تعصب و نفرت کی راہ سے ’’وشو گرو‘‘ کی منزل ممکن نہیں

۱۳؍دسمبر ۲۰۱۸ء؁ کو میگھالیہ ہائی کورٹ کے جج نے بھارتیہ دستور اور دستور سازوں کی عزت اور حیثیت کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے شہریت کے ایک معاملہ کو نبٹاتے ہوئے ایک سیاہ فیصلہ لکھا ہے۔ جس میں غلط حقائق کی بنیاد پر غلط اور متعصبانہ ریمارک لکھے گئے ہیں۔ اس سیاہ فیصلہ کا جائزہ لیتے ہوئے حیدرآباد قانون یونیورسٹی کے وائس چانسلر فیضان مصطفیٰ نے اسے قانونی طور پر ناقص، تاریخی لحاظ سے گمراہ کن اور شہریت کے قوانین سے دستور سے متصادم بتاتے ہوئے متعصب اور گمراہ جج کے فیصلہ پر مدلل بحث کرکے اسکی علمی انداز میں دھجیاں اُڑا دی ہیں۔ یہ جائزہ 18/12/2018کے انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس میں دیکھا جا سکتا ہے۔ متعصب جج نے جو غلط حقائق اور مشاہدہ بیان کئے ہیں ان میں سے کچھ اس طرح ہیں:۔ ہندوستان کو آزادی کے وقت ہی ہندو راشٹر کا اعلان کر دینا چاہئے تھا۔ جس طرح پاکستان اسلامی ملک بن گیا تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر اصل ہندوستان کی تقسیم کو سامنے نہیں رکھتا ہوں تو میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہوں گا۔ وزیر اعظم مودی کی حکومت پر بھروسہ ہے کہ ان کی حکومت ہندوستان کو اسلامی ملک نہیں بننے دے گی۔ متعصب جج نے کہا کہ ایک قانون بناکر پاکستان ، افغانستان، بنگلادیش سے آئے غیر مسلم اور غیر کرسچن کو ہندوستانی شہریت دینی چاہئے۔ ایک یونیفارم قانون سب پر لاگو ہونا چاہئے۔ جو قانون کو نہ مانے اس کی شہریت ختم کردینی چاہئے۔ مغلوں کے آنے سے پہلے بھارت ہندو راجاؤں کے ذریعہ افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش تک ایک تھا۔ آسام کے لوگوں میں عدم برداشت کی پرانی روایت ہے۔ آسامیوں کی وجہ سے ہی بنگال اور دوسرے ہندوؤں کو اس بحران سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ان پڑھ مسلمان بھی آسامیوں کے ساتھ مل کر بنگالی ہندوؤں کو پریشان کر رہے ہیں۔ میں ہر ایک گھاٹی اور آسام گھاٹی کے ہندوؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آپس میں بیٹھ کر خوش اسلوبی کے ساتھ مسئلے کا حل نکال لیں۔ کیونکہ ان کا مذہب، روایات اور تہذیب ایک ہی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔۔ متعصب اورنا اہل جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ میرے فیصلے کی ایک ایک کاپی چوبیس گھنٹے کے اندر وزیر اعظم ، وزیر داخلہ اور وزیر قانون کو بھیج کر اس کی رسید حاصل کر لیں۔ فیضان مصطفی صاحب نے دستور کے حوالوں سے متعصب جج کی فرقہ وارانہ ہفوات کو دستور کی شقوں اور روح سے متصادم بتایا ہے۔ آج کل اوپر سے نیچے تک عدلیہ میں غیر ضروری طور پر طویل فیصلوں کے ذریعہ غیر متعلق باتوں اور مسخ شدہ معلومات لکھنے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ مورخہ 18/12/17کے ایک فیصلہ میں جسٹس مرلی دھراور ، جسٹس گوئل نے ’’قتل عام ‘‘ Genocide کے حوالہ کے لئے ترک اور کرد حکومتوں کے ذریعہ آرمینیائی لوگوں کے مبینہ قتل عام کا حوالہ دیا۔ جبکہ اس سے بڑے قتل عام ،بوسینیا کا نسلی تطہیر کا معاملہ جس میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا ، اس کا ذکر فاضل جج صاحبان نہیں کر پائے۔ یہ دونوں مثالیں اس لئے دی ہیں کہ ملک کے نظام میں متعصب فرقہ وارانہ ذہن اور نفرت کے مبلغین کی بڑھتی روش پر اور اس کی منظم کوششوں پر نگاہ ڈالی جا سکے۔
مندرجہ ذیل لیکچرس یوٹیوب پر موجود ہیں:۔
گذشتہ دنوں ایک صاحب کے ذریعہ انٹرنیٹ پر نیو انڈیا کے نام سے الٰہ آباد، آگرہ، علی گڑھ، دہرادون میں ہوئے انتہائی خطرناک فتنہ انگیز فرقہ وارانہ نفرت سے لبریز سیمینار میں ہوئے لیکچر دیکھے اور سنے ۔ ان کی نفرت آمیزی کی شدت اس قدر ہے کہ موجودہ سنگھ پریوار کے مقررین اور ان کے نفرت اور شرارت سے بھرے لیکچر پھیکے لگتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا جدید ہندوتوا وادی تھنک ٹینک ہے، جس میں ’’را‘‘ کے سابق افسر ، میڈیا کے افراد، سماجی کارکنان، ماہرین تعلیم، پیشہ وارانہ خصوصیات کے ماہرین شامل ہیں۔ ان کے یہ شرارت انگیز ، نفرت انگیز، آدھا سچ اور آدھا جھوٹ پر مبنی لیکچرس کا اصل مقصد برادرانِ وطن کی نفرت انگیز ذہن سازی کے ساتھ ان کو اپنے مقصد کے حصول کے لئے تشدد اور بربریت کے لئے آمادہ کرنا ہے۔ ان لیکچرس میں تصورِ دین ، کلام پاک ، رسول اکرم ﷺ ، صحابہ کرام، مدرسہ ، تبلیغی جماعت، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ہندوستان اور وسط ایشیاء کی تاریخ ، تقسیم ہند کے موضوعات پر برادرانِ وطن کی انتائی تعلیم یافتہ نسل کو خصوصاً یونیورسٹی ، کالجز اور پیشہ وارانہ اداروں ، آئی آئی ٹی اور یونیورسٹیوں میں جانے والے طلباء کو نشانہ بناکر کام کیا جا رہا ہے۔ تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر یا آدھی بات بتا کر ذہنوں میں نفرت کو گہری سے گہری سطح پر لے جانے کی کوشش کے ساتھ پیدا ہوئی نفرت کی نفسیات کو عملی روپ دینے کے لئے انہیں ساورکر کے حوالے سے ہندوؤں کے اندر عسکریت پسندی Militarisationکو بڑھاوا دینے کی بات کی جارہی ہے ۔ ہندوستان میں ’’مسلم مسئلہ ‘‘کے حل کے لئے ایک بڑی خانہ جنگی کی بات ’’سنگھ ‘‘کے حلقوں کے دگجوں میں پہلے سے ہی معروف ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ایک بڑی خانہ جنگی (فرقہ وارانہ بنیادوں) کے بعد ہی ملک میں امن قائم ہوگا۔ ایک بہت گھسی پٹی غلط بات کو کثرت سے دہرایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی برائیوں کی جڑ قرآن ہے۔ اور اس کو ثابت کرنے کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا سابق غیر مسلم طالب علم جس کے والد وہیں کیمپس میں رہتے بھی تھے قرآنی آیات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے۔ نیز اپنی علیگ ہونے کی نسبت سے وہاں کی مسلم اکثریت کے طلباء کے ذریعہ انکے اوپر کئے گئے مبینہ برے رویے کو بڑھا چڑھا کر مظلومیت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے خلاف بھرپور زہر اگل کر اس عظیم ادارے کے خلاف نفرت آمیز ذہن بناتا ہے۔
ایک لیکچر میں مقرر کہتا ہے کہ مسلمانوں کا دماغ اسی طرح ٹھیک کیا جا سکتا ہے جس طرح ہلاکو خاں ، قبلاتی خاں نے ان کے مرکز کو طاقت کے بل بوتے پر تہس کرکے اور بے مثال غارت گری کرکے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ تب سے آج تک یہ دوبارہ عالمی طور پر سنبھل نہیں سکے ہیں ۔ آج بھی اسی طریقہ پر عمل کرکے دوبارہ ان کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ اس شر پسند مقرر کے ذریعہ بتایا جا رہا ہے کہ دراصل تاتاری جس مذہبی عقیدے کو مانتے تھے اس میں بابا گورکھناتھ کی تعلیمات اہم ہیں۔ ان کی مذہبی کتب کے صفحہ اوّل پر ہی بابا گورکھناتھ کی تعلیمات کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ قوم اتنی بہادر اور عسکریت پسند تھی کہ آدھی دنیا فتح کر لی۔ آدھے سچ کے ذریعہ تاریخ کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی بہت کھلی مثال ہے۔ پورا سچ نہیں بتایا جاتا کہ بابا گورکھ ناتھ کی تعلیمات ماننے والے آخر کار قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے آگے سر بسجود ہوکر ان پر ایمان لے آئے تھے اور دین کے خادم بن گئے تھے، جسے علامہ اقبال ؒ نے اپنے شعر ؎
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانہ سے پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانہ سے
میں بیان کیا تھا ۔ مگر شاید تاریخ کا یہ حصہ نفرت اور تشدد کے سوداگروں کی مرضی کے مطابق نہیں تھا، اس لئے اسے چھوڑ دیا گیا۔
الٰہ آباد میں ہوئے سیمینار میں علامہ اقبال پر اسی طرح کی شاطرانہ دانشوری کا مظاہرہ کرکے سارے جہاں سے اچھا کے اقرار کے باوجود چین و عرب ہمارا ، ہندوستان ہمارا کی من مانی تفسیر کی گئی ہے ۔ جموں کی دھرم سنسد منعقدہ 18/12/17 کو مقرر نے ہندوؤں کو پانچ بچے پیدا کرنے اور ہر ایک کے ہاتھ میں ہتھیار دینے کے لئے ہندو عوام کو آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ بصورتِ دیگر ملک میں مسلمانوں کی اکثریت ہونے کے فرضی ڈر کا ہوّا کھڑا کیا گیا ہے۔ اسی ضمن میں ایک شدید ہیجان انگیز بدگمانی پھیلانے والا پروپیگنڈہ بھی کیا جارہا ہے کہ بھارت کے بہت سے مقامات پر مسلمانوں کی آبادی 90%تک ہو گئی ہے۔ جس کے نتیجہ میں بھارت میں ہندوؤں کا وجود ہی خطرہ میں پڑ جائے گا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ اور پیشہ وارانہ طبقات خصوصاً بیوروکریسی یہاں تک کہ عدلیہ اور فورسز کو نشانہ بناکر ذہنوں کو مسموم اور نفرت انگیز بنایا جا رہا ہے۔ اور یہ مہم لمبے عرصے سے چل رہی ہے۔ بابری مسجد کی شہادت والی رات کو ملک میں آئی۔اے۔ایس ۔ افسران کی تربیت کرنے والی لال بہادر شاستری اکادمی مسوری میں بڑے پیمانے پر زیر تربیت افسروں نے جشن منایا تھا اور دیر رات تک آتش بازی چھوڑی تھی۔ اس تشویشناک خبر کو مشہور انگریزی کالم نگار پرفل بدوائی Praful Badwaiنے اپنے کالم میں تحریر کیا تھا۔ وہ اس واقعے کے چشم دید گواہ تھے۔ وہ اُن دنوں وہاں مہمان مقرر تھے۔ بیوروکریسی اور عدلیہ میں اس طرح کے فرقہ پرست متعصب افسران کے بارے میں گاہے بگاہے خبریں آتی رہتی ہیں۔ جسٹس سچر کی رپورٹ ، جسٹس شری کرشنا کی ممبئی فسادات کی رپورٹ، وبھوتی نرائن رائے کی پولیس اکادمی کے لئے تیار کی گئی رپورٹ ، جنرل ضمیر الدین شاہ کی حالیہ کتاب ’’سرکاری مسلمان‘‘ میں گجرات ۲۰۰۲ء؁ کے فسادات کے دوران وہاں کے سرکاری کارندوں کی کھلی فرقہ پرستی کی طرف اشارہ نیز جسٹس کورین جوزف کا تازہ ترین انٹرویو سب میں اس خطرناک حقیقت کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ نظام میں فرقہ پرستی اور تعصب دن رات بہت محنت اور کوشش سے بڑھایا جا رہا ہے۔ اب تو اس رجحان کی طرف اشارہ کرنا بھی مصیبت اور ملک دشمن کے لقب کو مدعو کرنا جیسا ہو گیا ہے۔ جس کی سزا سیدھے پاکستان جانے کا ٹکٹ ملنا ہے۔ ایسے خطرناک حالات میں ملک کو پہنچانے کے لئے فرقہ پرست ہندوتوادیوں نے 70-60 سالوں میں منظم اور مسلسل کوشش ، تعلیمی اور تہذیبی اداروں کے قیام کے ذریعہ کی ہے۔ اور آج نتیجہ سامنے ہے۔
تاریخ کی گواہی جرمنی و اٹلی ، جاپان ، عراق ، لیبیا، پاکستان وغیرہ کے انجام سے ثابت کرتی ہے کہ صرف منفی ، انتشاری اور نفرت پر مبنی بنیادوں پر وقتی ابھار کے علاوہ مستقل تباہی ہی مقدر ہوتی ہے۔ ہٹلر اور مسولنی اور جاپان کے حکمرانوں ، صداموں اور قدافیوں نے وقتی ابھار کے علاوہ ملک اور دنیا کو کیا دیا؟ اور خود بھی برے انجام سے دوچار ہوئے۔ آج پورے عالم میں انسانوں کے بنائے نظاموں کی ناکامی کی بنیاد پر پھیلنے والی مایوسی کو وہاں کے ٹرمپ ، لی پین، گیرت وائڈرس جیسے منفی سیاست کرنے والے سیاست داں ، مہاجرین کی آڑ میں چھپا کر اقتدار حاصل کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں اور ہمارے پڑوس میں بھی ایک عدد فرضی یا حقیقی دشمن کا ہوّا جھوٹے پروپیگنڈا کے ذریعہ کھڑا کرکے اقتدار حاصل کیا گیا ہے۔ اور یہ سلسلہ ابھی جاری رہیگا۔ جب تک کہ عوام خود نفرت کے ان پرچارکوں کی حقیقت کو نہ جان لے۔ مگر کیا ان حالات میںا مت مسلمہ کی کوئی ذمہ داری ، کو ئی لائحہ عمل، کوئی مثبت مہم نہیں ہونی چاہئے؟ کیا سیکولر سیاسی پارٹیاں جو خود ’’نرم ہندوتوا‘‘ کو اپناکر وجود بچانے کی جدو جہد کر رہی ہیں وہ اس نفرت انگیز مہم سے ملک کو نکال سکتی ہیں؟ امت مسلمہ کو اپنا فرض منصبی نبھاتے ہوئے ملک کے تمام طبقات تک اسلام کی تعلیمات ، اسلام کی عالمی تاریخ اور ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد ، ان کا تعاون ہندوستان کی ترقی میں اور آئندہ کے ہندوستان کو ’’وشو گرو ‘‘بنایا جاسکتا ہے۔ اس پر کام کرنا ہوگا۔ ہماری مختلف جماعتیں اب اس سمت میں کام کر رہی ہیں۔ دونوں جمعیتیں غیر مسلموں سے خصوصی طور سے تعامل کر رہی ہیں جو پہلے نہیں ہوتا تھا۔ جماعتِ اسلامی دعوت کے کام کو عرصہ سے کر رہی ہے ۔ اب ماشاء اللہ بہت سے گروپ ہیں جو پورے ملک میں الگ الگ یہ کام کر رہے ہیں۔ اب نشانہ بناکر بیوروکریسی ، پولیس، عدلیہ، سیاسی رہنماؤں سے رابطہ بڑھا کر ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنا خصوصاً تاریخی غلط فہمیوں اور قرآن پر غیر حقیقی اعتراضات کی حقیقت واضح کرنا ضروری ہے۔ تاج اور اشوکا ہوٹل کی عید ملن سے زیادہ افسران اور نظام چلانے والی تربیت گاہوں کے طالب علموں سے تعامل Intractionبڑھانا ضروری ہے۔ یہ کام ملت کو ہی کرنا ہے ، غیر مسلم حق پرست مدد کر سکتے ہیں مگر آگے ہمیں ہی بڑھنا ہوگا۔

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *