روزہ اور تعمیر سیرت

دنیا کے تمام مذاہب اپنے ماننے والوں کی فکر، شخصیت اور کردار پر اثر انداز ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے ماننے والے بعض چیزوں کو اختیار کریں اور بعض سے اجتناب کریں تاکہ ان کی پہچان اور شخصیت دوسروں سے مختلف ہو۔ مثلاً بعض مذاہب اپنے ماننے والوں کے لیے ایک خاص رنگ اور خاص وضع کا لباس تجویز کرتے ہیں تبت کے بدھ مذہب کے ماننے والے بھکشوز عفرانی رنگ کی چادروں میں اپنے آپ کو لپیٹ کر رکھتے ہیں اور مشرقی یورپ کے یہودی سیاہ لمبا کوٹ اور سر پر چھوٹی سی نماز کی طرح کی سیاہ ٹوپی لیے بغیر اپنی شخصیت کو مکمل نہیں سمجھتے اسلام اور خصوصاًرمضان کا پورا ایک مہینہ کس طرح شخصیت اور سیرت تعمیر کرنا چاہتا ہے اس کو قرآن کریم نے صرف ایک آیت مبارکہ میں جس کے ذریعہ روزہ فرض کیا گیا جامعیت اور اختصار کے ساتھ بیان فرما دیا ہے۔ چنانچہ کہا گیا: یٰاَیُّہَاالَّذِینَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّلذِیْنَ مِنْ قَبلِکُم لَعَلَّکُم تَتَّقُونَ (البقرہ ۲:۱۸۳) ’’اے ایمان لانے والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تا کہ تمھارے اندر تقویٰ کی روش پیدا ہو‘‘۔
اس آیت مبارکہ پر غور کیا جائے تو تین پہلو سامنے آتے ہیں اولاً یہ کہ روزے صرف اُمت محمدی ﷺ پر نہیں بلکہ اس سے قبل کی شریعتوں میں بھی فرض تھے چنانچہ قرآن کریم مختلف مقامات پر بنی اسرائیل کے حوالہ سے نماز، زکوٰۃ اور روزے کا ذکر کرتا ہے دوسرا پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ تقویٰ کی روش اور تعمیر سیرت کے لیے روزہ ایک موثر ذریعہ ہے اور آخری بات یہ سامنے آتی ہے کہ گویہ تقویٰ پیدا کرنے اور سیرت کو اسلامی تشخص دینے والی عبادت ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر روزہ دار اس سے لازمی طور پر فائدہ حاصل کر سکے اس لیے کہا گیا کہ ’’لعلکم‘‘ یعنی امید کی جاتی ہے، یا غالب امکان ہے کہ تم اس کے ذریعہ تقویٰ کا طرز عمل پیدا کر سکو۔ جب ہم تقویٰ کی اصلاح پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا جو مفہوم عربی زبان میں پایا جاتا ہے وہ محض یہ نہیں ہے کہ ایک شخص اپنے آپ کو آگ سے بچا لے بلکہ تقویٰ وسیع تر مفہوم رکھتا ہے جو ہمارے معاشرے کے بے شمار پہلوئوں کا احاطہ کر تا ہے۔ حدیث شریف میں ایک بات یہ فرمائی گئی ہے کہ روزہ ایک روزے دار کے لیے ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ ’’اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ‘‘ (بخاری و مسلم) جس طرح ڈھال کا صحیح استعمال ایک مجاہد کو دشمن کی تلوار کے وار سے بچا تا ہے ایسے میں روزہ کا صحیح طور پر رکھنا شیطان کے بہت سے حملوں، وسوسوں اور بہکاوے سے انسان کو بچا سکتا ہے۔ وہ سپاہی کیسا نا دان سپاہی ہوگا کہ ڈھال ہاتھ میں ہو اور پھر بھی دشمن کا واراسے زخمی کر جائے۔ اس لیے روزہ کی ڈھال کا صحیح استعمال سیکھنے کے بعد ہی ایک مومن شیطان کے کاری وار سے بچ سکتا ہے۔
یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ سیرت و کردار کی تعمیرایک محنت طلب کام ہے انسان اپنے ماحول اور خاندان یا دوستوں کے زیر اثر بہت سی باتوں کو عادت بنا لیتا ہے جو شخص جھوٹ کا عادی ہواسے سچ بولنے اور جھوٹ سے باز رہنے کے لیے پہلے اپنی جھوٹ کی عادت کو unlearnکرنا ہوگا اور پھر سچ کو اختیار کر نا ہوگا ظاہر ہے کہ یہ کام ایک دو دن میں نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے خالق انسان نے انسان کی صلاحیتوں کو جانتے ہوئے ایک ماہ کا نظام تربیت تجویز فرمایا تا کہ اس ایک ماہ کے عرصہ میں ایک مسلمان اپنی سیرت کی تعمیر صحیح خطوط پر کر سکے۔
تقویٰ کا عام تصور یہی پایا جا تا ہے کہ وہ شخص متقی ہے وہ عبادات میں کثرت کرتا ہو اور معاشرتی تعلقات سے اپنے آپ کو کاٹ کر صرف اللہ کی یاد میں کسی مسجد کے گوشے میں بیٹھ گیا ہو یا نماز کے بعد دیر تک اذکار میں مصروف رہتا ہو۔ جبکہ احادیث سے یہ پیغام ملتا ہے کہ جس شخص نے روزہ رکھا اور فحش گوئی یا بری بات زبان سے کہنے سے نہ بچا، جس نے روزہ رکھا اور معاملات درست نہ کئے گویا کہ اس کا روزہ رکھنا یا نہ رکھنا برابر ہے۔
اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ، وَاِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْم اَحَدِ کُم فَلا یَرفُثْ وَلَا یَضخَبْ، فَاِنْ سَابَّہٗ اَحَدٌ اَوْ قَا تَلَہٗ فَلیَقُلْ اِنِّی امْرُ ؤٌ صَائِمٌ (بخاری ومسلم)
نبی ﷺ نے فرمایا کہ: ’’روزہ ڈھال ہے، اور جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو اپنی زبان سے فحش بات نہ نکالے اور نہ شورو ہنگامہ کرے، اور اگر کوئی اس سے گالم گلوچ کرے یا لڑائی پر آمادہ ہو تو اس روزہ دار کو سوچنا چاہیے اور یاد کرنا چاہیے کہ میں تو روزہ دار ہوں (بَھلا میں کس طرح گالی دے سکتا اور لڑسکتا ہوں)‘‘
گویا روزہ کا پہلا اثر ایک مسلمان کی سیرت پر ہونا چاہیے کہ اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے اہل ایمان محفوظ ہوں وہ زبان سے صرف وہ بات کہے جو بھلی سچی اور مناسب ہو فحش گوئی غیبت یا زبان درازی سے اپنے آپ کو روکے اور ایسے ہی دوسروں کے ساتھ معاملات میں عدل اور سچائی کا رویہ اختیار کرے۔ انسانوں کے ساتھ معاملات میں اخلاقی رویہ اختیار کرنے پر اصرار یہ ظاہر کرتا ہے کہ تقویٰ انفرادی اصلاح سے زیادہ اجتماعیت سے تعلق رکھتا ہے۔ گویا تقویٰ انفرادی تزکیہ تو ہے ہی لیکن اصلاً یہ اجتماعی معاملات میں صحیح کردار اور رویے کا نام ہے۔
روزہ ہمیں یہ تربیت دیتا ہے کہ ہم کس طرح اپنے مسکرانے کے انداز کو، اپنے گفتگو کے انداز کو، اپنے افہام و تفہیم کے انداز کو، اپنے اختلاف کرنے کے انداز کو، اپنے گھروالوں کے ساتھ معاملات کو سیرت پاک ﷺکے مطابق بنا سکیں۔ ہم کس طرح اپنے احساسات کو، جذبات (Feeling)کو، اللہ تعالیٰ کی مرضی کا تابع بنائیں یہ جس ضبط نفس کی تعلیم دیتا ہے وہ نفس کُشی نہیں ہے چنانچہ اگر ایک شخص مسلسل روزے رکھتا ہے رمضان سے پہلے بھی اور امضان کے بعد بھی تو اسلام کی نگاہ میں ایسا کرنا تعمیر سیرت کے بنیادی فلسفہ کے منافی ہے۔
عَنْ اَبِی ھُرَیرَۃَؓ قَالَ نَھی رَسُولُ اللہِ صَلّی اللہُ علیہ وسلم عَنِ الوِصالِ فی الصَّومِ فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ اِنَّکَ توَاصِلُ یَا رَسُولَ اللہِ قَالَ وَاَیُّکُمْ مِثلِی اِنِی اَبِیتُ یُطعِمُنِی رَبِّی وَیَسقِینِی (متفق علیہ)
حضرت ابو ہریرہؓکا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وصال فی الصوم سے منع فرمایا۔ اس پر ایک شخص نے حضور ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ بھی تو وصال فی الصوم فرماتے ہیں۔ حضور نے فرمایا تم میں سے کون میری مانند ہے، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلا تا اور پلاتا ہے۔ (متفق علیہ)
تعمیر سیرت کی بنیاد صرف اسوہ رسول ﷺ ہے اور آپ ﷺ نے واضح طور پر فرما دیا ہے کہ مسلسل روزے نہ رکھے جائیں چنانچہ نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے کی ہدایت احادیث سے ثابت ہے ایسے ہی آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ جس شخص نے تمام سال روزے رکھے اس نے روزے نہیں رکھے۔ اسلامی شخصیت کی پہچان توازن وعدل ہے اور مسلسل روزہ رکھنا عدل اور توازن اور روزہ کی روح کی ضد ہے اور سب سے بڑھ کر فرمان رسول ﷺ کی خلاف ورزی ہے۔
شخصیت کی تعمیر میں بہت سے عوامل کا دخل ہوتا ہے عموماً ایک شخص اپنے والدین، اساتذہ اور ہم عمر ساتھیوں میں سے جس سے متاثر ہوتا ہے غیر شعوری طور پر اس کے اطواروعادات کو اختیار کر لیتا ہے۔ بعض اوقات نوجوان اپنے پسند یدہ کھلاڑی کے لباس اور بالوں کی وضع قطع اختیار کر لیتے ہیں لیکن شخصیت کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک شخص مسائل اور معاملات کے حل کے لیے کوئی فیصلہ کن اقدام اختیار کرتا ہے۔ اس کا مسائل کا سمجھنا، تجزیہ کرنا اور حل اختیار کرنا اس کی شخصیت کا پتہ دیتا ہے۔ ایک سنجیدہ شخصیت اور ایک غیر ذمہ دارشخصیت کا فرق معاملات میں طرز عمل دیکھ کر چند لمحات میں با آسانی لگایا جا سکتا ہے۔
روزہ ایک باشعور، ذمہ دار اور درد مند شخصیت تعمیر کرنی چاہتا ہے چنانچہ وہ تعمیر شخصیت کے لیے جو نمونہ یا ماڈل منتخب کرتا ہے وہ کسی اور کا نہیں کامل ترین انسان ﷺ کا اسوہ ہے۔ جہاں یہ مہینہ قرآن کریم اور سیرت پاک سے تعلق اور وابستگی کا مہینہ ہے۔ وہیں اس مہینہ کے دوران ہر صاحب ایمان کوشش کرتا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ہرہر عمل اور اسوہ کو شعوری طور پر اختیار کرے اور اپنی عادات کو اسوہ پاک کے مطابق بنائے۔ چنانچہ خاتم النبین ﷺ کے مسکرانے کا انداز ، بچوں سے محبت کا انداز، بوڑھوں اور کمزوروں کی خدمت کا انداز اور حق کے لیے جان کی بازی لگا دینے کی مثال، غرض آپ ﷺ کے ہرانداز کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مہینہ میں نہ صرف قرآن کریم بلکہ سیرت پاک ﷺ کے خصوصی مطالعہ سے سیرت و کردار میں وہ بنیادی تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے جو دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بن جائے۔
رمضان کے روزے ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم سیرت پاک کے مطالعہ میں تلاش کریں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں مختلف معاملات میں، وہ کوئی نزاع ہو، معاشی یا سیاسی مسئلہ ہو، جہاد کا موقع ہو یا کوئی گھریلو معاملہ، کیا طرز عمل اختیار فرمایا۔ تاکہ ہم اپنے اندر وہ صفات پیدا کریں جو آپ کو پسند تھیں ہمارے لیے نبی کریم ﷺ کے اسوہ میں اللہ تعالیٰ نے بہترین مثال رکھ دی ہے یہی تعمیر سیرت کا سب سے زیادہ مستند اور کامیاب طریقہ ہے یہی ہمارا ماڈل اور مثالی اور قابل عمل نمونہ ہے جس کی پیروی کر کے دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
تعمیر سیرت کے حوالے سے اس مہینہ میں ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم سادگی اختیار کریں۔ روزہ سادگی کا پیغام دیتا ہے اور سیرت پاک ﷺ سادگی کا مکمل نمونہ پیش کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ روزہ رکھنے کے لیے جو غذا استعمال فرماتے تھے، وہ سادہ ترین غذا تھی جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ ایک سے ایک اعلیٰ مرغن غذا ہماری سحری اور افطار میں دسترخوان پر موجود ہو۔ اسوہ رسول ﷺ جو ہمارے لیے سب سے بلند مثال ہے ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ سحری ہو یا افطار محض کھجور، محض دودھ، بعض اوقات محض پانی پی کر روزہ افطار فرمارتے ہیں۔ یہ وہ سادگی ہے جو ایک بلند و بالا سیرت و کردار کا پتہ دیتی ہے یہ سادگی محض غذا کی حدتک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ لباس اور دیگر معاملات میں مثلاً شادی بیاہ کی تقاریب میں اختیار کی جائے تو سیرت و کردار میں پختگی پیدا ہو سکتی ہے۔
سادگی کا یہ مفہوم لینا درست نہ ہوگا کہ اگر ایک شخص اچھا لباس پہننے کی استعداد رکھتا ہو لیکن تقویٰ کے نام پر پھٹے پرانے کپڑے استعمال کرے۔ بلکہ اس کا صحیح مفہوم وہ توازن ہے جو نبی کریم ﷺ نے استعمال فرما یا جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا کہ مسجد جاتے وقت زینت اختیار کرو۔ قرآن وسنت، فخر اور دکھاوے کی تردید کرتے ہوئے اللہ نے جو کچھ دیا ہو اس کے استعمال سے نہیں روکتے بلکہ ایسا نہ کرنے کو کفرانِ نعمت قرار دیتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک صحابی تشریف لاتے ہیں جن کے چہرے مہرے سے نقاہت ظاہر ہورہی تھی۔ آپ ﷺ ان سے پوچھتے ہیں تمھارا یہ حشر کیسے ہو گیا۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ میں نے جب آپ سے آخری مرتبہ ملاقات کی، اس کے بعد سے اب تک مسلسل روزے رکھ رہا ہوں۔ آپ ﷺ ان کے اس طرز عمل کو نا پسند فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ تمھارے جسم کا تمھارے اوپر حق ہے جس طرح اللہ کا تمھارے او پر حق ہے۔ گویا اسلام کی مطلوب شخصیت متوازن، معتدل اور انہتا پسندی سے پاک شخصیت ہے۔ دین لازماً یہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے نفس پر قابو پائیں لیکن وہ قطعاً نہیں چاہتا کہ ہم اپنی شخصیت کو غیر فطری انداز اختیار کر کے ایک عجوبہ بنا دیں اگر اللہ تعالیٰ نے دن کام کرنے اور رات آرام کے لیے بنائی ہے تو ہم اپنی زندگی میں اس اصول کی پیروی کریں۔ اسی کا نام تقویٰ اور احسان ہے۔ تعمیر سیرت اور ہماری شخصیت کے اسلامی ہونے کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم اللہ سبحان و تعالیٰ کے ساتھ، اس کی ہدایات کے ساتھ، اس کے رسول کے ساتھ کتنی قربت رکھتے ہیں۔ یعنی ہم اپنی عام زندگی میں اللہ تعالی کے رسول، اللہ کے بھیجے ہوئے کلام اور اس کی کتاب سے کس حدتک رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ غور کرنے کے بات یہ ہے کہ کیا قرآن پاک سال میں ایک مرتبہ رمضان کے دوران محض صبح اور شام سننے کے لیے آیا ہے یا قرآن پاک سے ہمارا تعلق یہ ہونا چاہیے کہ اس کی آیات ہماری یاداشت کا حصہ بن جائیں، اس کی تعلیمات ہمارے اعمال میں ڈھل جائیں ہمارے معاملات میں نظر آئیں اور ہم ان اہل ایمان میں شامل ہو جائیں جن کے بارے میں قرآن کریم خود یہ بات فرماتا ہے کہ فلاح پاگئے وہ لوگ جنھوں نے نماز میں خشیت اختیار کی، جواپنے مالی معاملات میں اللہ کی راہ میں زکوٰۃ وصدقات میں پہل کرتے ہیں جواپنی پاک دامنی کو برقرار رکھتے ہیں گویا جن کی سیرت اللہ اور رسول ﷺ کی تعلیمات کا مرقع پیش کرتی ہے۔ ان اہل ایمان کے اس طرز عمل کے نتیجے میں رب کریم نے ان سے فلاح اور کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے وہ انھیں اس دنیا اور ہمیشہ والی زندگی میں بہترین بدلے اورا جرسے نوازے گا۔
تعمیر سیرت کے حوالہ سے رمضان کے دوران پورا ایک ماہ کا عرصہ ہمیں وہ مواقع فراہم کرتا ہے جن میں اپنے تعلقات کو اللہ کے ساتھ، اللہ کی مخلوق کے ساتھ حق کی بنیاد پر استوار کر سکیں اور اپنی شخصیت کے ان پہلوئوں کو جن کا تعلق ہمارے معاشرتی و جود سے ہے۔ ان کا جائزہ لے کر کے ہم ان میں وہ تبدیلیاں پیدا کریں جو اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے والی ہیں اور ہمیں آخرت میں کامیاب بنانے والی ہیں۔ گویا روزہ تعمیر سیرت کا وہ سب سے مکمل نظام تربیت ہے جس میں ایک شخص اپنی ذاتی زندگی میں، معاشی معاملات میں، سیاسی معاملات میں، خاندانی معاملات میں یکساں طور پر ہدایت پانے کے بعد ایک ایسے معاشرہ کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے جس میں عدل ہو، محبت ہو، اخوت ہو، رواداری ہو اور اللہ سبحان و تعالیٰ کی بندگی کا احساس پایا جا تا ہو۔ ہماری سیرت و کردار میں رب کی اطاعت اور رسول کریم ﷺ کے ہر عمل اور ہدایت کی پیروی کا جذبہ اجاگر ہو جائے اور آپ ﷺ کے ہر حکم کے حوالہ سے ہمارا طرز عمل وہ ہو جسے قرآن کریم نے یوں کہا ہے۔ سَمِعنَا وَاَطَعنَا غُفرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیکَ المَصِیرُ۔ (بحوالہ : روزہ اور ہماری زندگی)

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *