ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَؓعَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ :’’مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَۃِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَۃَ فَمَاتَ،مَاتَ مِیْتَۃً جَاھِلِیَّۃً،وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَایَۃٍ عُمِیَّۃٍ یَغْضِبُ لِعَصَبَۃٍ،اَوْ یَدْعُو اِلٰی عَصَبَۃٍ ،اَوْ یَنْصُرُ عَصَبَۃً،فَقُتِلَ،فَقِتْلَۃٌ جَاھِلِیَۃٌ،…(مسلم)
حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:’’جو اطاعت سے نکلا اور جماعت سے الگ ہوا پھر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔اور جو اندھے پرچم کے نیچے لڑا ،عصبیت کے لیے غصہ ہوا،عصبیت کی دعوت دی یا عصبیت کی مدد کی پس مارا گیا اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔‘‘
مجموعی طور پر یہ اور دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺاورصحابہ کرامؓ نے جاہلانہ افکار و اعمال کی اصلاح اور جاہلیت کے ازالے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔آپﷺکبھی اس کی بنیاد اور اساس یعنی جاہلی تعصب کی مخالفت کرتے اور کبھی اس کے مظاہر اور مصادیق کی تشریح اور ان پر تنقیدکرتے۔ اجتماعی زندگی کا لزوم،اس سے انحراف کا دنیوی واخروی نقصان،عصبیت کی زندگی،اس کے لیے محبت و نفرت یہاں تک کہ عصبیت کے شدید شوق و جذبہ میں لڑائی سے بھی دریغ نہ کرنا اور بالآخر اپنی موت آپ مرنا ۔
اپنی قوم،قبیلہ اور ملک کی محبت و الفت ایک فطری امر ہے لیکن کوئی اسی کو خدائی کا درجہ دیدے یہ ناقابل قبول عمل ہے۔اس طرح کی تمام جہد مسلسل نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ اس راہ کی موت ایسی موت ہے جس کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں گویا دنیا وآخرت کی ناکامی۔
عصبیت: لغوی اعتبار سے لفظ عصبیت اپنے اندرتین معنی لیے ہوئے ہے:
۱)گروہ بندی کی وجہ سے پیدا ہونے والی مضبوطی،قرابت کا لحاظ وخیال،اپنے مسلک یا گروہ کی وفاداری اور پاسداری۔
۲)اپنوں کی بے جا حمایت اور دوسروں سے نفرت ،تعصب۔
۳)خویشی،جو وراثت میں حصے کا مستحق کرے ۔
چونکہ جاہلیت کی یہ شکل اپنے تمام تر مفاسد ، تعفن اوربدبو کے ساتھ دور نبوی میں بھی پائی جاتی تھی اس لیے جب رسول اللہ ﷺنے اہل ایمان کو اس سے آگاہ و متنبہ کیا تو لوگوں نے سوالوں کے ذریعہ خود کو مطمئن کیا۔چنانچہ حضرت واثلہؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ عصبیت کیا ہے؟آپﷺنے فرمایا:’’(عصبیت یہ ہے کہ)تم اپنی قوم کی ظلم پر مدد کرو۔‘‘(ابو داؤد،جلد سوم)ایک اور موقع پر کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺکیا یہ عصبیت ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت کرے؟آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:’’نہیں،بلکہ عصبیت یہ ہے کہ وہ ظلم پر اپنی قوم کی معاونت کرے۔‘‘(ابن عدی)ایک اور روایت ہے کہ آپﷺنے فرمایا:لا یضرالرجل حبۃقوم مالم یبغض سواھم’’آدمی کے لیے اپنی قوم کی محبت اس وقت تک مضر نہیں جب تک کہ وہ دوسروں سے نفرت نہ کرنے لگے۔(کنز العمال)
مذکورہ حدیث کے مطالب: ’’مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَۃِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَۃَ فَمَاتَ،مَاتَ مَیْتَۃً جَاھِلِیَّۃً‘‘علماء اہل سنت کے نزدیک حدیث کے اس ٹکڑے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے اسلامی حکومت کا حاکم مراد ہے کہ حفظ جماعت اور وحدت کی خاطر اس کی پیروی اور اتباع ضروری ہے۔
’’من قاتل تحت رایۃ عمیۃ ‘‘ایسی اندھی لڑائی جس میں حق وباطل کی تمیز نہ ہو۔
’’یدعو عصبۃ او ینصرعصبۃ ‘‘دین اسلام اور حق کے بجائے انسان قومی تعصب میں غصہ ہو۔پس وہ بغیر علم ودوراندیشی کے جنگ وجدال کرے،جیسے دورجاہلیت میں جنگ کی جاتی تھی۔ایسی لڑائی جس میں حق باطل سے ممیز نہ ہو۔محض قومیت کے نام پر غصہ ہوتا ہے نہ کہ نصرت دین کے لیے۔
’’فقتلۃ‘‘قتلہ قتلۃ جاھلیۃ‘‘تواس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔کیوں کہ یہ موت نبی کریمﷺ کے پسندیدہ طریقے اور سنت کے مطابق نہیں ہے۔بلکہ ایسی ہی جاہلیت و گمراہی پر آئی موت ہے جیسے دور جاہلیت میں باہم لڑائیاں ہوتی تھیں۔
احادیث میں عصبیت کی مذمت:
۱) ما دخل فی رجل من العصبیۃ شیء الا خرج منہ من الایمان مثل ما دخل فیہ من العصبیۃ (ابو داؤد)
۲) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اور جو کوئی بھی جاہلیت کی سی پکار لگائے تو وہ جہنم کا ایندھن ہوگا۔‘‘(مسند احمد)
۳) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جو جاہلیت کی باتوں پر فخر کرے اسے کہو جاکر اپنے باپ کی شرم گاہ چبا،اور کوئی کنایہ نہ کرو‘‘(بلکہ یہی صاف الفاظ کہہ دو)(السنن الکبری لنسائی ۸۸۰۹ ؍ السلسۃ الصحیحہ۲۶۹)
۴) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’وہ ہم سے نہیں جو جاہلیت کی پکار لگائے۔‘‘(مسلم)
۵) حضرت جبیر بن مطعمؓ رسول اللہ ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺنے فرمایا:’’ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی دعوت دی اور ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی خاطر قتال کیا اور ہم میں سے نہیں وہ جو عصبیت کی حالت میں مر گیا۔‘‘(ابوداؤد،مشکوۃ)
جاہلیت کیا ہے؟
یوں تو’’ جاہلیت کی موت‘‘ کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے:قتلہ قتلۃ جاھلیۃ لانہ لیس علی نھج النبیﷺولیس علی سنتہ،ای قتل الضلالۃ کما یقتل علی اھل الجاھلیۃ علیھا من جھۃ انھم کانوا یقاتلون عصبیۃ’’تواس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔کیوں کہ یہ موت نبی کریمﷺ کے پسندیدہ طریقے اور سنت کے مطابق نہیں ہے۔بلکہ ایسی ہی جاہلیت و گمراہی پر آئی موت ہے جیسے دور جاہلیت میں باہم لڑائیاں ہوتی تھیں۔‘‘گویا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺاہل ایمان سے ان کی زندگی اپنی اطاعت کے دائرے میں چاہتے ہیں اس لیے یہ پسند نہیں کیا گیا کہ مومن کی موت بھی اس دائرہ سے باہر ہو۔ جاہلیت قدیم اور جدید کی وضاحت کرتے ہوئے سید ابو الاعلی مودودی ؒسورۃ المائدہ کی آیت أَفَحُکْمَالْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُونَ(المائدہ:۵۰)کی تشریح میںلکھتے ہیں: ’’جاہلیت کا لفظ اسلام کے مقابلہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔اسلام کا طریقہ سراسر علم ہے کیوں کہ اس کی طرف خدانے رہنمائی کی ہے جو تمام حقائق کا علم رکھتا ہے۔اور اس کے برعکس ہر وہ طریقہ جو اسلام سے مختلف ہے جاہلیت کا طریقہ ہے۔عرب کے زمانہ قبل اسلام کو جاہلیت کا دور اسی معنی میں کہا گیا کہ اس زمانہ میں علم کے بغیر محض وہم یا قیاس وگمان یا خواہشات کی بنا پر انسانوں نے اپنے لیے زندگی کے طریقے مقرر کرلیے تھے۔یہ طرز عمل جہاں جس دور میں بھی انسان اختیار کریں اسے بہر حال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔(تفہیم القرآن سورۃ المائدہ،حاشیہ ۸۳)
جاہلیت کا مزید تعارف کراتے ہوئے سیدقطب شہید ؒ لکھتے ہیں’’جاہلیت کی سب سے بڑی اور اہم خصوصیت یہ ہوا کرتی ہے کہ جاہلیت اللہ سبحانہ پر ایمان نہیں رکھتی۔یہ خصوصیت نہ صرف یہ کہ دنیا کی تمام جاہلیتوں میں پائی جاتی ہے بلکہ یہی وہ جزء بنیاد ہے جس سے جاہلیت ابھرتی ہے اور پھلتی پھولتی ہے اور بالآخر فکر وعمل کے سارے بگاڑ کا سبب بن جاتی ہے۔‘‘(جدید جاہلیت،ص۴۸)فاضل مصنف آیات قرآنی کی روشنی میںمشرکین مکہ کی جاہلیت کے دو طرفہ پہلو کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’بہر کیف جاہلی عرب اللہ کو پہچانتے تھے اور اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرنے والا ہے اور اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی پادشاہی ہے۔لیکن ان کی جاہلیت یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پوری پوری طرح نہیں پہچانتے تھے نہ اللہ پر سچائی کے ساتھ ایمان رکھتے تھے اور (نہ)اس کو تن تنہا اپنے تمام معاملات میں حاکم بناتے تھے۔وما قدروا اللہ حق قدرہ(انعام :۹۱)’’ان لوگو ںنے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا‘‘یہ لوگ اللہ کو پہچانتے بھی تھے اور ساتھ ہی بتوں کی پوجا بھی کرتے تھے…یہ ان کے اعتقاد کی خرابی تھی اور وہ اللہ کو پہچانتے بھی تھے اور اس کی شریعت کو نافذ بھی نہ کرتے تھے۔اور نہ اللہ کو اپنے تمام معاملات میں اپنا حاکم بناتے تھے…یہ ان کی عملی خرابی تھی۔اس اعتقادی اور عملی خرابی کی بنا پر وہ کافر اور جاہل تھے۔‘‘(ایضا ص۵۱)اس معنی میں دیکھا جائے تو آج دنیا نے جہاں نئے نئے دساتیر بنا کر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی صفت حاکمیت کے خلاف سنگین جرم کیا ہے وہیں نئے ازم اور نظریات کی خاردار جھاڑیاں بوکر…جو اب تناور درخت بن چکی ہیں…انسان نے اپنے ہی ہم ذات کو غلامی کی بدترین بیڑیوں میں جکڑ دیا ہے۔یہ ایسی خوبصورت اور حسین وجمیل بیڑیاں ہیں جنہیں آج کا ترقی یافتہ انسان اپنے لیے نعمت غیر مترقبہ سمجھتا ہے۔
جاہلی موت کے مزید اسباب: حضرت عبد اللہ بن عمرؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’جو شخص شراب پیتا ہے چالیس راتوں تک اس کی نماز قبول نہیں کی جاتی،اور جو شخص اس حالت میں مرے کہ اس کے پیٹ میں شراب ہو تو اس کی وجہ سے اس پر جنت حرام کردی جائے گی،پس اگر وہ ان چالیس راتوں میں مرا تو جاہلیت کی موت مرا۔‘‘ (المستدرک،کتاب الشربہ،الحدیث ۷۳۱۸)
ایک دوسری حدیث میں شرابی کی موت جو بغیر توبہ کے ہو،کو کفر کی موت کہا گیا ہے(مسند احمد)
حضرت عبد اللہ بن عمرؓسے روایت ہے کہ:’’جو کوئی اس حالت میںمرا کہ اس نے امیر کی بیعت نہیں کی ،اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔‘‘(حلیۃ الاعلیاء)
حضرت جندب بن عبد اللہ ؓکہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’جو شخص عصبیت کے جھنڈے تلے لڑے اور وہ اپنی قوم کی عصبیت میں لڑے یا عصبیت میں غصہ ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔‘‘(نسائی)
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’جو شخص عصبیت کی وجہ سے ناراض ہوتا ہے،یا عصبیت کی طرف بلاتا ہے،یا عصبیت کی وجہ سے کسی کی مدد کرتا ہے،پس مارا گیا تو اس کا قتل جاہلیت کا ہوگا…‘‘ (مشکوۃ،باب حکومت کا بیان بحوالہ مسلم)
تحفظ قومیت کے لیے لڑائی: قبل از اسلام بنی نوع انسان کے جو مسائل تھے جنہیں رسول اللہ ﷺکی تحریک نے کامیابی کے ساتھ حل کیا تھا،ان میں ایک بڑا مسئلہ جس نے عوام الناس کی زندگی عاجز کر رکھی تھی وہ یہی قومی،لسانی ،حدودی اور ملکی عصبیت تھی۔ان جاہلی عصبیتوں کی بنیاد پر محبتیں پروان چڑھتی،کبر وغرور کی بنا پر قتل و غارت گری ہوتی،افتخارو استکبار کی محفلیں جمتیں،گویا اس قدیم جاہلیت نے ایک آدم و حوا کی اولاد کوٹکڑوں ٹکڑوں میں بانٹ رکھا تھا۔دنیا جس قدر اس مرض میں مبتلا تھی ،عرب اس سے کہیں زیادہ اس عصبیت کا شکار تھے بلکہ آج تک ہیں۔رسول اللہ ﷺکی برپا کردہ تحریک کے لیے یہ عنصر نہ صرف مہلک تھا بلکہ غلبہ دین کی راہ میں ایک بڑا روڑا بنا ہوا تھا۔اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ آپﷺنے جن جاہلی رسم و رواج اور نظریات پر تیشہ چلایا ہے ان میں سب سے شدید وار قومی عصبیت پر کیا ہے۔یہ قبائلی عصبیت دور اول کے لوگوں میں اس قدر رچی بسی تھی کہ وہ اس کے تحفظ میںبدریغ اپنی جان بھی دیدیتے۔چنانچہ جنگ احد (بخاری ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ یہ واقعہ جنگ خیبر سے متعلق ہے)میں قبیلہ اوس کے ایک قزمان نامی شخص نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کیا،مشرکین مکہ کا خوب ڈٹ کر مقابلہ کیا،تن تنہا کئی کافروں کو واصل جہنم کیا ،صحابہ کرامؓ اس کی بہادری اور نڈر پن سے بہت متاثر ہوئے اور رسول اللہ ﷺسے اس کی بہادری کا ذکر کیا۔حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ نے حضور ﷺسے عرض کیا :’’آج ہم میں سے کسی نے اتنا کام نہیں کیا جتنا فلاں نے کیا۔‘‘یہ سن کر رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’سنو!وہ جہنمی ہے۔‘‘قزمان جنگ میں خوب بہادری سے لڑا بالآخر زخموں سے چور ہوکر میدان میں گر پڑا،صحابہ کرامؓ اسے میدان جنگ سے اٹھا کر لائے اور مبارک باد دی کہ تم نے بڑا کارنامہ انجام دیا،بعض صحابہ کرامؓنے اسے شہادت کی خوش خبری بھی سنائی ،تو اس نے کہا ’’خوش خبری کس بات کی میں نے تو صرف قومی محبت و حمیت میں یہ کام کیا،نہ کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں۔‘‘اس کے بعد تکلیف کی شدت زیادہ ہوئی تو اس نے خود کشی کرلی۔(بخاری،ج۱ص۴۰۶)ایسے ہی قبیلہ بنو ثعلبہ میں مخیریق نامی ایک یہودی تھا،اس نے کہا :اے جماعت یہود!خدا کی قسم تم جانتے ہو اس وقت محمدﷺ کی مدد کرنا تم پر فرض ہے،یہود نے جواب دیا آج یوم سبت ہے ہم آج لڑائی نہیں کر سکتے،اس نے کہا:یہ نبی اور کفار کے درمیان مقابلہ ہے،اس میں یوم سبت مانع نہیں ہوسکتا،چنانچہ اس نے تلوار اٹھائی اور سیدھے میدان جنگ میں پہنچ کر مسلمانوں کی طرف سے لڑائی میں شریک ہوگیا،اور مقتول ہوا، رسول اللہ ﷺکو معلوم ہوا تو فرمایا:’’مخریق اچھا یہودی تھا۔‘‘(اصح السیر ص۱۰۸؍بحوالہ عہد نبوی کے غزوات وسرایا اور شہدائے اسلام ص۳۳۱۔۳۳۳)مذکورہ احادیث وواقعات سیر سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جاہلی عصبیت آپﷺکو کس قدر ناپسند تھی۔انہی جاہلی عصبتیوں کی دیواریں توڑ کر رسول اللہ ﷺنے امت مسلمہ کو ’’امت واحدہ‘‘بنایا تھا۔
سقوط خلافت کے بعد دنیا میںجو قدیم عصبیتیں جدید ناموں سے پروان چڑھائی گئیں،ان میں امت مسلمہ کو اپنے قبلہ (مقصدوجود)سے منحرف کرانے میں جس جاہلیت نے کلیدی کردار ادا کیا ہے ’’نیشنلزم ‘‘کا اہم رول ہے۔قومیت کا بھوت جب سروں پر سوار ہوتا ہے تو پھر ’’نظام مصطفوی ‘‘بھی ٹھوکروں میں آپڑتا ہے۔ اس اعلان کے باوجود نہ ایمان خطرے میں پڑتا ہے اور نہ ہی جبہ و دستار پر حرف آتا ہے۔فی الوقت مسلمان ملک میںجس مسئلہ کا شکار ہیں جسے عامۃ الناس تو چھوڑیے دین و مذہب جنکا اوڑھنا بچھونا ہے اور جو اپنے کو انبیائی مشن کا دعویدارکہتے ہیںوہ بھی یہ دلیل دے کر اپنا دامن بچانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں کہ یہ لڑائی دین و مذہب کی نہیں ہے بلکہ یہ جمہوری دستور کی بقا کی لڑائی ہے۔یا للعجب۔جب قرآنی آیات اور رسول اللہ ﷺکی تعلیمات نے لڑائی کے دو میدان واضح کردیے ’’فی سبیل اللہ ‘‘اور ’’فی سبیل الطاغوت‘‘تو آخر ہم اپنے مسائل کی لڑائی کو دین سے دور کیوں کرنا چاہ رہے ہیں؟ملک میں NRCکے مسئلہ پر وہ سارے مسلمان جنہیں قومی ودستوری بقا کے نام پر جاہلی عصبیت کا جام پلا کر کھڑا کیا گیا اور جو لاٹھیاں کھاکر،جیلوں میں جاکر یہاں تک اپنی جانوں سے ہاتھ دھو کر اپنی قومی شناخت ثابت کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں، ان کی ان تمام کاوشوں اور جد وجہد کو ہم کیا نام دیں گے؟کیا دستور اور قوم و ملک کے نام مارا جانا،زخم کھانا اور صعوبتیں برداشت کرنا فی سبیل اللہ ہے یا فی سبیل الطاغوت ہے؟کیا یہ خود کو اورمسلمانان ہند کو جدید جاہلیت کا لقمہ بنانا نہیں ہے؟آخر ملی قیادت اپنے مسائل کا حل قومی عصبیت کے دائرے میں کیوں ڈھونڈنا چاہتی ہے؟کیا یہ ممکن ہے کہ ہم لڑائی تو قومی جاہلی عصبیت کی لڑ یں اور مدد خدا سے چاہیں؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مددونصرت حق کی بنیاد پر آتی ہے یاجاہلیت کی بنیاد پر؟کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اس جرم عظیم کے مرتکب ہورہے ہیں جن کا ارتکاب بنی اسرائیل نے کیا تھا؟فاعتبروا یا اولی الابصار

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *