روزہ

ہر اُمّت پر روزہ فرض کیا گیا:۔ برادران اسلام! دوسری عبادت جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر فرض کی ہے روزہ ہے۔ روزے سے مراد یہ ہے کہ صبح سے شام تک آدمی کھانے پنے اور مباشرت سے پرہیز کرے۔ نماز کی طرح یہ عبادت بھی ابتدا سے تمام پیغمبروں کی شریعت میں فرض رہی ہے۔ پچھلی جتنی امتیں گزری ہیں سب اسی طرح روزے رکھتی تھیں جس طرح امت محمدیؐ رکھتی ہے۔ البتہ روزے کے احکام اور روزوں کی تعداد اور روزے رکھنے کے زمانے میں شریعتوں کے درمیان فرق رہا ہے۔ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر مذاہب میں روزہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود ہے، اگر چہ لوگوں نے اپنی طرف سے بہت سی باتیں ملا کر اس کی شکل بگاڑدی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:
یٰآ یُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبلِکُم۔
’’یعنی اے مسلمانو! تم پر اسی طرح روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنی شریعتیں آئی ہیں وہ کبھی روزے کی عبادت سے خالی نہیں رہی ہیں۔
روزہ کیوں فرض کیا گیا؟ غور کیجئے کہ آخر روزے میں کیا بات ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس عبادت کو ہر زمانے میں فرض کیا ہے؟
مقصد زندگی …بندگی ٔرب:۔اس سے پہلے کئی مرتبہ آپ سے بیان کر چکا ہوں کہ اسلام کا اصل مقصد انسان کی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی عبادت بنا دینا ہے۔ انسان عبد یعنی بندہ پیدا ہوا ہے اور عبدیت یعنی بندگی اس کی عین فطرت ہے۔ اس لیے عبادت معنی خیال و عمل میں اللہ کی بندگی کرنے سے کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی اس کو آزاد نہ ہونا چاہیے۔ اسے اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں ہمیشہ اور ہر وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی رضاو خوشنودی کس چیز میں ہے اور اس کا غضب اور ناراضی کس چیز میں۔ پھر جس طرف اللہ کی رضا ہو ادھر جانا چاہیے اور جس طرف اس کا غضب اور اس کی ناراضی ہو اس سے یوں بچنا چاہیے جیسے آگ کے انگارے سے کوئی بچتا ہے۔ جو طریقہ اللہ نے پسند کیا ہو اس پر چلنا چاہیے اور جس طریقے کو اس نے پسند نہ کیا ہو اس سے بھا گنا چاہیے ۔ جب انسان کی ساری زندگی اس رنگ میں رنگ جائے تب سمجھو کہ اس نے اپنے مالک کی بندگی کا حق ادا کیا اور وَمَاخَلَقتُ الجِنَّ وَالِانسَ اِلَا لِیَعبُدُونِ کا منشا پورا ہو گیا۔
عبادات …بندگی کی تربیت: یہ بات بھی اس سے پہلے میں بیان کر چکا ہوں کہ نماز، روزے، حج اور زکوٰۃ کے نام سے جو عبادتیں ہم پر فرض کی گئی ہیں ان کا اصل مقصد اسی بڑی عبادت کے لیے ہم کو تیار کرنا ہے۔ ان کو فرض کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر تم نے دن میں پانچ وقت رکوع اور سجدہ کر لیا، اور رمضان میں تیس دن تک صبح سے شام تک بھوک پیاس برداشت کرلی اور مالدار ہونے کی صورت میں سالانہ زکوٰۃ اور عمر میں ایک مرتبہ حج ادا کر دیا، تو اللہ کا جو کچھ حق تم پر تھا وہ ادا ہو گیا اور اس کے بعد تم اس کی بندگی سے آزاد ہو گئے کہ جو چاہو کرتے پھرو، بلکہ دراصل ان عبادتوں کو فرض کرنے کی غرض یہی ہے کہ ان کے ذریعہ سے آدمی کی تربیت کی جائے اور اس کو اس قابل بنادیا جائے کہ اس کی پوری زندگی اللہ کی عبادت بن جائے ۔ آیئے اب اسی مقصد کو سامنے رکھ کر ہم دیکھیں کہ روزہ کس طرح آدمی کو اس بڑی عبادت کے لیے تیار کرتا ہے۔
روزہ مخفی عبادت ہے: روزے کے سوادوسری جتنی عبادتیں ہیں وہ کسی نہ کسی ظاہری حرکت سے ادا کی جاتی ہیں۔ مثلاً نماز میں آدمی اٹھتا اور بیٹھتا اور رکوع اور سجدہ کرتا ہے جس کو ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ حج میں ایک لمبا سفر کر کے جاتا ہے اور پھر ہزاروں لا کھوں آدمیوں کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ زکوٰۃ بھی کم از کم ایک شخص دیتا ہے اور دوسرا شخص لیتا ہے۔ ان سب عبادتوں کا حال چھپ نہیں سکتا ۔ اگر آپ ادا کر تے ہیں تب بھی دوسروں کو معلوم ہو جاتا ہے، اگر ادا نہیں کرتے تب بھی لوگوں کو خبر ہو ہی جاتی ہے۔ اس کے برخلاف روزہ ایسی عبادت ہے جس کا حال خدا اور بندے کے سوا کسی دوسرے پر نہیں کھل سکتا ۔ ایک شخص سب کے سامنے سحری کھائے اور افطار کے وقت تک ظاہر میں کچھ نہ کھائے پیے، مگر چھپ کر پانی پی جائے، یا کچھ چوری چھپے کھاپی لے، تو خدا کے سواکسی کو بھی اس کی خبر نہیں ہو سکتی۔ ساری دنیا یہی سمجھتی رہے گی کہ وہ روزے سے ہے اور وہ حقیقت میں روزے سے نہ ہو گا۔
روزہ…ایمان کے مضبوطی کی علامت: روزے کی اس حیثیت کو سامنے رکھو، پھر غور کرو کہ جو شخص حقیقت میں روزے رکھتا ہے اور اس میں چوری چھپے بھی کچھ نہیں کھاتا پیتا، سخت گرمی کی حالت میں بھی جبکہ پیاس سے حلق چٹخا جا تا ہو، پانی کا ایک قطرہ حلق سے نیچے نہیں اتارتا ۔ سخت بھوک کی حالت میں بھی جبکہ آنکھوں میں دم آرہا ہو کوئی چیز کھانے کا ارادہ تک نہیں کرتا، اسے اللہ تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے پر کتنا ایمان ہے ۔ کس قدرزبردست یقین کے ساتھ وہ جانتا ہے کہ اس کی کوئی حرکت چاہے ساری دنیا سے چھپ جائے مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتی۔ کیسا خوف خدا اس کے دل میں ہے کہ بڑی سے بڑی تکلیف اٹھا تا ہے مگر صرف اللہ کے خوف کی وجہ سے کوئی ایسا کام نہیں کرتا جو اس کے روزے کو توڑنے والا ہو۔ کس قدر مضبوط اعتقاد ہے اس کو آخرت کی جزا وسزا پر کہ مہینہ بھر میں وہ کم از کم تین سو ساٹھ گھنٹے کے روزے رکھتا ہے اور اس دوران میں کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے دل میں آخرت کے متعلق شک کاشائبہ تک نہیں آتا۔ اگر اسے اس بات میں ذرا سا بھی شک ہو تا کہ آخرت ہو گی یا نہ ہوگی اور اس میں عذاب و ثواب ہو گا یا نہ ہو گا تو وہ کبھی اپنا روزہ پورا نہیں کر سکتا۔ شک آنے کے بعد یہ ممکن نہیں ہے کہ آدمی خدا کے حکم کی تعمیل میں کچھ نہ کھا نے اور نہ پینے کے ارادے پر قائم رہ جائے۔
ایک ماہ کی مسلسل ٹر یننگ: اس طرح اللہ تعالیٰ ہر سال کامل ایک مہینہ تک مسلمان کے ایمان کو مسلسل آزمائش میں ڈالتا ہے۔ اور اس آزمائش میں جتنا جتنا آدمی پورا اتر تا جا تا ہے اتنا ہی اس کا ایمان مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ یہ گویا آزمائش کی آزمائش ہے اور ٹریننگ کی ٹریننگ۔ آپ جب کسی شخص کے پاس امانت رکھواتے ہیں تو گویا اس کی ایماننداری کی آزمائش کرتے ہیں۔ اگر وہ اس آزمائش میں پورا اترے اور امانت میں خیانت نہ کرے تو اس کے اندر امانتوں کا بوجھ سنبھالنے کی اور زیادہ طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ زیادہ امین بنتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی مسلسل ایک مہینے تک روزا نہ بارہ بارہ چوردہ چودہ گھنٹے تک آپ کے ایمان کو کڑی آزمائش میں ڈالتا ہے، اور جب اس آمائش میں آپ پورے اتر تے ہیں تو آپ کے اندر اس بات کی مزید قابلیت پیدا ہونے لگتی ہے کہ اللہ سے ڈر کر دوسرے گناہوں سے بھی پرہیز کریں، اور للہ کو عالم الغیب جان کر چوری چھپے بھی اس کے قانون کو توڑنے سے بچیں اور ہر موقع پر قیامت کا وہ دن آپ کو یاد آجا یا کرے جب سب کچھ کھل جائے گا اور بغیر کسی رور عایت کے بھلائی کا بھلا اور برائی کا برا بدلہ ملے گا۔ یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ
یٰآیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبلِکُم لَعَلَّکُم تَتَّقُونَ۔ (البقرہ:۱۸۳)
’’اے اہل ایمان! تمہارے اوپر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کیے گئے تھے۔ شاید کہ تم پر ہیز گار بن جائو۔‘‘
اطاعت کی طویل مشق: روزے کی ایک دوسری خصوصیت بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ یہ ایک لمبی مدّت تک شریعت کے احکام کی لگاتاراطاعت کراتا ہے۔ نماز کی مدّت ایک وقت میں چند منٹ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ زکوٰۃ ادا کرنے کا وقت سال بھر میں صرف ایک وقت آتا ہے۔ حج میں البتہ لمبی مدّت صرف ہوتی ہے مگر اس کا موقع عمر بھر میں ایک دفعہ آتا ہے اور وہ بھی سب کے لیے نہیں۔ ان سب کے برخلاف روزہ ہر سال پورے ایک مہینے تک شب وروز شریعت محمدیؐ کی اتباع کی مشق کراتا ہے۔ صبح سحری کے لیے اٹھو، ٹھیک فلاں وقت پر کھانا پینا سب بند کردو۔ دن بھر فلاں فلاں کام کر سکتے ہو اور فلاں فلاں کام نہیں کر سکتے۔ شام کو ٹھیک فلاں وقت پر افطار کرو۔ پھر کھانا کھا کر آرام کر لو، پھر تراویح کے لیے دوڑو۔ اس طرح ہر سال کامل مہینہ بھر صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک مسلمان کو مسلسل فوجی سپاہیوں کی طرح پورے قائدے اور ضابطے میں باندھ کر رکھا جا تا ہے او پھر گیارہ مہینے کے لیے اسے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ جو تربیت اس ایک مہینہ میں اس نے حاصل کی ہے اس کے اثرات ظاہر ہوں، اور جو کمی پائی جائے وہ پھر دوسرے سال کی ٹریننگ میں پوری کی جائے۔
تربیت کے لیے سازگار اجتماعی ماحول:۔ اس قسم کی تربیت کے لیے ایک شخص کو الگ الگ لے کر تیار کرنا کسی طرح موزوں نہیں ہوتا۔ فوج میں بھی آپ دیکھتے ہیں کہ ایک ایک شخص کو الگ الگ قواعد نہیں کرائی جاتی بلکہ پوری فوج کی فوج ایک ساتھ قواعد کرتی ہے۔ سب کو ایک وقت بگل کی آواز پر اٹھنا اور بگل کی آواز پر کام کرنا ہوتا ہے تاکہ ان میں جماعت بن کر متفقہ کام کرنے کی عادت ہو، اور اس کے ساتھ ہی وہ سب ایک دوسرے کی تربیت میں مددگار بھی ہوں، یعنی ایک شخص کی تربیت میں جو کچھ نقصان رہ جائے اس کی کمی کو دوسرا اور دوسرے کی کمی کو تیسرا پورا کردے۔ اسی طرح اسلام میں بھی رمضان کا مہینہ روزے کی عبادت کے لیے مخصوص کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ ایک وقت میں سب کے سب مل کر روزہ رکھیں۔ اس حکم نے انفرادی عبادت کو اجتماعی عبادت بنا دیا۔ جس طرح ایک کے عدد کو لاکھ سے ضرب دوتولا کھ کا زبردست عددبن جاتا ہے اس طرح ایک ایک شخص کے روزہ رکھنے سے جواخلاقی اور روحانی فائدے ہو سکتے ہیں، لاکھوں کروڑوں آدمیوں کے مل کر روزہ رکھنے سے وہ لاکھوں کروڑوں گنے زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ رمضان کا مہینہ پوری فضا کو نیکی اور پرہیز گاری کی روح سے بھر دیتا ہے۔ پوری قوم میں گویا تقویٰ کی کھیتی سر سبز ہو جاتی ہے۔ ہر شخص نہ صرف خود گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، بلکہ اگر اس میں کوئی مزوری ہوتی ہے تو اس کے دوسرے بہت سے بھائی جو اسی کی طرح روزہ دار ہیں، اس کی پشت پناہ بن جاتے ہیں۔ ہر شخص کو روزہ رکھ کر گناہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے، اور ہر ایک کے دل میں خود بخود یہ خواہش ابھرتی ہے کہ کچھ بھلائی کے کام کرے، کسی غریب کو کھانا کھلائے، کسی ننگے کو کپڑے پہنائے، کسی مصیبت زدہ کی مدد کرے، کسی جگہ اگر کوئی نیک کام ہورہا ہو تو اس میں حصّہ لے اور اگر کہیں علانیہ بدی ہورہی ہو تو اسے روکے۔ نیکی اور تقویٰ کا ایک عام ماحول پیدا ہو جاتا ہے اور بھلائیوں کے پھلنے پھولنے کا موسم آجا تا ہے، جس طرح آپ دیکھتے ہیں کہ ہر غلّہ اپنا موسم آنے پر خوب پھلتا اور پھولتا ہے اور ہر طرف کھیتوں پر چھایا ہوا نظر آتا ہے۔
اسی بنا پر نبی ﷺ نے فرمایا کہ: کُلُّ عَمَلِ ابنِ آدَمَ یُضَاعَفُ الحَسَنَۃُ بِعَشرِ اَمثَالِہَا اِلیٰ سَبعِ مِائَۃِ ضِعفٍ قَالَ اللہُ تَعَالیٰ اِلَّا الصّومَ فَاِنَّہٗ لِی وَاَنَا اَجزِی بِہٖ،
’’آدمی کا ہر عمل خدا کے ہاں کچھ نہ کچھ بڑھتا ہے ایک نیکی دس گنی سے سات سوگنی تک پھلتی پھولتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں اس کا جتنا چاہتا ہوں بدلہ دیتا ہوں‘‘۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیکی کرنے والے کی نیت اور نیکی کے نتائج کے لحاظ سے تمام اعمال پھلتے پھولتے ہیں۔ اور ان کی ترقی کے لیے ایک حد ہے۔ مگر روزے کی ترقی کے لیے کوئی حد نہیں۔ رمضان چونکہ خیر اور صلاح کے پھلنے اور پھولنے کا موسم ہے، اور اس موسم میں ایک شخص نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں مسلمان مل کر اس نیکی کے باغ کو پانی دیتے ہیں اس لیے یہ بے حدوحساب بڑھ سکتا ہے۔ جتنی زیادہ نیک نیتی کے ساتھ اس مہینہ میں عمل کرو گے، جس قدر زیادہ برکتوں سے خود فائدہ اٹھائو گے اور اپنے دوسرے بھائیوں کو فائدہ پہنچائو گے اور پھر جس قدر زیادہ اس مہینہ کے اثرات بعد کے گیارہ مہینوں میں باقی رکھو گے، اتنا ہی یہ پھلے پھولے گا، اور اس کے پھلنے اور پھولنے کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ تم خوداپنے عمل سے اس کو محدود کر لو تو یہ تمہارا اپنا قصور ہے۔
عبادات کے نتائج اب کہاں ہیں؟ روزے کے یہ اثرات اور یہ نتائج سن کر آپ میں سے ہر شخص کے دل میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ یہ اثرات آج کہاں ہیں؟ ہم روزے بھی رکھتے ہیں اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں مگر یہ نتیجے جو تم بیان کرتے ہو ظاہر نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ تو میں آپ سے پہلے بیان کر چکا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اسلام کے اجزا کو الگ الگ کردینے کے بعد اور بہت سی نئی چیزیں اس میں ملادینے کے بعد آپ ان نتائج کی توقع نہیں کر سکتے جو پورے نظام کی بندھی ہوئی صورت ہی میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری وجہ یہ ہے کہ عبادات کے متعلق آپ کا نقطہ نظر بدل گیا ہے۔ اب آپ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ محض صبح سے شام تک کچھ نہ کھانے اور نہ پینے کا نام عبادت ہے، اور جب یہ کام آپ نے کر لیا تو عبادت پوری ہو گئی۔ اسی طرح دوسری عبادتوں کی بھی محض ظاہری شکل کو آپ عبادت سمجھتے ہیں، اور عبادت کی اصلی روح جو آپ کے ہر عمل میں ہونی چاہیے اس سے عام طور پر آپ کے 99فی صد بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی غافل ہیں۔ اسی وجہ سے یہ عبادات اپنے پورے فائدے نہیں دکھا تیں، کیوںکہ اسلام میں تو نیت اور فہم اور سمجھ بوجھ ہی پرسب کچھ منحصر ہے۔ (ماخوذ: خطبات)

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *