مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری

دہشت گردی کسی کی بھی طرف سے ہو، کسی بھی شکل میں ہونا قابل قبول اور قابل مذمت ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ ہردہشت گردکا تعلق کسی نہ کسی مذہب سے ہوتا ہے۔ البتہ یہ بات لائق تشویش ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات میں اگر کوئی مسلم ملوث ہوتا ہے تو عالمی میڈیا اسے اسلامی دہشت گردی کا نام دیتا ہے۔ جبکہ دیگر میں اس کا رویہ ایسا نہیں ہوتا۔ نیوزی لینڈ میں پیش آنے والا سانحہ جس میں ایک شخص نے دو مساجد میں بے خوف فائرنگ کر کے پچاس نمازیوں کو شہید کر دیا دہشت گردی کا انتہائی مذموم قدم ہے ۔ اس دہشت گرد کا مذہب عیسائیت ہے لیکن کسی نے بھی اسے مسیحی دہشت گردی کا نام نہیں دیا۔ میڈیا اور ذرائع ابلاغ کی یہ دوہری پالیسی ملک اور سماج کے لیے خطرناک ہے۔ اس سانحہ کے بعد ساری دنیا نے اس کی مذمت کی مگر چند شیطان صفت انسان ایسے بھی تھے۔ جنھوں نے اس دہشت گردکی تعریف کی ، ظاہر ہے اتنا بڑا حادثہ کسی اکیلے فرد کا تو نہیں ہو سکتا، اس کی منصوبہ بندی، اس کی ٹائمنگ اور پھر اس کی لائیواسٹر یمنگ اس بات کے شواہد ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی منظم گروہ کا م کر رہا ہے۔
نیوزی لینڈکی حکومت نے جوا قدامات کیے ساری اسلامی دنیا اور انصاف کے علم بردارووں نے اس کی تعریف کی ہے۔ وزیر اعظم جیسنڈا نے جس طرح زخموں پر مرہم لگایا ہے اس سے درد کی شدت کم ہوئی ہے۔ انھوں نے دل جوئی کے سارے اقدامات کیے۔ جائے حادثہ کا دورہ کیا، متاثرین سے ملاقات کی، مسجد کی حفاظت کے انتظامات کیے، اسلحہ قانون میں تبدیلی کی، پارلیمنٹ میں قرآن کریم کی تلاوت کرائی، جمعہ کی اذان، خطبہ اور نماز سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے نشر کرائی، خود بھی نماز کے مقام پر شریک ہوئیں، اپنی گفتگو میں سلام کے ساتھ نبی اکرمؐ کی حدیث پاک کوڈ کی، اپنے شہریوں کو بھی ان تمام کا موں پر آمادہ کیا۔ شہریوں نے بھی مسلمانوں سے اظہار ہمدردی و اظہار یک جہتی کے دل نشیں مناظر پیش کیے، جو نعرے لگائے گئے وہ دلوں کو جیتنے کے لیے کار گر تھے۔ نیوزی لینڈ کی حکومت نے وہ سب کچھ کیا جو کسی حکومت کو اپنے شہریوں کے لیے کرنا چاہئے تھا۔ خاص طور پر اکثریت کے ہاتھوں اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کی اہم ذمہ داری ہے جسے جیسینڈ ا حکومت نے حادثہ کے بعد محسوس کیا اسے ہم دیر آید درست آید کہہ سکتے ہیں۔ حکومت کے یہ اقدامات دیگر ممالک کے لیے قابل تقلید ہیں خاص طور پر ہمارے ملک ہندوستان کو اس سے نصیحت لینا چاہیے۔
سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ سانحہ اچانک واقع ہوگیا؟ کیا ایک شخص کو اچانک کوئی بھوت سوار ہوا اور اس نے یہ بے رحمانہ کام انجام دے دیا؟ کیا یہ آخری واقعہ ہے اور اس کی کیا ضمانت ہے کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا؟ آخر کیوں ایک انسان کے دل میں مسلمانوں سے اتنی نفرت پیدا ہوئی؟ کیا اس کا کوئی ذاتی جھگڑا تھا مسلمانوں کے ساتھ؟ ان تمام سوالوں کے جواب جاننا ضروری ہیں۔ نیوزی لینڈ کا یہ واقعہ پہلا اور آخری واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی وہاں اس سے کم شدت کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ دیگر مغربی ممالک میں بھی اس قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ فلسطین میں اسرائیل کی کھلی دہشت گردی پچھلے ستر سال سے جاری ہے، امریکی جارحیت سے کتنے ملک تباہ ہو چکے ہیں اور کروڑوں انسان جاں بحق ہو چکے ہیں، خود ہمارے ملک میں گزشتہ پانچ سال سے ماب لنچنگ کے نام پر یہ حادثات مسلسل دہرائے جار ہے ہیں۔
آخر اس قسم کے واقعات کیوں ہورہے ہیں؟ میری رائے میں یہ اس زہر کا کڑوا پھل ہے جو میڈیا کے ذریعہ پھیلا یا جا رہا ہے۔ مغربی ممالک کے تمام ذرائع ابلاغ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں، ان ممالک کے اخبارات ہر ہفتہ ایسے مضامین شائع کرتے ہیں جس سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے نفرت پیدا ہوتی ہے۔ اخبارات کی شہ سرخیاں ایسی خبریں ہوتی ہیں جس سے اسلام کی منفی تصویر پیش کی جاتی ہے۔ خود ہمارے ملک ہندوستان میں باقاعدہ ایک منظم جماعت اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے ایسے نظریات کی اشاعت کر رہی ہے جو انسانی اقدار اور تاریخ سب کے منافی ہے۔ اس کے اسکولوں اور کالجوں نیز شاکھائوں میں مسلمانوں سے نفرت کا پاٹھ پڑھایا جا تا ہے۔ آزادی کے بعد جو نسل اس کے زیر تربیت رہی ہے آج وہ نہ صرف جوان ہے بلکہ قیادت کے مناصب پر فائز ہے۔ جب آپ کسی کے خلاف کان بھریں گے تو ایک دن وہ بھڑک جائے گا۔ ایسا ہم اپنے گھروں میں بھی دیکھتے ہیں۔ ماں کے خلاف بیوی کان بھرتی ہے اور بیٹا ماں سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ بھائی کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے تو گھروں میں دیوار ہی نہیں قتل تک ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کسی ایک ہی قوم کے خلاف مختلف ذرائع سے جب منفی باتیں پھیلائی جاتی ہیں تو اس کے خلاف ایسا ذہن بن جاتا ہے کہ وہ شخص جہاں ملتا ہے اس کو مارڈالنے کو طبیعت چاہتی ہے۔ اگر ملک میں نظم و قانون کا ڈنڈا سخت ہو تا ہے تو نفرت کے سودا گر صرف جھنجھلا کر رہ جاتے ہیں لیکن جہاں ذرا ڈھیل ملتی ہے تو اخلاق سے لیکر نیوزی لینڈ تک کے حادثات انجام پا جا تے ہیں۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ آخر اسلام اور مسلمانوں سے عداوت کے اسباب کیا ہیں، کیوں ساری دنیا ان کی دشمن بنی ہوئی ہے؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسلام دین حق ہے۔ یہ اللہ کا پسندیدہ دین ہے۔ یہ عدل پر مبنی ہے۔ اس کے نفاذ سے شیطان کے تمام کاروبار بند ہو جاتے ہیں۔ اس لیے شیطان جس نے ازل میں قادر مطلق سے انسانوں کو گمراہ کرنے کی مہلت حاصل کر لی تھی وہ اپنا کام کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ حق اور باطل کی یہ جنگ آدمؑ سے شروع ہوئی تھی اور کب ختم ہوگی کسی کو نہیں معلوم۔ دوسری وجہ یہ کہ اسلام اور مسلمان ساری دنیا کے حکمراں تھے لگ بھگ ایک ہزار سال تک مسلمانوں کا سبز پر چم تین چوتھائی دنیا پر لہرا تا رہا۔ اب مثیت الہٰی نے ان کی بدا عمالیوں کے باعث دوسری قوموں کو حکومت عطا کر دی ہے۔ کوئی قوم یا گروہ جس قوم اور گروہ سے حکومت چھینتا ہے وہ اس قوم یا گروہ کو کبھی پسند نہیں کرتا دل ملنا تو دور کی بات ہے۔ یہی معاملہ دراصل مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ اس پر مزید تباہی اس وقت آتی ہے جب تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ کسی کے خلاف اتنی نفرت پیدا کی جاتی ہے کہ اور نگ زیب کے نام پر روڈ کا نام بھی گورا نہیں ہوتا؎
تمہیں لے دے کر ساری داستاں میں یاد ہے اتنا کہ اورنگ زیب ہندو کش تھا ظالم تھا ستم گر تھا
یاد رکھنا چاہئے کہ زہر جب فضائوں میں پھیلتا ہے تو وہ سب کو نقصان پہنچا تا ہے۔ آگ جب لگتی ہے تو ہوا کے رخ کے سارے مکانوں کو جلا ڈالتی ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ نفرت اور عداوت کا یہ ماحول مسلمانوں سے زیادہ دوسرے فریق کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس لیے کے دوسرے فریق کی تعداد زیادہ ہے اگر ہوا مخالف چلی تو اس کے مکان زیادہ آگ کی زد میں آئیں گے۔ لہذا نفرت کے سوداگروں کو اس پہلو سے ضرور سوچنا چاہیے ۔ نیوزی لینڈ کی حکومت اور دیگر حکومتوں کو اپنے ذرائع ابلاغ پر نفرت کی اشاعت پر پابندی لگانا چاہیے ورنہ یہ حادثات دہرائے جاتے رہیں گے اور ایک دن انسانیت کو نگل جائیں گے۔ اسلام اور مسلمان ہر دور میں کر بلا کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ ماب لنچنگ ، مسلم کش فسادات، یا نیوزی لینڈ جیسے حادثات وقتی طور پر ہر ا ساں ضرور کرتے ہیں لیکن اس سے بہت سے مفید پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے مسلمان خواہ کتنی بھی کوشش کرتے اللہ کے پیغام کو سارے ملک میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعہ نہیں پہنچا سکتے تھے۔ آج اللہ اکبر کی صدا سے پورا نیوزی لینڈ گونج رہا ہے، کل سارا مغرب گونجے گا انشاء اللہ۔
مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا
(بشکریہ: روزنامہ راشٹریہ سہارا)

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *