سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ معاملہ

سمجھوتہ ایکسپریس کے 2007کے دھماکوں کی سماعت کے دوران ملزموں کی رہائی نے ایک بار پھر ہماری ایجنسیوں کے طور طریقوں کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ سمجھوتہ ٹرین سانحہ میں 68افراد کی موت ہو گئی تھی اور درجنوں لوگ زخمی ہو گئے تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ناکامی سے بین الاقوامی برادری میں ہماری امیج مجروح ہوئی ہے، اس سانحہ میں زیادہ تر مرنے والے بھی غیر ملکی تھے۔
جس وقت یہ دھماکے ہوئے، تو اس وقت ملک میں کانگریس کی سرکار تھی، حکمراں جماعت نے اس واردات کو دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کو سبوتاز کرنے کی سازش قرار دیا گیا تھا۔
20مارچ کو انتہائی اہمیت کے حامل فیصلہ میں این آئی اے کے خصوصی جج جگدیپ سنگھ نے فیصلہ صادر کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کی اس بربریت آمیز واردات کے ملزموں کو وافراور ٹھوس شواہد کے فقدان میں کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاسکا ہے۔ فاضل جج نے درد اور تکلیف کے ساتھ ساتھ تمام ملزموں کو الزامات سے بری کردیا۔ 160صفحات پر مشتمل اس فیصلہ میں نابھاکمار سرکار عرف اسیمانند کلیدی ملزم تھے، جبکہ دیگر ملزم افراد میں لوکیش شرما، کمل چوہان، راجندر چودھری بھی شامل تھے۔
یہ دھماکے 18فروری 2007کی درمیانی رات کو سمجھوتہ ایکسپریس میں ہوئے تھے، جو دہلی سے لاہور جارہی تھی۔ یہ دھماکے پانی پت کے پاس پیش آئے تھے۔
خیال رہے کہ این آئی اے نے یہ کیس بنیادی طور پر سوامی اسیمانند کے اقبالیہ بیان پر کھڑا کیا تھا۔ یہ اقبالیہ بیان سوامی اسیمانند نے سی آئی پی کی دفعہ 164کے تحت دیا تھا۔ اس دفعہ کے تحت دیا جانے والا بیان جوڈشل مجسٹریٹ کے سامنے دیا جاتا ہے۔ مگر بعد میں اسیمانند اس بیان سے منحرف ہو گئے تھے۔ یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ اقبالیہ بیان کے ساتھ اگر معقول شواہد موجود نہ ہوں تو مجموعی طور پر کیس پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔
علاوہ ازیں کورٹ کا کہنا تھا کہ اسیمانند کے نام نہاد اقبالیہ بیان میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جو ملزم کے ارتکاب جرم کو ثابت کرنے والی ہو۔ اس اقبالیہ بیان میں کہا گیا تھا کہ سنیل جوشی نے ان کو بتایا تھا کہ ان کے آدمیوں نے یہ دھماکے کرائے تھے۔ خیال رہے کہ سنیل جوشی کی تفتیش کے دوران ہی موت واقع ہو گئی تھی۔
جب سوامی اسیمانند ہری دوار میں روپوش تھے تو انہوں نے اجے چوہان اور شکتی سنگھ کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا تھا وہ بھی اپنے بیان سے منحرف ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ جیل میں سوامی اسیمانند کے ساتھ رہنے والا قیدی بھی گواہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا وہ باغی ہو گیا اور اس نے بھی اپنا بیان پلٹ دیا۔
این آئی اے کی خصوصی عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایجنسی نے بہترین شواہد کو عدالت کے سامنے آنے سے روکا۔ فاضل جج نے تفتیش میں خامیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو الفاظ استعمال کیے وہ ’حیرت انگیز‘ وغیرہ ہیں۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس کو سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں فراہم کئے گئے، جس سے یہ ثابت ہو سکتا تھا کہ ملزموں نے پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ہی ٹرین میں بم لگائے تھے۔ اس فیصلہ میں فاضل جج جگدیپ سنگھ نے کہا کہ ’استغاثہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی نہیں پیش کر سکا، جس سے اس الزام کو ثابت کیا جاسکتا تھا اور ان ملزموں کے ملوث ہونے کو ثابت کیا جاسکتا تھا، جبکہ تفتیشی افسر پی ڈبلیو 224نے بحث کے دوران اس بات کو قبول کیا کہ واردات کے دن یعنی 18فروری 2007 کو پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن پر کچھ مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغاثہ کے موقف میں جھول ہے، کیونکہ تیسرے شواہد جو سی سی ٹی وی فوٹیج کی شکل میں موجود تھے، وہ بہترین شواہد تھے، استغاثہ (این آئی اے) کی طرف سے روک لئے گئے تھے۔ اگر پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن پر سے سی سی ٹی وی فوٹیج جمع کر لئے جاتے اور اس پر تفتیش مرکوز کر لی جاتی تو اس سے اہم شواہد حاصل کئے جاسکتے تھے اور ان کی بنیاد پر اصل مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جاتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ریلورے اسٹیشن کی ڈور میٹریز میں رکھے ہوئے رجسٹروں میں اندراج کو بھی ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان ڈور میٹریز میں ملزموں نے بم لگانے سے قبل قیام کیا تھا۔
فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے وہ بیگ بھی برآمد کر لئے تھے جس میں بم رکھے گئے تھے۔ یہ بیگ اندور کےبنے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ Test Identification Prade(ٹی آئی پی) نہ کئے جانے پر عدالت نے اظہار حیرت کیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ’اگر تفتیشی ایجنسی ٹی آئی پی کرا لیتی تو اس کو کچھ شواہد مل جاتے کہ اصل مجرم کون ہے۔‘ عدالت کا کہنا ہے کہ ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ ایجنسی کو ہی معلوم ہوگی۔‘
ٹرین میں مبینہ طور پر بم لگانے والے کمل چوہان نے عدالت کے سامنے پہنچنے سے پہلے جو میڈیا کے سامنے اقبالیہ بیان دیا تھا، اس کی ریکارڈنگ عدالت کے روبرو پیش نہیں کی جاسکی۔ اس وقت کے ویڈیو کی سی ڈی جب چلائی گئی تو وہ بھی کرپٹ ہوگئی اور اس کو عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا۔ اس کے علاوہ ان سی ڈیز کو انڈین ایویڈنس ایکٹ (Indian Evedence Act)کے سیشن 65بی کے تحت لازمی سرٹیفکیٹ کے ساتھ پیش نہیں کیا گیا۔ یہ سرٹیفکیٹ الیکٹرانک شواہد کیلئے لازمی ہے۔ کیمرہ پرسن نے استغاثہ کی مدد نہیں کی اور کمل چوہان کے ذریعہ دئیے گئے کسی بھی بیان کے بارے میں اظہار لاعلمی کیا۔
کورٹ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ استغاثہ کے گواہ استکار علی (شاید افتخار علی) نے کہا تھا کہ دہلی سے روانگی کے دس منٹ کے بعد کسی مقام پر کچھ دیر کیلئے سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین رک گئی تھی اور کسی نے اس کو بتایا تھا کہ کئی شخص جنرل کوچز سے نکلے تھے، اس سے لگتا تھا کہ جس نے یہ بم ٹرین میں رکھے تھے ، وہ ٹرین سے اتر گئے ، جبکہ تفتیش میں اس حقیقت پر توجہ نہیں دی گئی اور استغاثہ نے یہ موقف ذہن میں رکھا کہ ملزم نے ٹرین میں سفر نہیں کیا۔ یہ بات گواہوں کے بیانات سے بالکل متضاد تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ملزموں کے درمیان کی میٹنگ کے متعلق شواہد نہں پیش کیے جا سکے ہیں اور نہ ہی موبائل فون کی کوئی کال ڈیٹیلس (سی ڈی آر ) بھی پیش کی جاسکی۔ عدالت کے سامنے نہ ہی موبائل فون کی ملکیت یا اس کی بات چیت کے شواہد سامنے آسکے۔
این آئی اے کی خصوصی عدالت کا کہنا ہے کہ استغاثہ نے جس طرح سے یہ کیس پیش کیا ہے، اس میں غیر معمولی خرابیاں ہیں۔ (بحوالہ : روزنامہ راشٹریہ سہارا)

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *