چین وعرب ہمارا ہندوستاں ہمارا

کب سے اقبال کا شعر ہماری زبانوں پر رہتا ہے جس کا پہلا مصرعہ ہے ’’ چین وعرب ہماراہندوستاں ہمارا‘‘لیکن حالات نے یہ رخ اختیار کیا کہ نہ چین ہمارا نہ ہندوستان ہمارا اور نہ عربستان ہمارا ہے ۔ادبارکی ایسی گھٹا چھائی ہے کہ ہمارا کہیں ٹھکانہ نہیں ، کہیں آشیانہ نہیں۔چین میں سنکیانگ ۱۶ لاکھ ۷۴ ہزار مربع کیلومیٹر کیٍ پھیلے ہوئے علاقہ میں پہلے غالب اکثریت ایغور مسلمانوں کی تھی حکومت نے اس علاقہ میں تمدنی ترقی کے بہت سے کام کئے اور اس کے ساتھ ہر جگہ سے غیر مسلموں کو لاکر یہاں آباد کیا اور مسلمان یہاں بس اب آدھے کچھ ہی زیادہ ہیں۔ سنکیانگ میں مسلمان ہونے کا مطلب سسکتی موت ہے ۔ سنکیانگ پورے طور پر ایک پولیس اسٹیٹ ہے ہر جگہ ایغور مسلمانوں کے لئے حراستی کیمپ ہیں اور وہاں مسلمانوں کو اذیتناک مرحلوںسے گذارا جاتا ہے تاکہ وہ پورے طور پر وفادار بنیں اور کبھی چین سے آزاد ہونے کے بارے میں نہ سوچیں ۔ایغوروں کو مشکوک اور دہشت گرد سمجھا جاتا ہے چینی گھرانوں کو جنہیں لالاکر بسا یا گیا ہے مسلم گھرانوں کے لئے کوتوالی کا کام سونپا گیا ہے چینی گھرانہ کسی ایغور کی شکایت کرے تو اسے وفاداری کی تربیت اس طرح دی جاتی ہے کہ سب کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں ۔ ’’ارومچی ‘‘کا علاقہ جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں اور مساجد کی بھی کثرت ہے وہاں مسجدوں کے سامنے بکتر بند گاڑیاں موجود رہتی ہیں۔ مسجد صرف نماز کے وقت کھلتی ہے اور فوراً مقفل کردی جاتی ہے ۔ نماز میں بوڑھے لوگ ہی آتے ہیں نمازی کی شناخت نوٹ کی جاتی ہے ۔ نوجوانوں کی مسجد آنے کی ہمت نہیں ہوتی ہے کیونکہ ان کا مسجدوں میں آنا ملک سے اور ملک کی تہذیب سے بے وفائی یا غداری کے مرادف ہے اس لئے نوجوان مسجدوں میں آنے کی ہمت نہیں کرتے ۔ڈاڑھی رکھنے پر پابندی ہے ، روزہ رکھنے پر بھی پابندی ہے ،آفسوں میں رمضان کے دنوں میں اجتماعی لنچ رکھے جاتے ہیں تاکہ آسانی سے پتہ چل سکے کہ کون روزہ دار ہے ۔ گھروں میں قرآن مجید رکھنے کی اجازت نہیں ہے دینی لٹریچر کاپایا جانا ملک کے لئے خطرہ کی علامت ہے ۔ دینی کاموں میں سرگرمی دکھانے والوں کا انجام خوفناک ہوتا ہے انہیں سولی پر بھی لٹکایا جاسکتا ہے ، چینی حلقوں میں ایغور مسلمانوں کی کوئی عزت نہیں اگر اتفاق سے وہ کس اعلی عہدے تک پہونچ بھی جائیں تو بھی ان کیلئے ایغور ہونا ایک تہمت ہے ۔ایغور مسلمان مہمان نواز ہوتا ہے خوش اخلاق ہوتا ہے لیکن اپنے حالات بتاتے ہوئے ڈرتا ہے اور اس کے ساتھ جو امتیازی سلوک کیا جاتا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے خوفزدہ ہوجاتا ہے ۔ مسلمانوں کی آبادی کی کڑی ناکہ بندی کی گئی ہے پولس کی نظر سے بچ کر کوئی نہ اندر جاسکتا ہے اور نہ اندر سے باہر آسکتا ہے ۔جو مشکوک ہوتا ہے اسے اٹھا لیا جاتا ہے ۔ہر موڑ پر بکتر بند گاڑیاں نظر آتی ہیں ۔ جس کسی کو اٹھانا ہو اسے اٹھا لیا جاتا ہے بے مہار طاقتیں فریادیں نہیں سنتی ہیں ۔ سنکیانگ کے مسلمانوں کو دنیا کے مسلمان بھائیوں سے شکایت ہے اور وہ زبان حال سے کہتے ہیں ’’ کجا دانند حال ما سبکساران ساحل ہا ‘‘ پاکستان کی چین سے دوستی ہے لیکن اسے بھی چین کے مسلمانوں کے حال زار پراپنی زبان پر حرف شکایت لانے کی ہمت نہیں۔ اسے بس ہندوستان کے خلاف چین کی حمایت چاہئے ۔ پاکستان سے ایک کتاب سنکیانگ نامہ شائع ہوئی ہے ایغور کی مسلمانوں کے حالات زیادہ تفصیل کے ساتھ اس کتاب میں موجود ہیں اور مصنف کا نام شفیق انجم ہے اور یہ کتاب الفتح پبلیکشن راولپنڈی سے شائع ہوئی ہے ۔
شاعر مشرق اقبال نے اپنے مصرعہ میں چین کے بعد عرب کا ذکر کیا ہے ،عرب دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا جو حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ، فلسطین اور مسجد اقصی یہودیوں کے قبضہ میں ہے ۱۹۴۸ میں اور پھر ۱۹۶۷ کی جنگ میں فلسطینیوں کواپنے گھربار سے محروم ہونا پڑا ان کی اولاد آج تک پناہ گزین ہے ان کو اپنے گھروں کو واپسی کی اجازت نہیںاب تک کئی ہزار فلسطینی ہلاک کئے جاچکے ہیں کئی ہزار جیلوں میں ہیں اور کئی ہزار زخمی ہیں امریکہ کی پوری سیاست قوم یہود کی مٹھی میں ہے ، اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیاروں کا انبار ہے، تمام عرب مل کر بھی اس کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔عرب اور خلیجی حکمرانوں نے اسرائیل سے دوستانہ روابط قائم کرلئے ہیں ان کے پاس نہ شوق شہادت ہے اور نہ جذبہ جہاد اور نہ سائنس اور ٹکنولوجی کے میدان میں کسی قسم کی ترقی ۔ وہ دنیا کے سب سے نا اہل اور بے غیرت حکمراں ہیں ، اسر ائیل ان کودیکھ کرزبان حال سے کہتا ہے ’’ نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے ، یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں‘‘ سچ یہ ہے کہ جب تک کوئی صلاح الدین ایوبی غیب سے نہ اٹھے اور جس طرح سے اس نے فاطمی حکومت کا صلیبیوں سے سازباز کرنے کے جرم میں تختہ الٹ دیا تھا وہ ان عرب حکومتوں کا تختہ نہ الٹ دے اس وقت تک مسجد اقصی اور فلسطین کی بازیابی کی کوئی امید نہیں ہے۔عرب دنیا میں بحیثیت مجموعی اسلام اور مسلمانوں کے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے ، شام کے مسلمان لاکھوںکی تعداد میں ترکی میں پناہ گزین ہیں ، شام کی سرزمین خون سے لالہ زار ہے وہاں کے باشندوں کو انصاف نہیں ملا اور نہ مستقبل قریب میں انصاف ملنے کی امید ہے دنیا کی بڑی طاقتیں اس پر متفق ہوچکی ہیں کہ وہاں بشار الاسد کو باقی رکھنا ہے اور اسلام پسندوں کو اقتدار سے دور رکھنا ہے عرب حکمراں بے ضمیر اور بے طاقت ہیں وہ شام کے مظلوموں کا سہارا نہیں بن سکتے اور اسلام پسندوں کو اقتدار میں لانا بھی ان کی مصلحت کے خلاف ہے ۔ اورباقی رہا مصر تووہاں تو اسلام پسندوں پراور اخوانیوں پر کوہ غم ٹوٹا اور صد ہزار انجم کا خون ہوا لیکن کوئی سحر پیدا نہ ہوسکی ابھی تک وہاں اندھیروں کا عفریت مسلط ہے اور نورکے نمائندے اسیر زنداں ،اسلام پسند طوق وسلاسل کا شکارہیں ۔ پیر حرم بھی اسی ظلمت کے حامی اور مددگار ہیں ۔ اوردوسرے خلیجی ممالک تو وہاں حرکت وعمل پر پابندی کے ساتھ زبان بندی ایسی کہ ہر شخص گھٹن محسوس کرتا ہے وہاں دینی تحریکوں اور سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہے وہاں ایک اسلام پسند شخص لادینی حکومتوں کو رہنے کے لئے بہتر محسوس کرتا ہے اور ان کو ترجیح دیتا ہے ۔کوئی عرب ملک ایسا نہیںجسے ایک باضمیر مسلمان دینی کام کے ساتھ قیام کے لئے رہنا پسند کرے ۔اس پر سب متفق ہیں کہ دنیا سے اسلام کی سیاسی قوت کا خاتمہ کردیا جائے اور مغربی تہذیب کو مسلط کردیا جائے سعودی عرب میں ولی عہد محمد بن سلمان اس کے علم بردار ہیں ۔
شاعر مشرق کے مصرعہ میں چین وعرب کے بعد ہندوستان کا ذکر خیر آیا ہے ہندوستان عرب ملکوں سے بہتر ضرور ہے یہاں دینی تحریکات ہیں ، اسلامی تنظیمیں ہیں ، لیکن یہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے اور نا انصافی کی سب سے بڑ ی علامت بابری مسجد ہے اور ہندو ذہن اس پر متفق ہے کہ بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر ہومسلمان برضا ورغبت اس کے لئے تیار ہوہی نہیں سکتے کہ کسی مرکز تو حید کو مرکز شرک سے تبدیل کردیا جائے لیکن مسلمانوں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ مان لینے کا اعلان کیا ہے کہ اس کے سوا مسئلہ کا کوئی حل باقی نہیں رہ گیا ہے ۔ کا نگریس کے دور اقتدار میں اندرا گاندھی کے زمانہ ہی میں ویشو ہندو پریشد کے ساتھ سازباز ہوگئی تھی راجیوگاندھی نے اس کام کو آگے بڑھایا مسلم مطلقہ خاتون شاہ بانو کے کیس میں عدالت سے قانون پاس کرایا کہ مسلم پرسنل لا میں عدالت کوئی ترمیم نہیں کرسکتی، وقتی طور پر مسلمانوں کواس معاملہ میں خوش کرنے کے بعد بابری مسجد کو مسمار کرنے کے لئے فضا ہموار کی گئی اور اب رام مندر کی تعمیر کے لئے حکومت فضا ہموار کرچکی ہے، اب عدل وانصاف کے سب سے بڑے ایوان سپریم کورٹ کی کوششوں کے نتیجہ کا انتظار ہے اب پارلیمانی الکشن قریب ہے تاریخوں کا بھی اعلان کردیا گیا ہے ۔ اور مرکز میں اور کئی ریاستوں میں وہ پارٹی برسر اقتدار ہے جو مسلم دشمنی کا ایجنڈا رکھتی اور جو مسلم پرسنل لا میں بھی تبدیلی ببانگ دہل کررہی ہے اور آرڈیننس بھی پاس کرچکی ہے ،آنے والا الیکشن بتائے گا کہ مسلمانوں کا مستقبل کیا ہے ، ابھی تک مجموعی طور پر ہندوستان چین وعرب سے بہتر ہے لیکن یہ ملک چین وعرب نہ بن جائے اور ان سے بھی خراب حالت تک نہ پہونچ جائے اس کا انحصار مسلمانوں کی سیاسی بصیرت اور عزم وعمل پر ہے ۔یہ فیصلہ کرنا اور یہ اعلان کرنا بہت مشکل ہے کہ مسلمان پورے ملک میں فلاں پارٹی کو ووٹ دیں کیونکہ ہر ریاست کے حالات الگ ہوتے ہیں اور بعض ریاستوں میں ہر انتخابی حلقہ میں فرقہ پرست تنظیم کو شکست دینے والی جماعت الگ الگ ہوسکتی ہے ۔ اس وقت ہر ریاست میں مسلمانوں کے اہل الرائے ، اہل فکر ودانش کی ذمہ داری ہے کہ مستقل طور پر بار بار مشاورتی نشستیں کریں اور مسلمانوں کے ووٹ کو تقسیم ہونے سے ہر قیمت پر بچائیں اور مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کریں وہ پارٹیوں کے ذمہ داروں سے اور امید واروں سے ملیں اور مسلمانوں کے مطالبات کی فہرست پیش کریں ۔ اہل علم وفکر کو چاہئے کہ اس کام کی اہمیت کو سمجھیں اور اسے نوافل اور بہت سے دینی کاموں اور جلسوں سے زیادہ اہمیت دیں اور یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لیں کہ وہ دین داری کسی کام کی نہیں ہے جس کے ساتھ سیاسی بصیرت نہ ہو ایسا نہ ہو کہ کلام اقبال کی اس پیروڈی کے ہم مصداق بن جائیں ۔
چین وعرب ہمارا ہندوستاں ہمارا
رہنے کو گھر نہیں ہے سارا جہاں ہمارا
باقی نہیں کہیں بھی رہنے کا اب سہارا

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *