بھساول ٹاڈا کیس ۔۔۔۔انصاف ! مگر تاخیر کے ساتھ

۲۷؍فروری ۲۰۱۹؁ء کادن نہ صرف مہاراشٹرا بلکہ بھارت کے مسلمانوں کے لیے ایک یادگاردن تھا۔ناسک سیشن کورٹ احاطے میں واقع ٹاڈا اسپیشل کورٹ کے جج جناب ایس ۔سی کھاٹی نے ۲۵ برس پرانے بھساول ٹاڈا کیس کے سبھی گیارہ ملزمین کو مخاطب کیا اور فیصلہ سناتے ہوئے کورٹ روم میں جب یہ جملہ کہا ــ’’اس کیس سے میں نے آپ سبھی کو چھوڑ دیا ہے‘‘ تو ہال میں موجود ملزمین کے رشتہ دار و دوست احباب کی زبان سے بے ساختہ نعرہٗ تکبیر بلند ہوگیا۔کمرہ عدالت سے باہر آتے ہی تمام افراد فرطِ جذبات سے مغلوب ہو کر ایک دوسرے کو نم آنکھوں کے ساتھ گلے مل کر مبارکبادپیش کرنے لگے اور اللہ ربّ العالمین کا شکر بجا لانے لگے۔
۲۸؍مئی ۱۹۹۴؁ء کو جب ان تمام ملزمین کو اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ آف پولس (ایس۔پی) دیپک جوگ نے گرفتار کیا تھا تب ان میںسے اکثر نوجوان تھے ،بعض کی تو شادی بھی نہیںہوئی تھی اور ۲۵برس بعد جب اس مقدمے سے گلوخلاصی حاصل ہوئی تو اب یہ حال ہے کہ اکثر کی عمریں ۵۰ سال سے متجاوز ہیں۔ان گذرے ماہ وسال کا حساب کون دے گا؟کیا دستور میں کوئی ایسی ترمیم کی جائے گی کہ ظالم و متعصب افسران کو ان کے کرتوتوں کی سزا ملے؟؟ یہ سوال ہر حسّاس ہندو ستانی مسلمان پوچھ رہاہے۔
پولس نے جو الزامات لگائے تھے وہ انتہائی نا معقول اور متعصّب ذہنیت کا منہ بولتا ثبوت تھے ۔ مئی ۱۹۹۴؁ء میں جمیل احمد عبداللہ خان پر ایف آئی آر درج کی گئی جس میں کہاگیاکہ بابری مسجد کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے جمیل احمد نے کشمیر جاکر جنگجو یانہ تربیت حاصل کی اور واپسی پر اپنے دس ساتھیوں کے ساتھ مل کر بھساول میں آبادی سے دور سنسان علاقے میں واقع’’ گھوڑے پیر بابا‘‘ کی درگاہ پر خفیہ میٹنگ منعقد کی جس میں طے پایا کہ بابری مسجد کا بدلہ لینے کیلئے دھماکے کیے جائیں گے۔یہ اس قدر واہیات اور بوگس مقدمہ تھاکہ محض چار ماہ بعد عدالت نے سبھی ملزمین کو ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات صادر کردیے۔جلگاوٗں کے مشہور وکیل ایڈوکیٹ اسمٰعیل صاحب (مرحوم) نے ملزمین کو ضمانت دلانے کے لئے کافی محنت کی ۔ بعدازاں مرکزی حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ ’’ٹاڈا ریووکمیٹی‘‘ نے حکومت سے سفارش کی کہ اس مقدمہ میں کوئی جان نہیں ہے لھٰذا اسے بند کردیا جائے ‘ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ اس سفارش کو ماننے سے انکار کرنے والا کوئی حاکم اعلٰی نہیں بلکہ خود اس وقت کے ناسک ٹاڈا اسپیشل کورٹ کے ایک جج مسمّٰی ’’حیات نگر ‘‘تھے، انھوںنے ملزمین کو بری کیے جانے کے فیصلہ کو نہیں مانا اور کیس کوجاری رکھنے کا حکم دیا۔ چار سال گذرنے کے باوجود جب پولس نے چارج شیٹ پیش نہ کی تب ان گیارہ ملزمین نے ازخود اورنگ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرکے درخواست گذاری کی کہ اس مقدمے کی چارج شیٹ پیش کی جائے(ایک طرفہ تماشہ ہے ہند میں)۔۔۔۔ کورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے حکم صادر کیا کہ یاتو سبھی ملزمین کو ایک ۔ایک لاکھ روپیہ ادا کرکے مقدمہ کو ختم کیا جائے یا ۴۸ گھنٹوں کے اندرچارج فریم کیا جائے ۔بھساول پولس کے ذریعے دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کے تحت درج کیس کی چارج شیٹ آنا ًفاناً ۴۸ گھنٹوں میں جھوٹے گواہوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر ناسک کورٹ میں پیش کردی گئی۔چارج شیٹ میں سابق اسلامی طلبہ تنظیم ایس آئی ایم سے وابستگی کو ملزمین کا بڑا جرم گرداناگیا اور ملک سے بغاوت کی بے بنیاد باتیں اس میں درج کردی گئیں۔تعزیراتِ ہند کی دفعات 153(A),120(B) نیز ٹاڈا قانون کی دفعات 4(1)(4)(3)(4)(5),3 کے تحت مقدمہ درج کیاگیا تھا۔
بھساول ،بمبئی اور دہلی سے ماخوذ کیے گئے ملزمین کے نام حسبِ ذیل ہیں۔
(۱) جمیل احمد عبداللہ خان (۲) ڈاکٹر محمّد یونس (فلاحی) محمّد اسحاق (۳) فاروق احمد نذیر خان (۴) ایوّب خان اسمٰعیل خان (۵) یوسف خان گلاب خان (۶) شیخ شفیع شیخ عزیز (۷) وسیم آصف شمس اعجاز (۸)سیّد اشفاق سیّد مرتضیٰ میر (۹) سیّد ممتاز میر سیّد مرتضیٰ (۱۰) محمّد ہارون محمّد بفاتی انصاری (۱۱) مولانا عبدالقادر حبیبی۔
ان تمام پر الزام لگایا گیا کہ انھوں نے ’’بھساول الجہاد‘‘ نامی تنظیم بنا کر لوگوں کو جہاد پر اکسایا تھا اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایاتھا۔
گذشتہ ۲۵ برسوں سے جاری اس مقدمہ کی ہر تاریخ پرجو بالعموم پندرہ دن بعد پڑتی تھیں، تمام ملزمین اپنی ساری مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پابندی سے ناسک کورٹ میں اس خوف سے حاضررہا کرتے کہ کہیں غیر حاضر ی کی بنیاد پر ضمانت منسوخ کرکے گرفتار ی کے وارنٹ نہ جاری کردیے جائیں۔کیس کے سلسلے میں ابتداء میں ناسک کے مقامی وکلاء سیّد برادران نے کافی مدد کی ‘ پھر ۲۰۱۳؁ء سے جمعیت العلماء مہاراشٹرا گلزار اعظمی اور ان کی ٹیم نے بھر پور تعاون پیش کیا۔بالخصوص ایڈوکیٹ شریف شیخ ،ایڈوکیٹ انصار تنبولی اور ان کے معاون وکلاء نے شب و روز محنت کر کے مقدمہ میںفتح حاصل کی ۔جمعیت العلماء مہاراشٹرا کی مدد سے سپریم کورٹ میں اس مقدمہ کو چیلنج کیا گیا۔سپریم کورٹ نے ستمبر ۲۰۱۶ء ؁ میں ناسک ٹاڈا کورٹ کے نام حکم جاری کیا کہ اس مقدمہ کو ایک سال کے اندر اندر مکمل کر دیا جائے ۔اس کے باوجود فیصلہ آنے میں ڈھائی سال گذر گئے۔ وحدتِ اسلامی کے متعدد لوگوں نے بھی کیس کے سلسلے میں وقتاًفوقتاً امداد کی۔
مئی ۱۹۹۴؁ء میں جب مقدمہ درج کیا گیا تھا مقامی مراٹھی اخبارات نے ملزمین،ان کے اہلِ خانہ اور مسلمانوں کے خلاف خوب زہر اگلا تھا ۔مرچ مسالہ لگا کر پولس اسٹوری کو بڑی بڑی سرخیاں لگا کر شائع کیا تھا۔لیکن جب رہائی کا فیصلہ آیا تو انہی اخبارات نے اس خبر کو بلیک آوٗٹ کیا ۔لیکن اردو پریس ،مسلم اور انصاف پسند بردرانِ وطن کے چھوٹے میڈیا و سوشل میڈیا چینلوں نے اس خبر کو مناسب کوریج دی۔مقدمہ کی سماعت کے دوران شہر کی تمام مساجد میں کثرت سے دعاووٗں کا اہتمام کیا گیا،قنوتِ نازلہ پڑھی گئیں،گھروں میں خواتین نے سورۃ فتح کی اجتماعی تلاوت کا معمول بنائے رکھا‘ خانۂ کعبہ کا غلاف تھام کر لوگوں نے دعائیں مانگیں ‘ ربِّ ذولجلال سے منتیں کیںاور نذریں مانگیں ۔
بالآخر ۲۷؍فروری ۲۰۱۹؁ء کا وہ اہم ترین دن آپہنچا کہ جب اس مقدمہ کا فیصلہ بے گناہ ملزمین کے حق میں آیا۔ حالاںکہ کشمیر میں پلوامہ حملہ کے مابعد اثرات اور ہندو پاک کے درمیان پیداشدہ کشیدگی کی بناء پر خدشہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ کہیں ’’قوم کے اجتماعی ضمیر کی تسکین کی خاطر‘‘ پھر ایک مرتبہ بے گناہ بھارتی مسلمانوں کی ’’بلی‘‘ نہ چڑھادی جائے۔لیکن الحمدللہ دعائیں رنگ لائیںاور کورٹ میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا۔
۲۵؍برس بعد ملنے والے انصاف پر مہاراشٹرا جمعیۃالعلماء کے گلزار اعظمی اور جماعت اسلامی ھند کی مرکزی قیادت نے ایک جانب جہاں اطمینان کا اظہار کیا ہے وہیں دوسری جانب یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اتنی تاخیر سے ملنے والے انصاف کو ’’انصاف‘‘ کیسے کہیں؟؟
Justice Delayed is Justice Denied

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *