں، لیکن اس کتاب میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں جو قابل اعتراض باتیں منسوب کی گئی ہیں، وہ ان کے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں، جنھیں پڑھ کر ان کا خون بھی کھول رہا ہے۔‘‘ اس لیے انھوں نے ملزم کو مزید قید میں رکھنے سے انکار کردیا اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اس کتاب کو فوری طور پر ضبط کرلے۔