حیاو شرم

(۱) عن عبداللہ بن عمر ؓ مر النبی ﷺ علیٰ رجل وھو یعاتب فی الحیا یقول: انک لتستحی حتی کانہ یقول قد اضر بک فقال رسول اللہ ﷺ دعہ فان الحیا من الایمان۔
ترجمہ: حضرت عبداللہ انب عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک شخص کے پاس سے گذرے وہ حیا کے سلسلے میں عتاب کر رہا تھا۔ کہہ رہا تھا کہ تم اس قدر حیا کرتے ہو کہ اس سے تمہیں نقصان پہنچے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’اسے چھوڑ دو ، اس لیے کہ حیا ایمان کا ایک جز ہے۔‘‘
تشریح: یعنی حیا اور شرم کرنے سے اسے منع نہ کرو۔ حیا تو ایک قابل قدر خلق و وصف اور ایمان کا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بے پایاں احساسات کو دیکھ کر سلیم الطبع شخص سوچتا ہے کہ اسے اپنے رب کا شکر گزار بندہ بن کر رہنا چاہیئے۔ یہی رب کے احسانات کافطری تقاضہ ہے۔ لیکن اس فطری تقاضے کو اکثر انسان بھول جاتا ہے۔ انسان کو کفران نعمت سے باز رکھنے والی کئی چیزیں ہو سکتی ہیں ۔ مثلاً اللہ کےعتاب کا خوف، اس کی عنایات سے محروم ہو جانے کا اندیشہ وغیرہ۔ لیکن جس شخص کو نافرمانی اور ناشکری کی روش اختیار کرتے ہوئے حیا اور شرم دامن گیر ہوتی ہے کہ اللہ کے احسانات کےصلے میں وہ اس کی ناشکری کیسے کرے، اس شخص کی پاک طینتی اور نفیس الطبعی کی جتنی بھی تحسین اور تعریف کی جائے کم ہے۔ حیا اللہ سے اس کے ایسے تعلق کا مظہر ہے جو قابل قدر اورنہایت کیف آگیں ہے۔
اس حدیث میں حیا کو ایمان کا جز کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان جملہ محاسن کا جامع عنوان ہے۔ ایمان دراصل توحید کے اقرارکا نام ہے۔ نظریۂ توحید کا زندگی کے تمام ہی پہلوئوں پر اثر پڑتا ہے۔ زندگی کی کسی چیز کو بھی توحید سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا ۔ اپنی پوری زندگی سے اور اپنی پوری زندگی میں جس نے اللہ کو پہچانا اسی نے اللہ کو زیادہ پہچانا۔ ہماری پوری زندگی میں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ زندگی کے ہر معاملہ میں وہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی پوری زندگی کے ذریعہ سے اس کا اظہار کرنا چاہیئےکہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ بہار کا اثبات ہر رنگ میں ضروری ہے۔
ہماری زندگی کے ہر اسلوب اور ہر طریقے سے ہماری ایمانی کیفیت کا اظہار ہو ، ٹھیک اسی طرح جس طرح روح انسانی اپنے کو زندگی کےمختلف اسالیب میں ظاہر کرتی ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم اللہ کو اپنی پوری زندگی کے ذریعہ سے قبول کریں۔ ہمارے پاس اللہ کو جاننے کا ذریعہ زندگی ہی ہے۔ اور یہ اقرب ذریعہ ہے۔ سجدہ کی طرح ہماری زندگی اللہ کے قرب کا ذریعہ بلکہ عین قرب ہو سکتی ہے، اور قرب ہمارے وجود و حیات کا جزو بن سکتا ہے۔ یہ بات کتنی وجد آفریں ہے۔
ایمان کا تعلق ہماری پوری زندگی اور اس کی سرگرمیوں سے ہے ۔یہ ایمان مومن کی زندگی میں جملہ محاسن کا ایک جامع عنوان قرار پاتا ہے۔ جنت خوبیوں اور محاسن ہی کا سرچشمہ اور مخزن ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں اور جس شکل میں کوئی خوبی نظر آتی ہے اس کا رشتہ اور تعلق جنت ہی سے ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے: والایمان فی الجنۃ (حدیث) ’’ایمان کا مقام جنت ہے‘‘
خوبی یہ ہے کہ بدی کی راہ میں خود آدمی کی اپنی ذات روک بن جائے ۔ اس کے بغیر بدی سے نفرت اور حقیقی بُعدپیدا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح مطلوب یہ ہے کہ آدمی کی ذات خود نیکی کے لیے محرک ہو ، اس کے بغیر صحیح معنی میں انسان نیک کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا۔
حیا کا ایک تقاضہ یہ ہے کہ ہم نگاہ کو بچائیں۔ جو شخص نگاہ کی حفاظت نہیں کرتا اس کا دل آوارہ ہو جاتا ہے۔ نگاہ کے ساتھ دل بھی لگا ہوتا ہے۔ غضّ بصر کی شریعت میں اسی لیے بڑی تاکید آئی ہے۔ حیا تنہائی کی حالت میںبھی مطلوب ہے۔ اس لئے کہ کوئی اور نہیں تو اللہ اس حالت میں بھی آدمی کے ساتھ ہوتا ہے۔ حسّاس طبیعتیں تو خود اپنے آپ سے بھی حیا کرتی ہیں۔
(۲) عن ابن مسعود ؓ قال : قال النبی ﷺ : ان مما ادرک الناس من کلام النبوۃ الاُوْلیٰ اذا لم تستحی فاصنع ما شئت (بخاری)
ترجمہ: حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’نبوت سابقہ کے کلام میں سے لوگوں نے جو کچھ پایا ہے اس میں سے ایک یہ ہے: ’’جب تم نے شرم کو اٹھا کر رکھدیا تو اب جو چاہو کرو‘‘۔
تشریح: انسانی معاشرے میں انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بگڑے سے بگڑے سماج میں بھی کتنی ہی ایسی نیک باتیں اور ضرب المثل مشہور ہیں جو حقیقت میں انبیائے سابقین کی تعلیمات کا بقایا ہیں لیکن ہمیں اس کی خبر نہیں ہوتی ۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ یہ مقولہ کہ جب تم نےشرم اور حیا کو بالائے طاق رکھ دیا تو اب جو چاہو کرو (بے حیا باش و ہرچہ خواہی کن) نبوت سابقہ کے کلام میں سے ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انبیائے سابقین کی تعلیمات میں بھی گہری بصیرت و حکمت اور نصیحت پائی جاتی تھی۔ اس مقولہ کی طرح اور بھی کتنےہی اقوال لوگوں کی زبانوں پرچڑھے ہوئے ہیں جن میں انبیا کی تعلیمات کے عکس دیکھے جا سکتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیا اور شرم کی تعلیم صرف نبی ﷺ ہی نہیں دے رہے ہیں بلکہ اس کو سابق انبیا کے زمانے میں بھی بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ حیا درحقیقت ایک لطیف اندرونی تحریک ہے جو آدمی کو نازیبا اور خلاف ادب کاموں سےباز رہنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اس اندرونی کیفیت کی وجہ سے آدمی کی شخصیت میں بڑی جاذبیت پیدا ہو جاتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کےبارے میں حدیث میں آیا ہے کہ آپ کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ حیا والے تھے۔ حدیث میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں بھی آیا ہے کہ اللہ کو اپنےبندے سے اس بات پر شرم آتی ہے کہ جب اس کا بندہ اپنا ہاتھ اس کیطرف بڑھائے تو وہ ان کو خالی واپس کردے۔ (ترمذی، ابودائود)
پیش نظر روایت میں یہ بات کہی گئی ہے کہ جس شخص کےاندر حیا نہیں ہے وہ جو برائی اور بدی کرے تھوڑا ہے۔ اس لیے کہ اصلاً جو چیز اسےبرائی سے باز رکھنے والی تھی جب وہی جاتی رہے تو پھر کون سی چیز اللہ کی نافرمانی اور برے کاموں سے روک سکتی ہے۔ حیا ایک ذاتی وصف ہے ۔ جس کے اندر یہ وصف موجود ہے وہ خود اپنے اندرون کے تقاضے سے بے حیائی کے کاموں سے بچے گا۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے لیمو کا درخت زمین سے انہی اجزا کو لے گا جو اس کے مزاج اور اس کی طبیعت کے موافق ہوں گے۔ وہ دوسرے اجزا کو چھوڑ دے گا ۔ گنا اور شکر قند زمین سے ان اجزا کو ایسی شکل میں لے گا کہ ان کے اندر شیرینی پیدا ہو سکے ۔ اس کے برخلاف نیم کا درخت زمین سے ایسے اجزا کو اس صورت میں لے گا کہ اس کے اندر تلخی اور کڑواہٹ آسکے۔
(۳) وعن عمران ابن حصین ؓ قال: قال النبی ﷺ الحیا لا یاتی الا بخیر (بخازری)
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’حیا خیر ہی لاتی ہے‘‘
تشریح: حیا اپنے نتیجہ کے لحاظ سے کسی نقصان اور شر کا موجب نہیں ہوتی۔ حیا سراپا خیر ہے۔ الحیائُ خیر کلہٗ (حدیث) بے شرمی اپنے انجام کے اعتبار سے سراسر گھاٹے کاسودا ہے۔ حیا کو چھوڑ کر آدمی سب سے پہلےخود اپنی شخصیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس سے اس کا وقار اس درجہ مجروح ہوتا ہے کہ اس کی تلافی کا امکان بہت کم باقی رہتا ہے۔
(۴) وعن زیدبن طلحہ بن رکانۃ یرفعہٗ الی النبی ﷺ قال: قال رسول اللہ ﷺ لکل دین خلق الاسلامالحیائُ۔ (رواہ المالک مرسلا، ابن ماجہ، البیہقی فی شعب الایمان)
ترجمہ: حضرت زید بن طلحہ بنرکانہ سے روایت ہے۔ وہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ہر دین کا ایک خلق ہوتا ہے ، اسلام کا خلق حیا ہے‘‘۔
تشریح: موئطا میں امام مالک ؒ نے اس حدیث کو زید بن طلحہ ؓ سے روایت کیا ہے۔ زید بن طلحہ تابعی ہیں ان تک یہ حدیث کس صحابی کے ذریعہ پہنچی اس کا ذکر امام مالک نے نہیں کیا ۔البتہ ابن ماجہ اور بیہقی نے اپنے سند کے ساتھ اسے دوصحابیوں حضرت انسؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔
کوئی بھی نظریۂ حیات یا طریق زندگی ہو لازماً اس کا اپنا ایک مخصوص مزاج ہوگا اور وہ ایک خاص ذوق کا ترجمان ہوگا۔ اسی مزاج ، اسپرٹ ، اور ذوق کے اعتبار سے ہم اس کی قدر و قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ اسلام نفسیات کے معتبر اور نازک و لطیف تر حقائق پر مبنی دین ہے۔ حیا کو خلق اسلام کہا جا رہا ہے۔ یہ اس کا واضح ثبوت ہے۔ معلوم ہوا کہ کامل مسلم وہی ہے جس کے اندر حیا ہو۔ جو اللہ سے بھی حیا کرتا ہو جس نے اسے وجود بخشا اور انسانوں سے بھی حیا کرتا ہو جن کے درمیان وہ زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کی طبیعت کو ان باتوں سے انقباض ہو جو فحش اورناشائستہ ہوں۔ وہ اللہ کے حقوقق کابھی نگراں ہو اور بندگان خدا کے حقوق کا بھی پاس و لحاظ رکھتا ہو۔
(۵) وعب ابن عمر ؓ ان النبی ﷺ قال: ان الحیائَ والایمان قرنائُ جمیعاً فاذارفع احدُھما رُفع الاخر (بیہقی فی شعب الایمان)
ترجمہ: حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’حیا اور ایمان ساتھ ہی یکجا رہتے ہیں ، جب ان میںکوئی ایک اٹھا لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔‘‘
تشریح: جہاں چراغ ہوتا ہے وہاں اس کے ساتھ اس کی روشنی بھی ہوتی ہے۔ دونوں میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے ۔یہ ممکن نہیں کہ چراغ تو نہ ہو مگر روشنی ہو، اسی طرح ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ روشنی ہو مگر چراغ کے بغیرہو۔ ٹھیک یہی حال ایمان اور حیا کا ہے۔ ایمان ہے تو اس کی صفت حیا بھی ہوگی، اور اگر آدمی کے اندر حیانہیں ہے تو سمجھ لیجئے کہ اس کا دل ایمان کی اعلیٰ صفات سے خالی ہے۔ ایک روایت میں فاذا رُفع احدھماالاخر۔ کی جگہ پر یہ الفاظ آئے ہیں فاذا سُلب احدھما تبعہ الاخر۔ جب ان میںسے کوئی ایک چھن جاتا ہے تو دوسرا بھی اس کے پیچھے چلا جاتا ہے۔
اس حدیث میں ایک لفظ قرنا آیا ہے یہ قرین کی جمع ہے۔ بعض نسخوں میں قرنا یعنی صیغۂ تثنیہ کے ساتھ آیا ہے۔
(۶) وعن انس قال: قال رسول اللہ ﷺ : ماکان الفحش فی شیئٍ الا شانہٗ وما کان الحیائُ فی شیئٍ الا زانہٗ (ترمذی)
ترجمہ: حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’فحش اور بے حیائی کی بات جس چیز میں بھی پیدا ہو جائے وہ اسے لازماً عیب دار اور بدنما کر دیتی ہےاور حیا جس چیز میںشامل ہو اسے خوش نما بنا دیتی ہے۔
تشریح: یہ حدیث اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جمالیاتی قدروں کا لحاظ عام نگاہ ہی میںنہیں بلکہ دینی نقطۂ نظر سے بھی ضروری ہے ۔جس چیز میں خوش نمائی کے بہ جائے بد نمائی اور عیب ہو وہ چیز بے قیمت سمجھی جائے گی۔ حیا کا پاس و لحاظ درحقیقت جمالیاتی احساس کی قدر شناسی کے مترادف ہے۔

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *